Baaghi TV

Blog

  • نیشنل چیف آف آرمی سٹاف ریسلنگ چیمین شپ  میں انڈر 17 اور انڈر 19 کے فائنل مقابلے

    نیشنل چیف آف آرمی سٹاف ریسلنگ چیمین شپ میں انڈر 17 اور انڈر 19 کے فائنل مقابلے

    پاکستان میں پہلی نیشنل چیف آف آرمی سٹاف ریسلنگ چیمین شپ میں انڈر 17 اور انڈر 19 کے فائنل مقابلے سیالکوٹ میں منعقد ہوئے جنرل آفیسر کمانڈنگ 8 ڈویژن میجر جنرل ذوالفقار شاہین تقریب کے مہمان خصوصی تھے میجر جنرل ذوالفقار شاہین نے جیتنے والے کھلاڑیوں کو میڈلز اور انعامات تقسیم کیے

    رپورٹ باغی ٹی وی بیورو چیف مدثر رتو سے
    ملک بھر میں ہونے والی پہلی نیشنل چیف آف آرمی سٹاف ریسلنگ چیمپئن شپ کے فائنل مقابلوں میں ملک بھر سے ڈسڑکٹ ڈویژن اور صوبائی سطح پر جیتنے والے پہلوانوں نے شرکت کی ریسلنگ کے فائنل مقا بلوں کو دیکھنے کے لیے شہریوں کی بہت بڑی تعداد سیالکوٹ سپورٹس سٹیڈیم پہنچی فائنل میں گوجرانوالہ کی ٹیم شیر پنجاب ایونٹ کی مجموعی طور پر فاتح ٹیم قرار پائی پشاور کی ٹیم خیبر فائٹرز نے دوسری پوزیشن حاصل کی اس ایونٹ میں ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ نیشنل لیول پر انڈر 17 اور انڈر 19 کے مقابلوں کو بھی شامل کیا گیا.

    ملک بھر سے مقابلوں میں شریک ریسلرز کا کہنا تھا کے پاکستان آرمی کی جانب سے جس طرح فن پہلوانی کو فروغ دینے کے لیے اور نئے ٹیلنٹ کو پرموٹ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے ہم اس کے لیے چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کے بے حد مشکور ہیں آور امید کرتے ہیں کے پاکستان آرمی ایسے ایونٹ منعقد کروا کر نئے ٹیلنٹ کو انٹر نیشنل لیول تک جانے کے لیے مواقع فراہم کرتی رہے گی

  • واربرٹن کے علاقہ جھنگڑ لعل میں آل پاکستان گھوڑا ڈانس مقابلوں کا انعقاد

    واربرٹن کے علاقہ جھنگڑ لعل میں آل پاکستان گھوڑا ڈانس مقابلوں کا انعقاد

    واربرٹن کے علاقہ جھنگڑ لعل میں آل پاکستان گھوڑا ڈانس مقابلوں کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے لائے گئے گھوڑوں نے خوبصورت رقص پیش کر کے سماں باندھ دیا،

    نمائندہ باغی ٹی وی عبدالغفار چوہدری کے مطابق واربرٹن کے نواحی علاقہ جھنگڑ لعل میں معروف صوفیہ بزرگ بابا بشیر دولہ شاہ ولی رح کے 18 ویں سالانہ عرس مبارک تقریبات کے سلسلہ میں ہونے والے ان مقابلوں میں چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر سے لائے گئے 150سے زائد گھوڑا پارٹیوں نے حصہ لیا، دلکش انداز میں سجے خوبصورت گھوڑوں نے علاقائی گانوں کی دھنوں اور ڈھول کی تھاپ پر خوبصورت رقص پیش کر کے سماں باندھ دیا اور دور دراز سے آئے ہزاروں شائقین کو جھومنے پر مجبور کر دیا، منفرد انداز میں رقص کرتے گھوڑوں پر شرکاء نے نوٹوں کی بارش کر دی، مقابلوں کے منتظم رائے بلال سیف کا کہنا ہے کہ ان مقابلوں کا مقصد گھٹن زدہ ماحول میں لوگوں کو تفریح فراہم کرنا اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں لانا ہے، اپنے آباؤ اجداد کی روایات کے مطابق مقابلوں میں آنے والے تمام گھوڑوں اور ان کے مالکان کے لئے رہائش اور کھانے سمیت تمام انتظامات کئے جاتے ہیں۔

