Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    لاہور کے ایک نجی کالج میں ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے معاملے میں پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے۔ کمیٹی نے متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین سے ان کے گھر پر تین گھنٹے تک ملاقات کی اور اس معاملے میں 36 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے۔رپورٹ کے مطابق، وزیراعلیٰ پنجاب کی تشکیل کردہ ہائی پاور کمیٹی نے منگل کو اس کیس کی انکوائری میں دن گزارا۔ سول سیکریٹریٹ میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تمام عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے ارکان میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران، ڈائریکٹر پنجاب گروپ آف کالجز عارف چوہدری، کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سعدیہ جاوید، اے ایس پی گلبرگ شاہ رخ خان، اور دیگر شامل تھے۔
    متاثرہ طالبہ اور اس کے والدین نے واضح کیا کہ 2 اکتوبر کو بچی اپنے گھر میں بیڈ سے گری، جس کے بعد وہ پہلے جنرل اسپتال اور پھر 3 اکتوبر کو کینٹ میں موجود برین اینڈ سپائن کلینک میں ڈاکٹر صابر حسین کے پاس علاج کروانے گئیں۔ 4 اکتوبر کو انہیں ماڈل ٹاؤن لاہور کے اتفاق اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں بچی کی حالت کی شدت کے باعث وہ آئی سی یو میں بھی رہیں۔ انہیں 11 اکتوبر کو اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔متاثرہ لڑکی اور اس کے والدین نے بتایا کہ وہ 3 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک کالج سے باقاعدہ چھٹی پر رہی ہیں، اور اس دوران سوشل میڈیا پر ان کا نام جھوٹے واقعات سے جوڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا زیادتی کا واقعہ پیش نہیں آیا اور وہ اس بارے میں پھیلائی جانے والی جھوٹی معلومات کے خلاف قانونی کاروائی کرنا چاہتے ہیں۔متاثرہ طالبہ اور اس کے والدین نے پولیس کو درخواست دی ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اس واقعے میں ملوث کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
    اس معاملے میں غلط معلومات اور انتشار پھیلانے والوں کے خلاف انکوائری کے لیے ایف آئی اے نے سائبر کرائم سیل کی 7 رکنی کمیٹی بھی قائم کی ہے، تاکہ اس واقعے کی حقیقی صورت حال کا پتہ لگایا جا سکے۔یہ رپورٹ حکومت کی جانب سے انصاف کی فراہمی کے عزم کی عکاسی کرتی ہے اور اس واقعے کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لینے کی کوشش ہے۔

  • پاک چین ملاقات: تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا مشترکہ اعلامیہ  جاری

    پاک چین ملاقات: تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا مشترکہ اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: پاکستان اور چین نے آج ہونے والی ملاقاتوں کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق، چینی وزیراعظم نے پاکستانی وزیراعظم، صدر، چیئرمین سینٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور سروسز چیفس کے ساتھ ملاقاتیں کیں، جن میں فریقین نے پاک چین اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط اور گہرا کرنے، عملی تعاون کو فروغ دینے، اور باہمی مفادات کے امور پر وسیع اتفاق رائے کیا۔دونوں ممالک نے پاک چین دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ پاکستان نے صدر شی جن پنگ کے ویژن اور تجاویز کی بھرپور تعریف اور مضبوطی سے حمایت کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان امن، سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے روشن مستقبل کے لیے دنیا بھر کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور پاک چین تعاون میں خلل ڈالنے یا کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔ چین نے بھی اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ چین پاکستان تعلقات اس کے خارجہ امور میں اولین ترجیح ہیں۔ دونوں فریق مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    چین نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اقتصادی اصلاحات اور ترقی میں پاکستان کی کامیابیوں کی تعریف کی۔ دونوں فریقوں نے ترقیاتی حکمت عملیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور خدشات پر بے لوث حمایت کا اعادہ کیا۔پاکستان نے یہ بھی واضح کیا کہ تائیوان عوامی جمہوریہ چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور چین کی قومی اتحاد کے حصول کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، چین نے قومی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے ترقی کی راہداری، گرین کوریڈور، اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی مکمل حمایت کا عہد کیا۔ انہوں نے ایم ایل 1 کی اپ گریڈیشن اور کراچی، حیدرآباد اور دیگر سیکشنز کی مرحلہ وار تعمیر پر بھی اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے قراقرم ہائی وے (رائیکوٹ-تھاکوٹ) کی بہتری کے لیے مالی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور گوادر پورٹ کے معاون انفراسٹرکچر کی ترقی کو تیز کرنے پر زور دیا۔

