معروف کمنٹیٹر اور سابق کپتان رمیز راجہ نے ورلڈ کپ 2023 میں گرین شرٹس کے ذلت آمیز رن کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مذمت کی ہے۔ ہفتے کے روز، بابر اعظم کی قیادت والی ٹیم انگلینڈ کو کم ٹوٹل پر روکنے میں ناکام رہنے اور مطلوبہ اوورز میں ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے نیٹ رن ریٹ میں نیوزی لینڈ کو پیچھے چھوڑنے کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی۔ قومی ٹیم ٹورنامنٹ کو بڑے نوٹ پر ختم کرنے میں ناکام رہی کیونکہ اسے اپنے آخری راؤنڈ کے میچ میں دفاعی چیمپئن کے ہاتھوں 93 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انگلینڈ کے 338 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 244 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے، پی سی بی کے سابق چیئرمین نے کہا: "جب آپ باؤلرز نئی گیند سے وکٹیں نہیں لیتے اور مہنگے ہونے لگتے ہیں،
تب بابر کپتانی کیسے کریں گے؟”
"اور پھر وہ [پی سی بی] کچھ سابق کرکٹرز کو اکٹھا کریں گے اور ان سے پوچھیں گے کہ کرکٹ کو کیسے ٹھیک کیا جائے؟ انہیں کس نے [بورڈ کا] انچارج بنایا؟ کیا ان کا کام صرف ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کپتان اور کوچنگ اسٹاف کو تبدیل کرنا ہے اور ہر کوئی ایسا کرے گا۔ لگتا ہے کہ انہوں نے کوئی بڑا قدم اٹھایا ہے؟”
سابق کرکٹر نے ایک بڑے ایونٹ کے دوران خبریں لیک کرنے اور بیان دینے کے عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور نئے تعینات ہونے والے عبوری چیف سلیکٹر توصیف احمد پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کی کرکٹ کا ایک انچ بھی بہتر نہیں ہو سکتا اگر آپ میں کھیل کا جنون نہیں ہے۔ آپ کو اپنے آپ کو اور اپنی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو اپنے پسندیدہ رپورٹرز کو خبریں لیک کرنے کا یہ سلسلہ بند کرنے کی ضرورت ہے۔”
"آپ نے جس نئے چیف سلیکٹر کا تقرر کیا ہے، اس کے پرانے کلپس دیکھیں اور اس نے بابر اور رضوان کے بارے میں کتنی بری بات کی ہے، آپ چاہتے ہیں کہ ایک 70 سالہ بوڑھے کو مقرر کر کے آپ کی کرکٹ ترقی کرے جو سلیکشن کے بارے میں کچھ نہیں جانتا؟ "”پاکستان کرکٹ تباہ ہو چکی ہے۔ آپ کلب میچوں میں اسپائکس کے ساتھ بیٹنگ، باؤلنگ یا فیلڈ نہیں کر سکتے۔ ویک اینڈ پر، وہ گراؤنڈ جہاں کلب پریکٹس کرتے ہیں، کمپنیوں کو ٹینس بال کرکٹ کا انعقاد کرنے کے لیے دیا جاتا ہے کیونکہ اس سے انہیں پیسہ ملتا ہے۔ ” "اس پورے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور بورڈ کو پہلے خود کو بدلنا چاہیے،”
یاد رکھیں، پاکستان کی ورلڈ کپ مہم ممکنہ 18 میں سے آٹھ پوائنٹس کے ساتھ ختم ہوئی کیونکہ مین ان گرین نے چار میچوں میں فتح حاصل کی جبکہ پانچ میں شکست کا مزہ چکھنا پڑا۔
پاکستان اب اس سنچری میں پانچویں بار ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا ہے کیونکہ اس کی آخری ظہور 2011 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ہندوستان کے خلاف ہوئی تھی جس میں وہ ہار گئے تھے۔
Author: صدف ابرار
-

