Baaghi TV

Blog

  • وزیراعلٰی پنجاب کی ذاتی دلچسپی پوٹھوہار یونیورسٹی کے لیے سوا ارب جاری

    وزیراعلٰی پنجاب کی ذاتی دلچسپی پوٹھوہار یونیورسٹی کے لیے سوا ارب جاری

    وفاق اور پنجاب حکومت کی مشترکہ کاوشیں رنگ لے آئیں پوٹھوہار کے طلبہ کے لیے تاریخی تعلیمی سنگِ میل
    سیاست سے بالاتر ہوکر پوٹھوہار کے مستقبل کا فیصلہ اعلیٰ تعلیم کا لینڈ مارک منصوبہ خطے کی تقدیر بدلنے کو تیار

    گوجرخان (قمرشہزاد) پوٹھوہار میں علم کا نیا افق پنجاب یونیورسٹی کیمپس کا خواب تعبیر کے قریب، پوٹھوہار کے تعلیمی افق پر ایک نئی صبح طلوع ہونے جا رہی ہے۔برسوں سے زیرِ بحث اور عوامی امنگوں کا مرکز بننے والا پنجاب یونیورسٹی کا پوٹھوہار کیمپس اب عملی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے۔

    اس اہم پیش رفت کا اعلان سابق وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا، جہاں انہوں نے اس منصوبے کو خطے کی تقدیر بدلنے والا لینڈ مارک پروجیکٹ قرار دیا۔ راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس معاملے میں غیر معمولی دلچسپی لیتے ہوئے کیس کو کابینہ کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد یونیورسٹی کے لیے تقریباً سوا ارب روپے کی رقم جاری کی گئی۔ ان کے بقول اگر وزیراعلیٰ ذاتی طور پر اس معاملے کو نہ دیکھتیں تو منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو سکتا تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو فیصلہ کن موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین کی فراہمی اور اسے یونیورسٹی کے نام منتقل کرنے میں وزیراعلیٰ کا کردار کلیدی رہا، جس سے عملی پیش رفت کی راہ ہموار ہوئی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ قومی اسمبلی پاکستان کے اسپیکر تھے تو ان کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ گوجرخان اور گردونواح کے طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور یا اسلام آباد کا رخ نہ کرنا پڑے بلکہ انہیں اپنے علاقے میں ہی عالمی معیار کی سہولیات میسر آئیں۔ اسی سلسلے میں اُس وقت کے وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریباً 6 ارب روپے اس شرط پر جاری کیے تھے کہ بشرطیکہ پنجاب حکومت زمین فراہم کرے۔

    راجہ پرویز اشرف نے اس قومی مقصد میں معاونت کرنے والی شخصیات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن میں اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، مریم اورنگزیب اور گورنر پنجاب سمیت دیگر اعلی شخصیات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کسی ایک جماعت یا فرد کا نہیں بلکہ پورے پوٹھوہار کے عوام کا مشترکہ خواب ہے، جس کی تعبیر میں سب نے سیاست سے بالاتر ہو کر کردار ادا کیا۔ مزید بتایا گیا کہ مرکز کے پلاننگ ڈیپارٹمنٹ نے 12 فروری کو پنجاب یونیورسٹی کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں متعلقہ اراضی کے دورے اور منصوبے کے عملی آغاز کے اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو تعلیمی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے مواقع بڑھیں گے بلکہ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی امکانات کو بھی نئی جِلا ملے گی۔پریس کانفرنس کے دوران راجہ پرویز اشرف نے سیاسی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے بچوں کے مستقبل کو مقدم رکھنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی انتظامی معاملات میں مداخلت یا روایتی سیاسی دباؤ کی سیاست نہیں کی، بلکہ ہمیشہ عوامی مفاد، تعلیمی فروغ اور تعمیر و ترقی کو ترجیح دی ہے۔ ان کے الفاظ میں، کریڈٹ کسی فرد کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات دیتی ہے، اصل مقصد عوام کی خدمت اور آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط بنیاد رکھنا ہے۔سیاسی و سماجی حلقوں نے اس اقدام کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاق اور صوبہ اسی جذبے اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو پوٹھوہار کا یہ خطہ نہ صرف تعلیمی بلکہ معاشی و سماجی ترقی کا مرکز بن سکتا ہے۔ گوجرخان میں پنجاب یونیورسٹی پوٹھوہار کیمپس کا قیام محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں بلکہ اجتماعی بصیرت، سیاسی ہم آہنگی اور مستقبل بینی کی روشن مثال ہے ایک ایسا خواب جو اب تعبیر کے دہانے پر کھڑا ہے اور جس سے پورے خطے کی تقدیر وابستہ ہے۔

