Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہے،مولانا فضل الرحمن

    جنگ کے بھی کچھ اصول ہوتے ہے،مولانا فضل الرحمن

    مری میں جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج فلسطین پرصیہونی قوتیں حملے کررہی ہیں، بچوں اورخواتین پر بمباری کی جاری ہے، فلسطینی مسلمان بھائی ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، امت مسلمہ کا فرض ہے کہ فلسطین کی مدد کرے۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں پر مظالم کی انتہا کردی ہے، ہم اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے حماس قیادت سے ملے، حماس قیادت کو بتایا کہ پاکستان کا بچہ بچہ آپ کے ساتھ ہے، فسلطینیوں کی ہرفورم پر حمایت جاری رکھیں گے۔
    ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کو فلسطینی بچے اور خواتین نظر نہیں آرہے، امریکا کو فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی نظر نہیں آرہی، عالمی برادری فلسطین میں مظالم رکوانے میں کردار ادا کرے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین جیسا دوست کو چیئرمین پی ٹی آئی نے پراجیکٹ منجمد کر کے ناراض کردیا۔ اب اگر ایسا صادق و امین حکمران ہوتا ہے تو سعودیہ بھی خائف بیٹھا ہے۔ گزشتہ الیکشن میں عوامی رائے کے مخالف حکومت مسلط ہوئی جسے ہم ختم کرنے تک لڑتے رہے۔
    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کو اپنی رائے مثبت کرنا ہوگی۔ فیصلے کی گھڑی پر عوام کو اپنی رائے ملکی فلاح کی رکھنی ہوگی، آج کا اجتماع بتا رہا ہے ہماری محبت آپ کے دلوں سے کوئی نکال نہیں سکا۔ ماضی میں ہمیں بہت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، اب ماضی کی لکیروں کی پیروی کے بجائے نئے زاویے کے ساتھ مستقبل کی تعمیر کرنی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین والے ہمارے بھائی ہیں، پوری امت مسلمہ ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے، امریکا، برطانیہ، فرانس میں بھی فلسطینی عوام پر ظلم کیخلاف مظاہرے ہوئے، جنگ کے بھی اصول ہوتے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں روس امریکا کو باہر نکالا گیا۔ امریکا، مغربی دنیا بحری بیڑے لا کر حمایت کر سکتے ہیں تو مسلمان برادری کو کیا سانپ سونگھ گیا ہے؟
    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ میں نے کسی کی پروا نہیں کی۔ وطن عزیز کی نمائندگی کرتے ہوئے حماس قیادت سے ملاقات کی۔ حماس قیادت سے ملاقات میں واضح کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ فلسطین کے ساتھ ہے۔ حماس نے بھی وضاحت سے کہا کہ دنیا میں ہماری امید پاکستان ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو مؤقف دیا اس کی قدر کرتے ہیں۔

  • صدر مملکت کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پورے ملک کے صدر ہے،مرتضی سولنگی

    صدر مملکت کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پورے ملک کے صدر ہے،مرتضی سولنگی

    نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ شکایات اور تحفظات جمہوریت کا حصہ ہیں، آئین میں لکھا ہے ملک منتخب نمائندے چلائیں گے۔
    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ مذاکرات اور تحفظات جمہوری نظام کا حسن ہیں، الیکشن کمیشن کی موجودہ قیادت انتہائی ذمے دار اور قابل لوگوں پر مشتمل ہے۔ صدر مملکت کسی ایک جماعت کی ترجمانی نہ کریں،کسی ایک جماعت کے ترجمان بننے سے ان کی عزت میں کمی آتی ہے،صدر سے گزارش ہے وہ اپنے آئینی عہدے کی عزت کا خیال رکھیں۔۔مرتضٰی سولنگی کا کہنا تھا کہ مہنگی بجلی کی پیداوار سے عوام پر بوجھ پڑتا ہے، آئین میں لکھا ہے ملک منتخب نمائندے چلائیں گے، نگراں حکومت عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی۔ 8 فروری جمعرات کو الیکشن ہوں گے، مذاکرات، تحفظات، شکایات اور آوازیں جموریت کا حسن ہے،جمہوری نظام کا حسن ہے، نگران حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی، صدر کے خط کا جواب خط سے دیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بہتر ہوگا کہ صدر مملکت کسی ایک جماعت کے ترجمان نہ بنیں، اُن کے ترجمان بننے سے اعلیٰ عہدے کی عزت میں کمی آتی ہے اور ہم چاہتے ہیں وہ کبھی نہ آئے۔
    اُن کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت آئین اور الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق چلے گی، 8 فروری جمعرات کو الیکشن ہوں گے۔
    مرتضیٰ سولنگی نے یہ بھی کہا کہ نگراں حکومت عام انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی معاونت کرے گی۔ عام انتخابات کے ذریعے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل ہوگا۔ مستقبل کی حکومتوں کےلیے ضروری ہے اس پالیسی کو جاری رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں چین نے بہت مدد کی ہے، زیادہ سے زیادہ توجہ توانائی کے متبادل ذرائع پر دیں۔