  • 
وزیراعظم شہباز شریف کا بی این پی سربراہ طارق رحمان سے رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد

    
وزیراعظم شہباز شریف کا بی این پی سربراہ طارق رحمان سے رابطہ، انتخابی کامیابی پر مبارکباد

    
وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کرکے انہیں عام انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔
    وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے بنگلادیش کے عوام کو کامیاب عام انتخابات کے انعقاد پر بھی مبارکباد پیش کی اور پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی، خطے کے امن اور ترقی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بیگم خالدہ ضیا کی پاک بنگلادیش تعلقات کے فروغ کے لیے خدمات کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
    ‎یاد رہے کہ بنگلادیش کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں حاصل کرکے دو تہائی اکثریت حاصل کی، جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔

  • احمد آباد طیارہ حادثہ پائلٹ کے مبینہ دانستہ اقدام کا نتیجہ, اطالوی میڈیا

    احمد آباد طیارہ حادثہ پائلٹ کے مبینہ دانستہ اقدام کا نتیجہ, اطالوی میڈیا

    
اطالوی میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے شہر احمد آباد میں پیش آنے والا طیارہ حادثہ مبینہ طور پر پائلٹ کے دانستہ اقدام کے باعث پیش آیا۔
    رپورٹ کے مطابق طیارے کے کمانڈر کیپٹن سمیت سبر وال نے مبینہ طور پر خود ایندھن کے سوئچ بند کیے، جس کے نتیجے میں طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔
    ‎میڈیا رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حادثے سے تقریباً ایک ماہ قبل کیپٹن سبر وال ڈپریشن کا شکار تھے۔ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ اور بلیک باکس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا میں مکینیکل خرابی کے امکان کو مسترد کیا گیا ہے۔
    ‎ایک اور رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایئر انڈیا نے متاثرین کے اہل خانہ کو مالی معاوضے کی پیشکش اس شرط پر کی کہ وہ قانونی کارروائی سے گریز کریں۔
    ‎یاد رہے کہ بھارتی ایئرلائن کا طیارہ 2025 میں احمد آباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیر معدنیات  سے ملاقات

    آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے وفد کی وزیر معدنیات سے ملاقات

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) یونین کونسل پیر بخش شرقی سے تعلق رکھنے والے آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے معززین کے وفد نے پنجاب اسمبلی میں وزیر معدنیات پنجاب سردار شیر علی خان گورچانی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران علاقے کی مجموعی سیاسی صورتحال، عوامی مسائل اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

    وفد کی قیادت ملک غلام شبیر بھوہڑ نے کی ۔وفد نے بالخصوص اڈا چراغ شاہ سے ریخ باغ والا تا شاہ والی پل تک گزشتہ 30 سالوں سے خستہ حال روڑ کی تعمیر کی منظوری پر وزیر معدنیات سردار شیر علی خان گورچانی کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر وفد کا کہنا تھا کہ اس سڑک کی تعمیر سے علاقے کے عوام کو آمدورفت کی بہتر سہولت میسر آئیں گیں اور مقامی معیشت کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
    سردار شیر علی خان گورچانی نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ علاقائی ترقی ان کی اولین ترجیح ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان شاء اللہ وہ اس اہم سڑک کا باقاعدہ افتتاح کریں گے جس کے بعد تعمیراتی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔
    ملاقات میں آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک غلام شبیر بھوہڑ ، ملک عمر فاروق بھوہڑ ،ملک حاجی عبد المجید بھوہڑ اور ملک حبیب اللہ بھوہڑ شریک تھے۔ وفد نے سردار شیر علی خان گورچانی کی عوامی خدمات کو سراہتے ہوئے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور گورچانی گروپ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
    وفد نے کہا کہ علاقے کی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے سردار شیر علی خان گورچانی کی قیادت قابل تحسین ہے اور عوام ان کے ترقیاتی ویژن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ال پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک غلام شبیر بھوہڑ نے سردار شیر علی گورچانی کا شکریہ ادا کیا ۔ملک عمر فاروق بھوہڑ نے صوبائی وزیر معدنیات سردار شیر علی گورچانی کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا

