Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سینیٹ میں 10بل کثرت سے منظور ،  جبکہ 3بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیئے گئے

    سینیٹ میں 10بل کثرت سے منظور ، جبکہ 3بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیئے گئے

    سینیٹ کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پریزائیڈنگ آفیسر عرفان صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف اہم بلوں پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس مقررہ وقت 6 بجے کے بجائے 7 بج کر 32 منٹ پر شروع ہوا۔ اجلاس میں کل 10 بلوں کی کثرت سے منظوری دی گئی، جبکہ 3 بلوں کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے ریاستی ملکیتی ادارے (گورننس اینڈ آپریشنز) ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا، جسے قائمہ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا۔اسی طرح، سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے قومی ادارے برائے صحت تنظیم نو ترمیمی بل 2024 بھی ایوان میں پیش کیا، جو قائمہ کمیٹی کو بھیجا گیا۔ سینیٹر انوشہ رحمان نے متروکہ املاک (انتظام) ترمیمی بل 2024 بھی پیش کیا، جسے بھی قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا گیا۔

    اہم قانون سازی
    سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے حقوق گرفتار نظر بند افراد کے زیر حراست تحقیقات بل 2020 کی منظوری کے بجائے اس کو موخر کرنے کی درخواست کی، جسے قبول کر لیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کارخانہ جات ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کیا، جسے وزیر قانون کی عدم موجودگی کے باوجود اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔انہوں نے مزید فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 اور انٹی ریپ تحقیقات و مقدمہ ترمیمی بل 2023 بھی پیش کیے، جنہیں موخر کر دیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے گارجنز اور وارڈ ترمیمی بل 2024 پیش کیا، جو منظور کر لیا گیا۔ تارکین وطن کی سمگلنگ کی روک تھام ترمیمی بل 2024 اور افراد کی سمگلنگ کی روک تھام ترمیمی بل 2024 کو بھی موخر کر دیا گیا۔
    سینیٹر فوزیہ ارشد نے واپڈا یونیورسٹی اسلام آباد بل 2024 پیش کیا، جسے منظور کر لیا گیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پاکستان اینیمل کونسل بل 2023 پیش کیا، جس کی وزیر فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر نے حمایت کی، اور یہ بل بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

    قراردادیں

    سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ایک قرارداد پیش کی جس میں موٹر سائیکل حادثات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ موٹر سائیکلوں اور ہیلمیٹس کی حفاظت کے معیار کو یقینی بنائے۔ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ایک اور قرارداد میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ پاکستان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کی ولدیت معلوم نہیں، حکومت سے مطالبہ کیا کہ نادرا کو شناختی کارڈ میں ایک مخصوص کالم شامل کرنے کی ہدایت دی جائے۔ یہ قرارداد بھی پاس کر لی گئی۔

    اضافی ایجنڈا اور سیاسی کشیدگی

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اضافی ایجنڈے کے لیے تحریک پیش کی، جس پر تحریک انصاف، جے یو آئی، اور اے این پی کے ممبران نے مخالفت کی۔ اس دوران چیئرمین کے ڈائس کا گھیراؤ کیا گیا اور شدید نعرے بازی ہوئی۔وزیر قانون نے سپریم کورٹ ججز کی تعداد کے بل کو ایوان میں پیش کیا، جو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2024 بھی ایوان میں پیش کیا گیا اور منظور کر لیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2024 اور پاکستان ایئر فورس ایکٹ ترمیمی بل 2024 بھی پیش کیے، دونوں بل کثرت رائے سے منظور کیے گئے۔سینیٹ کا اجلاس آخر کار غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ یہ اجلاس اہم بلوں کی منظوری اور حکومت کی قانون سازی کی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ سیاسی کشیدگی نے اجلاس کی فضا میں بھی اثر ڈالا۔

  • اسلام آباد: بینک اور کیش وینز کی ڈکیتیوں میں ملوث ملزم سفید جوگرز کی وجہ سے پکڑا گیا

    اسلام آباد: بینک اور کیش وینز کی ڈکیتیوں میں ملوث ملزم سفید جوگرز کی وجہ سے پکڑا گیا