  • اوگاہوں ڈیم میں نہاتے ہوئے دو کمسن طالب علم زندگی کی بازی ہار گئے

    اوگاہوں ڈیم میں نہاتے ہوئے دو کمسن طالب علم زندگی کی بازی ہار گئے

    گوجرخان کے نواحی علاقے میں اوگاہوں ڈیم کا افسوسناک سانحہ دسویں جماعت کے دو طالب علم پانی میں ڈوب کر جاں بحق، علاقے میں کہرام
    اوگاہوں ڈیم میں حفاظتی انتظامات پر سوالیہ نشان، دو ہنستے بستے گھروں کے چراغ گل، شہریوں کا ضلعی انتظامیہ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے میں واقع اوگاہوں ڈیم ایک دل خراش سانحے کا منظر پیش کرنے لگا جہاں نہاتے ہوئے دو نوجوان پانی کی بے رحم لہروں کی نذر ہو گئے۔ افسوسناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق عرفان اور شاہزیب نامی دو کمسن طالب علم، جو دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھے، گرمی کے باعث ڈیم میں نہانے کے لیے اترے۔ اچانک پانی کی گہرائی اور تیز بہاؤ کے باعث دونوں نوجوان ڈوب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور مقامی افراد کی مدد سے سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔کچھ دیر کی جدوجہد کے بعد دونوں نوجوانوں کی نعشیں پانی سے نکال لی گئیں۔ جانبحق ہونے والے دونوں طالب علموں کی میتوں کو قانونی کارروائی کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان منتقل کر دیا گیا۔

    جیسے ہی حادثے کی خبر پھیلی علاقے میں کہرام مچ گیا اور اہلِ خانہ پر قیامت صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ ہر سو رنج و الم کی فضا قائم ہو گئی جبکہ تعلیمی ادارے اور مقامی افراد بھی غم میں ڈوب گئے۔مقامی شہریوں نے اس المناک سانحے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیم اور دیگر آبی مقامات پر مؤثر حفاظتی اقدامات، وارننگ بورڈز اور سیکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے تاکہ مستقبل میں قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر اس امر کی یاد دہانی ہے کہ تفریحی مقامات پر حفاظتی تدابیر اور احتیاطی شعور کی کمی کس طرح لمحوں میں خوشیوں کو ماتم میں بدل دیتی ہے۔

  • بنگلہ دیش کی نئی اسٹریٹجک صبح، بی این پی کی فتح اور ابھرتا ہوا جیوپولیٹیکل منظرنامہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید،

    بنگلہ دیش کی نئی اسٹریٹجک صبح، بی این پی کی فتح اور ابھرتا ہوا جیوپولیٹیکل منظرنامہ،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید،

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    بنگلہ دیش میں بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی، استحکام کا وعدہ بنگلہ دیشی انتخابات میں کامیاب بی این پی کی اہم ترجیحات