  • دہشت گردی کی غلط تشخیص ۔۔۔ایک قومی نقصان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دہشت گردی کی غلط تشخیص ۔۔۔ایک قومی نقصان ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اسلام آباد میں ہونے والا بم دھماکہ ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو غم، صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض چند جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی، ریاستی بیانیے اور اجتماعی شعور کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ دہشت گردی کا یہ ناسور آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ پاکستان پر مسلط کردہ دہشت گردی کی ایک طویل، منظم اور مسلسل جنگ کا تسلسل ہے جو برسوں سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ ایک بدیہی اصول ہے کہ کسی بھی سنگین مسئلے کا حل جذبات، مفروضات یا عجلت میں لگائے گئے الزامات میں نہیں بلکہ اس کی درست اور دیانت دارانہ تشخیص میں مضمر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی دہشت گردی جیسے حساس مسئلے کو سطحی تجزیے یا سیاسی مصلحتوں کی نذر کیا گیا اس کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا ہے ۔

    اس پس منظر میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف ایک واضح، غیر مبہم اور حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا یہ مؤقف محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات اور اسٹریٹجک وژن کا آئینہ دار ہے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم اور اس کے اصل محرکات کی نشان دہی دونوں ایک سنجیدہ ریاستی سوچ کی عکاس ہیں۔انھوں نے واضح طور پر دہشت گردی کی تشخیص کرتے ہوئے کہا کہ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ آج یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی محض داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ اس کے تانے بانے بیرونی سرپرستی بالخصوص بھارت سے جا ملتے ہیں۔ مختلف شواہد، اعترافات اور بین الاقوامی رپورٹس اس امر کی تصدیق کر چکی ہیں کہ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گرد گروہوں کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔

    اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ دھماکہ بھی اسی منظم فتنہ کا تسلسل ہے جس کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ قوم کو فکری، مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے۔ ایسے نازک موقع پر ریاستی عہدیداروں سے غیر معمولی احتیاط، تدبر اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔اسی تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دیا گیا بیان نہایت افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قطعی طور پر قومی مفاد کے منافی ہے ۔ کسی مخصوص مسلک، خصوصاً سلفی مکتبِ فکر کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ یہ پاکستانی قوم کو مذہبی ، سماجی ، فکری اور معاشرتی طور پر تقسیم کرنے اور ہم آہنگی پر ایک کاری ضرب بھی ہے۔ یہ طرزِ فکر دراصل دہشت گردوں کے ایجنڈے کو تقویت دینے ، جلتی پر تیل چھڑکنے اور گھر پھونک تماشا دیکھ کے مترادف ہے۔

    یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں سلفی مکتبِ فکر کبھی بھی دہشت گردی کا سبب نہیں رہا بلکہ سلفی مکتب یا اہلحدیث مکتب فکر کے علما ، زعما اور قائدین وکارکنان کا پاکستان کے قیام ، ملک عزیز میں امن وامان کے استحکام اور تزئین گلستان میں نمایاں کردار رہا ہے۔اہلحدیث مکتب فکر کے علما وزعما اور قائدین جیسا کہ علامہ احسان الہی ظہیر شہید ، علامہ حبیب الرحمن یزدانی ، ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر، مولانا ابراہیم سلفی جیسے درجنوں علما دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں جبکہ افغانستان میں شیخ جمیل الرحمن سمیت درجنوں جید علماء کا خون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی نے مسلک نہیں دیکھا، بلکہ ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے جو اتحاد واتفاق کی آواز تھی اور جو شدت پسندی کے خلاف کھڑی تھی۔

