پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزرا کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کے لیے ترمیمی بل کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس بل کے تحت وزرا کو دی جانے والی مراعات میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جن میں کرائے کی مد میں ادائیگی اور سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے فنڈز شامل ہیں۔ترمیمی بل کے تحت کابینہ کے ہر رکن کو سرکاری رہائش گاہ نہ ملنے کی صورت میں دو لاکھ روپے ماہانہ کرائے کی مد میں دیے جائیں گے۔ یہ سہولت ان وزیروں کو بھی دی جائے گی جو پشاور میں اپنے ذاتی گھروں میں رہائش پذیر ہیں، جس کے تحت انہیں بھی ماہانہ دو لاکھ روپے کا الاؤنس فراہم کیا جائے گا۔ سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش کے لیے وزرا کو ایک بار 10 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے، جس میں وہ قالین، پردے، ایئرکنڈیشنر، اور ریفریجریٹر جیسی اشیا خرید سکیں گے۔ تاہم، وزرا کو عہدہ چھوڑنے کے بعد تمام خریدی گئی اشیا محکمہ انتظامیہ کے حوالے کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔اسمبلی کے اجلاس میں لینڈ اینڈ بلڈنگ ریونیو کنٹرول ترمیمی بل 2024 بھی وزیر قانون آفتاب عالم کی جانب سے پیش کیا گیا، جسے اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔ اس بل کے ذریعے صوبے کے زمینی اور تعمیراتی معاملات میں ریونیو کنٹرول کے حوالے سے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جو کہ بہتر انتظام اور ریونیو کے حصول کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی قرارداد
توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے خیبرپختونخوا اسمبلی نے شادی ہالوں کو رات 10 بجے بند کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں جاری توانائی بحران کے پیش نظر شادی ہالوں کو جلدی بند کیا جائے تاکہ بجلی کی بچت ہو سکے۔ اس قرارداد کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن مشتاق غنی نے پیش کیا۔ قرارداد میں ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔یہ تمام بلز اور قراردادیں خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کی اکثریت سے منظور کی گئیں، جو کہ صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کا اظہار ہے۔ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں انتظامی بہتری، مالی استحکام، اور عوامی مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

خیبرپختونخوا اسمبلی: وزرا کی مراعات میں اضافہ، شادی ہالز رات 10 بجے بند کرنے کی منظوری
-

قومی اسمبلی سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل منظور، سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں اضافہ
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ میں اہم ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ اس ترمیمی بل کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیا گیا اور ووٹنگ کے بعد منظور کر لیا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا اور بتایا کہ اس کا مقصد عسکری قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور قومی سلامتی کے چیلنجز کا موثر مقابلہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں توسیع سے فوج کی قیادت کو زیادہ استحکام ملے گا اور قومی سلامتی کے معاملات میں تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔”
بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ آرمی ایکٹ میں ایسی اہم تبدیلیاں بغیر بحث کے منظور کی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن اراکین نے مطالبہ کیا کہ اس اہم قانون سازی پر تفصیلی گفتگو اور غور و خوض ہونا چاہیے تھا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور "نو نو” کے نعرے لگائے۔حکومتی مؤقف کے مطابق، اس ترمیم سے عسکری قیادت کو درپیش مسائل میں آسانی پیدا ہوگی اور ملک کی موجودہ دفاعی صورتحال میں یہ ترمیم ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم، اپوزیشن نے اس اقدام کو حکومت کی جانب سے عجلت میں کی جانے والی قانون سازی قرار دیا اور کہا کہ ان اہم ترامیم پر وسیع تر بحث اور اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اس کی قانونی حیثیت کو صدر کے دستخط کے بعد عملی شکل مل جائے گی، جس کے نتیجے میں سروسز چیفس کی مدت ملازمت میں باضابطہ اضافہ ہو جائے گا۔ -

