Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • نگران وزیر اطلاعات ونشریات کا چوہدری پرویز الہی کے بیان کی تردید

    نگران وزیر اطلاعات ونشریات کا چوہدری پرویز الہی کے بیان کی تردید

    نگراں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مرتضیٰ سولنگی نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے آئی ایم ایف اور یورپین یونین کے نمائندوں کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے دعووں کو مسترد کر دیا۔
    اپنے ٹویٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ اس دعویٰ میں ذرابھر بھی سچائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک سینئر سیاستدان کی ذہنی اختراع ہے۔


    انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ اسطرح کے خبروں سے گریز کرے،واضح رہے کہ چوہدری پرویز الہی نے یہ دعوی کیا تھا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے عمران خان سے آڈیالہ جیل میں ملاقات کی ہے ،

  • لاہور ڈی ایچ اے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائے،وزیر اعلی پنجاب

    لاہور ڈی ایچ اے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائے،وزیر اعلی پنجاب

    لاہور ڈی ایچ اے حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائے وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کی لواحقین سے ملاقات کے دوران گفتگو،وزیر اعلی محسن نقوی نے کہا کہ مقدمہ میں قتل کے دفعات شامل کئے گئے ہے کیونکہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی شازش تھی جس کے تحت پورے خاندان کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا،
    لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 7 میں تیز رفتار کار کی ٹکر سے 6 افراد کی موت کے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر دی گئی، واقعے کی تفتیش بھی تبدیل کر کے ڈی ایس پی کاہنہ کو مارک کر دی گئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کم عمر ڈرائیور افنان شفقت کی گاڑی کی ٹکر سے ایک ہی گھرانے کے 6 افراد جاں بحق ہونے کے واقعے کے مقدمے میں دفعہ 302 بھی شامل کر دی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ 302 کی تفتیش کے لیے ملزم افنان کی طلبی کرائی جائے گی۔
    ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد کے ورثا نے ملزم پر انہیں ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا، ان ذرائع نے مزید بتایاکہ واقعے کی تفتیش بھی تبدیل کردی گئی ہے، واقعے کی تفتیش اب ڈی ایس پی کاہنہ کو مارک کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ کار کی ٹکر سے 2 بچوں سمیت 6 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم افنان مقدمہ درج ہونے کے بعد جیل جا چکا ہے۔ دوسری جانب6 افراد کی ہلاکت کے مقدمے کے ملزم افنان شفقت نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، درخواست میں نگران وزیراعلیٰ، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
    کمسن ملزم افنان شفقت نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ مجھے تحفظ فراہم کیا جائے، درخواست میں فریق بنائی گئی تمام شخصیات کو عدالت طلب کرے۔

    تحقیقات میں حیران کن انکشافات

    لاہور کے علاقے ڈیفینس فیز 7 میں تیز رفتارگاڑی کی ٹکر سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد کی موت کے کیس میں تحقیقات کے دوران نئے انکشافات سامنے آئے تھے۔
    ذرائع پنجاب حکومت کے مطابق کم عمر ڈرائیور افنان کی حادثے سے قبل جاں بحق افراد کے ساتھ جھڑپ ہوئی تھی، افنان وائی بلاک سے گاڑی میں بیٹھی خواتین کا کافی دیر تک پیچھا کرتا رہا، متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے کئی بار گاڑی کی اسپیڈ تیز کی کہ افنان پیچھا چھوڑ دے لیکن ملزم افنان نے گاڑی کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل خواتین کو ہراساں کرتا رہا۔
    ذرائع کا بتانا ہے کہ وائی بلاک نالے پر متاثرہ گاڑی کے ڈرائیور حسنین نے گاڑی روک کر افنان کو ڈانٹا، دوسری گاڑی سے حسنین کے والد نے بھی ملزم افنان کو سمجھایا کہ خواتین کو ہراساں مت کرو، اس دوران ملزم افنان دھمکیاں اور گالیاں دیتا رہا اور کہتا رہا میں دیکھتا ہوں تم لوگ ڈیفینس میں گاڑی اب کیسے چلاتے ہو۔
    ذرائع پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ حسنین اپنی بہن اور بیوی کو لے کر آگے نکلا تو ملزم نے دوبارہ پیچھا شروع کر دیا، مکڈونلڈ چوک پر گھوم کر ملزم افنان نے 160 کی اسپیڈ سے گاڑی خواتین والی گاڑی سے ٹکرا دی، حادثے کے بعد حسنین کی گاڑی 70 فٹ روڈ سے دور جا گری اور سوار تمام افراد جاں بحق ہو گئے،

