Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال واپس، حکومت نے طبی معائنہ کی یقین دہانی کرائی، بیر سٹر گوہر

    پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال واپس، حکومت نے طبی معائنہ کی یقین دہانی کرائی، بیر سٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے آج کا ڈی چوک پر ہونے والا احتجاج موخر کر دیا۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اہم یقین دہانی کے بعد احتجاج ملتوی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ انہوں نے کہا، "وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ڈاکٹرز آج صبح جیل میں عمران خان کا معائنہ کریں گے، جس کے بعد ہم نے پرامن احتجاج کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
    پی ٹی آئی کے اجلاس میں اکثریت نے رائے دی کہ احتجاج ایس سی او اجلاس کے تناظر میں مؤخر کیا جائے تاکہ غیر ضروری تنازعات سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر پمز اسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کروانے کی حکومتی پیشکش پر تفصیلی مشاورت بھی کی گئی۔حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی شرط کو تسلیم کرنے کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا، جس کے تحت ڈاکٹرز کل صبح اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا معائنہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کی قیادت کو حکومت کے اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔حکومت کے اس اقدام سے پی ٹی آئی کا آج کا مجوزہ احتجاج ملتوی کر دیا گیا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹرز عمران خان کا جلد طبی معائنہ کریں گے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے 15 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کے درمیان مشاورتی اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سینیئر قیادت کے درمیان اختلافات کی وجہ سے فیصلے میں تاخیر ہوئی۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی مفاد کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ احتجاج کی کال اس وقت واپس لی گئی ہے، جب حکومت کی طرف سے پیش کردہ مشروط پیشکش کو قبول کیا گیا۔ یہ پیشکش عمران خان کے طبی معالج کو اسلام آباد پہنچنے کی اجازت دینے کے حوالے سے تھی، تاکہ ان کا چیک اپ کیا جا سکے۔
    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ اگر عمران خان کو کسی بھی قسم کا طبی علاج فراہم کیا جاتا ہے تو پارٹی احتجاج منسوخ کر دے گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ موجودہ صورتحال میں فوری احتجاج کی ضرورت نہیں ہے، خاص طور پر جب کئی کارکنان پہلے ہی گرفتار ہیں۔خیبر پختونخوا سے آنے والا قافلہ، جو احتجاج کے لیے اسلام آباد آیا تھا، کے رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ صورتحال میں احتجاج کرنا مناسب نہیں۔ پنجاب کی قیادت کی طرف سے احتجاج کی کال دینے پر خیبر پختونخوا کے رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کی وجہ سے پارٹی کی اندرونی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔اجلاس میں مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے مفاد میں موجودہ حالات کا تجزیہ کیا جائے، اور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان جلد ہی کیا جائے گا، جس میں پارٹی کی قیادت عوام کو صورتحال سے آگاہ کرے گی۔
    یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب تحریک انصاف کے کارکنوں اور قیادت کے درمیان اعتماد کی کمی نظر آ رہی ہے، اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔ پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کا دعویٰ ہے کہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے پارٹی کی اندرونی یکجہتی میں بہتری آئے گی۔

  • لاہور میں نجی کالج میں مبینہ زیادتی کا معاملہ: پولیس نے غلط خبر پھیلانے کا الزام لگایا

    لاہور میں نجی کالج میں مبینہ زیادتی کا معاملہ: پولیس نے غلط خبر پھیلانے کا الزام لگایا