    13 فروری 2026 کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی فیصلہ کن انتخابی فتح نے جنوبی ایشیائی سیاست میں ایک تاریخی موڑ پیدا کیا،تقریباً 20 برس بعد اقتدار میں واپسی کرتے ہوئے، طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی نے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کی، جس کے نتیجے میں 2024 میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد جاری طویل سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد ملک میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی۔نئی حکومت کی ترجیحات میں معاشی اصلاحات، ادارہ جاتی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور وسیع البنیاد سماجی بہبود شامل ہیں، جو ماضی کی پالیسیوں سے ممکنہ انحراف کی نشاندہی کرتی ہیں۔یہ تاریخی انتخاب ، جسے دہائیوں میں سب سے زیادہ مسابقتی قرار دیا جا رہا ہے ،میں ووٹر ٹرن آؤٹ 60 فیصد سے زائد رہا، جو ایک باشعور اور متحرک عوام کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے ملک کی حکمرانی اور عالمی حیثیت کا نیا باب رقم کرنا چاہتے ہیں۔

    1. نیا سیاسی نظم اور داخلی ترجیحات
    بی این پی کی کامیابی گہرے سیاسی تغیر کا نتیجہ ہے، جو جنریشن زیڈ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد سامنے آیا جس نے ایک طویل عرصے سے قائم حکومت کا خاتمہ کیا، عبوری حکومت کی راہ ہموار کی اور جمہوری مقابلے کے لیے نئی فضا پیدا کی۔بی این پی کا منشور “بنگلہ دیش فرسٹ” حکمتِ عملی پر مبنی معاشی بحالی، گورننس اصلاحات اور سماجی شمولیت پر زور دیتا ہے۔پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ ایک آئینی ریفرنڈم کے ذریعے ساختی تبدیلیوں کی منظوری بھی دی گئی، جن میں عدالتی آزادی سے لے کر ممکنہ دو ایوانی مقننہ کی اصلاحات شامل ہیں۔یہ اصلاحات ادارہ جاتی جدیدیت، احتساب اور سیاسی مرکزیت کے خاتمے کی خواہش کی عکاس ہیں۔

    تاہم سیاسی منظرنامہ اب بھی پیچیدہ ہے۔ جو جماعتیں پہلے حاشیے پر تھیں جیسے بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی ، انہوں نے دوبارہ انتخابی موجودگی حاصل کی ہے، اور وسیع تر اتحادی سیاست کی حرکیات پارلیمان میں پالیسی سمت کا تعین کریں گی۔

    2. علاقائی جیوپولیٹکس میں بنگلہ دیش کی اسٹریٹجک اہمیت
    بنگلہ دیش خلیجِ بنگال اور جنوبی ایشیا کے قلب میں ایک کلیدی جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ اس کی بڑی آبادی، تیز رفتار معاشی ترقی اور اہم بحری راستوں سے قربت اسے علاقائی طاقت کے توازن اور اقتصادی روابط کے لیے نہایت اہم بناتی ہے۔

    بھارت کے مفادات
    بھارت کے ساتھ ہمسایہ تعلقات تاریخی طور پر ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہے ہیں، جس کی وجہ گہرا معاشی انحصار، سرحد پار سیکیورٹی تعاون اور رابطہ منصوبے ہیں جو بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو مرکزی منڈیوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے جوڑتے ہیں۔
    بنگلہ دیش کا بطور ٹرانزٹ راہداری کردار بھارت کی “ایکٹ ایسٹ” حکمتِ عملی اور شمال مشرق میں سیکیورٹی خطرات کے تدارک کے لیے نہایت اہم ہے۔
    عبوری دور میں تعلقات میں تناؤ نے غیر یقینی صورتحال پیدا کی، تاہم بی این پی کی فتح کے بعد بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے فوری سفارتی مبارکباد نے نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔
    مستقبل میں پاک بھارت نہیں بلکہ بھارت۔بنگلہ دیش تعلقات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ڈھاکہ کس حد تک خودمختار مفادات اور مشترکہ اقتصادی، تجارتی، سیکیورٹی اور آبی وسائل کے معاملات میں توازن قائم کرتا ہے۔

    چین کا بڑھتا ہوا کردار
    چین اور بنگلہ دیش کے درمیان معاشی، انفراسٹرکچر اور سفارتی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بیجنگ نے بندرگاہوں کی جدید کاری، اسٹریٹجک فضائی اڈوں اور انفراسٹرکچر قرضوں سمیت بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جس سے وہ ایک کلیدی شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے۔
    چین کی عدم مداخلت پر مبنی سفارتی پالیسی اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ڈھاکہ کے لیے پرکشش ہے، جو تیز صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کی توسیع کا خواہاں ہے۔
    بنگلہ دیش کی ساحلی جغرافیائی حیثیت اسے چین کے “میری ٹائم سلک روڈ” وژن اور وسیع تر انڈو پیسیفک حکمتِ عملی میں اہم مقام دیتی ہے۔