  • بنگلہ دیش: اپوزیشن جماعتوں نے اتوار سے 48 گھنٹے ہڑتال کی کال دے دی

    بنگلہ دیش: اپوزیشن جماعتوں نے اتوار سے 48 گھنٹے ہڑتال کی کال دے دی

    بی این پی نے قومی انتخابات کے شیڈول کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بنگلہ دیش بھر میں اتوار سے 48 گھنٹے کی ہڑتال (ہڑتال) کی کال دی ہے۔ پارٹی کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری جنرل روح کبیر رضوی نے جمعرات کی سہ پہر ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔ پارٹی نے انتخابی شیڈول کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی عمل کو جاری رکھنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں بشمول گونو اودھیکار پریشد (نور رشد) اور گنتنتر منچا نے بھی اتوار سے 48 گھنٹے کی ہڑتال کی کال دی تھی۔
    28 اکتوبر کو ایک ریلی کے بعد جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں نے ناکام بنا دیا تھا، بی این پی نے اگلے دن ہڑتال کی اور اس کے بعد اس کے اجتماع پر حملوں اور اس کے سینئر رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے ملک بھر میں تین دن کی ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ناکہ بندی کا پانچواں مرحلہ بدھ کی صبح 6 بجے شروع ہوا اور جمعہ کی صبح 6 بجے تک جاری رہے گا۔ہفتے کے آخر میں ایک مختصر وقفے کے بعد، بی این پی اور اس کی ہم خیال جماعتیں اپنے مطالبات کو دبانے کے لیے دو روزہ ہرتال کا انعقاد کریں گی۔
    چیف الیکشن کمشنر قاضی حبیب الاول نے بدھ کو 12ویں پارلیمانی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا، پولنگ 7 جنوری کو ہو گی۔
    فائر سروس کے مطابق، شرپسندوں نے جمعرات کی صبح 9 بجے تک شیڈول کے اعلان کے بعد سے ملک بھر میں بسوں، ٹرکوں، ٹرینوں، ہیومن ہولرز اور کور وینز سمیت 12 گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

  • پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے نگران وزیر تجارت کو خط لکھ دیا

    پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے نگران وزیر تجارت کو خط لکھ دیا

    پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن پنجاب زون نے نگراں وزیر تجارت کو خط لکھ کرچینی کی برآمد کیلئےمدد مانگ لی خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیر تجارت اضافی چینی کی برآمد کا معاملہ وفاقی حکومت سے اٹھائیں، شوگرملز مالکان نے مزید ڈھائی لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگ لی، خط میں مزید کہا گیا ہے کہ شوگر انڈسٹری سے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس سال جنوری میں ڈھائی لاکھ ٹن چینی برآمد کی اجازت دی گئی تھی۔خط میں کہا گیا ہے کہ اضافی چینی کی برآمد سے 40 کروڑ ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں کہا کہ شوگر ملز کے پاس31 اکتوبر 2023 تک11 لاکھ 30 ہزار ٹن چینی کا ذخیرہ تھا، چینی کا اضافی اسٹاک 2 ماہ سے زائد عرصے تک چلے گا۔