  • فلسطین کے لئے آواز اٹھانے کا یہی وقت ہے،امیر جماعت اسلامی

    فلسطین کے لئے آواز اٹھانے کا یہی وقت ہے،امیر جماعت اسلامی

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ فلسطینکے عوام کو بچانے کا یہی وقت ہے، 25 لاکھ کی آبادی اسرائیل اور امریکا کے سامنے کھڑے ہے،سیالکوٹ میں "لبیک یا فلسطین یوتھ کنونشن” سے خطاب میں سراج الحق نے کہا کہ آج سے 76 سال قبل اسرائیل کا وجود نہیں تھا غزہ کا وجود تھا۔ امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جتنی بمباری امریکا نے افغانستان میں کئی سالوں میں کی، اُتنی اسرائیل نے چند دنوں میں کی ہے۔ سداُن کا کہنا تھا کہ یہ اہل فلسطین ہی ہیں، جنہوں نے پتھر اور غلیل اٹھا کر اسرائیل کا مقابلہ کیا۔دوسری جانب سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اس سے عملاً ثابت ہوگیا یہ سقوط غزہ کا انتظار ہورہا ہے ۔ اپنے بیان میں سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ او آئی سی اجلاس اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کے اعلان کے بغیر ختم ہوگیا۔ تجارتی، سفارتی، معاشی بائیکاٹ تک کا فیصلہ نہ کر سکے۔
    سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ اجلاس میں ایران، ترکیہ اور الجزائر کی تجاویز آئیں۔ پوری صورتحال میں واحد مسلم ایٹمی ملک پاکستان غائب ہے، اجلاس میں پاکستان کی کسی تجویز کا ذکر نہیں، پاکستان خاموش ہے۔ مشتاق احمد خان نے مزید کہا کہ نگراں وزیراعظم نے کسی فلسطین ریلی سے خطاب کیا نہ کوئی پریس کانفرنس کی۔

  • ایم کیو ایم  کے وفد سے ملاقات کے دوران ن لیگ کا رہنما موبائیل فون سے ہاتھ دھو بیٹھے

    ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات کے دوران ن لیگ کا رہنما موبائیل فون سے ہاتھ دھو بیٹھے

    مسلم لیگ ن کے وفد کی ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد آمد پر لیگی رہنما اسد عثمانی کا موبائل فون غائب ہو گیا، تاہم اس بات کا پتہ نہ چک سکا کہ ن لیگ کے رہنما کا موبائیل کب اور کیسے گم ہوا،
    مسلم لیگ (ن) کا وفد اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے مزاکرات کےلیے بہادرآباد پہنچ گیا۔ ذرائع کے مطابق دوران ملاقات ایم کیو ایم قیادت نے 3 اہم آئینی ترامیم بھی ن لیگی وفد کے سامنے رکھی ہیں۔ بہادر آباد میں ہونے والی ملاقات میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، نسرین جلیل، امین الحق اور دیگر شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق ن لیگی وفد میں سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، بشیر میمن، نہال ہاشمی، کھیئل داس کوہستانی اور علی اکبر گجر شامل ہیں۔ ن لیگ اور ایم کیو ایم قیادت کی ملاقات میں سندھ کی سیاسی صورتحال، انتخابی اتحاد، سندھ میں نئی حکمت عملی سمیت دیگر امور زیر غور ہیں۔ذرائع کے مطابق متحدہ قیادت نے ن لیگ کے سامنے انتخابات اور انتخابات کے بعد کےلیے مطالبات سامنے رکھے ہیں۔