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گلبرگ میں واقع ایک نجی کالج میں طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس نے بیان جاری کیا ہے کہ کالج کے حوالے سے غلط خبر پھیلائی گئی، جس کی وجہ سے شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اس کے جواب میں وزارت تعلیم نے نجی کالج کو سیل کر دیا ہے اور اگر رجسٹریشن منسوخ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ایس ڈی پی او بانو نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط خبریں چلائی گئیں، جس کی وجہ سے لاہور میں ہنگامے ہوئے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولیس کو اطلاع کریں اور امن و امان کی صورتحال کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔
    اس واقعے کے خلاف کالج کی طالبات نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور کنال روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ بند کر دی۔ پولیس نے بتایا کہ مبینہ زیادتی کی واقعے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی اور متاثرہ بچی یا اس کے خاندان کا کوئی فرد سامنے نہیں آیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر کے بعد اسپتالوں میں چیک کیا گیا، لیکن کسی اسپتال میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ کالج انتظامیہ سے بات چیت کی گئی اور سکیورٹی گارڈز کا ریکارڈ لیا گیا۔ ایک گارڈ کو حراست میں لیا گیا، لیکن وہ واقعے سے انکاری ہے۔ فیصل کامران نے طلباء سے کہا کہ اگر کسی کے پاس متاثرہ لڑکی کی تفصیلات ہیں تو وہ شیئر کریں۔
    طلبہ نے گلبرگ کیمپس کے باہر شدید احتجاج کیا، جس کے دوران سیکیورٹی گارڈز نے کلاس رومز اور مرکزی گیٹ کو بند کرنے کی کوشش کی۔ طلبہ نے اس پر توڑ پھوڑ شروع کر دی، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑنا اور کرسیوں کو آگ لگانا شامل ہے۔ احتجاج کے دوران ایک طالب علم زخمی ہوا، اور چند طالبات کی حالت خراب ہو گئی۔ وزیر تعلیم پنجاب، رانا سکندر حیات، نے طلبہ سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ طالبہ کو انصاف دیا جائے گا اور ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
    پولیس کی بھاری نفری کالج کے باہر اور اندر موجود ہے، اور انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے۔ ترجمان لاہور پولیس نے بتایا کہ پولیس کالج انتظامیہ اور طلبا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔فیصل کامران نے مزید وضاحت کی کہ 4 سے 5 نجی اسپتالوں میں طالبہ کے داخلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا، اور کالج کے اندرونی حصوں کے کلوز سرکٹ کیمروں سے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے طلبہ سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور اگر کوئی متاثرہ طالبہ ہے تو پولیس کو آگاہ کرنے کی اپیل کی۔

  • چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چینی وزیراعظم نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات کی، جس دوران دفاعی تعاون، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کاوشیں اور خطے میں استحکام کے معاملات زیر بحث آئے۔
    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے پاکستان اور چین کے درمیان طویل عرصے سے قائم گہرے دوستانہ تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لیا اور ان کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چین اور پاکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ مشکل وقت میں تعاون کیا ہے اور اس موقع پر بھی دونوں ممالک کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے معاشی، دفاعی اور اسٹریٹیجک تعلقات کو نئے دور میں لے کر جائیں گے۔چینی وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان کو چین کا اہم اسٹریٹیجک پارٹنر قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان جاری اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ یہ منصوبہ پورے خطے کے استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔
    دفاعی امور اور دہشتگردی کے خلاف جنگ پر گفتگو کرتے ہوئے، چینی وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین اس جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور مستقبل میں بھی دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کی افواج دفاعی میدان میں اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گی۔ خاص طور پر مشترکہ فوجی مشقیں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاملات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
    ملاقات کے دوران خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ چینی وزیراعظم اور پاکستان کی عسکری قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی صورتحال اور دیگر علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔چینی وزیراعظم نے پاکستان کی عسکری قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ چین پاکستان کی سیکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی کامیابیاں پورے خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
    چینی وزیراعظم لی چیانگ کا یہ دورہ نہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کے تناظر میں اہم تھا بلکہ اس نے چین اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا۔ اس دورے کے دوران مختلف اہم معاملات پر بات چیت کی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔چینی وزیراعظم کی اس ملاقات کو پاکستان اور چین کے اسٹریٹیجک تعلقات میں ایک نئے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات سامنے آئیں گے۔

  • حکومت نے تحریک انصاف کی شرط مان لی، عمران خان کا طبی معائنہ کل اڈیالہ جیل میں ہوگا

    حکومت نے تحریک انصاف کی شرط مان لی، عمران خان کا طبی معائنہ کل اڈیالہ جیل میں ہوگا

    حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کو مؤخر کرنے کے لیے پارٹی کی شرط مان لی ہے۔ اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کا طبی معائنہ کل صبح کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے، جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہم کردار ادا کیا۔
    ذرائع کے مطابق، کل صبح پی ایم ایس اسپتال کے ڈاکٹرز اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی کی صحت کی حالت کو درست طور پر جانچا جائے۔ حکومت نے یہ پیشکش اس وقت کی جب تحریک انصاف نے اپنے احتجاج کو مؤخر کرنے کے لیے کچھ شرائط پیش کی تھیں، جن میں عمران خان کے طبی معائنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
    پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اس پیشکش پر پارٹی قیادت کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ پیشکش کے بعد پارٹی کی قیادت یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی یا مؤخر کرے گی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تحریک انصاف نے حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کیا تھا، جس میں عوامی حمایت حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔ حکومت کے اس اقدام کا مقصد سیاسی تناؤ کو کم کرنا اور پارٹی کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ پی ٹی آئی کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کا طبی معائنہ بروقت اور مناسب طریقے سے کیا جاتا ہے تو یہ ایک مثبت پیشرفت ہو سکتی ہے۔ پارٹی کی قیادت امید کر رہی ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے سیاسی صورت حال میں کچھ بہتری آئے گی۔اس صورت حال کے پس منظر میں، ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے، اور تحریک انصاف کی قیادت نے احتجاج کے ذریعے عوامی حمایت کو بڑھانے کا ارادہ کیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا حکومت کی یہ پیشکش تحریک انصاف کی جانب سے متوقع احتجاج کو مؤخر کرنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔ یہ پیشرفت ملک کی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتی ہے، جس کا اثر آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتا ہے۔

  • ایف بی آر کی سیلز ٹیکس فراڈ میں 5 گرفتاریاں

    ایف بی آر کی سیلز ٹیکس فراڈ میں 5 گرفتاریاں

    پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس فراڈ کے الزام میں اپنی گرفتاریوں میں تیزی لاتے ہوئے مختلف شہروں سے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کے زیر نگرانی کی گئیں، جن کا مقصد ملک بھر میں سیلز ٹیکس کی چوری اور دھوکہ دہی کے مافیا کے خلاف سخت اقدامات کرنا ہے۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شدہ افراد میں سے 4 چیف فنانشل آفیسرز (CFOs) شامل ہیں، جو اربوں روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث ہیں۔ یہ CFOs لاہور اور فیصل آباد سے پکڑے گئے ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ جعلی کاروباری چینز قائم کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔
    ایف بی آر کے مطابق، یہ گرفتار افراد ایسے گروہ کے اہم رکن ہیں جو جعلی اور ڈمی یونٹس چلا رہے تھے۔ یہ گروہ اس نوعیت کی سرگرمیوں کے ذریعے عوامی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہا تھا، جس کی روک تھام کے لئے ایف بی آر نے اپنے آپریشنز کو مزید فعال کیا ہے۔یہ کارروائیاں ملک بھر میں منظم مافیا کے خلاف جاری ہیں، اور ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے دھوکہ دہی کے واقعات کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ایف بی آر کے حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسے دھوکہ دہی کے کیسز کی نشاندہی کریں اور انتظامیہ کو اطلاع دیں تاکہ ملک کے معاشی نظام کو محفوظ بنایا جا سکے۔ایف بی آر کا عزم ہے کہ وہ ملک میں سیلز ٹیکس کے نظام کو شفاف اور موثر بنائے گا اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

  • اسد قیصر کا پی ٹی آئی کی ترقی کے لیے عزم، بانی کی صحت پر تشویش کا اظہار

    اسد قیصر کا پی ٹی آئی کی ترقی کے لیے عزم، بانی کی صحت پر تشویش کا اظہار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ پارٹی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ریاست کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے شریک ممالک کے رہنماوں کی آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔اسد قیصر نے کہا کہ تحریک انصاف ایس سی او کے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہے اور تمام ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات بڑھانے کی خواہاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبروں کے پیش نظر احتجاج کی مشروط کال دی ہے۔ اسد قیصر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر کو کم از کم بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے، کیونکہ ان کے خیال میں اگر ڈاکٹر بانی سے ملاقات کرتے تو اس میں کوئی بڑی بات نہ ہوتی۔اسد قیصر نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے میں دلچسپی لیتی تو یہ ایک مثبت اقدام ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف پاکستان کے وقار اور سلامتی کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار ہے۔ یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے، جس نے پارٹی میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