پورے نظام کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے،رمیز راجا
-

نواز شریف کو کونسی سہولت ملی ہے؟ طلال چودھری
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما طلال چوہدری نے کہا ہے .پاکستان کا مسئلہ غریب کے چولہے کا ہے۔ ہم نے لوگوں کے مسائل کو ترجیح دی، کیا غلط کیا؟ پاکستان کے عوام غربت کے چکی میں پس رہی ہے ،عوام ہمارے بیانیہ کا مرکزی نکتہ عام آدمی کی زندگی آسان بنانا ہے۔ ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران طلال چوہدری نے کہا کہ نواز شریف کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں ہے۔ عوام کا اگلا ووٹ بھی ن لیگی قائد کو ملنے جارہا ہے۔ کہ ہم ووٹ کو عزت دو کے بیانیے پر کھڑے تھے، ن لیگ کو عدم اعتماد پر پیپلز پارٹی نے قائل کیا۔
انہوں نے کہا کہ پوچھتا ہوں نواز شریف کو کونسی سہولت ملی ہے؟ وہ تو آج بھی پیشیاں بھگت رہے ہیں، ن لیگی قائد عوام کے لاڈلے ہیں۔ طلال چوہدری نے مزید کہ ہم ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ پر کھڑے تھے، ہم نہیں چاہتے تھے کہ عدم اعتماد ہو، عدم اعتماد پر ہمیں پیپلز پارٹی نے قائل کیا۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو 10 سال کی کارکردگی کا موازنہ کریں۔ نواز شریف اپنے مؤقف سے نہیں ہٹے، عوام کو مہنگائی کے دلدل سے نکالنا ضروری ہے، طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جعلی جھوٹے بیانیہ زیادہ دیر نہیں چلتے، حکومت کے پاس اختیار بھی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹی پارٹیو ں کو قومی دھارے میں ساتھ لے کر چلنا چاہیے، بلوچستان، سندھ اور کے پی کی چھوٹی پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ -

قومی ٹیم کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ورلڈکپ سے باہر ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے واپسی کا سلسلہ جاری اسکواڈ کا دوسرا گروپ کولکتہ سے دبئی کےلیے روانہ ہوگیا۔اسکواڈ میں شامل 22 ارکان دبئی سے اپنے اپنے شہر روانہ ہونگے۔ شاہین آفریدی، امام الحق، سلمان علی آغا، محمد نواز اور دیگر روانہ ہونے والے دوسرے گروپ میں شامل ہیں۔ کولکتہ سے دبئی روانہ ہونے والے اسکواڈ میں کوچنگ اسٹاف بھی شامل ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم سمیت 11 ارکان کا پہلا گروپ صبح کولکتہ سے دبئی روانہ ہوا تھا۔ بابر اعظم، افتخار احمد اور حارث رؤف صبح روانہ ہونے والے پلیئرز میں شامل ہیں اور اب کھلاڑی مختلف فلائٹس سے کل پاکستان پہنچیں گے۔
-

ایم کیو ایم اور ن لیگ کے اتحاد کا فائدہ پورے پاکستان کو ہو گا،سعد رفیق
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ایم کیو ایم وفد سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ن لیگ اور متحدہ کے اتحاد سے کراچی سمیت پورا پاکستان مستفید ہوگا۔ انتخابی اتحاد، ایم کیو ایم قیادت نے ن لیگی وفد کے سامنے مطالبات رکھ دیےانہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو ہم بدقسمتی سے اپنا ہی نہیں سکے، شہری حکومتوں کو نہایت مہذب اور مفید ہونا چاہیے۔
سعد رفیق نے کہا کہ بنیادی یہ کام ہے کہ اصلاحات کی طرف بڑھا جائے، وقت آگیا ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہماری جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) اور پیرپگارا صاحب سے بھی بات ہوئی ہے، کوشش ہوگی کہ سندھ میں اتحاد بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ چیزیں ایم کیو ایم کی جانب سے سامنے رکھی گئیں وہ ملک کےلیے اہم ہیں، بنیادی بات اصلاحات کی طرف بڑھنا ہے۔ ن لیگی رہنما نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کی 2 ٹیمیں کام کر رہی ہیں، ہماری کوشش ہے سندھ میں عوام کے توقعات پر پورا اترے،اُن کا کہنا تھا کہ ملک معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہے جس سے ہم نبردآزما ہیں۔ کراچی جو کھنڈر بن گیا اسے بہتر کریں۔ -

