سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024 کے قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آئین میں درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اس کے تحت حکومت اور سول آرمڈ فورسز کو کسی بھی شخص کو 3 ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیا جارہا ہے، جسے مزید 3 ماہ تک بڑھایا جاسکتا ہے۔اتوار کو اپنے ایک بیان میں رضا ربانی نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے، بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دہشتگردی کی سرگرمیاں بڑھی ہیں، جس پر حکومت کو عوام کو جواب دینا چاہیے کہ وہ دہشتگردی پر قابو پانے میں ناکام کیوں رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کے ان کیمرا اجلاس میں دہشتگردی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔ رضا ربانی نے کہا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ میں 2014 میں بھی ایسی ہی ترامیم کی گئی تھیں، مگر ان سے نہ تو تحقیقات اور پراسیکیوشن کے عمل میں بہتری آئی، نہ ہی عدالتوں میں سزا کی شرح میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ترامیم کے باوجود لاپتہ افراد کی تعداد میں بھی کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔میاں رضا ربانی نے اس بل کے ترمیمی سیکشن 11 میں استعمال کیے گئے مبہم الفاظ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصطلاحات قومی مفاد اور دہشتگردی جیسے سنگین مسائل کو کسی بھی طریقے سے تعبیر کرنے کی اجازت دیتی ہیں، جو ممکنہ طور پر انفرادی حقوق کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مفاد کے نام پر یہ اقدامات نہ صرف دہشتگردی کے خلاف بلکہ دیگر مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اس بل کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے غلط استعمال کی ایک اور مثال قرار دیا اور کہا کہ ایسے قوانین کا ماضی میں بھی غلط استعمال ہوتا رہا ہے، جس سے عوام کی بنیادی حقوق پامال ہوئے۔
Author: صدف ابرار
-

انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2024، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، رضا ربانی
-

خیبر پختونخوا کابینہ کا اجلاس 5 نومبر کو طلب، مختلف ترقیاتی منصوبوں پر غور متوقع
پشاور: خیبر پختونخوا کابینہ کا اہم اجلاس 5 نومبر بروز پیر کو صبح گیارہ بجے سول سیکرٹریٹ میں طلب کر لیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کے اعلامیہ کے مطابق، اس اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کریں گے، جس میں صوبے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سمیت دیگر اہم ایشوز پر تفصیلی غور و خوض متوقع ہے۔
اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس کابینہ روم میں منعقد ہوگا، جہاں صوبے کے لیے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کے اہم مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔کابینہ کے اجلاس کا باقاعدہ ایجنڈا تاحال جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق، اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نئی اسکیموں کی منظوری بھی متوقع ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ، صوبے میں امن و امان کی صورتحال، تعلیم و صحت کے شعبوں میں درپیش مسائل اور دیگر اہم معاملات پر بھی بحث کی جا سکتی ہے۔خیبر پختونخوا کے عوامی حلقوں میں اس اجلاس کو خاص توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے، جسے حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
-