    دہشت گردی کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرنا بذات خود ایک بدترین فکری اور مذہبی دہشت گردی کی ایک شکل ہے، جو قوم کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جسے دشمن برسوں سے آزما رہا ہے اور بدقسمتی سے خواجہ آصف جیسے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس میں دانستہ یا نادانستہ سہولت کار بن جاتے ہیں۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ وزارتِ دفاع جیسے حساس منصب پر فائز شخص جب ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے پر جب کوئی بات کرے تو اس کے الفاظ محض ذاتی رائے نہیں ہوتے بلکہ ریاستی مؤقف سمجھے جاتے ہیں، جن کی دھمک پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے ۔دنیا ایسے بیانات کی روشنی میں پالیسیاں بناتی ہے ۔وزارت دفاع جیسے اہم منصب پر بیٹھ کر قومی سلامتی کے منافی ، فرقہ وارانہ اور غیر محتاط گفتگو کرنے والے خواجہ آصف نہ صرف داخلی انتشار کو ہوا دے رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو بدنام کرنے اور ریاست کے بیانیے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ افسوس کہ خواجہ آصف کا طرزِ عمل بارہا سنجیدگی، ذمہ داری اور ریاستی وقار کے تقاضوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔وہ اس سے پہلے بھی بارہا دفعہ افواج پاکستان کے خلاف نامناسب گفتگو کر چکے ہیں ۔ یہاں یہ حقیقت بھی پوری قوت سے یاد رہنی چاہئے کہ افواجِ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں کی شہادتیں، لاتعداد زخمی اور اربوں روپے کے وسائل اس جنگ کی نذر ہوئے ہیں ۔ یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے امن، سلامتی اور مستقبل کے لیے ہیں ۔

    ایسے حالات میں افواجِ پاکستان پر الزام تراشی، یا ان کے بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش، دراصل ان قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ سوال پوری سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا وزارتِ دفاع جیسی حساس ذمہ داری ایسے افراد کے سپرد رہنی چاہیے جو نازک قومی معاملات میں تدبر اور احتیاط کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوں؟ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ یہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔ یہاں میں اس بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث مسلم لیگ (ن ) کی اتحادی جماعت ہے ۔خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد بم دھماکہ کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرکے پاکستان کے تین کروڑ اہلحدیثوں کی توہین کی ہے ۔ مزید یہ کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کو خواجہ آصف کے شرر انگیز بیان کی جس طرح سے مذمت کرنی چاہئے تھی ۔۔۔۔نہیں کی ہے ۔ ہمارے قائدین کی انہی سستیوں کی وجہ سے دوسروں کو شرر انگیزی کا موقع ملتا ہے جو کہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتی بلکہ درست تشخیص، ذمہ دارانہ بیانیے اور قومی یکجہتی سے لڑی جاتی ہے۔ اسلام آباد کا یہ سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے الزام تراشی، مسلکی تقسیم اور غیر سنجیدہ سیاست کا راستہ نہ چھوڑا تو دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اصل دشمن کو پہچانیں، افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنیں اور پاکستان کو فکری و عملی طور پر محفوظ بنانے کی جدوجہد میں یکسو ہو جائیں۔

  • اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا  رویہ،تحریر: صدف ابرار

    اعتماد یا بدتمیزی؟ جین زی کا بدلتا رویہ،تحریر: صدف ابرار

    ہر دور کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے، مگر آج کی نسل کو دیکھ کر اکثر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں یا صرف چمک دمک کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ جین زی کو عموماً بااعتماد، بولڈ اور بے باک کہا جاتا ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں ان کا رویہ دیکھیں تو میری بات شاید اپکو تلخ لگے لیکن یہ اعتماد کم اور بدتمیزی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

    کبھی اعتماد کا مطلب یہ تھا کہ انسان باوقار ہو، نرم لہجے میں بات کرے اور اپنے کردار سے پہچانا جائے۔ استاد اور سینئرز کا احترام تربیت کا لازمی حصہ تھا۔ اختلافِ رائے بھی ہوتا تھا تو تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دیتے ہیں۔ اونچی آواز، تلخ لہجہ اور دوسروں کو نیچا دکھانا ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے، اور اسے ہی “کنفیڈنس” کا نام دے دیا گیا ہے۔

    دفاتر، تعلیمی اداروں اور سوشل میڈیا،ہر جگہ ایک عجیب سی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ہر کسی کو بس آگے نکلنا ہے۔ کس کی گاڑی بہتر ہے، کس کا موبائل نیا ہے، کس کا لباس زیادہ مہنگا ہے اور کس کا طرزِ زندگی زیادہ جدید ہے۔یہی کامیابی کے پیمانے بن چکے ہیں۔ زندگی جیسے ایک مقابلہ بن گئی ہے، جہاں اصل انسان نہیں بلکہ نمائش جیتتی ہے۔
    اس نسل کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سادگی یا متوسط پس منظر کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، جیسے غریب گھرانے سے ہونا کوئی عیب ہو۔ اسی احساسِ برتری اور مقابلہ بازی میں لوگ جائز اور ناجائز کی تمیز بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ مقصد صرف یہ رہ گیا ہے کہ کسی بھی طرح اس دوڑ میں شامل رہیں، چاہے اس کے لیے اصول ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ اصل اعتماد شور نہیں کرتا۔ مہذب لوگ چیختے نہیں، وہ اپنے رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔ عزت دینا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط کردار کی علامت ہے۔ دکھاوا وقتی تالیاں تو سمیٹ سکتا ہے، مگر مستقل عزت صرف اخلاق اور تربیت سے حاصل ہوتی ہے۔
    جدید ہونا یقیناً اچھی بات ہے، مگر اگر جدیدیت تہذیب، احترام اور اقدار کے بغیر ہو تو وہ محض ایک کھوکھلا خول بن جاتی ہے۔ شاید ہمیں دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔

  • 
اسلام آباد میں مساجد کی سکیورٹی ، مسلح گارڈ کی تعیناتی لازم

    
اسلام آباد میں مساجد کی سکیورٹی ، مسلح گارڈ کی تعیناتی لازم

    وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے مساجد کی انتظامیہ کو سکیورٹی کے حوالے سے جوابی مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
    پولیس نے ہدایت دی ہے کہ عبادت کے اوقات میں ہر مسجد میں کم از کم ایک مسلح سکیورٹی گارڈ تعینات کیا جائے، جسے اسلحہ رکھنے کی اجازت مسجد کی حدود تک ہوگی۔
    ‎مزید ہدایات کے مطابق مسجد کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ اردگرد کی پارکنگ کے لیے کوئی اضافی راستہ نہیں ہوگا اور داخلے و نکلنے کے لیے صرف ایک مرکزی راستہ مقرر کیا گیا ہے۔
    ‎مسجد کے مین گیٹ کے باہر ریڑھی بان، گداگر، ٹوپیاں اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت پر پابندی ہوگی، جبکہ مشکوک افراد یا سامان کی صورت میں فوری پولیس کو اطلاع دینا لازمی ہوگی۔
    ‎پولیس نے مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تمام اصول و ضوابط پر فوری عمل کریں، ورنہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    14 فروری یومِ حیا، ردِ ویلنٹائن،تحریر: سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
    ”اور بے حیائیوں کے قریب نہ جاؤ’ جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں۔“
    ( القرآن الکریم؛ سورة الانعام آیت151)

    14 فروری کو جہاں ایک مخصوص طبقہ سرخ پھولوں کا تبادلہ کرے گا۔تو وہیں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس کو یومِ حیا کے طور پر منائے گا، اس دن یومِ حیا منانے کا مقصد محبت کا نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی کے خلاف حجاب، شرم و حیا اور اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھانا ہے۔ جس کے لئیے مختلف تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔

    اگر ہم تاریخ کے زاویہ سے دیکھیں تو ”ویلنٹائن ڈے“ اصلاً رومیوں کا تہوار ہے ۔ جس کی ابتدا تقریباً 17 سو سال قبل ہوئی تھی۔ اس کا مسلم تہذیب و ثقافت سے ہرگز کوئی واسطہ نہیں۔ جبکہ مسیحی مذہب میں بھی مذہبی نکتہء نگاہ سے اس دن کی مذمت کی گئی ہے۔ اور چرچ کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کو جنسی بے راہ روی کی تبلیغ پر مبنی قرار دیا جاتا ہے۔ 2016ء میں مسیحی پادریوں نے اس دن کی مذمت میں بیانات جاری کئیے۔ بلکہ بنکاک میں ایک پادری نے اس دن کے رد کے طور پہ اپنے ہم خیال افراد کے ہمراہ ویلنٹائن ڈے کا سامان فروخت کرنے والی دکان کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔

    پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پر تھی۔ تو جماعتِ اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبہ نے اسے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یومِ حیا کے طور پر منانا شروع کیا۔ تاکہ اس فحاشی کے خلاف مہذب انداز میں احتجاج کر کے اسے رد کیا جا سکے۔ یومِ حیا منانے کی روایت زیادہ پرانی نہیں۔ مگر اپنی فکر و نظریہ کے سبب انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ جس کا سہرا بلاشبہ اسلامی جمیعت طلبہ کے سر جاتا ہے۔
    پاکستان میں 2012ء سے ویلنٹائن ڈے کے روز ہی یومِ حیا منایا جاتا ہے۔ اپنی مذہبی و اخلاقی اقدار کے مطابق بے حیائی کی مذمت میں اب تمام اہلِ علم و فکر شامل ہو چکے ہیں۔