  • پی آئی اے کا فضائی میزبان ٹورنٹو میں لاپتہ، تحقیقات کا آغاز

    پی آئی اے کا فضائی میزبان ٹورنٹو میں لاپتہ، تحقیقات کا آغاز

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ایک اور فضائی میزبان، محسن رضا، ٹورنٹو میں مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ پیر کو پیش آیا جب محسن رضا کو کراچی آنے والی پرواز پی کے 784 پر رپورٹ کرنا تھا۔ ذرائع کے مطابق، وہ ہوٹل میں موجود نہیں تھے اور یہ انکشاف پرواز کے لیے رپورٹ نہ کرنے کے بعد ہوا۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پی آئی اے کے فضائی میزبانوں کی گمشدگی کا معاملہ ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹورنٹو میں کم از کم 12 فضائی میزبانوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جو کہ ایئرلائن کی ساکھ کے لیے تشویشناک ہیں۔ پی آئی اے کے پاسپورٹ جمع کرانے کی پالیسی، جو فضائی میزبانوں کی سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی، اس معاملے میں کوئی مثبت نتائج نہیں دے سکی۔
    پی آئی اے کے ترجمان نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ قومی ایئرلائن کی انتظامیہ نے محسن رضا کے لاپتہ ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، اگر کسی بھی عملے کے فرد کے خلاف تحقیقات میں کوئی قصور ثابت ہوا تو ایئرلائن قوانین کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، جس میں ملازمت سے برخاستگی بھی شامل ہو سکتی ہے۔یہ واقعہ پی آئی اے کے لیے ایک اور چیلنج ہے، کیونکہ کمپنی کو پہلے ہی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ایئرلائن کے حکام نے اس صورتحال کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی میزبانوں کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے اور ایئرلائن کی ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔
    حکومتی سطح پر بھی اس معاملے کا نوٹس لیا جا رہا ہے اور پی آئی اے کے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں اور عوامی تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس واقعے نے ایئرلائن کے اندرونی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں، اور عوام کی جانب سے بھی اس معاملے میں شفافیت کی توقع کی جا رہی ہے۔ پی آئی اے کے مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایئرلائن اپنی داخلی پالیسیوں کو مضبوط بنائے اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے موثر اقدامات کرے۔

  • بلوچستان: بی ایل اے کا دکی کی کوئلہ کانوں سے بھتہ وصولی کا انکشاف

    بلوچستان: بی ایل اے کا دکی کی کوئلہ کانوں سے بھتہ وصولی کا انکشاف

    بلوچستان کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبد الرحمان کھیتران نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) دکی کی کوئلہ کانوں سے روزانہ 40 لاکھ روپے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات سوموار کے روز بلوچستان اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ حالیہ دنوں میں لورالائی ڈویژن میں دہشت گردی کے واقعات میں 50 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے 50 مرغیاں بھی حلال کردی جائیں تو گاؤں میں کہرام مچ جاتا ہے، لیکن یہاں یومیہ ایک شخص کا قتل کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں حکومتی سنجیدگی کی مثال یہ ہے کہ واقعہ کے بعد صرف ڈی سی اور ڈی پی او کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
    انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں گڈ گورننس کی کمی ہے اور بی ایل اے صوبے میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دہشت گرد تنظیم نے عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے لوگ ان عناصر کو بھتہ دینے پر مجبور ہیں۔ عبد الرحمان کھیتران نے کہا کہ موسی خیل میں کالعدم تنظیموں کا کیمپ موجود ہے، لیکن اس کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی رٹ قائم کرے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرے، بصورت دیگر یہ تنظیمیں خود فیصلے کرنے کی جرات کر سکتی ہیں۔وزیر نے انکشاف کیا کہ دکی کی کوئلہ کانوں سے وصول ہونے والا بھتہ روزانہ 40 لاکھ روپے ہے، جو کہ جناح روڈ پر واقع ایک نجی بینک میں کالعدم تنظیم کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ کے سٹہ نالے کے اطراف اور گائے خان چوک پر بھی کالعدم تنظیم کے کارندے بھتہ وصول کرتے ہیں۔
    یہ انکشافات اس وقت سامنے آ رہے ہیں جب بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اور دہشت گردی کی لہر نے لوگوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوامی نمائندوں کی جانب سے اس طرح کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف عوام کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے، بلکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔

  • بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے  سندھ کے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے امداد کا آغاز

    بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے سندھ کے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے امداد کا آغاز