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے کا بل منظور کر لیا
اسلام آباد: قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 کرنے کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے مطابق اب چیف جسٹس پاکستان کے علاوہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 33 ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔اجلاس کے دوران، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کا بل ایوان میں پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ "سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد 34 تک کی جا رہی ہے، کیوں کہ آئینی عدالت بنائی گئی ہے اور اس کے لیے بھی ججز کی ضرورت تھی۔بل کی منظوری کے بعد، وزیر قانون نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈیننس بھی ایوان میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کے ذریعے ہائیکورٹ کے معاملات میں مزید بہتری لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران، وزیر قانون نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک بھی ایوان میں پیش کی۔ تاہم، اپوزیشن کی طرف سے اس اقدام کی شدید مخالفت کی گئی۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان میں "نو نو” کے نعرے لگائے اور بل پیش کیے جانے کے دوران احتجاج اور شور شرابا بھی کیا۔یہ بل سپریم کورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں جب ملک میں عدالتی نظام کی بہتری کے لیے متعدد کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد میں یہ اضافہ آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جو کہ قانون اور انصاف کی فراہمی میں معاون ثابت ہو گا۔ اجلاس کے اختتام پر، اس بل کی منظوری نے حکومت کی قانونی اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں ایک اہم سنگ میل طے کیا ہے، جس کا مقصد ملک میں عدالتی نظام کی مضبوطی اور بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔ -

محسن نقوی کا قومی ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ پر اظہارِ اطمینان
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹیم نے شاندار فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا، جو ان کے عزم و ہمت کی عکاسی کرتی ہے۔محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا، "شاباش ٹیم، آپ نے ایک سخت میچ میں زبردست فائٹ کی۔” انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں نے ہر ممکن کوشش کی اور اپنے پورے زور سے کھیلتے رہے۔ یہ پہلا میچ تھا، اور مجھے یقین ہے کہ ٹیم جلد ہی کم بیک کرکے ہمیں فخر سے سر بلند کرے گی۔یاد رہے کہ یہ میچ ایک لو اسکورنگ مقابلہ تھا، جس میں آسٹریلوی ٹیم نے بمشکل پاکستان کے خلاف دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ قومی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 203 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔ اس کے باوجود، پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے آسٹریلیا کی 8 وکٹیں گرائیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ میچ میں سخت مقابلہ ہوا۔اس میچ کے بعد، محسن نقوی کا پیغام قومی ٹیم کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنا ہے، جس نے کھلاڑیوں میں مزید عزم پیدا کیا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین کی یہ مثبت رائے قومی کرکٹ کی ترقی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ آنے والے میچوں کے لیے محسن نقوی نے امید ظاہر کی ہے کہ قومی ٹیم اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے شائقین کرکٹ کی توقعات پر پورا اترے گی۔
-

مولانا فضل الرحمان کی حکومت اور حکومتی اتحاد پر شدید تنقید، انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم پر اظہارِ تشویش
اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم پر حکومت اور حکومتی اتحاد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کو غیر ضروری اختیارات دیے جارہے ہیں، جس سے جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیمی بل حکومت کے طرز حکمرانی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے سنگین خطرات کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے دفاعی اداروں کو اضافی اختیارات دیے جارہے ہیں، جو ان کی اصل ذمہ داری میں شامل نہیں ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید بتایا کہ جمیعت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کا دو روزہ اجلاس ہوا، جس میں 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور سود کے خاتمے سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق ترامیم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس شوریٰ نے دینی مدارس کے قانون اور بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل کے فلسطین پر حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی اور پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ فلسطینی عوام کی مالی معاونت کے لیے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں بے گناہ بچے اور معصوم یتیم رہ گئے ہیں، اور انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس اقدام کے ذریعے دفاعی اداروں کو اضافی اختیارات دینا جمہوریت کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے نیب کو اسی طرح کے اختیارات دیے گئے تھے، جس نے اس کے وقار کو نقصان پہنچایا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسلم لیگ ن آج ایسا قانون پاس کر رہی ہے جس سے وہ اپنے چہرے پر کالک مل رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ نیا قانون 26ویں ترمیم کے برعکس نہیں ہے، جسے حکومت خود پاس کر رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جے یو آئی اسلام آباد کی حدود تک پاس کیے گئے قانون کو غیر شرعی قرار دے چکی ہے، اور وہ کسی بھی غیر شرعی فیصلے کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے دین کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کریں گے اور عوام کو بھی بیدار کریں گے کہ ایسی ترامیم کو مسترد کر دیا جائے۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ دسمبر 8 کو پشاور میں "اسرائیل مردہ باد کانفرنس” منعقد کی جائے گی، جس میں عوام کو اسرائیل کے مظالم اور فلسطینیوں کی حمایت کے حوالے سے بیدار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی اقدار کو انسانی حقوق کے منافی قرار دینا کسی ملحد کا کام ہو سکتا ہے، اور وہ اس طرز عمل کو مسترد کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے اس پریس کانفرنس کے بعد حکومتی حلقوں اور سیاسی جماعتوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے یا نہیں۔ -