    اسلام آباد: بینکوں اور کیش وینز کی ڈکیتیوں میں ملوث ایک ملزم کو پولیس نے سرگودھا سے گرفتار کر لیا، جس کی شناخت اس کے مخصوص ‘سفید جوگرز’ کے باعث ممکن ہوئی۔ یہ واقعہ بینک ڈکیتیوں کے سلسلے میں گرفتاری کی ایک بڑی کامیابی ہے، جس میں پولیس نے جدید تحقیقاتی طریقوں کا استعمال کیا۔پیر کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسلام آباد نے ایک پریس کانفرنس میں اس ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی، جس نے گذشتہ ہفتے بینکوں میں ڈکیتیوں کی کئی وارداتیں کی تھیں۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے لوٹی ہوئی رقم اور بینک ڈکیتی میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔ملزم کو پکڑنے کے لیے خصوصی طور پر تشکیل دی گئی اسلام آباد پولیس کی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم کو اس کی سفید جوگرز کی وجہ سے پہچانا گیا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو شک ہوا کہ ملزم اسلام آباد کے قریب کسی کچی بستی میں رہائش پذیر ہے۔ مختلف بستیوں کا جائزہ لینے کے بعد، پولیس نے گولڑہ کی کچی آبادی میں موجود ایسے گھروں کی تلاشی لی، جن کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔
    ایک ایسے ہی گھر کا تالہ توڑا گیا جہاں پولیس اہلکاروں نے وہی سفید رنگ کے جوگرز دیکھے، جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں واردات کے دوران ملزم کے پاوں میں تھے۔ اس کے بعد، پولیس نے ایک اور کمرے کا بھی جائزہ لیا، جس کا دروازہ بھی بند تھا۔ جب اس تالے کو توڑا گیا، تو پولیس نے وہاں موجود موٹر سائیکل اور کلاشنکوف بھی برآمد کی، جو ڈکیتیوں میں استعمال کی گئی تھیں۔پولیس نے اس مکان کے مالک کو حراست میں لیا، جس نے بتایا کہ اس نے یہ مکان کرایے پر دیا تھا۔ جب کرایہ دار کو پکڑا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ کرایہ پر سرگودھا کا رہائشی ہے اور وہی دراصل ملزم ہے۔
    اسلام آباد کے ڈی آئی جی آپریشنز علی رضا نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ "پچھلے دنوں اسلام آباد میں بینک ڈکیتی کی مختلف وارداتیں ہوئیں، الحمد اللہ ڈاکو کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے مال مسروقہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "ملزمان کی گرفتاری میں سی ٹی ڈی اور سی آئی اے نے دن رات محنت کی، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔” ملزم کی عمر 24 سال ہے، اور وہ پچھلے 4 سال سے اسلام آباد میں الیکٹریشن کا کام کر رہا تھا، جس کی وجہ سے وہ شہر کی گلیوں سے اچھی طرح واقف تھا۔
    ڈی آئی جی علی رضا نے ملزم کی شخصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ملزم ان پڑھ، نفسیاتی مسائل کا شکار اور فلموں سے متاثر معلوم ہوتا ہے۔” یہ گرفتاری پولیس کی کامیاب کاروائیوں میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملزمان کو پکڑنے میں کامیابی کا ایک اور ثبوت ہے۔ یہ واقعہ اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی ڈکیتیوں کے پیش نظر پولیس کی کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید تحقیقاتی طریقوں کا استعمال کس طرح ملزمان کی گرفتاری میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

