Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • محسن نقوی کا قومی ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ پر اظہارِ اطمینان

    محسن نقوی کا قومی ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ پر اظہارِ اطمینان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے پہلے ون ڈے میچ میں قومی ٹیم کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹیم نے شاندار فائٹنگ اسپرٹ کا مظاہرہ کیا، جو ان کے عزم و ہمت کی عکاسی کرتی ہے۔محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا، "شاباش ٹیم، آپ نے ایک سخت میچ میں زبردست فائٹ کی۔” انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں نے ہر ممکن کوشش کی اور اپنے پورے زور سے کھیلتے رہے۔ یہ پہلا میچ تھا، اور مجھے یقین ہے کہ ٹیم جلد ہی کم بیک کرکے ہمیں فخر سے سر بلند کرے گی۔یاد رہے کہ یہ میچ ایک لو اسکورنگ مقابلہ تھا، جس میں آسٹریلوی ٹیم نے بمشکل پاکستان کے خلاف دو وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ قومی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 203 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔ اس کے باوجود، پاکستانی بولرز نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے آسٹریلیا کی 8 وکٹیں گرائیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ میچ میں سخت مقابلہ ہوا۔اس میچ کے بعد، محسن نقوی کا پیغام قومی ٹیم کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنا ہے، جس نے کھلاڑیوں میں مزید عزم پیدا کیا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین کی یہ مثبت رائے قومی کرکٹ کی ترقی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ آنے والے میچوں کے لیے محسن نقوی نے امید ظاہر کی ہے کہ قومی ٹیم اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بناتے ہوئے شائقین کرکٹ کی توقعات پر پورا اترے گی۔

  • مولانا فضل الرحمان کی حکومت اور حکومتی اتحاد پر شدید تنقید، انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم پر اظہارِ تشویش

    مولانا فضل الرحمان کی حکومت اور حکومتی اتحاد پر شدید تنقید، انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم پر اظہارِ تشویش

    اسلام آباد: جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم پر حکومت اور حکومتی اتحاد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کو غیر ضروری اختیارات دیے جارہے ہیں، جس سے جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جمہوریت کا گلا گھونٹ رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے پیر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیمی بل حکومت کے طرز حکمرانی اور اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے سنگین خطرات کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے دفاعی اداروں کو اضافی اختیارات دیے جارہے ہیں، جو ان کی اصل ذمہ داری میں شامل نہیں ہیں۔
    مولانا فضل الرحمان نے مزید بتایا کہ جمیعت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کا دو روزہ اجلاس ہوا، جس میں 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور سود کے خاتمے سمیت مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق ترامیم پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ مجلس شوریٰ نے دینی مدارس کے قانون اور بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اسرائیل کے فلسطین پر حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی اور پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ فلسطینی عوام کی مالی معاونت کے لیے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں بے گناہ بچے اور معصوم یتیم رہ گئے ہیں، اور انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔
    مولانا فضل الرحمان نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس اقدام کے ذریعے دفاعی اداروں کو اضافی اختیارات دینا جمہوریت کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے نیب کو اسی طرح کے اختیارات دیے گئے تھے، جس نے اس کے وقار کو نقصان پہنچایا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسلم لیگ ن آج ایسا قانون پاس کر رہی ہے جس سے وہ اپنے چہرے پر کالک مل رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ نیا قانون 26ویں ترمیم کے برعکس نہیں ہے، جسے حکومت خود پاس کر رہی ہے؟مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جے یو آئی اسلام آباد کی حدود تک پاس کیے گئے قانون کو غیر شرعی قرار دے چکی ہے، اور وہ کسی بھی غیر شرعی فیصلے کے پابند نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے دین کے ساتھ مذاق برداشت نہیں کریں گے اور عوام کو بھی بیدار کریں گے کہ ایسی ترامیم کو مسترد کر دیا جائے۔
    مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ دسمبر 8 کو پشاور میں "اسرائیل مردہ باد کانفرنس” منعقد کی جائے گی، جس میں عوام کو اسرائیل کے مظالم اور فلسطینیوں کی حمایت کے حوالے سے بیدار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی اقدار کو انسانی حقوق کے منافی قرار دینا کسی ملحد کا کام ہو سکتا ہے، اور وہ اس طرز عمل کو مسترد کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے اس پریس کانفرنس کے بعد حکومتی حلقوں اور سیاسی جماعتوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے یا نہیں۔

  • وفاق اور پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے پاکستان ٹریک پر واپس آرہا ہے، نواز شریف