    یاد رہے کہ یومِ حیا منانے والوں کی بڑی کامیابی میں عدلیہ کا کردار بھی اہم ہے۔ گزشتہ سالوں میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری سطح پہ ویلنٹائن ڈے منانے اور میڈیا پہ اس کی تشہیر سے روک دیا تھا۔ اور اسلام آباد انتظامیہ کو بھی حکم جاری کیا تھا ۔ کہ وہ عوامی مقامات پہ یہ بیہودگی نہ منانے دے۔ عدلیہ نے وزارت اطلاعات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کے حکام سے کہا تھا۔ کہ میڈیا کو ایسے پروگرام کی کوریج سے روکا جائے ۔ اور جو کرے اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    اس وقت بھی ضرورت ہے۔ کہ حکومتی و قانونی سطح پہ اس دن کی مذمت کی جائے۔ اور ٹک ٹاک و دیگر ایپس پہ فحاشی و وقت کے ضیاع کے اسباب کو کنٹرول کیا جائے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور مکتبِ فکر محبت کے نام پہ فحاشی و بے حیائی کی بلکل بھی اجازت نہیں دیتا۔ حیا عورت کا اصل زیور و پہچان ہے۔ پردہ اور شرم و حیا ہی عورت کے تقدس کی علامت ہیں۔

    فرمانِ آقا دو جہاں رحمت اللعالمین ﷺ ہے:
    ”بہترین اولاد باپردہ بیٹیاں ہیں۔“
    (بحار انوار جلد 104)
    اللہ رب العزت سے دعا ہے۔ کہ وہ ہر بیٹی کے پردے سلامت رکھے ۔ اور اس کی حفاظت فرمائے۔
    آمین

  • وزیراعلی پنجاب  کا دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکر

    وزیراعلی پنجاب کا دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکر

    الحمدللہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان بھر سے آنیوالے دس ہزار سے زائد بچوں کی مفت سرجری پر اظہار تشکرکیا۔

    وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری کے تحت سب زیادہ خیبر پختونخوا کے 425 بچوں کی مفت ہارٹ سرجری کی گئی۔آزاد جموں و کشمیر کے 250،فیڈرل کے 107،گلگت بلتستان کے 34،بلوچستان کے 28 اور سندھ کے 27 بچوں کی بھی فری ہارٹ سرجری کی گئی۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے چلڈرن ہسپتال کے نئے آئی سی یو کا بھی افتتاح کر دیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے آئی سی یو کا دورہ کیا اورزیر علاج بچوں کی تیمارداری اوراظہار شفقت کیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف کی چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت 10 ہزار سرجری مکمل ہونے پر خصوصی تقریب میں شرکت کی۔وزیراعلی مریم نواز شریف تقریب میں مریض بچوں اور ان کے درمیان بیٹھ گئیں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہارٹ سرجری کے مریض بچوں سے اظہار شفقت کیا۔

    صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ خواجہ سلمان رفیق نے وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے بارے تفصیلات سے آگاہ کیا۔خواجہ سلمان رفیق نے بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام تحت اب تک 10331 بچوں کی سرجری ہوچکی ہے۔ وائس چانسلر مسعود صادق نے وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام پر بریفنگ دی۔ ہر سال 50 ہزار بچے دل کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، 25ہزار کو فوری سرجری کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے چلڈرن ہسپتال لاہور میں کارڈیک سرجن کی تعداد 12،کارڈیک فزیشن 34 تک بڑھا دی۔ وزیراعلی ٹرانسپلانٹ کارڈ سے 800 کوکلیر ٹرانسپلانٹ اور 200 بچوں کے بون میرو ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں۔وزیراعلی پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام پر خصوصی معلوماتی فلم بھی دکھائی گئی