  • بھارت نے نیدر لینڈز کو شکست دے دی

    بھارت نے نیدر لینڈز کو شکست دے دی

    ورلڈ کپ کے آخری گروپ میچ میں بھارت نے نیدرلینڈز کو 160 رنز سے شکست دے دی۔ بھارتی بیٹرز نے نیدرلینڈز کے بولرز کا بھرکس نکال دیا اور جیت کے لیے 411 رنز کا ہدف دیا، جواب میں نیدرلینڈز کی ٹیم 250 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
    پہلی اننگز
    ورلڈ کپ کے آخری گروپ میچ میں بھارتی بیٹرز نے نیدرلینڈز کو جیت کے لیے 411 رنز کا ہدف دے دیا .دونوں ٹیموں کے درمیان یہ میچ بنگلورو میں کھیلا جارہا ہے اور یہ ورلڈ کپ سیمی فائنل سے قبل آخری میچ ہے جس میں بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔بھارت نےمقررہ 50 اوورز میں 4 وکٹ پر 410 رنز بنائے، شریاس آئیر128 رنزبناکر ناقابل شکست رہے۔
    اس کے علاوہ کے ایل راہول نے 102 رنزکی اننگز کھیلی، کپتان روہت شرما نے 61 رنز اسکور کیے جبکہ ویرات کوہلی اور شبمن گِل نے 51 ،51 رنز بنائے۔

    ٹاس
    بنگلورو: بھارت نے نیدرلینڈز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : بنگلورو کے ایم چنا سوامی اسٹیڈیم میں کھیلے جارہےآئی سی سی ورلڈکپ کے آخری گروپ میچ میں بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے کہا کہ میچ میں کامیابی سمیٹ کر جیت کر تسلسل کو برقرار رکھیں گے، نیدرلینڈز کے کپتان اسکاٹ ایڈورڈز نے کہا کہ میگا ایونٹ کے آخری میچ میں کامیابی کے ساتھ ٹورنامنت میں سفر اختتام پذیر کرنا چاہتے ہیں۔

    دونوں ٹیموں نے پہلے مرحلے کے آٹھ آٹھ میچز کھیل لیے ہیں، بھارت اب تک کوئی میچ بھی نہیں ہارا ہے جب کہ نیدرلینڈز نے اپنے 2 میچز جیتے ہیں،پوائنٹس ٹیبل پر بھارت پہلے اور نیدرلینڈز دسویں (آخری) نمبر پر ہے۔

  • ایف بی آر نے بڑی تعداد میں نان کسٹم پیڈ سیگرٹ پکڑ لئے

    ایف بی آر نے بڑی تعداد میں نان کسٹم پیڈ سیگرٹ پکڑ لئے

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مختلف کارروائیوں کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ نان ڈیوٹی پیڈ جعلی سگریٹس کو اپنے قبضے میں لے لئے. ایف بی آر کا کہنا ہے کہ خصوصی ٹیموں نے مختلف شہروں میں 429 چھاپے مارے ہیں۔ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران نان ڈیوٹی پیڈ جعلی سگریٹس کی بھاری مقدار ضبط کر لی گئی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ نان ڈیوٹی پیڈ جعلی سگریٹس پکڑے گئے ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس غیر قانونی کام میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔

  • بابر اعظم  اور ٹیم کی باقی قیادت کے لئے اپنی پوزیشن بر قرار رکھنا مشکل

    بابر اعظم اور ٹیم کی باقی قیادت کے لئے اپنی پوزیشن بر قرار رکھنا مشکل

    2023 ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد بابر اعظم اور ٹیم مینجمنٹ کے لیے اپنی قائدانہ پوزیشن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن گیا ہے جس میں ہیڈ کوچ گرانٹ بریڈ برن اور ٹیم ڈائریکٹر مکی آرتھر شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق بورڈ کے اندر اس معاملے پر بات چیت انگلینڈ کے خلاف میچ سے قبل ہی شروع ہو گئی تھی۔ وائٹ بال کرکٹ میں بابر اعظم کے بطور کپتان برقرار رہنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس کے باوجود بعض حلقوں نے چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف کو تجویز دی ہے کہ بابر کو آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران بطور کپتان برقرار رہنا چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر فیصلہ متوقع ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات بھی ہیں کہ بابر اعظم کپتانی سے مستعفی ہونے پر غور کر سکتے ہیں۔
    اس کے ساتھ ہی بورڈ غیر ملکیوں پر انحصار کرنے کی بجائے مقامی کوچز کی تقرری کی طرف بھی غور کر رہا ہے۔ اس حوالے سے سابق کرکٹرز سے رابطے قائم کیے گئے ہیں۔ ایک متضاد نوٹ پر، ہندوستان میں پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بارے میں انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق چیف سلیکٹر انضمام الحق اور کپتان بابر اعظم نے دوسروں کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی حمایت کی۔ مصباح الحق کی سربراہی میں کرکٹ کمیٹی نے شاداب خان کو آرام دینے کی سفارش کی تھی تاہم بابر اعظم نے انہیں نائب کپتان برقرار رکھنے پر اصرار کیا۔ ایشیا کپ میں ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والی میٹنگ میں انضمام نے محمد حفیظ اور مصباح الحق کی تنقید سے بچنے کے لیے شرکت سے گریز کیا۔
    مزید تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ انضمام نے بھارت پہنچنے پر پلیئنگ الیون کے انتخاب میں بھی مداخلت کی، اپنے بھتیجے امام الحق کو شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں فخر زمان کو بینچ کا سامنا کرنا پڑا۔ بابر اعظم نے مبینہ طور پر متعدد بار بورڈ حکام کی رائے کو بھی نظر انداز کیا۔ ہندوستان جانے سے پہلے، کھلاڑی بنیادی طور پر مرکزی معاہدوں میں معاوضہ بڑھانے اور آئی سی سی کی آمدنی میں حصہ لینے پر مرکوز تھے۔ بورڈ کے ایک گمنام عہدیدار نے کھلاڑیوں کے ممکنہ طور پر بورڈ کو بلیک میل کرنے کے جذبات کا اظہار کیا۔
    اضافی ذرائع نے انکشاف کیا کہ پلیئنگ الیون کے تین سے چار کھلاڑی کپتان بابر اعظم سے ناراض تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سنٹرل کنٹریکٹ کے مذاکرات کے دوران، بابر نے اپنے اور چند منتخب افراد کے معاوضے میں اضافہ کرنے کی حمایت کی، جس سے ٹیم کے مجموعی ماحول پر منفی اثر پڑا۔

  • نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ  کی فلسطینی صدر سے ملاقات

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی فلسطینی صدر سے ملاقات

    نگراں وزیراعظم نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فلسطینی صدر سے ملاقات کی۔ دونوں رہنما او آئی سی کے غیر معمولی سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جس کا مقصد غزہ اور مغربی کنارے دونوں میں اسرائیلی قابض افواج کی جارحیت کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطین کی سنگین صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال اور اسپتالوں، پناہ گزینوں کے کیمپوں، اسکولوں اور رہائشی عمارتوں پر بمباری کی شدید مذمت کی جس کے نتیجے میں دس ہزار سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع اور فلسطینی خاندانوں کو جبری بے گھر ہونا پڑا۔
    صدر عباس نے اس مشکل وقت میں پاکستان کے اظہار یکجہتی اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے بارے میں اس کے اصولی موقف کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے غیر مشروط جنگ بندی کی فوری ضرورت، غزہ کا محاصرہ ختم کرنے اور متاثرہ آبادی کو اہم انسانی امداد اور طبی امداد کی ہموار ترسیل پر زور دیا۔ انہوں نے اسرائیل کو مزید خونریزی سے روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعظم کاکڑ اور صدر عباس نے او آئی سی کے غیر معمولی سربراہی اجلاس کے بروقت انعقاد کو نوٹ کیا اور عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور اس کے متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ انصاف اور انسانیت کے اصولوں کو برقرار رکھنے اور فلسطینیوں کے قتل عام کے خاتمے کے لیے پرعزم اقدامات کریں۔
    وزیراعظم کاکڑ نے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم پر زور دیا، جس کی بنیاد دو ریاستی حل پر رکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا جس کا دارالحکومت القدس شریف سرحدوں کے ساتھ ہوگا۔ جو کہ 1967 سے پہلے موجود تھا او آئی سی کی متعدد قراردادوں میں شامل ہے۔
    صدر محمود عباس نے پاکستان کا اس مشکل وقت میں فلسطینیوں کا ساتھ دینے اور غزہ کے محصور مسلمانوں کیلئے امداد بھیجنے پر وزیرِ اعظم اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔

  • فرینک بورمین  اپولو 8 چاند مشن کی قیادت کرنے والے ناسا کے خلاباز کا انتقال ہوگیا۔