وفاق اور پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے پاکستان ٹریک پر واپس آرہا ہے، نواز شریف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں امریکہ سے لندن واپس پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، جس میں انہوں نے وفاقی حکومت کی کارکردگی اور پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وفاق میں شہباز شریف اور پنجاب میں مریم نواز کی قیادت میں حکومت نے بہترین کام کیا ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ "پاکستان ٹریک پر واپس آرہا ہے” اور معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، جس کے باعث مہنگائی میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی خریداری پر غور کیا جا رہا ہے، اور اگر یہ منصوبہ عمل میں لایا گیا تو ملک کو ایک اچھی ایئر لائن کی سہولیات میسر آئیں گی۔
سابق وزیراعظم نے شہباز شریف کی محنت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن رات کام کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے بہتری آئی ہے۔ نواز شریف نے مریم نواز کے بارے میں بھی کہا کہ وہ پنجاب میں بہترین کام کر رہی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ غریب عوام کی زندگی آسان بنائی جائے۔نواز شریف نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے”، اور انہوں نے اپنے دور حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت معیشت مستحکم تھی اور ترقی کی رفتار تیز تھی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا، اور اس فیصلے کے نتیجے میں عوام کا جو ردعمل آنا چاہئے تھا، وہ نہیں آیا۔
نواز شریف نے کہا کہ ان کے دور میں ملک نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، لیکن موجودہ حکومت کی قیادت میں آئی ایم ایف کو دوبارہ شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک اقتصادی بدحالی کے گڑھے میں جا گرا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کے حالات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں، اور ملک میں معاشی اشاریے بھی بہتر ہو رہے ہیں۔انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ "میرے دور حکومت میں بل 1600 روپے تک آتا تھا، لیکن آج یہ بل 15 سے 20 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ ایک ظلم ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔” نواز شریف نے یہ بھی بتایا کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں اور اسٹاک مارکیٹ تاریخی سطح کو چھو رہی ہے۔ نواز شریف نے پنجاب میں جاری ترقیاتی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے مریم نواز کی محنت کو سراہا اور کہا کہ وہ مشاورت کے ذریعے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ جب انہیں ترقیاتی کاموں کے ثمرات نظر آئیں گے تو وہ مطمئن ہوں گے، اور یہ کہ اگر یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو مشکلات جلد آسان ہوں گی۔ -

پی ٹی آئی رکن اسمبلی کی رہائی، ہوائی فائرنگ پر مقدمہ درج
باجوڑ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن انور زیب خان کی رہائی پر ان کے آبائی علاقے باجوڑ میں جشن منایا گیا، جس میں لوگوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ انور زیب خان جب اپنی رہائش گاہ پہنچے تو ان کے استقبال میں روایتی انداز اپناتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی، جس پر علاقہ گونج اٹھا۔انور زیب خان کو پنجاب پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کے دوران گرفتار کیا تھا۔ انہیں اٹک جیل میں رکھا گیا تھا، تاہم عدالت نے گزشتہ روز ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ انور زیب خان کے حامیوں نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے گھر پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
باجوڑ کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈی پی او نے کہا کہ عوامی مقامات پر ہوائی فائرنگ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں شامل افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ہوائی فائرنگ پاکستانی معاشرے کے کچھ حصوں میں جشن منانے کا ایک روایتی طریقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ عمل نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے جان و مال کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کر رہے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے واقعات کی روک تھام پر زور دیا جا رہا ہے۔ باجوڑ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے پر ڈی پی او کا کہنا تھا کہ قانون کا نفاذ سب پر یکساں ہے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔ -

خیبر پختونخوا ہاؤس میں توڑ پھوڑ اور مالی نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری
اسلام آباد: خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ خیبر پختونخوا کے محکمہ مواصلات اور تعمیرات کی اسپیشل کمیٹی کی ہدایت پر تیار کی گئی ہے، جس میں مشترکہ تحقیقات کے بعد نقصانات اور غائب ہونے والی اشیاء کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والی توڑ پھوڑ اور نقصان کے بعد مرمت پر تقریباً 96 لاکھ 93 ہزار روپے کے اخراجات آئیں گے۔ یہ خرچ انفراسٹرکچر کی مرمت، عمارت کے داخلی اور خارجی دروازوں کی بحالی، اور داخلی سکیورٹی کی سہولیات کے لیے درکار ہے۔ یہ رقم ہاؤس کی مجموعی ساخت کو دوبارہ بہتر بنانے اور نقصان کی بحالی کے لیے مختص کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے پی ہاؤس کے اندر موجود فرنیچر کو 10 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ اس توڑ پھوڑ میں لکڑی کی میزیں، کرسیاں اور دیگر فرنیچر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 15 لاکھ روپے کے ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر، سی سی ٹی وی کیمرے، اور لیپ ٹاپ بھی نقصان زدہ ہوئے ہیں۔ اس نقصان کے باعث ہاؤس کی اندرونی نگرانی کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے باعث مزید سکیورٹی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا ہاؤس میں موجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی متعدد اہم اشیاء بھی غائب پائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایم پی ایز اور پولیس اہلکاروں کی نقدی، جو کہ 16 لاکھ روپے سے زائد تھی، کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ رپورٹ میں اس مالی نقصان کو سکیورٹی اور داخلی انضباط کی ناکامی قرار دیا گیا ہے اور اس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا ہاؤس کے کرایہ کی مد میں 6 لاکھ روپے کی نقد رقم بھی غائب ہے۔ اس کے علاوہ 64 لاکھ روپے مالیت کا لائسنس یافتہ اسلحہ، موبائل فونز، اور دیگر اہم سامان بھی ہاؤس سے غائب پایا گیا ہے، جو کہ مزید تشویش کا باعث ہے۔ اس سامان کی گمشدگی نے ہاؤس کی سکیورٹی اور اندرونی تحفظ کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا جس دوران خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد خیبر پختونخوا ہاؤس میں کشیدگی کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ اس دوران میڈیا پر ایسی خبریں آئیں کہ انتظامیہ کی جانب سے کے پی ہاؤس پر چڑھائی کی گئی ہے۔ ہاؤس میں موجود اشیاء کے نقصان اور گمشدگی کے باعث انتظامیہ اور حکام کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ہاؤس کی بحالی اور دوبارہ سکیورٹی اقدامات پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور ہاؤس میں نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس حوالے سے مزید اقدامات کا عندیہ دیا ہے تاکہ ہاؤس کی حفاظت اور وہاں موجود قیمتی اشیاء کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
-