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سی ای اوز اور ایم ایس کانفرنس سے خطاب کیا اورنوکرپشن اورخدمت کا عہد لیا۔سی ای اوز اورایم ایس کی کارکردگی جاننے کیلئے کے پی آئیزمقررکردیئے۔ہسپتالوں میں مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن اسسٹنٹ مقرر کرنے اورہیلتھ فسیلیٹیشن آپریشن کی ڈیجیٹلائزیشن کا فیصلہ کیاگیا۔ہسپتالوں میں ایڈمنسٹریٹراورپرکیورمنٹ آفیسر تعینات کرنے کابھی فیصلہ کیاگیا۔آن کال ڈاکٹرز کیلئے 20منٹ میں ڈیوٹی پر پہنچے کی ہدایت کی گئی۔دوران زچگی ماؤں کی اموات کی شرح میں کمی پر منسٹر ز،سیکرٹریز اورپوری ٹیم کو شاباش دی۔ پنجاب کے تحصیل اورڈسٹرکٹ ہسپتال پیپر لیس رجیم میں داخل ہوگئے۔ڈاکٹروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے نئی پرفارمنس،ایولیشن رپورٹ (PER)سسٹم نافذ کیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پنجاب کے کسی فرد کو علا ج کیلئے دوسرے شہر نہ جانا پڑے،یہی ہمارا ویژن ہے۔جس نے کسی ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا،یہی ہمارا موٹوہے۔سی ای اوز اورایم ایس میرے لئے منسٹر اورسیکرٹری سے بھی اہم ہے۔ہماری بنائی پالیسیوں کا نفاذ سی ای اوز اور ایم ایس کی توجہ اورتعاون کے بغیر ممکن نہیں۔تمام مسائل حل کرنا آسان کام نہیں مجھے توقع ہے کہ کھلے دل سے میری باتیں سن کر ایم ایس ان پر عمل کریں گے۔تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں کمی بیشی سے کسی کی جان نہیں جاتی،ہیلتھ میں غفلت سے کسی کی جان جاسکتی ہے۔لوگ صحت اورسلامتی کیلئے حکومت کی طرف دیکھتے ہیں،کسی کو ایک کو سسکنا یا ایڑھیاں رگڑنا پڑی تو ہم سب کی ناکامی ہے۔اللہ تعالی نے وسائل اور اختیار ہمیں دیئے توغفلت پر پوچھ گچھ بھی ہوگی،زندگیاں بہت قیمتی ہیں۔ہسپتال میں پڑ ی دوائیاں بیچ دی جاتی ہے،ساز باز کر کے سٹوروں سے دوائیاں منگوائی جاتی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں میں غریب اوروسائل سے محروم لوگ ہی آتے ہیں،ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ساہیوال ہسپتال میں آتشزدگی کے واقعہ پر گئے توپتہ چلا کہ گارڈ انٹری کیلئے ساڑھے چار سو روپے لیتا ہے۔غضب خدا کا،دوڈھائی کروڑ روپے کی انسولین بیچ کھائی،ذیابیطس کے مریضوں کا کیسے گزارا ہوا ہوگا۔کرپشن کرنے والے کا پیسہ بیماریوں،تکالیف اورآزمائشوں پر نکلتا ہے۔آج کی میٹنگ روایتی نہیں ٹرینڈ سیٹنگ میٹنگ ہے،ایم ایس کو جوش و جذبے اورایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔مجھے یقین ہے کہ نئے ایم ایس ذمہ داری سے کام نہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں گے۔اللہ تعالی نے آپ کو مقدس ذمہ داری دی،لوگوں نے زندگی بچانے کیلئے علاج آپ کے سپرد کیا۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کا علاج امانت ہے،امانت میں خیانت کریں گے تو اللہ معاف نہیں کرے گا۔میں پھر کہتی ہوں کہ پرائیویٹ ہسپتال کا رخ کرنے کی بجائے سرکاری ہسپتال میں آنے والا ہر مریض بے وسیلہ ہوتا ہے۔ہیلتھ کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کیا،پہلے 399ارب روپے تھا،اسے 630ارب پر لے گئے۔ہیلتھ کا بجٹ اگر 1200ارب بھی ہوجائے،ایم ایس اوردیگر ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے تو سب رائیگاں ہے۔لوگوں کو میڈیس،ٹیسٹ کیلئے باہر بھیج دیا جاتا ہے،کوئی بوڑھا لاچار باہر کیسے جائے گا۔