    پاکستان کا کردار
    حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں برف پگھلتی نظر آئی ہے۔ دہائیوں بعد براہِ راست تجارت اور پروازوں کی بحالی ایک علامتی مگر اہم پیش رفت ہے، جو بدلتے ہوئے سفارتی انداز کی عکاسی کرتی ہے۔
    دونوں ممالک دفاعی اور تجارتی تعاون پر مکالمہ کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد تاریخی تلخیوں سے بالاتر ہو کر نئے مواقع تلاش کرنا چاہتا ہے۔

    3. امریکہ: مواقع اور اثر و رسوخ
    امریکہ بنگلہ دیش کو اپنی انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کا اہم جزو سمجھتا ہے، جس کا مقصد ایک “آزاد، کھلا اور محفوظ” خطہ تشکیل دینا ہے جہاں جمہوری حکمرانی اور معاشی انضمام فروغ پائیں۔
    بنگلہ دیش کا جغرافیائی محلِ وقوع چین اور امریکہ کے حامی بلاک کے درمیان طاقت کے توازن میں اہمیت رکھتا ہے۔
    بی این پی کی فتح پر واشنگٹن کی سفارتی مبارکباد اور معاشی تعاون کے اشارے جمہوری استحکام اور معاشی شفافیت میں مشترکہ دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔
    ساتھ ہی امریکہ بنگلہ دیش کو سرمایہ کاری کے ذرائع متنوع بنانے کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ چینی سرمائے پر انحصار کم ہو اور علاقائی شراکت داری متوازن رہے۔

    4. مستقبل کے امکانات اور اسٹریٹجک حرکیات
    متوازن خارجہ پالیسی
    بی این پی کی قیادت میں، جو قومی مفاد اور باہمی احترام پر زور دیتی ہے، ڈھاکہ ممکنہ طور پر ایک متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے گا جو کسی ایک بڑی طاقت کے ساتھ سخت وابستگی سے گریز کرے گی۔
    یہ سہ فریقی سفارت کاری اقتصادی فوائد کے حصول، خودمختاری کے تحفظ اور بھارت، چین، امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش ہوگی۔

    علاقائی سلامتی اور معاشی انضمام
    بنگلہ دیش کی پیش رفت جنوبی ایشیا کے سیکیورٹی ڈھانچے پر اثر انداز ہوگی۔ بھارت کے ساتھ معاشی انضمام، چین کے ساتھ انفراسٹرکچر تعاون اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری ڈھاکہ کو علاقائی استحکام اور اقتصادی راہداریوں کا کلیدی کردار دے سکتی ہے۔
    بیمسٹیک اور خلیجِ بنگال انیشی ایٹو جیسے کثیرالجہتی فورمز میں اس کا کردار تاریخی رقابتوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    خطرات اور چیلنجز
    داخلی سیاسی تقسیم، نظریاتی گروہوں کا انضمام اور فرقہ وارانہ حساسیت پالیسی ہم آہنگی اور عالمی تاثر کو متاثر کر سکتی ہے۔
    مزید برآں، بھارت اور چین جیسے دو بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ، جو اکثر اسٹریٹجک مسابقت میں مصروف رہتے ہیں ، انتہائی محتاط اور مہارت طلب سفارت کاری کا تقاضا کرے گا۔