    فرینک بورمین اپولو 8 چاند مشن کی قیادت کرنے والے ناسا کے خلاباز کا انتقال ہوگیا۔

    اپالو 8 پر چاند کے گرد پہلے خلائی مشن کی قیادت کرنے والے ناسا کے سابق خلا باز فرینک بورمین انتقال کر گئے۔ خبر ایجنسی نے بتایا کہ ان کا انتقال بلنگز، مونٹانا میں 95 سال کی عمر میں ہوا۔ مسٹر بورمن اور دو ساتھی خلا نورد پہلے انسان تھے جنہوں نے 1968 میں اپالو 8 مہم پر چاند کا دور دیکھا۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے مسٹر بورمین کو "ناسا کے بہترین لوگوں میں سے ایک” اور "ایک حقیقی امریکی ہیرو” کے طور پر یاد کیا جو واقعی اپنے کام کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے کہا، "ہوا بازی اور تلاش کے لیے ان کی زندگی بھر کی محبت صرف اپنی بیوی سوزن کے لیے محبت سے زیادہ تھی۔” "فرینک کو معلوم تھا کہ طاقت کی تلاش انسانیت کو متحد کرنے میں ہے جب اس نے کہا: ‘تحقیق دراصل انسانی روح کا جوہر ہے۔’” اپالو 8 ایک اہم مشن تھا کیونکہ یہ پہلا موقع تھا جب انسان اپنے آبائی سیارے کی نظروں سے محروم ہو کر زمین کے مدار سے نکلے۔فرینک بورمین کے کیریئر کا آغاز 1950 میں فضائیہ میں ہوا، وہ فائٹر پائلٹ، آپریشنل پائلٹ اور انسٹرکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ان کی قابلیت کی وجہ سے انہیں ناسا نے ایڈورڈز اے ایف بی، کیلیفورنیا میں ایرو اسپیس ریسرچ پائلٹ اسکول میں ہدایت کے لیے منتخب کیا۔
    اپالو مہم سے پہلے، مسٹر بورمن 1965 میں جیمنی 7 خلائی جہاز پر تھے، انہوں نے 14 دن کم زمین کے مدار میں گزارے اور جیمنی 6 کے ساتھ خلا میں پہلا مداری ملاپ کا انعقاد کیا۔ایک خلاباز کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد، مسٹر بورمن نے 1975 میں پریشان حال ایسٹرن ایئر لائنز کی قیادت کی۔
    انہیں 1993 میں امریکی خلائی مسافر ہال آف فیم میں شامل کیا گیا تھا، اور انڈیانا اور الینوائے کے درمیان ایکسپریس وے کا ایک حصہ ان کے نام پر رکھا گیا تھا۔

  • بابر اعظم کو خود ہی مستعفی ہونا چاہئے،سابق کرکٹرز کی رائے

    بابر اعظم کو خود ہی مستعفی ہونا چاہئے،سابق کرکٹرز کی رائے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق نے بابر اعظم کو خود ہی کپتانی چھوڑ دینے کا مشورہ دیا، انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی نے بھی کپتانی چھوڑ کر اچھا پرفارم کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں عماد وسیم اور محمد عامر نے بھی اظہار خیال کیا۔ عبدالرزاق نے کہا کہ ورلڈ کپ 2023ء میں افغانستان کا مقصد پاکستان کو ہرانا تھا۔
    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم بہت اچھی ہے، گرین شرٹس کی جیت کسی کو بھی اچھی نہیں لگتی، افغانستان نے ورلڈ کپ کے دوران اچھی کرکٹ کھیلی۔ سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ ہم نے گاڑی 80 کی اسپیڈ پر چلائی ہے، پچھلے 2 سال سے نشانیاں مل رہی تھیں کہ ٹیم اچھی نہیں بنی ہوئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کو خود ہی کپتانی چھوڑ کر مثال بنانی چاہیے، ویرات نے بھی کپتانی چھوڑ کر پرفارمنس دی ہے۔

    عماد وسیم نے بھی کہا کہ جب آپ ورلڈ کپ ہار جائیں تو آپ کو خود کپتانی سے استعفیٰ دے دینا چاہیے، بابر اعظم ہماری ٹیم کا کپتان ہے اُس کی عزت اپنی جگہ ہے۔
    عماد وسیم نے کہا کہ میری دوسرے نمبر پر پسندیدہ ٹیم ساؤتھ افریقا ہے۔ اسی طرح محمد عامر نے کہا کہ ساؤتھ افریقا کو بہت محنت کرنی پڑ رہی ہے جبکہ ایونٹ کی سب سے خطرناک ٹیم آسٹریلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ورلڈ کپ 2023ء کے فائنل میں آسٹریلیا اور بھارت کو دیکھ رہا ہوں،