    دونوں ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کا مقابلہ کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر مامور چینی اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی مکمل تحقیقات کا عہد کیا اور چین نے پاکستان میں ٹارگٹ سیکیورٹی اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے فوجی دوروں، تربیت، مشقوں اور فوجی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھنے، جنوبی ایشیا میں تمام تصفیہ طلب تنازعات کے حل کی ضرورت، اور کسی بھی یکطرفہ کارروائی کی مخالفت کا عہد کیا۔چین نے جموں و کشمیر کے تنازع کے اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    دونوں فریقوں نے افغانستان کے معاملے پر رابطے اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام دہشت گرد گروہوں کو ختم کرے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے افغانستان کو بین الاقوامی برادری میں ضم کرنے میں مدد کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ بیان میں غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ پاکستان اور چین نے لبنان پر حالیہ اسرائیلی جارحیت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ اور مستقبل کے تعلقات کی ایک اہم جھلک پیش کرتی ہیں، جس میں اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

  • جمعیت علما اسلام اور پیپلزپارٹی کا آئینی ترمیم پر اتفاق: سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی کوشش

    جمعیت علما اسلام اور پیپلزپارٹی کا آئینی ترمیم پر اتفاق: سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی کوشش

    کراچی میں جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے آئینی ترامیم کی اہمیت اور قومی مفاد میں سیاسی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا۔مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے کردار کو سراہا اور کہا کہ آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے میں بلاول بھٹو نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آئینی ترامیم پر تمام سیاسی جماعتیں، بشمول پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، متفق ہوں۔مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے اور پی ٹی آئی سے بھی اس حوالے سے بات کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی اہمیت کا مسئلہ ہے اور اس پر ہر طبقہ فکر کا اتفاق ضروری ہے تاکہ ایک مضبوط اور پائیدار حل نکل سکے۔
    بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ مولانا فضل الرحمان کل مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے مشاورت کریں گے، جبکہ وہ خود بھی نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آئینی سازی کے عمل میں پاکستان پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ماضی کی طرح دونوں جماعتیں آئندہ بھی مل کر ملک کی خدمت کرتی رہیں گی۔بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ کل وہ نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر آئینی ترامیم کے مسودے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے تاکہ آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کرایا جا سکے۔
    پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنی ذاتی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد کے لیے متحد ہوں گی اور آئینی ترامیم پر متفقہ رائے قائم کریں گی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی ماضی میں بھی آئینی ترمیم کے عمل میں ایک ساتھ کام کرتی رہی ہیں اور وہ مستقبل میں بھی اسی طرح ملک کے آئینی معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک ساتھ مل کر کام کریں گے۔
    مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی آئینی تبدیلیوں پر سب کا اتفاق ضروری ہے اور وہ تمام جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف، کے ساتھ مشاورت کریں گے تاکہ آئین میں کی جانے والی ترامیم پورے ملک کی نمائندگی کریں اور ملک کے استحکام کے لیے معاون ثابت ہوں۔اس پریس کانفرنس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جے یو آئی (ف) اور پیپلزپارٹی مل کر آئینی ترامیم کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور دونوں جماعتیں سیاسی اتفاق رائے کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ ملک میں آئینی استحکام اور قومی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔

  • بھارتی صحافیوں کا  پاک-بھارت تعلقات پر مایوسی کا اظہار

    بھارتی صحافیوں کا پاک-بھارت تعلقات پر مایوسی کا اظہار

    پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کی کوریج کے لیے آنے والی خاتون بھارتی صحافی سہاسنی حیدر نے اس دورے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر کے اس دورے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سہاسنی حیدر نے کہا کہ جے شنکر کا پاکستان آنا ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی نرمی آتی ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا گوا دورہ بھی ختم ہوا تو اس کے بعد تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہتری کے امکانات کم ہیں۔
    سہاسنی حیدر نے مزید کہا کہ بھارتی سیاست میں یہ عمومی سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر کسی بھی حکومت کی کوششوں کے باوجود پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کوئی بہتری آتی ہے تو اس کا ایک حد تک ہی ہونا ممکن ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے کئی مرتبہ تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا ذکر کیا، لیکن اس کے باوجود 2019 کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں خرابی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک 2019 کی سطح پر بھی پہنچ جاتے ہیں تو یہ ایک بڑی پیشرفت ہوگی۔سہاسنی حیدر نے اس خدشے کا بھی ذکر کیا کہ بھارتی سیاست دانوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ اگر وہ کسی بھی نئی پہل کی کوشش کریں اور کوئی دہشتگرد حملہ ہو جائے تو ان کے لیے یہ ایک بڑی مصیبت بن سکتی ہے۔
    دوسری جانب، بھارتی خاتون صحافی سمیتا شرما نے کہا کہ اگر جے شنکر کی پاکستانی حکام سے کوئی ملاقات ہوئی تو انہیں اس کی کوریج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیراعظم نریندرا مودی کا ایس سی او اجلاس کے لیے پاکستان نہ آنا ان کا سیاسی فیصلہ ہے، کیونکہ وہ ہیڈز آف اسٹیٹس کی میٹنگز میں شرکت کرتے ہیں نہ کہ ہیڈز آف گورنمنٹس کی میٹنگز میں۔سمیتا شرما نے مزید کہا کہ ایس سی او کے اجلاس سے چند دن قبل پاکستان میں ذاکر نائیک جیسے شخص کو مدعو کرنا، جو بھارت کی نظر میں اشتہاری ہے، ایک حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے یہ بات کہی کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرنی چاہیے، اور یہ بات اہم ہے کہ پاکستانی حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ بھارت کو انہیں ڈی پورٹ کر دینا چاہیے۔یہ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدہ تعلقات کے پس منظر میں اہمیت رکھتی ہے، اور بھارتی صحافیوں کی آراء سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

  • وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی پاکستان تحریک انصاف پر تنقید

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی پاکستان تحریک انصاف پر تنقید

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو آئینی ترامیم پر اپنی تجاویز پیش کرنے میں ناکام قرار دیا ہے، جبکہ اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ناقدین یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ مجوزہ آئینی ترمیم انسانی حقوق، مفاد عامہ یا عدالتی آزادی کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے ایک ٹویٹ میں، وزیر قانون نے کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم سے متعلق خصوصی کمیٹی کے سات اجلاس ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے کوئی تجویز یا سفارش پیش نہیں کی۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ترمیم کی مخالفت کرنے والے کسی بھی ایسی شق کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق یا آئین کی روح کو نقصان پہنچاتی ہو۔
    اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے کو جانبدارانہ سیاست کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض عناصر ہزاروں قیدیوں کی مشکلات کو کم کرنے اور جمہوری پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کی جائز حیثیت کو بحال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے اس بیان نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں پی ٹی آئی کی خاموشی اور تنقید کا نشانہ بننے والی آئینی ترامیم کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیر قانون کے مطابق، یہ اہم ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر ملک کی بہتری کے لیے مثبت تجاویز پیش کریں تاکہ عوام کے مفاد میں فیصلے کیے جا سکیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی سرکاری جواب نہیں آیا، لیکن ان کی جانب سے متوقع ردعمل نے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔

  • حافظ نعیم  کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر آواز اٹھانے کا مطالبہ