امریکی صدارتی انتخابات: ٹرمپ اور کملا ہیرس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ، کروڑوں ووٹ کاسٹ
واشنگٹن: امریکہ میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل 5 نومبر 2024 کو مکمل ہوگا، اور انتخابی مہمات نے زور پکڑ لیا ہے۔ اس بار صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ انتخابات کے باقاعدہ دن سے دو روز قبل ہی کروڑوں امریکیوں نے اپنا ووٹ کاسٹ کرلیا ہے، جس سے مقابلے کی شدت اور ووٹرز کی دلچسپی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اب تک 7 کروڑ 50 لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔ ان میں سے 4 کروڑ 10 لاکھ لوگوں نے پولنگ اسٹیشنز پر جا کر ووٹ دیا، جبکہ 3 کروڑ 40 لاکھ لوگوں نے پوسٹل بیلٹ اور ای میل ووٹنگ کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ یہ تعداد ایک نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے، جو امریکی ووٹرز کے سیاسی شعور اور بدلتے حالات کی عکاس ہے۔
صدارتی انتخابات میں دو دن باقی ہیں، اور دونوں امیدواروں کی انتخابی مہمات اپنے عروج پر ہیں۔ ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس نے حالیہ دنوں میں اٹلانٹا، جارجیا اور نارتھ کیرولائنا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اپنے ووٹرز کو جوش دلانے کے لیے پرجوش تقاریر کیں۔ کملا ہیرس نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ "ملک کے مستقبل کے لیے لڑنے کو تیار ہیں” اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے دور میں ہر خاندان پر سیلز ٹیکس لگایا، اور امریکی عوام کو یاد دہانی کرائی کہ "آپ کا ووٹ ہی آپ کی طاقت اور آواز ہے۔دوسری جانب، ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مہم کے سلسلے میں نارتھ کیرولائنا اور ورجینیا کا دورہ کیا۔ ٹرمپ نے یہاں خطاب کرتے ہوئے پیشگی جیت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ ان ریاستوں میں کامیابی حاصل کریں گے۔ انہوں نے کملا ہیرس اور ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے صدر بننے سے امریکی معیشت اور سیکیورٹی مزید مضبوط ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق، ڈیموکریٹس کی پالیسیاں ملکی معیشت کو کمزور کر رہی ہیں اور ان کے ووٹرز کو مسائل سے دوچار کر رہی ہیں۔
امریکہ بھر میں ٹرمپ اور ہیرس کے حامیوں نے اپنے اپنے امیدواروں کی حمایت میں ریلیاں نکالی ہیں، جس سے ملک بھر میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ اس سال ہونے والے انتخابات کو امریکہ کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع اور دلچسپ انتخابات میں شمار کیا جا رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے اور اس مرتبہ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ بھی ریکارڈ سطح پر ہے۔ مختلف سرویز میں دونوں امیدواروں کی حمایت میں تفاوت دیکھنے کو مل رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوئنگ اسٹیٹس میں کامیابی حاصل کرنے والا امیدوار امریکی صدر بننے کا اعزاز حاصل کرے گا۔اب تمام نظریں 5 نومبر پر مرکوز ہیں، جب امریکی عوام اپنے نئے صدر کے حق میں حتمی فیصلہ سنائیں گے۔ کیا کملا ہیرس امریکی تاریخ کی پہلی خاتون صدر بنیں گی، یا ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے اقتدار سنبھالیں گے؟ -

سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں قانونی ہدایات جاری
پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو ہدایت دی تھی کہ وہ ویڈیوز کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کریں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ شناخت کے عمل کے مکمل ہونے کے بعد ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں گے، تاکہ ان عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جا سکیں۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملہ ہوا، اور اس واقعے پر حکومت خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیوں کا سامنا تھا تو سیکیورٹی فراہم کیوں نہیں کی گئی تھی۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کے لیے پختہ عزم رکھتی ہے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک اہم پیغام ہے کہ ہراسانی کے کسی بھی واقعے کیخلاف سختی سے کارروائی کی جائے گی۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں عدلیہ اور قانونی اداروں کی خود مختاری اور تحفظ کے حوالے سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ حکومت کی یہ کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ شہریوں کی حفاظت اور حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ -

ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ: 18 افسران کے تبادلے
وفاقی ریونیو بورڈ کی جانب سے اکتوبر میں ٹیکس ہدف میں ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں گریڈ 20 اور 21 کے 18 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اکتوبر کے مہینے میں ایف بی آر کی ٹیکس کلیکشن میں 101 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ایف بی آر نے تبادلوں اور تقرریوں کا ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے چیف کمشنرز لارج ٹیکس پیئرز آفس (ایل ٹی او) کو تبدیل کیا گیا ہے۔
گریڈ 21 کے چیف کمشنر ایل ٹی او کراچی ساجد اللہ صدیقی کو رکن ایف بی آر تعینات کیا گیا ہے۔ چیف کمشنر آر ٹی او ون کراچی ڈاکٹر سرمد قریشی کو چیف کمشنر آر ٹی او ملتان جبکہ چیف کمشنر آر ٹی او سرگودھا فہیم محمد کو چیف کمشنر آر ٹی او ون کراچی تعینات کیا گیا ہے۔ گریڈ 21 کے طارق ارباب کو ڈی جی ٹیکس براڈننگ تعینات کیا گیا ہے جبکہ چیف کمشنر ایل ٹی او اسلام آباد اشتیاق احمد خان کو رکن ایف بی آر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ گریڈ 21 کے زبیر بلال کو چیف کمشنر ایل ٹی او کراچی اور سجاد تسلیم کو چیف کمشنر ایل ٹی او لاہور کے عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔
رکن آئی آر آپریشنز میر بادشاہ وزیر کو بھی تبدیل کیا گیا ہے اور گریڈ 21 کے ڈاکٹر حامد عتیق سرور کو رکن آئی آر آپریشنز تعینات کیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 20 کے نجیب اللہ میمن کو رکن آئی آر پالیسی تعینات کیا گیا ہے۔اکتوبر میں ٹیکس وصولی 980 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 879 ارب روپے رہی، جس سے 101 ارب روپے کا بڑا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی وجوہات میں درآمدات میں کمی اور مہنگائی میں تیزی سے کمی شامل ہیں، جو کہ بنیادی طور پر درآمدی مرحلے اور مقامی سیلز ٹیکس کی وصولی میں تنزلی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ حالانکہ گزشتہ برس کے اسی مہینے کے مقابلے میں، ٹیکس محصولات میں 24 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جب کہ گزشتہ سال اکتوبر میں 711 ارب روپے جمع ہوئے تھے۔ایف بی آر کے اس اقدام کے پیچھے ناکامی کے باعث جاری تبدیلیوں کا مقصد ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانا اور بہتر کارکردگی کا حصول ہے، تاکہ مالیاتی ہدف کو پورا کیا جا سکے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ -

سب جانتے ہیں کہ ڈی چوک سے کون غائب ہوا تھا، حافظ حمد اللہ
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما حافظ حمد اللہ نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حالیہ بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید دراصل سیاسی قد بڑھانے کی ناکام کوشش ہے۔ ان کا کہنا تھا، "کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ!”۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جیسے قائد پر تنقید کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، جس سے عوام کی نظر میں علی امین گنڈاپور کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا،حافظ حمد اللہ نے مزید کہا کہ یہ سب جانتے ہیں کہ ڈی چوک سے کون غائب ہوا تھا۔ انہوں نے علی امین گنڈاپور کی جانب سے اسلام آباد کے آئی جی کو مورد الزام ٹھہرانے کے اقدام کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔ حافظ حمد اللہ نے واضح کیا کہ وہ ایسے بیانات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھتے جو محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نیت سے دیے جا رہے ہیں۔حافظ حمد اللہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام کی سیاست پر تنقید کی تھی۔ حافظ حمد اللہ نے علی امین گنڈاپور کے اس اقدام کو ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے کسی کا قد بڑا نہیں ہوتا بلکہ ان کی اپنی پوزیشن مزید مشکوک ہو جاتی ہے۔
-

عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات
پشاور: خیبر پختونخوا کی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر عاطف خان کے خلاف مالام جبہ کرپشن کیس دوبارہ کھول دیا ہے۔ اس ضمن میں انہیں ڈائریکٹوریٹ آف اینٹی کرپشن کے اسپیشل انویسٹی گیشن ونگ میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں عاطف خان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 12 نومبر کو ادارے کے سامنے پیش ہو کر مالام جبہ کیس میں عائد کرپشن کے الزامات کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔ نوٹس میں انہیں بتایا گیا کہ ان کے خلاف زیر التواء شکایات اور انکوائریوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ان کا بیان ضروری ہے۔
عاطف خان کا ردعمل
عاطف خان نے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے ہی پارٹی کی حکومت نے طلب کیا ہے، جس پر انہیں حیرانی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے پہلے ہی مالام جبہ کیس کو بند کر دیا تھا اور اس کیس کو دوبارہ کھولنے کا مقصد پی ٹی آئی اور اس کے بانی عمران خان کو نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے۔عاطف خان نے مزید کہا، "میں سچ بولتا رہوں گا اور پارٹی فورمز پر اپنے تحفظات اٹھاتا رہوں گا۔” ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے بھی بڑے چیلنجز کا سامنا کر چکے ہیں اور ان کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات اور کارکنان کا ردعمل
عاطف خان کو جاری کردہ اس نوٹس کے بعد پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔ عاطف خان نے حالیہ دنوں میں عمران خان کی رہائی کے لیے ورکرز تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر پارٹی کے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ علی امین کا مؤقف ہے کہ پارٹی کے تمام فیصلے ان کی نگرانی میں ہونے چاہئیں، اور انہوں نے عاطف خان کے اعلان پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عاطف خان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس عاطف خان کو دباؤ میں لانے اور ان کی تحریک کو روکنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے علی امین گنڈاپور پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہے بلکہ پارٹی کارکنوں کو محض دکھاوے کے لیے تحریک کا جھوٹا تاثر دے رہے ہیں۔

عمران خان کی رہائی کے لیے علیحدہ تحریک کا اعلان
ان حالات میں عاطف خان اور ان کے حامیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور علی امین گنڈاپور کی حمایت کے بغیر چیئرمین کی رہائی کے لیے ورکرز تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ عاطف خان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ اسلام آباد میں دھرنے کا انعقاد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور کارکنان کو ساتھ لے کر اڈیالہ جیل کے سامنے بھی احتجاج کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ پارٹی کے اس اندرونی اختلاف اور کارکنان کے شدید ردعمل کے بعد پی ٹی آئی کی صفوں میں مزید تقسیم اور سیاسی بحران کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں، جو خیبر پختونخوا حکومت اور پارٹی کی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ -

حساس معلومات لیک ہونے کی تحقیقات: نیتن یاہو کے دفتر کے کئی مشتبہ افراد گرفتار
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے حساس معلومات کے لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ تحقیقات کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے ملک میں سلامتی کے معاملات اور حکومتی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، مجسٹریٹ عدالت کے جج مناحم مزراہی نے اس معاملے کی تحقیقات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیز، بشمول شن بیٹ، اسرائیلی پولیس، اور فوج نے مشترکہ طور پر تحقیقات کا "اوپن فیز” شروع کیا ہے۔ اس مرحلے میں، قومی سلامتی کی خلاف ورزی کے حوالے سے ایک اہم راز کی افشاء کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔جج نے تصدیق کی ہے کہ اس تحقیقات کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔
تاہم، عدالت نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا ان میں نیتن یاہو کے معاونین بھی شامل ہیں۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اگر وزیراعظم کے قریبی افراد اس معاملے میں ملوث پائے گئے تو اس سے حکومت کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ حساس معلومات لیک ہونے کی تحقیقات میں ان کے دفتر کے کسی بھی رکن کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس وضاحت نے کچھ حد تک عوام کی تشویش کو کم کرنے کی کوشش کی، لیکن میڈیا کے مطابق، عدالت نے تحقیقات پر جزوی پابندی ہٹا دی ہے، جس کے باعث مزید تفصیلات آنے کی توقع ہے۔اس واقعے نے اسرائیلی عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے، اور یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا حکومتی ادارے واقعی عوامی سلامتی کو ترجیح دے رہے ہیں یا نہیں۔ ایسے میں جب ملک کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، یہ تحقیقات اس بات کا تعین کریں گی کہ آیا حکومتی شفافیت برقرار رہ سکتی ہے یا نہیں۔ -