  • یہ الیکشن نہیں نامزدگی ہو رہی ہے جو سلیکشن پلس ہے،سابق سپیکر اسد قیصر

    یہ الیکشن نہیں نامزدگی ہو رہی ہے جو سلیکشن پلس ہے،سابق سپیکر اسد قیصر

    کرپشن کے الزام کے کیس میں اینٹی کرپشن صوابی نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ محمد خلیل خان کی عدالت پیشی کے موقع پر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جس کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ دوران سماعت اسد قیصر کے وکیل ارشد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اسد قیصر کو جوڈیشل کرنے کے بعد اب ہم اینٹی کرپشن کورٹ میں ضمانت کے لئے درخواست دینگے۔بعدازاں عدالت نے اسد قیصر کو گجوخان میڈیکل کالج صوابی کے لئے طبی آلات کی خریداری میں کرپشن کے الزام میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
    سابق اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا ک ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ چاہئے اور جو ہمارے اوپر کیسز ہیں ہم ان کا قانونی طور پر مقابلہ کریں گے لیکن جس طرح ہماری پارٹی کو ہراساں کیا جا رہا ہے، ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے یہ قابل مذمت ہے،سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ نواز شریف اپنے آپ کو وزیرِاعظم ڈکلیئر کر رہے ہیں،اس طرح کے الیکشن کی کیا ساکھ ہو گی اور اگر نواز شریف وزیر اعظم بنتا ہے تو اسے کون مانے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں آزاد اور منصفانہ الیکشن ہو اور عوام فیصلہ کریں اور اگر عوام نے فیصلہ نہیں کرنا تو پھر الیکشن کی کیا ضرورت ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ اس وقت جو نگران حکومت ہے کیا وہ اس ملک میں آزاد اور منصفانہ الیکشن چاہتے ہیں،کیا وہ تمام پارٹیوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینا چاہتے ہیں، پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔یہ الیکشن نہیں بلکہ نامزدگی ہو رہی ہے، یہ سلیکشن پلس ہے، اگر اس قسم کا الیکشن ہو جائے تو کون مانے گا، نہ دنیا مانے گی اور نہ ہی اس ملک کے عوام مانے گے۔

    ا

  • پنجاب :لاہور ہائی کورٹ کا سموگ ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم

    پنجاب :لاہور ہائی کورٹ کا سموگ ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی سموگ کے خاتمے کیلئے فوری اسموگ ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا سمیت دیگر افسران عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ جسٹس شاہد کریم نے سموگ کی موجودہ صورتحال پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسموگ کا جو احوال ہے اس کی ذمہ دار حکومت ہے، شہر کی جو حالت ہے وہ آپ دیکھ لیں، آپ شہر کے مالک ہو آپ سب کچھ کرسکتے ہو، پہلے یہ سموگ نومبر کے آخر اور دسمبر میں آتی تھی، اب یہ سموگ اکتوبر میں شروع ہوچکی ہےسموگ کی خطرناک صورت حال کے پیش نظرپنجاب حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے 10 اضلاع کے تعلیمی ادارے کرنے کا فیصلہ کیا گیا،جسکی باقائدہ نوٹینفکشن جاری کار دی گئی نوٹیفکیشن کے مطابق 18 نومبر کو لاہور، ننکانہ صاحب، شیخوپورہ، قصور، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، نارروال، حافظہ آباد، اور منڈی بہاؤالدین میں تعلیمی ادارے بند رہیں گے جبکہ مارکیٹیں، دکانیں، جم اور سینماء ہالز دوپہر 3 بجے کھلیں گے۔
    لاہور ہائیکورٹ نے تمام سکولز، کالجز کے بچوں کو کالا دھواں چھوڑنے والے کارخانوں کی اطلاع دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سکول کالجز کے بچے اپنے علاقوں میں اگر کالا دھواں چھوڑنے والا کوئی کارخانہ ہے تو اطلاع دیں، کمشنر لاہور سمیت دیگر افسران کل سے سکولز کالجز میں جاکر بچوں کو آگاہ کریں، کالا دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کو سیل کر کے ڈی سیل نہ کیا جائے۔