    حافظ نعیم کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر آواز اٹھانے کا مطالبہ

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد میں جاری شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس میں مسئلہ فلسطین پر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جاری تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بالخصوص شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو غزہ میں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔فیصل آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی طرف سے غزہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کی جماعت اسلامی کی تجویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا، "شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں فلسطین کے مسئلے پر بات چیت ہونی چاہیے، اور رکن ممالک کو اجتماعی طور پر غزہ میں ہونے والے مظالم کی مذمت کرنی چاہیے۔ اگر بھارت اسرائیل کی حمایت کرتا ہے تو وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرے گا۔حافظ نعیم الرحمان نے سیاسی جماعتوں، بشمول پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، کو آئینی فریم ورک کے اندر اپنے تحفظات کے اظہار کا حق تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پرامن احتجاج کیا ہے اور سیاسی بدامنی کے وقت بھی پی ٹی آئی کے حق میں آواز بلند کی ہے۔
    انہوں نے افغان جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے تنازعات کے دوران قوم پرست دھڑوں کی حمایت کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ پشتون برادری کے ساتھ کھڑی رہے گی۔حافظ نعیم الرحمان نے آئینی ترامیم کے حوالے سے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مجوزہ ترامیم کی ہر شق پر غور کرنے کے بجائے انہیں مکمل طور پر مسترد کریں، اس تجویز کے ساتھ کہ موجودہ چیف جسٹس کی مدت ملازمت کے بعد اس معاملے پر دوبارہ غور کیا جائے۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے فیصل آباد کے تاجروں کی حمایت کا بھی اظہار کیا اور شہر کی معیشت میں اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ان کی جاری شکایات کے حل کا مطالبہ کیا۔

  • 16 اکتوبر کے لیے ٹریفک پلان جاری: اولڈ ایئرپورٹ روڈ سمیت متعدد سڑکیں بند

    16 اکتوبر کے لیے ٹریفک پلان جاری: اولڈ ایئرپورٹ روڈ سمیت متعدد سڑکیں بند

    سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی نے 16 اکتوبر کے لیے خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اولڈ ایئرپورٹ روڈ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) بینش فاطمہ کے مطابق بھاری گاڑیوں کا راولپنڈی میں داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہو گا، جبکہ اولڈ ایئرپورٹ سے منسلک پانچ سڑکوں پر ڈائیورشن لگائی جائے گی۔ متبادل راستے فراہم کر دیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی ٹاور، چوہان چوک، عمار چوک اور گلزار قائد کے مقامات پر بھی ڈائیورشن ہو گی، جبکہ کورال چوک مکمل طور پر بند رہے گا۔ مری روڈ سے اسلام آباد جانے والے راستے کو فیض آباد کے ذریعے بند کیا جائے گا۔تاہم، چاندنی چوک سے سید پور روڈ براستہ نائنتھ ایونیو اسلام آباد جانے کا راستہ کھلا رہے گا۔ بینش فاطمہ نے خبردار کیا کہ چاندنی چوک سے ڈبل روڈ تک رسائی بعض اوقات عارضی طور پر بند کی جا سکتی ہے۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس دوران متبادل راستوں کا استعمال کریں اور کسی بھی زحمت سے بچنے کے لیے ٹریفک حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

  • فرانسیسی صدر  کا اسرائیل کو انتباہ: اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہ کریں

    فرانسیسی صدر کا اسرائیل کو انتباہ: اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز نہ کریں

    پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے نتیجے میں ہی وجود میں آیا تھا۔ ماکروں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں اور قراردادوں کا احترام کرے۔یہ بیان فرانسیسی صدر نے منگل کو کابینہ کے اجلاس کے دوران دیا۔ اجلاس میں ماکروں نے اسرائیل کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نومبر 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس کے تحت فلسطین کو دو ریاستوں یعنی ایک یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اسی قرارداد کی بدولت اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ماکروں نے اسرائیل کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کی بدولت ہی ان کا ملک وجود میں آیا تھا اور ان فیصلوں کو نظر انداز کرنا کسی بھی ملک کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ وقت اقوام متحدہ کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا نہیں ہے۔”