وفاقی حکومت کے مختلف افسران کے تقرر و تبادلے
وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف سرکاری افسران کی تقرر و تبادلے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مختلف اداروں میں افسران کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور انتظامی معاملات کو منظم انداز میں چلانا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق بریگیڈیئر چوہدری محمد نعیم اکبر، جو کہ الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئرنگ میں مہارت رکھتے ہیں، کو او ایس ڈی (آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹیز) وزارتِ دفاعی پیداوار مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی یہ تعیناتی دفاعی پیداوار کے معاملات کو مزید موثر انداز میں چلانے کی غرض سے کی گئی ہے۔
اسی طرح بابر علی شاہ کو ایڈیشنل ڈائریکٹر سول سروسز اکیڈمی لاہور تعینات کر دیا گیا ہے۔ سول سروسز اکیڈمی میں ان کی تعیناتی کا مقصد سول سروسز کی تربیت اور انتظامی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، کوئٹہ کے اسسٹنٹ انجینئر نجم الدین کا تبادلہ کیا گیا ہے اور انہیں کراچی میں ڈپٹی مینیجر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس تعیناتی سے ملک کے تجارتی معاملات کو مزید تقویت ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔خیبرپختونخوا محکمہ ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن کی دو اہم افسران، رومانی اور ہما حسین کی خدمات فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسلام آباد کے سپرد کر دی گئی ہیں۔
رومانی جو کہ ہیڈ مسٹریس کے عہدے پر فائز تھیں اور ہما حسین جو سبجیکٹ اسپیشلسٹ کے طور پر کام کر رہی تھیں، اب وفاقی تعلیمی اداروں میں اپنی خدمات فراہم کریں گی۔ اس فیصلے سے تعلیمی نظام میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، اور ان کی تجربہ کار صلاحیتوں کو وفاقی سطح پر بروئے کار لایا جائے گا۔وفاقی حکومت کے اس اقدام کے پیچھے یہ مقصد ہے کہ مختلف محکموں میں افسران کی قابلیت اور تجربے کا بہتر استعمال کیا جا سکے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تمام تقرریاں اور تبادلے فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ -

بیرسٹر سیف کی پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی تصدیق،
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جمہوریت کی بحالی کے لئے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہے۔ ان کے اس بیان نے پارٹی کی جانب سے مختلف اسٹیک ہولڈرز، بشمول اسٹیبلشمنٹ، کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششوں کو واضح کیا ہے۔بیرسٹر سیف نے گفتگو کے دوران زور دیا کہ پی ٹی آئی کا مقصد کسی قسم کی "ڈیل” نہیں بلکہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو لوگ جمہوریت کو دوبارہ اپنی راہ پر لاسکتے ہیں، پی ٹی آئی ان سے رابطے میں ہے۔” ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے اہم کردار کو تسلیم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ "ہماری کوشش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام فریقین کے ساتھ پی ٹی آئی کی ہم آہنگی ہو، تاکہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنما رہا ہو سکیں۔” ان کے اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی اب تصادم کے بجائے مصالحتی رویہ اپنانا چاہتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطے میں ہے۔بیرسٹر سیف نے پی ٹی آئی قیادت پر قائم مقدمات کے حوالے سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی رہائی کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف نئے مقدمات درج نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کیسز بنانے والوں کو اب خود سمجھ آگیا ہے، اسی لیے بشریٰ بی بی کی رہائی کے بعد مزید کیسز نہیں بنائے گئے۔سیاسی حالات میں بدلتے ہوئے رجحانات اور پی ٹی آئی اور اس کے مخالفین کے درمیان ممکنہ طور پر کشیدگی میں کمی کے اشارے مل رہے ہیں۔ آنے والے دن پی ٹی آئی کی مصالحتی کوششوں اور جمہوریت کے فروغ کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، جو پاکستان میں ایک بہتر سیاسی ماحول کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