    وفاق اور پنجاب میں ترقیاتی کاموں سے پاکستان ٹریک پر واپس آرہا ہے، نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف نے حال ہی میں امریکہ سے لندن واپس پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی، جس میں انہوں نے وفاقی حکومت کی کارکردگی اور پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ وفاق میں شہباز شریف اور پنجاب میں مریم نواز کی قیادت میں حکومت نے بہترین کام کیا ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ "پاکستان ٹریک پر واپس آرہا ہے” اور معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، جس کے باعث مہنگائی میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی خریداری پر غور کیا جا رہا ہے، اور اگر یہ منصوبہ عمل میں لایا گیا تو ملک کو ایک اچھی ایئر لائن کی سہولیات میسر آئیں گی۔
    سابق وزیراعظم نے شہباز شریف کی محنت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن رات کام کر رہے ہیں اور اس کی وجہ سے بہتری آئی ہے۔ نواز شریف نے مریم نواز کے بارے میں بھی کہا کہ وہ پنجاب میں بہترین کام کر رہی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ غریب عوام کی زندگی آسان بنائی جائے۔نواز شریف نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے”، اور انہوں نے اپنے دور حکومت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت معیشت مستحکم تھی اور ترقی کی رفتار تیز تھی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا، اور اس فیصلے کے نتیجے میں عوام کا جو ردعمل آنا چاہئے تھا، وہ نہیں آیا۔
    نواز شریف نے کہا کہ ان کے دور میں ملک نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، لیکن موجودہ حکومت کی قیادت میں آئی ایم ایف کو دوبارہ شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں ملک اقتصادی بدحالی کے گڑھے میں جا گرا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کے حالات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں، اور ملک میں معاشی اشاریے بھی بہتر ہو رہے ہیں۔انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ "میرے دور حکومت میں بل 1600 روپے تک آتا تھا، لیکن آج یہ بل 15 سے 20 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ ایک ظلم ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔” نواز شریف نے یہ بھی بتایا کہ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں نیچے آرہی ہیں اور اسٹاک مارکیٹ تاریخی سطح کو چھو رہی ہے۔ نواز شریف نے پنجاب میں جاری ترقیاتی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے مریم نواز کی محنت کو سراہا اور کہا کہ وہ مشاورت کے ذریعے معاملات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ جب انہیں ترقیاتی کاموں کے ثمرات نظر آئیں گے تو وہ مطمئن ہوں گے، اور یہ کہ اگر یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو مشکلات جلد آسان ہوں گی۔

  • پی ٹی آئی رکن اسمبلی  کی رہائی،  ہوائی فائرنگ پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی کی رہائی، ہوائی فائرنگ پر مقدمہ درج

    باجوڑ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبرپختونخوا اسمبلی کے رکن انور زیب خان کی رہائی پر ان کے آبائی علاقے باجوڑ میں جشن منایا گیا، جس میں لوگوں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ انور زیب خان جب اپنی رہائش گاہ پہنچے تو ان کے استقبال میں روایتی انداز اپناتے ہوئے بڑی تعداد میں لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی، جس پر علاقہ گونج اٹھا۔انور زیب خان کو پنجاب پولیس نے اسلام آباد کے ڈی چوک پر احتجاج کے دوران گرفتار کیا تھا۔ انہیں اٹک جیل میں رکھا گیا تھا، تاہم عدالت نے گزشتہ روز ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ انور زیب خان کے حامیوں نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے گھر پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
    باجوڑ کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ علاقے میں ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈی پی او نے کہا کہ عوامی مقامات پر ہوائی فائرنگ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں شامل افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ہوائی فائرنگ پاکستانی معاشرے کے کچھ حصوں میں جشن منانے کا ایک روایتی طریقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ عمل نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے جان و مال کا نقصان بھی ہوسکتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں کئی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کر رہے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے واقعات کی روک تھام پر زور دیا جا رہا ہے۔ باجوڑ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے پر ڈی پی او کا کہنا تھا کہ قانون کا نفاذ سب پر یکساں ہے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • خیبر پختونخوا ہاؤس میں توڑ پھوڑ اور مالی نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری

    خیبر پختونخوا ہاؤس میں توڑ پھوڑ اور مالی نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری

    اسلام آباد: خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصانات کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ خیبر پختونخوا کے محکمہ مواصلات اور تعمیرات کی اسپیشل کمیٹی کی ہدایت پر تیار کی گئی ہے، جس میں مشترکہ تحقیقات کے بعد نقصانات اور غائب ہونے والی اشیاء کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والی توڑ پھوڑ اور نقصان کے بعد مرمت پر تقریباً 96 لاکھ 93 ہزار روپے کے اخراجات آئیں گے۔ یہ خرچ انفراسٹرکچر کی مرمت، عمارت کے داخلی اور خارجی دروازوں کی بحالی، اور داخلی سکیورٹی کی سہولیات کے لیے درکار ہے۔ یہ رقم ہاؤس کی مجموعی ساخت کو دوبارہ بہتر بنانے اور نقصان کی بحالی کے لیے مختص کی گئی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے پی ہاؤس کے اندر موجود فرنیچر کو 10 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ اس توڑ پھوڑ میں لکڑی کی میزیں، کرسیاں اور دیگر فرنیچر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 15 لاکھ روپے کے ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر، سی سی ٹی وی کیمرے، اور لیپ ٹاپ بھی نقصان زدہ ہوئے ہیں۔ اس نقصان کے باعث ہاؤس کی اندرونی نگرانی کا نظام متاثر ہوا ہے، جس کے باعث مزید سکیورٹی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا ہاؤس میں موجود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی متعدد اہم اشیاء بھی غائب پائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایم پی ایز اور پولیس اہلکاروں کی نقدی، جو کہ 16 لاکھ روپے سے زائد تھی، کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ رپورٹ میں اس مالی نقصان کو سکیورٹی اور داخلی انضباط کی ناکامی قرار دیا گیا ہے اور اس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا ہاؤس کے کرایہ کی مد میں 6 لاکھ روپے کی نقد رقم بھی غائب ہے۔ اس کے علاوہ 64 لاکھ روپے مالیت کا لائسنس یافتہ اسلحہ، موبائل فونز، اور دیگر اہم سامان بھی ہاؤس سے غائب پایا گیا ہے، جو کہ مزید تشویش کا باعث ہے۔ اس سامان کی گمشدگی نے ہاؤس کی سکیورٹی اور اندرونی تحفظ کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا جس دوران خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد خیبر پختونخوا ہاؤس میں کشیدگی کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ اس دوران میڈیا پر ایسی خبریں آئیں کہ انتظامیہ کی جانب سے کے پی ہاؤس پر چڑھائی کی گئی ہے۔ ہاؤس میں موجود اشیاء کے نقصان اور گمشدگی کے باعث انتظامیہ اور حکام کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے ہاؤس کی بحالی اور دوبارہ سکیورٹی اقدامات پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور ہاؤس میں نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس حوالے سے مزید اقدامات کا عندیہ دیا ہے تاکہ ہاؤس کی حفاظت اور وہاں موجود قیمتی اشیاء کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پنجاب حکومت کا پنجاب ایئر لائن شروع کرنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا پنجاب ایئر لائن شروع کرنے کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے میں ایک نئی ایئر لائن شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جسے پنجاب ایئر کے نام سے لانچ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، اس ایئر لائن کی فزیبیلٹی اسٹڈی پر کام کا آغاز ہوچکا ہے، اور اسے پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے اشتراک سے قائم کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت اس ایئر لائن میں شراکت دار ہوگی، جبکہ ایئر لائن کی مالی سرمایہ کاری کا زیادہ تر حصہ نجی شعبے سے آئے گا۔پنجاب حکومت کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ حکومت پنجاب پی آئی اے خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے اس خبر کو غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ افواہ پھیلائی جارہی ہے۔ مریم اورنگزیب نے وضاحت کی کہ پنجاب حکومت کا منصوبہ ایک نئی ایئر لائن قائم کرنا ہے نہ کہ پی آئی اے کو خریدنا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے امریکہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے ان سے پی آئی اے کو خریدنے کے حوالے سے مشورہ کیا تھا۔ ان کے بقول، مریم نواز نے تجویز دی کہ پاکستان کو ایک برانڈ نیو ایئر لائن کی ضرورت ہے جس کا نام ایئر پنجاب رکھا جائے۔
    نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے مریم نواز کو مشورہ دیا کہ وہ اس منصوبے پر مزید غور کریں اور اس کے فوائد و نقصانات کا تجزیہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ **نئی ایئر لائن** قائم کرکے اسے پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ سے براہ راست نیویارک کی پروازیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایئر پنجاب دنیا کے دیگر بڑے شہروں جیسے لندن، ٹوکیو، اور ہانگ کانگ تک پروازیں فراہم کرسکتی ہے۔اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو پنجاب ایئر ملک کی ائیر لائن انڈسٹری میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگی۔ یہ ایئر لائن ملک کے بڑے شہروں کو بین الاقوامی مقامات سے جوڑنے کے علاوہ، قومی معیشت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کے اس منصوبے کے حوالے سے حتمی اعلان کا انتظار کیا جارہا ہے، جس سے متعلق عوام میں بھی کافی دلچسپی پائی جاتی ہے۔

  • سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کی اہم ترامیم

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کی اہم ترامیم

    حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 میں اہم ترامیم متعارف کروا دی ہیں، جو ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار کو مزید شفاف اور موثر بنانے کی کوشش ہیں۔ یہ آرڈیننس صدر پاکستان کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت جاری کیا گیا ہے اور فوراً نافذ العمل ہوگا۔ترمیمی سیکشن 2 کے تحت ہر مقدمہ اب چیف جسٹس کی زیر نگرانی مخصوص بینچ کے سامنے پیش ہوگا۔ اس بینچ کا تعین وقتاً فوقتاً کیا جائے گا، جس کا مقصد مقدمات کی سماعت میں نظم و ضبط اور معیار کو بہتر بنانا ہے۔بل کے ترمیمی سیکشن 3 کے مطابق، آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سماعت کرنے والے بینچ کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ مقدمے کی نوعیت کو واضح اور معقول بنیاد پر طے کریں کہ آیا یہ معاملہ عوامی اہمیت کا حامل ہے یا نہیں۔ اس اقدام سے عدلیہ کی جانب سے عوامی مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی ہو سکے گی۔
    ترمیمی سیکشن 5 کے تحت سیکشن 5 کی شق (2) کو حذف کردیا گیا ہے، جبکہ پہلی شق میں اضافے کیے گئے ہیں تاکہ بینچ کی تشکیل کے طریقہ کار کو مزید واضح کیا جا سکے۔ اس تبدیلی سے بینچ کی تشکیل میں زیادہ شفافیت فراہم کرنے کا مقصد ہے۔بل میں نئے سیکشنز 7A اور 7B کا اضافہ کیا گیا ہے۔ سیکشن 7A میں مقدمات کو "پہلے آؤ، پہلے پاؤ” کے اصول پر نمٹانے کے لیے فہرستوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر کا مسئلہ حل کیا جا سکے۔سیکشن 7B کے تحت سپریم کورٹ کی کارروائیوں کا ریکارڈ اور ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا، جسے عدالتی فیس کی ادائیگی کے بعد متعلقہ فریقین کو فراہم کیا جائے گا۔ یہ ترمیم عوامی شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ عدالتی کارروائیوں کی درستگی اور قانونی حیثیت کو یقینی بناتی ہے۔
    آرڈیننس میں آئین کے آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات کو مزید شفاف بنانے کے لیے ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت مقدمات کے فیصلے عوامی اہمیت کے اصول پر کیے جا سکیں یہ ترامیم سپریم کورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مثبت قدم ہیں، جو کہ ملک میں عدلیہ کی مضبوطی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان ترامیم کے ذریعے امید کی جا رہی ہے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں مقدمات کی سماعت میں مزید بہتری آئے گی اور عوامی مسائل کے حل میں سرعت پیدا ہوگی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی برطانوی کاروباری شخصیات سے ملاقات: پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب

    وزیراعظم شہباز شریف کی برطانوی کاروباری شخصیات سے ملاقات: پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حال ہی میں لاہور میں برطانیہ کی بااثر کاروباری شخصیات کے ایک وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت زبیر عیسیٰ نے کی۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرنا اور دوطرفہ کاروباری تعلقات کو مضبوط بنانا تھا۔وزیراعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے کاروباری برادری کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے ون ونڈو آپریشن کے تحت بہترین سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے مزید حوصلہ افزائی حاصل کریں۔
    شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کی مستقل کوششوں کے نتیجے میں حالیہ دنوں میں ملکی معیشت میں بہتری کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط معیشت ہی پاکستان کی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے، اور اس سلسلے میں حکومت تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔

    ملاقات میں دونوں طرف کے رہنماؤں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے نئے تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وفد نے وزیراعظم کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، اور اس کے نتیجے میں پائیدار ترقی کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔ملاقات کے اختتام پر، برطانوی کاروباری شخصیات نے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے پُرامید ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط کو مزید بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔

  • انتظار پنجوتھا کی بازیابی: سلمان اکرم راجہ کا سخت بیان

    انتظار پنجوتھا کی بازیابی: سلمان اکرم راجہ کا سخت بیان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے انتظار پنجوتھا کی بازیابی کے بعد ایک بیان میں ان کے اغوا کی تفصیلات بتائیں۔ انتظار پنجوتھا، جو عمران خان کے وکیل ہیں، کو تقریباً چار ہفتے قبل اسلام آباد سے اغوا کیا گیا تھا اور وہ گزشتہ رات حسن ابدال میں بازیاب ہوئے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انتظار پنجوتھا کی حالت کی ایک ویڈیو بنائی گئی تھی، جس کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ انہوں نے مزید کہا، "انتظار کی بازیابی کا جو ڈرامہ کیا گیا، وہ شرمناک ہے۔” راجہ نے وضاحت کی کہ یہ ویڈیو دراصل ان کے وکیل کو خوفزدہ کرنے اور ان کی بازیابی کے حوالے سے شائع کی گئی، تاکہ لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھائی جا سکے۔
    انتظار پنجوتھا کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ نے احکامات جاری کیے تھے، جس پر سرکاری وکیل نے 24 گھنٹوں کے اندر کارروائی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

    بازیابی کے بعد انتظار پنجوتھا نے ابتدائی بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں 8 اکتوبر کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا، جہاں ان سے 2 کروڑ روپے تاوان طلب کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان پر شدید تشدد کیا گیا، جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔یہ واقعہ نہ صرف پی ٹی آئی کے وکلا کے لیے ایک خطرے کی علامت ہے بلکہ اس نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی تشدد اور عدم تحفظ کی صورت حال پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ سیاسی تناؤ کے اس وقت میں، یہ واقعہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کو بڑھاتا ہے۔ انتظار پنجوتھا کی بازیابی اور اس کے بعد کی صورتحال نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکومت اس معاملے میں کسی مؤثر کارروائی کا آغاز کرے گی یا یہ واقعات اسی طرح جاری رہیں گے۔

  • پاکستان کو بھارت کے تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت

    پاکستان کو بھارت کے تجربات سے سبق سیکھنے کی ضرورت

    بھارت میں حالیہ واقعات نے پاکستان کے حکام اور قانون سازوں کے لیے ایک اہم سبق فراہم کیا ہے۔ بھارت کے وزیر داخلہ، امیت شاہ، کی کردار کشی کرنے والی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی، جس پر بھارتی وزارت داخلہ نے فوری کارروائی کی۔ وزارت نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے معاملہ عدالت میں پیش کیا، جس نے اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے ٹویٹر انتظامیہ کو خط لکھا اور مشکوک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کیں۔بھارتی حکومت نے اس واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح کیا کہ کسی بھی ریاست کے لیے اس کے حکومتی اور ریاستی اہلکاروں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس سے قبل بھی بھارت میں کئی بار حکومت نے پروپگینڈا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، جس کے تحت اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے معلومات طلب کی گئی ہیں۔
    پاکستانی حالات میں، جہاں ڈس انفارمیشن اور پروپگینڈا کی مشقیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، بھارت کے اقدامات کو دیکھنا اہم ہے۔ پاکستانی ریاستی اہلکاروں اور دفاعی اداروں کی کردار کشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویش ناک ہو جاتی ہے جب دیکھا جائے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی جھوٹی معلومات ریاست کے نظام اور اس کی طاقتور اداروں کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔پاکستان کی عدالتوں میں بھی ایسے متعدد کیسز زیر التوا ہیں، جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے کردار کشی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ٹویٹر کا دفتر پاکستان میں موجود نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عدالتیں امریکہ میں ٹویٹر انتظامیہ کو خط لکھ کر تحریک انصاف کے پروپگینڈا سیل سے جڑے بے نامی اکاؤنٹس جیسے انکائڈو اور بابا کوڈا کی تفصیلات طلب نہیں کر سکتی؟

    اگر بھارت، جو ٹویٹر کے حوالے سے معلومات طلب کرنے میں کامیاب رہا ہے، تو پاکستان کو بھی اسی طرح کی درخواستیں کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس معاملے میں حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ریاستی اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی جھوٹی معلومات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔پاکستانی حکومت اور عدالتوں کو چاہیے کہ وہ بھارت کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف ریاست کی ساکھ کو بچائیں، بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال رکھیں۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان سوشل میڈیا کے خلاف ایک جامع حکمت عملی اپنائے، جو کہ قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جائے۔