    اسرائیل کو اسلحہ فراہمی روکنے پر فرانس کا مطالبہ
    مائکروں کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے کے حوالے سے فرانس کی جانب سے شدید دباؤ ہے۔ اسلحے کی فراہمی روکنے کے مطالبے پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے فرانسیسی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مائکروں نے کابینہ کے اجلاس میں اسرائیلی حکومت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے قوانین اور قراردادوں کا احترام عالمی امن کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف اقدامات سے گریز کرے اور فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے فیصلوں کا احترام کرے۔
    دوسری طرف، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فرانس کے مطالبے پر تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے کی ضرورت ہے اور وہ کسی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ایمانیول ماکروں کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب خطے میں حالات کشیدہ ہیں اور اسرائیل کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں فوجی کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر تنقید ہو رہی ہے۔ فرانس کی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کا احترام کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کرے۔فرانسیسی صدر کے اس بیان کو عالمی سطح پر بھی بڑی توجہ حاصل ہو رہی ہے، اور اس سے اسرائیل پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے فیصلوں کو نظر انداز نہ کرے اور عالمی قوانین کی پاسداری کرے۔

  • نورین نیازی کا شکوہ: عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں

    نورین نیازی کا شکوہ: عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اپنے بھائی سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی، اور اڈیالہ جیل میں حالات بظاہر مارشل لا کی طرح ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے، نورین نیازی نے کہا، "میں عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتی تھی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی۔ جب میں نے 2 اکتوبر کو ان سے ملاقات کی تھی، تب ان کی طبیعت ٹھیک تھی۔” انہوں نے مزید بتایا کہ "ہماری دونوں بہنیں بھی جیل میں ہیں لیکن ان کی بھی عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی، جبکہ حکومت کی طرف سے ہمارے ساتھ کوئی رابطہ بھی نہیں کیا گیا۔نورین نیازی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کو ایک سابق وزیراعظم ہونے کی حیثیت سے جیل میں مناسب سہولیات نہیں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا، "عمران خان اپنی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے جیل میں قید کاٹ رہے ہیں، لیکن ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ انتہائی غیر انسانی ہے۔”
    اس کے علاوہ، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں نے عمران خان کا معائنہ کیا ہے، جس کے بعد انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ تاہم، عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل بھی اڈیالہ جیل گئے لیکن انہیں بانی پی ٹی آئی تک رسائی نہیں دی گئی، جس کے بعد وہ واپس آ گئے۔ یہ صورتحال ان لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے جو عمران خان کی صحت اور ان کے جیل میں حالات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور عمران خان کی رہائی کے لئے ممکنہ اقدامات کے بارے میں بھی گفتگو جاری ہے۔
    پی ٹی آئی کی رہنماؤں اور حامیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو انسانی حقوق کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ ان کی صحت اور بھلائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • 26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ،  شازیہ مری

    26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ، شازیہ مری

    کراچی: پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ایک اہم آئینی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بلاول ہاؤس کراچی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شازیہ مری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا تعین اور آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلسل آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کر رہے ہیں اور انہوں نے ہر فورم پر آئینی ترامیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شازیہ مری نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کا دیرینہ مطالبہ آئینی عدالت کا قیام ہے، اور یہ بات قائداعظم محمد علی جناح نے بھی مانی تھی۔ آئندہ آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کی شق شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سندھ کے عوام کے دکھ درد کو سمجھتی ہے۔ کراچی میں حالیہ افسوسناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور ہمیشہ امن دشمنوں نے اس کی شناخت کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کراچی میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود عوام نے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنے کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرداخلہ نے اس حوالے سے فوری ایکشن لیا ہے۔شازیہ مری کے اس بیان کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، خاص طور پر آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے بحث مزید گرم ہو گئی ہے۔