  • حکومت نے قانون سازی میں اہم تبدیلیاں کیں، رانا ثنااللہ

    حکومت نے قانون سازی میں اہم تبدیلیاں کیں، رانا ثنااللہ

    وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے حالیہ قانون سازی کے نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سازی کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کے دوران دیا۔رانا ثنااللہ نے وضاحت کی کہ ماضی میں فوجی سربراہان کی مدت ملازمت 11 سال اور بعد میں 6،6 سال تک رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے موجودہ اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے اس قانون سازی پر ممکنہ اعتراضات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا حق ہے اور ہم ان کے اختلاف رائے کا احترام کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن کو حکومت کی قانون سازی پر اعتراض تھا تو انہیں اپنی ترامیم پیش کرنی چاہئیں تھیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ رانا ثنااللہ نے یاد دلایا کہ اگرچہ اپوزیشن نے انتخابات میں شکست کھائی، لیکن وہ 4 سال تک اقتدار میں رہنے میں کامیاب رہی۔
    انسداد دہشتگردی ترمیمی بل پر بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے، اور بلوچستان میں بھی اسی طرح کی صورت حال ہے، جس کی وجہ سے یہ قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو یہ خیال ہے کہ اس بل کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا تو یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔حکومت نے قومی اسمبلی میں 4 اہم بل پاس کیے ہیں، جن میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد کو چیف جسٹس سمیت 34 کرنے کا فیصلہ شامل ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی تعداد کو 9 سے بڑھا کر 12 کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، فوجی سربراہان کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردی گئی ہے، اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت چیف جسٹس، سینیئر جج اور آئینی بینچ کا سربراہ ججز کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
    ایوان میں قانون سازی کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، جس میں ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑی گئیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور پی ٹی آئی کے شاہد خٹک کے درمیان بحث ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے اسے جمہوریت کو بادشاہت میں تبدیل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے نہ صرف جمہوری عمل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ملک کی سیاسی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی: 100 انڈیکس 92 ہزار پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی: 100 انڈیکس 92 ہزار پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسلسل دوسرے روز تیزی کا سلسلہ جاری ہے، جس میں 100 انڈیکس نے ایک ہزار پوائنٹس کی اضافہ کیا ہے۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں بھی ایک سو ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔آج پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 1078 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 91 ہزار 938 پر بند ہوا، جبکہ دن کے دوران 100 انڈیکس کی بلند ترین سطح 92 ہزار 159 پوائنٹس تک پہنچی۔کاروباری دن میں مجموعی طور پر 58 کروڑ 95 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مالیت 29 ارب 95 کروڑ روپے سے زائد رہی۔ اس تیزی کے نتیجے میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن 101 ارب روپے کے اضافے سے 11 ہزار 809 ارب روپے تک پہنچ گئی۔یہ مسلسل اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے اور ملکی معیشت کی بہتری کی امیدوں کو بڑھاتا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کا فیصلہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کا فیصلہ

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور حجم میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت نئے وزراء اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم نے اس تبدیلی کے لئے وزراء کی کارکردگی اور مانیٹرنگ رپورٹ کی طلب کا حکم جاری کیا ہے، تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کن وزراء کی کارکردگی بہتر رہی ہے اور کون سے وزراء کی جگہ نئے ارکان شامل کیے جا سکتے ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کابینہ میں توسیع کے سلسلے میں کام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے مختلف اتحادی جماعتوں کے ارکان کی شمولیت پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کی بنیادی وجہ موجودہ حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے زیادہ مؤثر اقدامات کرنا ہے۔
    ن لیگ کے سینیٹرز اور قومی اسمبلی کے ممبران کی بھی بڑی تعداد کو کابینہ میں شامل کرنے کی توقع ہے، جو کہ پارٹی کے اندر طاقت کے توازن کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ وزیراعظم نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ ردوبدل ملکی سیاسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے اور عوام کے مسائل کا جلد از جلد حل ممکن بنایا جا سکے۔یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب ملک مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، بشمول اقتصادی مسائل اور عوامی عدم اطمینان۔ نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد حکومت کی حکمت عملیوں میں تیزی اور مؤثریت کی توقع کی جا رہی ہے۔ مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں متوقع ہیں جب کہ وزیراعظم نے کابینہ کی تبدیلی کے اس عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

  • بیرسٹر گوہر کا جمہوریت کو بادشاہت میں تبدیل کرنے کا الزام

    بیرسٹر گوہر کا جمہوریت کو بادشاہت میں تبدیل کرنے کا الزام

    قومی اسمبلی میں ججز کی تعداد اور سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں اضافے کے بلز کی منظوری پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی شدید تنقید
    سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافے اور سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع کے بلز کی منظوری کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے اس حوالے سے شدید تنقید کا اظہار کیا ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر ایک پریس کانفرنس کے دوران پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کوئی بھی بل صحیح پارلیمانی طریقوں کے تحت منظور نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل قائمہ کمیٹی میں نہیں گئے اور نہ ہی ان پر بحث ہوئی، جس سے شفافیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔بیرسٹر گوہر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 کردی گئی ہے، جبکہ بھارت میں اس وقت صرف 33 ججز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 96 ہائی کورٹ کے ججز ہیں اور حکومت کے اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں مزید ججز بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ ان کی غلط فہمی ہے۔ "سرکار کے ایک ستون کو کمزور کرنا حکومت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے,” انہوں نے واضح کیا، یہ بتاتے ہوئے کہ ان کے اقدامات کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔قانون سازی کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حکومت نے پہلے یہ کہا تھا کہ وہ ججز کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں، جس پر ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طریقہ کار درست نہیں ہے۔

    اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فارم 47 کی رجیم نے سپریم کورٹ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر اور آرمی ایکٹ میں تبدیلیاں کی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کو مناسب وقت دیے بغیر بلز کو بلڈوز کیا گیا۔عمر ایوب نے کہا کہ سروسز چیفس کی مدت میں توسیع سے بہت سے افسران کی حق تلفی ہوگی، اور یہ ترمیم حکومت اور فوج کے لیے اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہی قوانین شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف استعمال ہوں گے، اور اس وقت پی پی اور ن لیگ کے پاس بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات نے پاکستان کی سیاسی صورتحال میں جاری کشیدگی کو اجاگر کیا ہے، خاص طور پر قانون سازی کی شفافیت اور ملک کے اداروں کے درمیان طاقت کے توازن کے حوالے سے۔ جیسے جیسے حکومت ان متنازعہ بلز کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، اپوزیشن اپنی تشویشات کا اظہار کرتی رہتی ہے، جس سے ان مسائل کے گرد سیاسی بحث و مباحثے میں اضافے کا امکان ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے حساس معلومات لیک کیس: 5 افراد گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے حساس معلومات لیک کیس: 5 افراد گرفتار

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر سے حساس معلومات کے لیک ہونے کے کیس میں اسرائیلی فوج کے ایک افسر سمیت پانچ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس معاملے میں مزید افراد کی گرفتاریاں اور تحقیقات جاری ہیں۔ یہ کیس اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی حساس تصور کیا جا رہا ہے اور اس کی تفصیلات نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔گزشتہ دنوں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات لیک ہوئیں۔ حکومت نے فوری طور پر اس کیس کی میڈیا رپورٹنگ پر پابندی عائد کر دی تھی تاکہ عوام میں بے چینی نہ پھیلے اور مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ تاہم، اس معاملے کو عدالت میں لے جایا گیا، جس کے بعد کچھ تفصیلات منظرعام پر لانے کی اجازت دی گئی۔
    اسرائیلی عدالت نے اس کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر، فیلڈ اسٹین، کا نام اور دیگر تفصیلات عام کرنے کی اجازت دی۔ عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق، فیلڈ اسٹین نے قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات یورپی میڈیا کو فراہم کیں، جو کہ اسرائیل کی سیکیورٹی کے لیے ممکنہ طور پر نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔حساس معلومات کے اس کیس میں اسرائیلی فوج کے ایک افسر سمیت پانچ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے خفیہ معلومات غیر قانونی طور پر نکالیں اور انہیں دیگر ذرائع تک پہنچایا۔ اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی شِن بیٹ اور اسرائیلی فوج اس کیس میں مزید تین افراد کی تحقیقات کر رہی ہیں، جن کے نام ابھی تک عدالت کی طرف سے خفیہ رکھے گئے ہیں، لیکن اطلاعات کے مطابق ان کا تعلق اسرائیلی دفاعی اداروں سے ہے۔
    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حساس معلومات لیک ہونے کا یہ کیس اسرائیلی حکومت اور فوج کے لیے انتہائی حساس معاملہ ہے۔ اگر ملزمان پر یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انہیں 15 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس کیس سے جڑے افراد پر قومی سلامتی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے، جسے اسرائیلی عدلیہ اور عوام دونوں انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔اس کیس نے اسرائیل میں سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ شِن بیٹ اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ معلومات واقعی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں یا نہیں۔ قومی سلامتی کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس کیس کے اثرات طویل المدتی ہوسکتے ہیں اور یہ ملک کے دفاعی نظام کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔اس کیس کے انکشاف نے اسرائیلی عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حکومت نے میڈیا پر رپورٹنگ پر پابندی لگا کر اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کیس کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید بے چینی نہ پھیلے۔ تاہم، عدالتی فیصلے کے بعد یہ معاملہ عوام کے سامنے آنے سے اس میں مزید دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

  • خیبرپختونخوا اسمبلی: وزرا کی مراعات میں اضافہ، شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کی منظوری

    خیبرپختونخوا اسمبلی: وزرا کی مراعات میں اضافہ، شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کی منظوری

    پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزرا کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے لیے ترمیمی بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس بل کے تحت وزرا کو دی جانے والی مراعات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جن میں کرائے کی مد میں ادائیگی اور سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز شامل ہیں۔ترمیمی بل کے تحت کابینہ کے ہر رکن کو سرکاری رہائش گاہ نہ ملنے کی صورت میں دو لاکھ روپے ماہانہ کرائے کی مد میں دیے جائیں گے۔ یہ سہولت ان وزیروں کو بھی دی جائے گی جو پشاور میں اپنے ذاتی گھروں میں رہائش پذیر ہیں، جس کے تحت انہیں بھی ماہانہ دو لاکھ روپے کا الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے وزرا کو ایک بار 10 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے، جس میں وہ قالین، پردے، ایئرکنڈیشنر، اور ریفریجریٹر جیسی اشیا خرید سکیں گے۔ تاہم، وزرا کو عہدہ چھوڑنے کے بعد تمام خریدی گئی اشیا محکمہ انتظامیہ کے حوالے کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔اسمبلی کے اجلاس میں لینڈ اینڈ بلڈنگ ریونیو کنٹرول ترمیمی بل 2024 بھی وزیر قانون آفتاب عالم کی جانب سے پیش کیا گیا، جسے اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ اس بل کے ذریعے صوبے کے زمینی اور تعمیراتی معاملات میں ریونیو کنٹرول کے حوالے سے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جو کہ بہتر انتظام اور ریونیو کے حصول کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

    شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی قرارداد

    توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی نے شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں جاری توانائی بحران کے پیش نظر شادی ہالوں کو جلدی بند کیا جائے تاکہ بجلی کی بچت ہو سکے۔ اس قرارداد کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن مشتاق غنی نے پیش کیا۔ قرارداد میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔یہ تمام بلز اور قراردادیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی اکثریت سے منظور کی گئیں، جو کہ صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کا اظہار ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں انتظامی بہتری، مالی استحکام، اور عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہے۔

  • قومی اسمبلی سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور، سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں اضافہ

    قومی اسمبلی سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور، سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں اضافہ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں اہم ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ اس ترمیمی بل کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا گیا اور ووٹنگ کے بعد منظور کر لیا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”
    بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ آرمی ایکٹ میں ایسی اہم تبدیلیاں بغیر بحث کے منظور کی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن اراکین نے مطالبہ کیا کہ اس اہم قانون سازی پر تفصیلی گفتگو اور غور و خوض ہونا چاہیے تھا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور "نو نو” کے نعرے لگائے۔حکومتی مؤقف کے مطابق، اس ترمیم سے عسکری قیادت کو درپیش مسائل میں آسانی پیدا ہوگی اور ملک کی موجودہ دفاعی صورتحال میں یہ ترمیم ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم، اپوزیشن نے اس اقدام کو حکومت کی جانب سے عجلت میں کی جانے والی قانون سازی قرار دیا اور کہا کہ ان اہم ترامیم پر وسیع تر بحث اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اس کی قانونی حیثیت کو صدر کے دستخط کے بعد عملی شکل مل جائے گی، جس کے نتیجے میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں باضابطہ اضافہ ہو جائے گا۔

  • قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے کا بل منظور کر لیا

    قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے کا بل منظور کر لیا

    اسلام آباد: قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 کرنے کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے مطابق اب چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 33 ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔اجلاس کے دوران، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل ایوان میں پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ "سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 تک کی جا رہی ہے، کیوں کہ آئینی عدالت بنائی گئی ہے اور اس کے لیے بھی ججز کی ضرورت تھی۔بل کی منظوری کے بعد، وزیر قانون نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس بھی ایوان میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کے ذریعے ہائیکورٹ کے معاملات میں مزید بہتری لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
    اجلاس کے دوران، وزیر قانون نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک بھی ایوان میں پیش کی۔ تاہم، اپوزیشن کی طرف سے اس اقدام کی شدید مخالفت کی گئی۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں "نو نو” کے نعرے لگائے اور بل پیش کیے جانے کے دوران احتجاج اور شور شرابا بھی کیا۔یہ بل سپریم کورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب ملک میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے متعدد کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں یہ اضافہ آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جو کہ قانون اور انصاف کی فراہمی میں معاون ثابت ہو گا۔ اجلاس کے اختتام پر، اس بل کی منظوری نے حکومت کی قانونی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ایک اہم سنگ میل طے کیا ہے، جس کا مقصد ملک میں عدالتی نظام کی مضبوطی اور بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