پنجاب حکومت کا پنجاب ایئر لائن شروع کرنے کا فیصلہ
لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں ایک نئی ایئر لائن شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جسے پنجاب ایئر کے نام سے لانچ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، اس ایئر لائن کی فزیبیلٹی اسٹڈی پر کام کا آغاز ہوچکا ہے، اور اسے پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے اشتراک سے قائم کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت اس ایئر لائن میں شراکت دار ہوگی، جبکہ ایئر لائن کی مالی سرمایہ کاری کا زیادہ تر حصہ نجی شعبے سے آئے گا۔پنجاب حکومت کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ حکومت پنجاب پی آئی اے خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے اس خبر کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے وضاحت کی کہ پنجاب حکومت کا منصوبہ ایک نئی ایئر لائن قائم کرنا ہے نہ کہ پی آئی اے کو خریدنا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے امریکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے ان سے پی آئی اے کو خریدنے کے حوالے سے مشورہ کیا تھا۔ ان کے بقول، مریم نواز نے تجویز دی کہ پاکستان کو ایک برانڈ نیو ایئر لائن کی ضرورت ہے جس کا نام ایئر پنجاب رکھا جائے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے مریم نواز کو مشورہ دیا کہ وہ اس منصوبے پر مزید غور کریں اور اس کے فوائد و نقصانات کا تجزیہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ **نئی ایئر لائن** قائم کرکے اسے پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے براہ راست نیویارک کی پروازیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایئر پنجاب دنیا کے دیگر بڑے شہروں جیسے لندن، ٹوکیو، اور ہانگ کانگ تک پروازیں فراہم کرسکتی ہے۔اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو پنجاب ایئر ملک کی ائیر لائن انڈسٹری میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگی۔ یہ ایئر لائن ملک کے بڑے شہروں کو بین الاقوامی مقامات سے جوڑنے کے علاوہ، قومی معیشت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کے اس منصوبے کے حوالے سے حتمی اعلان کا انتظار کیا جارہا ہے، جس سے متعلق عوام میں بھی کافی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ -

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کی اہم ترامیم
حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 میں اہم ترامیم متعارف کروا دی ہیں، جو ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار کو مزید شفاف اور موثر بنانے کی کوشش ہیں۔ یہ آرڈیننس صدر پاکستان کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت جاری کیا گیا ہے اور فوراً نافذ العمل ہوگا۔ترمیمی سیکشن 2 کے تحت ہر مقدمہ اب چیف جسٹس کی زیر نگرانی مخصوص بینچ کے سامنے پیش ہوگا۔ اس بینچ کا تعین وقتاً فوقتاً کیا جائے گا، جس کا مقصد مقدمات کی سماعت میں نظم و ضبط اور معیار کو بہتر بنانا ہے۔بل کے ترمیمی سیکشن 3 کے مطابق، آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سماعت کرنے والے بینچ کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ مقدمے کی نوعیت کو واضح اور معقول بنیاد پر طے کریں کہ آیا یہ معاملہ عوامی اہمیت کا حامل ہے یا نہیں۔ اس اقدام سے عدلیہ کی جانب سے عوامی مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی ہو سکے گی۔
ترمیمی سیکشن 5 کے تحت سیکشن 5 کی شق (2) کو حذف کردیا گیا ہے، جبکہ پہلی شق میں اضافے کیے گئے ہیں تاکہ بینچ کی تشکیل کے طریقہ کار کو مزید واضح کیا جا سکے۔ اس تبدیلی سے بینچ کی تشکیل میں زیادہ شفافیت فراہم کرنے کا مقصد ہے۔بل میں نئے سیکشنز 7A اور 7B کا اضافہ کیا گیا ہے۔ سیکشن 7A میں مقدمات کو "پہلے آؤ، پہلے پاؤ” کے اصول پر نمٹانے کے لیے فہرستوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔سیکشن 7B کے تحت سپریم کورٹ کی کارروائیوں کا ریکارڈ اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا، جسے عدالتی فیس کی ادائیگی کے بعد متعلقہ فریقین کو فراہم کیا جائے گا۔ یہ ترمیم عوامی شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ عدالتی کارروائیوں کی درستگی اور قانونی حیثیت کو یقینی بناتی ہے۔
آرڈیننس میں آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات کو مزید شفاف بنانے کے لیے ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت مقدمات کے فیصلے عوامی اہمیت کے اصول پر کیے جا سکیں یہ ترامیم سپریم کورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہیں، جو کہ ملک میں عدلیہ کی مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان ترامیم کے ذریعے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی سماعت میں مزید بہتری آئے گی اور عوامی مسائل کے حل میں سرعت پیدا ہوگی۔