    سندھ حکومت نے سبز انقلاب کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے چھوٹے کاشتکاروں کی امداد کے لیے بینظیر ہاری کارڈ کا اجراء کردیا ہے۔ اس منصوبے کا افتتاح چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کیا، جب کہ سندھ کابینہ نے 23 ستمبر 2024 کو اس کے اجراء کی منظوری دی تھی۔ہاری کارڈ کا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو مالی مدد فراہم کرنا اور ان کے زراعتی کاروبار کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بینظیر ہاری کارڈ کے لیے 14 لاکھ 4 ہزار 422 چھوٹے کاشتکاروں کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں 72 فیصد کاشتکار ایک سے ساڑھے 12 ایکڑ تک زمین کے مالک ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بینظیر ہاری کارڈ کے تحت رجسٹرڈ کاشتکاروں کو فوری نقد امداد اور نرم شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، معیاری بیجوں، کھاد اور گندم کی سرکاری خریداری میں کارڈ ہولڈرز کو ترجیح دی جائے گی۔ زرعی مشینری، سولر ٹیوب ویلز اور کھیتوں کی صفائی میں بھی مدد فراہم کی جائے گی۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ انتہائی چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے زرعی کاروبار کے لیے قرضے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، فصلوں کی انشورنس کا انتظام کیا جائے گا اور قدرتی آفات کی صورت میں ٹارگٹڈ امداد بھی دی جائے گی۔
    کاشتکاروں کو مالی امداد کی فراہمی کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے 12 ایکڑ والے کاشتکاروں کو ایک سے 2 ہزار روپے فی ایکڑ نقد امداد ملے گی، جبکہ 25 ایکڑ سے زیادہ والی زمین کے مالکان کو 500 سے 1000 روپے فی ایکڑ مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، ہاری کارڈ کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ متعلقہ سطح پر اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جبکہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اور ڈویژنل سطح پر ڈویژنل کمشنر کمیٹیوں کے سربراہ ہوں گے۔ وزارتی کمیٹی اس کارڈ کے اجراء کے عمل کی نگرانی کرے گی۔یہ اقدام سندھ حکومت کی جانب سے زراعت کے شعبے کو مستحکم کرنے اور چھوٹے کاشتکاروں کی معیشت کو بہتر بنانے کی ایک کوشش ہے، جس سے نہ صرف کاشتکاروں کی مالی حالت میں بہتری آئے گی بلکہ سندھ کے زراعتی نظام کو بھی فروغ ملے گا۔ اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ سندھ کے زراعتی شعبے میں ایک نیا دور شروع ہوگا، جو نہ صرف مقامی بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

  • بھارت  کا  کینیڈا سے اپنے ہائی کمشنر اور دیگر سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ

    بھارت کا کینیڈا سے اپنے ہائی کمشنر اور دیگر سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ

    نئی دہلی: بھارت نے حالیہ سفارتی تنازع کے پیش نظر کینیڈا سے اپنے ہائی کمشنر اور دیگر سفارتکاروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کینیڈا نے سکھ علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کی تحقیقات میں بھارتی اہلکاروں کے شامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے اس صورتحال کے تناظر میں نئی دہلی میں کینیڈا کے ناظم الامور کو طلب کیا۔ بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ انہیں کینیڈا کی موجودہ حکومت پر بھارتی سفارتکاروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے حوالے سے مکمل اعتماد نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا کہ تمام سفارتکاروں کو فوری طور پر واپس بلایا جائے۔
    بھارتی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے اس حوالے سے کہا، "ہمیں کینیڈا کے موجودہ حکام پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ ہمارے سفارتکاروں کی حفاظت کو یقینی بنا سکیں گے۔ اس لیے ہم نے انہیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔” مزید برآں، بھارت نے ہردیپ نجر کے قتل کے معاملے میں کینیڈا کے فیصلے پر جوابی اقدامات اٹھانے کا حق بھی محفوظ رکھا ہے۔
    یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے جی20 اجلاس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران ہردیپ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹس کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ٹروڈو نے کہا، "ہمارے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ بھارتی ایجنٹ اس واقعے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ بیان بین الاقوامی سطح پر کشیدگی کا باعث بن گیا ہے، خاص طور پر جب کہ کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کی جانب سے بھارت کے خلاف ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ہردیپ سنگھ نجر، جو سکھ علیحدگی پسندوں کے ایک اہم رہنما تھے، کو 18 جون 2023 کو کینیڈا کے ایک گوردوارے کے سامنے قتل کیا گیا تھا۔ ان کے قتل کے بعد کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کے ردعمل کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔
    اس واقعے کے بعد بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔ اس تنازعے کے نتیجے میں عالمی سطح پر بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں بات چیت کی راہیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔کینیڈا میں سکھ کمیونٹی کی جانب سے بھارتی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہروں اور بھارت کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید نے اس معاملے کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے، اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی نئی لہر متوقع ہے۔