بابر اعظم اینڈ کمپنی نے آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 سے 260000 ڈالر جیب میں ڈالے
پاکستان مسلسل دوسرے ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں ناکام رہتے ہوئے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا۔ انگلینڈ کے ہاتھوں 93 رنز کی شکست نے پاکستان کی قسمت پر مہر لگا دی، جس سے 1992 کے چیمپئنز کی آخری چار میں جگہ بنانے کی پہلے سے ہی کمزور امیدیں ختم ہو گئیں۔
بابر اعظم کی ٹیم احمد آباد میں 100,000 سے زیادہ شائقین کے سامنے بھارت کے ہاتھوں سات وکٹوں کی شکست سمیت اپنے نو میں سے پانچ میچ ہار گئی۔سیمی فائنل تک پہنچنے میں ناکام رہنے کے باوجود، پاکستان ایک قابل ذکر مالیاتی فروغ کا تجربہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹیم ورلڈ کپ کی انعامی رقم کے ایک حصے کی حقدار ہے، جس کی ساخت اس طرح ہے: گروپ مرحلے میں ہر میچ جیتنے والے کو $40,000 ملتے ہیں۔ پاکستان کے چار میچ جیتنے کے بعد، اسے کل 160,000 ڈالر ملیں گے۔ مزید برآں، سیمی فائنل سے پہلے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے والی ٹیموں کو ہر ایک کو $100,000 انعام دیا جائے گا، جس سے ورلڈ کپ سے پاکستان کی $260,000 کی مجموعی آمدنی میں حصہ ڈالا جائے گا۔
کرکٹ ورلڈ کپ کی کل انعامی رقم 10 ملین ڈالر ہے، جس میں چیمپئنز کو 4 ملین ڈالر ملیں گے۔ رنرز اپ کو 2 ملین ڈالر دیئے جائیں گے جبکہ سیمی فائنل ہارنے والے کو ہر ایک کو 800,000 ڈالر ملیں گے۔ اگرچہ پاکستان سیمی فائنل میں جگہ نہیں بنا سکا، لیکن ان کے مالی فوائد نے ان کی ورلڈ کپ مہم کو چاندی کی لکیر فراہم کی۔ -

پی ٹی آئی اور عوامی نیشنل پارٹی کا نگران وزیر اعلی کے تقرری پر تحفظات
پشاور: تحریک انصاف کا نگراں وزیراعلیٰ کے پی کی تقرری کیو عدالت میں چیلنچ کرنے کا فیصلہ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تقرری کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔ پشاور سے جاری بیان میں ترجمان پی ٹی آئی معظم بٹ نے کہا کہ جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی تقرری میرٹ کے برعکس کی گئی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا نگراں وزیراعلیٰ کی تقرری کے لیے سابق وزیراعلیٰ سے مشاورت نہیں کرسکتے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق وزیراعلیٰ محمود خان کو تحریک انصاف نے چیف منسٹر بنایا تھا، وہ اب پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کے پی کے کے نگران وزیر اعلی کے وفات کے بعد نئے نگران وزیر اعلی کے تقرری کا مسئلہ سامنے آیا تھا ،جس کے بعد گورنر خیبر پختونخوانے پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلی سے مشاورت کی اور سید ارشد حسین کو نامزد کیا گیا،
تاہم عوامی نیشنل پارٹی نے بھی نئے وزیر اعلی کے تقرری پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ یہ تقرری میر پر نہیں ہوئی لہذا عوامی نیشنل پارٹی انکو سی ایم ماننے سے انکار کرتی ہے. -

آئندہ الیکشن میں ہم اپنی چھنی گئی نشستیں واپس لیں گے،فاروق ستار
ایم کیو ایم رہنما نے اس یہ امید ظا ہر کی ہے کہ ائندہ الیکشن میں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن واپس لوٹایں گے،ملیر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹاؤن، لیاقت آباد، برنس روڈ اور لانڈھی میں اجتماعات اس بات پر مہر ثبت کر رہے ہیں کہ آئندہ الیکشن میں ہم نہ صرف ہم اپنی چھینی گئی نشستیں واپس لیں گے بلکہ کراچی کی تمام نشستیں جیتیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں لانڈھی وہ علاقہ ہے جہاں سے ہماری جبری ہجرت ہوئی جس نے قیام پاکستان کی یاد تازہ کر دی،
ڈاکٹر فاروق ستار نے پی پی پی پکے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک ایسا جبر ہے کہ 5 لاکھ نوکریاں دی گئیں اور شہر کے نوجوانوں کو نظر انداز کر دیا گیا، تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لیے بائکیا اور فوڈ پانڈہ چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کے میدانوں میں کراچی کے نوجوانوں کو موقع نہیں دیا جارہا ہے آج اگر میرٹ پر ہمارے نوجوانوں کو موقع ملے تو وہ پاکستان کو کامیابی کی بلندیوں پر لے جائیں۔ -

سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 61 میں جی ڈی اے کو بڑا دھچکا
پی پی پی مرکزی صدر فریال تالپور سے سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس- 61 کی شخصیات نے ملاقات کی اس دوران فریال تالپور سے جی ڈی اے کے ٹکٹ ہولڈر سردار خیرمحمد کھوکھر نے زرداری ہاوَس کراچی میں ملاقات کی ، جس دوران سردار خیر محمد کھوکھر نے جی ڈی اے کو چھوڑنے اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
سردار خیر محمد کھوکھر نے سابق صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا،فریال تالپور کی خیر محمد کھوکھر کو پارٹی میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہا اس موقع پر پی پی پی کے سینئررہنما عبدالستار بچانی، سابق صوبائی وزیر امداد علی خان پتافی، سابق ایم این اے ذوالفقار بچانی بھی موجود تھے۔ پی پی پی میں شامل ہوتے ہوئے خیر محمد کھوکھر نے کہا کہ پی پی پی نے ہمیشہ عوام کی مفاد کی سیاست کی ہے، ان کے ساتھ چلنے کہ بھر پور کوشش کرے گے،فریال تالپور نے نئے انے والے اراکین کا خیر مقدم کیا، -

90 روز میں صوبے میں انتخاب کا انعقاد اور منتخب حکومت کا قیام ناگزیر تھا،پی ٹی آئی
پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والا سنگین انتظامی اور آئینی بحران پر تشویش کا اظہار کیا ہے. لاہور سے جاری بیان میں پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال صوبے کے عوام اور ملکی سلامتی کےلیے نہایت ہی پریشانی کا باعث ہے۔ پی ٹی آئی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا اپنے جغرافیے اور داخلی خدوخال کے اعتبار سے نہایت حساس ہے
انہوں نے مزید کہا کہ دستور محض عوام کے منتخب نمائندوں کو انتظامی اختیارات سونپتا اور انہیں فیصلہ سازی کا مجاز بناتا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات، مرکز میں نگراں حکومت کی ناقص خارجہ حکمت عملی سے صورتحال پیچیدگی اختیار کرتی جارہی ہے۔پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ 90 روز کی دستوری مدت میں صوبے میں انتخاب کا انعقاد اور منتخب حکومت کا قیام ناگزیر تھا۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور انتظامی و دستوری بحران کے مؤثر حل کی کلید فوری انتخاب کے ذریعے منتخب حکومت کا قیام ہے۔
پی ٹی آئی ترجمان نے مزید کہا کہ ماورائے دستور اقدامات پر انحصار کی بجائے ملک بھر میں آئین کی روح کے مطابق صاف شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ -

غزہ میں مواصلاتی سروسز منقطع ہونے کا خدشہ
فلسطینی وزیر مواصلات کے مطابق غزہ میں تمام مواصلاتی سروسز جمعرات سے منقطع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، فلسطینی وزیرمواصلات کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں ایندھن کی قلت کے باعث مواصلاتی سروسز منقطع ہوجائیں گی۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ماہ کی سات تاریخ سے جاری وحشیانہ حملوں کے دوران اسرائیل نے غزہ کا نہ صرف دنیا بھر سے رابطہ منقطع کردیا ہے بلکہ وہاں خوراک، ادویات اور پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ایندھن کی فراہمی بھی روک رکھی ہے۔
جس کی وجہ سے بجلی کی فراہم منقطع ہونے کے علاوہ ایمبولینس اور دیگر انسانی ضرورت کی نقل و حمل بھی ختم ہوچکی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے غزہ میں تسلسل سے جاری بمباری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے غزہ کی صورتحال پر اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا کہ اسرائیل کا غزہ میں شہری آبادی کو ختم کرنے کا ارادہ ناقابل قبول ہے۔ اعلامیہ کے مطابق ایچ آر سی پی نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں 4 ہزار سے زائد بچوں کو شہید کرچکا ہے۔ ایچ آر سی پی نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں جان بوجھ کر اسپتالوں اور پناہ گزیں کیمپوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایچ آر سی پی نے کہا کہ خوراک، پانی، ایندھن اور دواؤں کی سپلائی ناممکن بنانا اسرائیل کا نسل کشی کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔
ایچ آر سی پی نے کہا کہ مغرب اور مسلم دنیا کا رویہ اور اقوام متحدہ کی بے کسی تشویش کا باعث ہیں۔ ایچ آر سی پی نے کہا کہ مغرب اور مسلم دنیا کا رویہ آنے والے مہینوں میں دنیا کے منظر نامے کا تعین کرے گا۔ ایچ آر سی پی نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ اعلامیہ کے مطابق عالمی برادری دیرپا امن کےلیے حکمت عملی تیار کرے۔
ایچ آر سی پی نے کہا کہ خطے میں انسانی حقوق کے دفاع کےلیے سرگرم افراد سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کےلیے سرگرم افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