    خلاصہ
    2026 کے عام انتخابات بنگلہ دیش میں محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی جیوپولیٹکس کی نئی تعریف ہیں۔
    بی این پی کی قیادت میں معاشی اصلاحات، متوازن سفارت کاری اور عملی شراکت داری کی پالیسی کے ذریعے بنگلہ دیش ایک کثیر القطبی علاقائی منظرنامے میں اپنی اسٹریٹجک خودمختاری منوانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔بھارت، چین، پاکستان اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات جو باہمی مفادات اور جیوپولیٹیکل حقیقتوں پر مبنی ہوں گے ، نہ صرف بنگلہ دیش کے مستقبل بلکہ پورے انڈو پیسیفک کے سیکیورٹی اور معاشی ڈھانچے پر اثر انداز ہوں گے۔بنگلہ دیش کا ایک کلیدی جیوپولیٹیکل کھلاڑی کے طور پر ابھار خطے میں طاقت کے بدلتے توازن کی عکاسی کرتا ہے ، ایک ایسی پیش رفت جس کی بازگشت ڈھاکہ سے دہلی اور بیجنگ سے واشنگٹن تک سنائی دے گی۔

  • ایئر چیف مارشل انڈونیشیا پہنچ گئے، انڈونیشیا کے صدر،عسکری قیادت سے ملاقات

    ایئر چیف مارشل انڈونیشیا پہنچ گئے، انڈونیشیا کے صدر،عسکری قیادت سے ملاقات

    پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو انڈونیشیا کے سرکاری دورہ جکارتہ پہنچ گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی انڈونیشیا کے صدر پربوو سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان اور انڈونیشیا کی دیرینہ برادرانہ شراکت داری پر زور دیا گیا،اس موقع پر انڈونیشی صدر پربوو نے پاک فضائیہ کے جدید تربیتی نظام میں دلچسپی ظاہر کی، انڈونیشیا نے دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے پاک فضائیہ سے تعاون کی خواہش ظاہر کی،ایئر چیف نے انڈونیشین وزیر دفاع اور عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، ایئر چیف کو تمام مقامات پر باقاعدہ گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،دونوں فضائی افواج نے مشترکہ تربیت اور پیشہ ورانہ تبادلوں پر اتفاق کیا، ابھرتے ایرو اسپیس شعبوں میں باہمی اشتراک بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انڈونیشین ایئر چیف نے پاک فضائیہ کے جنگی تجربے کو سراہا، اس موقع پر ایئر چیف کو انڈونیشین فضائیہ کا اعلیٰ ترین میڈل آف آنر دیا گیا، مشترکہ اجلاس میں دفاع اور سلامتی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • 
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    
پاکستان: آج ملکی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 8,600 روپے کم ہو کر 5 لاکھ 19 ہزار 962 روپے ہوگئی ہے۔
    ‎اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 7,373 روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 45 ہزار 783 روپے ہوگئی ہے۔
    ‎عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی، جہاں فی اونس سونا 86 ڈالرز کم ہو کر 4,972 ڈالرز پر پہنچ گیا ہے۔

  • 
 چور نے فورک لفٹ اور گدھے کا استعمال کر کے سونے کے زیورات چرا لیے

    
 چور نے فورک لفٹ اور گدھے کا استعمال کر کے سونے کے زیورات چرا لیے

    
ترکی کے وسطی علاقے کیسری میں ایک چور نے دکان میں داخل ہونے کے لیے فورک لفٹ استعمال کی اور شیشے کی الماریوں کو توڑ کر سونے کے زیورات چرا لیے۔
    مجموعی طور پر چور نے 150 گرام سونا اٹھایا، لیکن فرار کے لیے روایتی گاڑی یا موٹر سائیکل کی بجائے ایک گدھے کو استعمال کیا، جس پر سوار ہو کر وہ تیزی سے فرار ہوا۔
    ‎بعد ازاں مقامی پولیس نے 26 سالہ مشتبہ چور کو گرفتار کر لیا۔ ایک ویڈیو میں پولیس اہلکار زمین کھود کر دفن کیے گئے زیورات نکالتے اور انہیں سیاہ بیگ میں رکھتے ہوئے دکھائی دیے۔ ایک اور ویڈیو میں مشتبہ چور کو پولیس کی گاڑی کی جانب لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