مشین خراب ہے تو وسائل میسر ہے،نہیں تو گاڑی بھیج کر باہر سے ٹھیک کرالیں۔انہوں نے کہاکہ ریسپیریٹر خراب ہونے پر والدین کو مریض بچوں کو ہاتھ سے پمپ کرتے دیکھ کر دکھ ہوا۔300 ریسپیریٹر مزید منگوائے ہیں،زندگی اورموت کے درمیان وینٹی لیٹر اورریسپیریٹر ایک لائن ہے۔اگر ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں ہوگا یا نرس کام نہیں کرے گی تو مریض جان سے جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کوکیمرے میں قطار در قطار موبائل پر مصروف دیکھاتو دکھ ہوا۔بصد احترام عرض کرتی ہوں کہ ڈاکٹروں کے موبائل استعمال پر پابندی ہے۔8گھنٹے کی ڈیوٹی میں استعمال نہ کرنے سے قیامت نہیں آجائے گی۔ایمرجنسی وارڈز کو سیف سٹی کیمرے سے منسلک کیا،کیونکہ مریضوں کو دوسرے کے رحم و کرم پر بے سہارا نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا،بہتر بنایا لیکن عوام تک اثرات جانے چاہئیں۔جنا ح ہسپتال میں 6ماہ کا سٹاک پڑا ہوا تھا اورآکسیجن ماسک کٹ وغیرہ باہر سے منگوائی جارہی تھی۔ہر مریض کی صورتحال کے مطابق کیو مینجمنٹ کی جائے گی۔ مریض کو مرض کے مطابق ریڈ بے،یلو بے اورگرین بے علاج کیلئے بھیجا جائے گا۔ ہسپتالوں میں مریض کے ساتھ ایک سے زیادہ تیمار دار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔فارماسوٹیکل کمپنیوں کے نمائندگان کو ہسپتال میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیریچر اوروہیل چیئرکا سٹاک موجود ہے،لیکن مریض کو کیوں نہیں دیا جاتا۔ہر ہسپتال میں ڈے کے مطابق کلر فل بیڈشیٹ تبدیل کی جائے۔ہسپتالوں کی ڈیپ کلینگ کا خیال رکھا جائے،واش روم کوڈمپنگ یارڈ نہیں ہونا چاہیے۔فائر سیفٹی،شارک سرکٹ اوردیگر امور کا خیال رکھا جائے۔ایم ایس اورسی ای اوز کو دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے مریضوں کے درمیان ہوناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ آفس میں حقائق کا علم نہیں ہوسکتا،باہر آئیں گے تو صورتحال کا پتہ چلے گا،تبدیلی نظر آنی چاہیے۔پنجاب کے ہسپتالوں میں 1500ڈاکٹر آچکے ہیں،مزید آچکے ہیں۔ سی ای او ز اورایم ایس شپ ذمہ داری نہیں عوام کی امانت ہے۔ہسپتال میں ایم ایس کی غفلت کا ایک لمحہ کسی کی جان لے سکتا ہے۔ 22ارب روپے کے سابقہ واجبات ادا کیے تاکہ ادویات کی سپلائی چین میں تعطل نہ آئے۔مریض کو واجبات فائل یا پالیسی سے غرض نہیں اسے ادویات ملنی چاہیے۔مریض کو ہر اچھائی یا برائی میں سی ای اوز،ایم ایس اورہم سب نظر آتے ہیں۔سی ای اوز اورایم ایس کے لئے ضابطہ اخلاق مقرر کردیا اب پکڑ بہت سخت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ علاج ہوسکتا تھا لیکن کوتاہی سے جان جانے پر معاف نہیں کیا جائے گا۔ پنجاب کے اضلاع میں کیتھ لیب بننے سے لوگوں کے دل کے علاج کیلئے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔مزدور آدمی دل کے علاج کیلئے شہر سے باہر جائے تو اس کے بچے اورگھر کیسے چلے گا۔ہمیں اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہمیں کسی قسم کا مسئلہ نہیں لیکن لوگوں کے درد کو دل سے محسوس کرنا ضروری ہے۔100ارب روپے کی میڈیسن دے رہے ہیں مگر باہر سے ادویات لانے والی پرچیوں کا کیاکریں۔ساز بازکر کے باہر سے ادویات اور ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں۔مریض کی کیفیت کو خود پر نافذ کر کے دیکھے تو تکلیف کا احساس ہوگا۔ہر ضلع میں ویجیلنس ٹیمیں متحرک ہیں،خود ہسپتالوں میں جاتی ہوں،کمشنر،ڈی سی،اے سی جاتے ہیں۔