  • قوم نے فیض آباد  دھرنا کیس میں  ناانصافی کا خمیازہ  9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا،  سپریم کورٹ

    قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

    9 مئی کے پر تشدد واقعات فیض آباد دھرنے کیس پر عملدارمد نہ کرنے کی وجہ سے سامنے آیا ، سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا عمل درآمدکیس کی گزشتہ روز (15 نومبر) کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں عدالت نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ بھی دیا ہے۔ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کو مختلف حکومتوں نے 5 سال تک نظر انداز کیا، حکم نامے میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے آبزرویشنز دیں کہ ماضی کے پرتشدد واقعات کے لیے نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی کوئی کارروائی ہو سکی،کوئی حیرت کی بات نہیں کہ فیصلے پر عمل نہ ہونے سے ذاتی مقاصد کے لیے پرتشدد واقعات کرنا معمول بنا، اس سے آزاد عدلیہ اور بہتر پاکستان کے لیے جد و جہد کرنے والے متاثرین کے ساتھ بھی ناانصافی ہوئی، قوم نے ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا۔ حکمنامے میں کہا گیا کہ فیض آباد دھرنے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئیں جنہیں سماعت کیلئے مقرر نہ کیا گیا جس کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا۔
    سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ شیخ رشید کے وکیل نے کہا میں نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں۔ عدالت نے بار بار پوچھا درخواست دائر کیوں کی، شیخ رشید کے وکیل نے جواب دیا غلطی فہمی کے سبب نظرثانی دائر کی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ تعجب ہے ایسا سیاست دان جو طویل عرصہ تک رکن پارلیمنٹ رہا اور وفاقی وزیر جیسے اعلیٰ منصب پر فائز رہا اسے غلط فہمی ہوگئی، جس کے سبب نظرثانی درخواست دائر کی، عدالت نے یہ بھی پوچھا کیا شیخ رشید نے نظرثانی درخواست کسی کے کہنے پر دائر کی، جواب دہرایا گیا نظرثانی درخواست غلطی فہمی کی بنا پر دائر کی۔عدالتی حکمنامے میں نیا انکشاف سامنے آگیا جس کے مطابق 25 اپریل 2019کو سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدایت پر درخواستیں کاز لسٹ سے نکال دی گئیں۔
    حکم نامے میں سپریم کورٹ نے 4 سال 8 ماہ تک کیس مقرر نہ کرنے پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قرار دیا کہ سپریم کورٹ اپنے اوپر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اتنے سال کیس مقرر نہ ہونے اور ہیر پھیر کرنے کی ذمہ داری تسلیم کرتی ہے، سپریم کورٹ قرار دیتی ہےکہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی، سچ آزاد کرتا ہے اور اداروں کو مضبوط بناتا ہے، پاکستانی عوام کا حق ہے کہ ان تک سچ پہنچایا جائے۔
    عدالت نے کہا ہے کہ ہر ادارے کا فرض ہے کہ وہ ذمہ داری اور شفافیت کا مظاہرہ کرے، اداروں سے غلطی ہو تو اس کو تسلیم کرنا چاہیے، عوام کا اداروں پر عدم اعتماد آمریت کو فروغ اور جمہوریت کی نفی کرتا ہے، اپنے اداروں کو داغدار کرنے والے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ساتھ اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔حکمنامے میں کہا گیا کہ نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے پر متعلقہ عدالتی حکام سے پوچھا گیا، ایڈیشنل رجسٹرار فیکچر اور ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے اپنی رپورٹس دیں، جن کے مطابق 25 اپریل 2019کو نظرثانی درخواستیں فائنل کاز لسٹ کے ڈرافٹ میں دن ایک بج کر بارہ منٹ پر شامل ہوئیں، اسی دن محض پانچ گھنٹے بعد اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدایت پر شام پانچ بج کر چھ منٹ پر یہ درخواستیں فائنل کاز لسٹ سے نکال دی گئیں۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہےکہ یہ یاد دلانا ضروری نہیں ہےکہ سپریم کورٹ کے ہر حکم پر عمل درآمد کرانا ضروری ہے، فیض آباد دھرنا فیصلے پر تمام نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی جاچکی ہیں، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ الیکشن کمیشن ٹی ایل پی کی فارن فنڈنگ کے متعلق ایک ماہ میں رپورٹ جمع کروائے، شیخ رشید کی نظر ثانی درخواست اور ابصار عالم کی متفرق درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے۔

    فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کیس کی مزید سماعت 22 جنوری 2024 کو ہوگی۔

  • ایون فیلڈ  اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیلیں سماعت کے لئے مقرر

    ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیلیں سماعت کے لئے مقرر

    نواز شریف کی اپیلوں کے حوالے سے بڑی پیش رفت ہوئی ،ایون فیلڈ ریفرنس اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی اپیلیں سماعت کے لئے مقرر کر دئے گئے،
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 21 نومبر کو نواز شریف کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کر دیں،چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب سماعت کریں گے.عدالت نے نواز شریف کی بیرون ملک سے واپسی پر اپیلیں بحال کیں تھیں
    واضح رہے کہ نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سزا سنائی تھی، نواز شریف نے احتساب عدالت کے فیصلوں کو 2018 سے چیلنج کر رکھا ہے،

  • پی سی بی چئیر مین بھارت پہنچ گئے

    پی سی بی چئیر مین بھارت پہنچ گئے

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) مینجمنٹ کمیٹی کے چئیرمین ذکا اشرف اور انکے ہمراہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) سلمان نصیر آئی سی سی اجلاس میں شرکت کیلئے بھارت پہنچ گئے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بورڈ اجلاس 18 نومبر کو بھارت میں ہوگا۔
    ذکا اشرف اور سلمان نصیر آئی سی سی اجلاس میں شرکت کے بعد احمد آباد میں 19 نومبر کو کھیلا جانے والا ورلڈ کپ فائنل بھی دیکھیں گے۔

  • فلسطین کی لفظی حمایت بند کر کے عملی مظاہر ہ  کرے،مولانا فضل الرحمن

    فلسطین کی لفظی حمایت بند کر کے عملی مظاہر ہ کرے،مولانا فضل الرحمن

    نوشہرہ : جمعیت علمائے اسلام کا طوفان اقصیٰ کانفرنس سے خطاب میں فضل الرحمان نے کہا کہ غزہ میں مظلوم شہریوں پر بمباری کی جا رہی ہے، بیت المقدس ہمارا ہے مسجد الاقصیٰ ہماری ہے اسے حاصل کرنا ہمارا حق ہے، آج ایک مسلمان بھائی کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہر مسلمان پر فرض ہے۔فضل الرحمان نے کہا کہ بچوں اور خواتین سمیت 12 ہزار فلسطینی شہید کر دیے گئے، کیا اسرائیل جنگی جرائم نہیں کر رہا؟ عالمی عدالت انصاف یا بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں حق کی بات کب کریں گی؟


    انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹم بم ہے لیکن اس کے باوجود ہم خوفزدہ ہیں، ایٹم بم ہماری حفاظت کیلیے ہے اور ہم ایٹم بم کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کا دباؤ ہم پر ہے، میں نے قطر جا کر مجاہدین کی قیادت سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں سب سے زیادہ توقع پاکستان سے ہے۔
    سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک کی آزادی اور حریت کو امریکا کی بھینٹ چڑھا دیا، انگریزوں سے نجات کے باوجود آج بھی ہم ان کی پیری کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں، آزادی تب ہوگی جب ہم اپنے رب کی غلامی کریں گے۔