  • 
امریکہ میں ہیلتھ کیئر فراڈ کیس: دو پاکستانی شہریوں پر فرد جرم عائد

    
امریکہ میں ہیلتھ کیئر فراڈ کیس: دو پاکستانی شہریوں پر فرد جرم عائد

    
امریکہ کے محکمہ انصاف نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ہیلتھ کیئر سکیم میں ایک کروڑ ڈالر کے مبینہ فراڈ میں دو پاکستانی شہریوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
    محکمہ انصاف کے بیان کے مطابق 31 سالہ برہان مرزا اور 48 سالہ کاشف اقبال پر الزام ہے کہ انہوں نے متعدد ساتھیوں کے ساتھ مل کر طبی خدمات اور آلات کے جعلی کلیمز داخل کیے جو کبھی فراہم نہیں کیے گئے۔ یہ سکیم 2023 اور 2024 کے دوران چلائی گئی، جس میں نامزد مالکان کی لیبارٹریاں اور طبی آلات فراہم کرنے والے بھی شامل تھے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ تین دیگر ملزمان پہلے ہی جرم قبول کر چکے ہیں۔ ان میں 57 سالہ میر اکبر خان، 47 سالہ فصیح الرحمان سید، اور 43 سالہ نوید رشید شامل ہیں، جو سزا سنائے جانے کے منتظر ہیں۔

  • غفلت نہیں بلکہ منظم بیانیہ، بلوچستان میں استحکام کے لیے جامع حکمتِ عملی

    غفلت نہیں بلکہ منظم بیانیہ، بلوچستان میں استحکام کے لیے جامع حکمتِ عملی

    بلوچستان میں بدامنی محض معاشی مسئلہ نہیں ہے۔ کم شرح خواندگی اور بعض علاقوں میں نوجوانوں کی بے روزگاری 25 فیصد سے زائد ہونے کے باوجود، کئی دہائیوں سے جاری علیحدگی پسند نظریاتی تربیت، جس میں پاکستان کو “قابض” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، نے بداعتمادی کو گہرا کیا اور شدت پسند گروہوں میں بھرتی کو ہوا دی۔

    تاریخی طور پر صوبے کا تقریباً 77 فیصد حصہ رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کر چکا تھا؛ صرف قلات نے ابتدا میں مزاحمت کی۔ تاہم، مسلسل پروپیگنڈا نے اس تناظر کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ ریاست نے اسکولوں، فنی تربیتی پروگراموں اور سی پیک سے منسلک ترقیاتی منصوبوں کو وسعت دی ہے، لیکن صرف معاشی اقدامات تاثر پر مبنی تنازع کو حل نہیں کر سکتے۔ استحکام کے لیے ترقی کے ساتھ اسٹریٹجک ابلاغ، شہری شمولیت اور شفاف طرزِ حکمرانی کو یکجا کرنا ضروری ہے۔

    بلوچستان کی بدامنی کی بنیادی وجہ نظریاتی تربیت ہے، محض معاشی محرومی نہیں، اگرچہ بعض اضلاع میں نوجوانوں کی بے روزگاری 25 فیصد سے زیادہ ہے۔ بلوچستان کے تقریباً 77 فیصد علاقے نے رضاکارانہ طور پر پاکستان سے الحاق کیا، جبکہ صرف قلات نے ابتدا میں مخالفت کی، جو بعد ازاں پُرامن طور پر حل ہوئی۔ ریاست مخالف بیانیے سے متاثرہ علاقوں میں شدت پسند تنظیموں میں شمولیت کا رجحان اُن علاقوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا جہاں شہری شمولیت کے پروگرام موجود ہیں۔

    ریاستی پروگراموں کے تحت 1,200 سے زائد اسکولوں کا قیام اور 30,000 سے زیادہ نوجوانوں کا فنی تربیتی اقدامات سے مستفید ہونا شمولیت کی عملی مثالیں ہیں۔ صرف معاشی ترقی شورش کا توڑ نہیں؛ “قبضے” کے بیانیے کی مسلسل تکرار بداعتمادی کو بڑھاتی رہتی ہے۔ معلوماتی مہمات، تاریخی شعور کی ترویج اور کمیونٹی مکالمہ کئی دہائیوں کی علیحدگی پسند نظریاتی تربیت کے اثرات کم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ سیکیورٹی اقدامات کو اسٹریٹجک ابلاغ کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے؛ قانونی و اخلاقی جواز کا تاثر علاقائی کنٹرول جتنا ہی اہم ہے۔

    نمایاں سرکاری جوابدہی اور شمولیتی طرزِ حکمرانی اعتماد میں اضافہ کرتی ہے، شدت پسند بیانیے کی کشش کم کرتی ہے اور مقامی نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ فکری، سماجی اور معاشی پہلوؤں کا مجموعہ ہے، بداعتمادی اور عسکریت کے چکر کو توڑنے کے لیے ایک جامع ریاستی حکمتِ عملی درکار ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس خوشگوار انجام تک پہنچ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس خوشگوار انجام تک پہنچ گیا

    ‎اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیملی کیس کی سماعت کے دوران ایک جذباتی اور مثبت پیش رفت سامنے آئی، جہاں عدالت کی کوششوں سے میاں بیوی نے دوبارہ ساتھ رہنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
    ‎سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے کی، جنہوں نے دونوں فریقین کو مصالحت پر آمادہ کیا۔ بعد ازاں میاں بیوی نے عدالتی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے شوہر کو ہدایت دی کہ وہ اپنی اہلیہ کو تاحیات الگ پورشن فراہم کرے گا۔
    ‎سماعت کے دوران چاروں بچوں کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان کی والدین سے ملاقات کرائی گئی۔ جسٹس کیانی نے بچوں کو روسٹرم پر بلا کر ان سے گفتگو کی۔ بچوں نے آبدیدہ ہو کر اپنی والدہ سے گھر واپس آنے کی درخواست کی، جس پر عدالت کا ماحول جذباتی ہوگیا۔ جج نے بچوں کو تحائف بھی دیے اور ریمارکس دیے کہ “بچوں کا بٹوارا نہیں ہو سکتا، بچے پراپرٹی نہیں ہوتے۔”
    ‎جسٹس کیانی نے ازدواجی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عورت اپنا گھر چھوڑ کر نئے گھر آتی ہے، اس لیے اسے محبت اور احترام ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اکثر گھریلو تنازعات میں خاندانوں کی مداخلت مسائل کو بڑھا دیتی ہے اور معاشرے میں تربیت کی کمی بھی نمایاں ہے۔
    ‎دورانِ سماعت ایک شخص کو موبائل فون سے ویڈیو بناتے ہوئے پکڑا گیا۔ عدالت کے استفسار پر اس نے بتایا کہ وہ کارروائی سے متاثر ہو کر اسے گھر والوں کو دکھانا چاہتا تھا۔ عدالت نے ضابطۂ کار کی خلاف ورزی پر اس کا موبائل فون ضبط کر لیا۔
    ‎عدالت کی جانب سے کیس کا تحریری حکم نامہ بعد میں جاری کیا جائے گا، جبکہ کیس کی پیروی سمعیہ قمر راجہ ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا نے کی۔

  • 
کراچی میں کاٹھور کے قریب آئل ٹینکر حادثے میں 12 افراد جاں بحق

    
کراچی میں کاٹھور کے قریب آئل ٹینکر حادثے میں 12 افراد جاں بحق

    
کراچی کے علاقے کاٹھور کے قریب ایک ہولناک حادثے میں آئل ٹینکر مسافر وین پر گر گیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہو گئے۔ حادثے میں حیدرآباد سے کراچی آنے والی ایک گاڑی بھی ٹینکر کی زد میں آ گئی۔
    ‎ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 3 مرد، 3 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں، جن کی عمریں 6 سے 40 سال کے درمیان ہیں۔ آئل ٹینکر کو کاٹ کر ریسکیو آپریشن جاری ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
    ‎ایس ایس پی ملیر نے بتایا کہ حادثہ چند گاڑیوں کے رانگ وے پر آنے کے باعث پیش آیا۔ ریسکیو اور پولیس ٹیمیں علاقے میں موجود ہیں اور مزید امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