دنیا بھر میں مقبول ہونے والے جنریٹیو آرٹی فیشل انٹیلی جنس چیٹ بوٹس میں چیٹ جی پی ٹی سرفہرست شمار ہوتا ہے۔ اوپن اے آئی کی جانب سے تیار کیا گیا یہ پلیٹ فارم سوالات کے جواب دینے، کوڈنگ میں مدد فراہم کرنے، تحریری مواد تیار کرنے اور مختلف موضوعات پر رہنمائی دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اب اسی طرز کی اے آئی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ مگر اکثر صارفین یہ نہیں جانتے کہ جی پی ٹی دراصل کن الفاظ کا مخفف ہے۔
جی سے کیا مراد ہے؟
جی کا مطلب ہے "جنریٹیو”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سسٹم نیا متن تخلیق کر سکتا ہے۔ یہ صرف موجودہ معلومات کا تجزیہ نہیں کرتا بلکہ سیکھے گئے پیٹرنز کی بنیاد پر نیا جواب تیار کرتا ہے۔ جنریٹیو اے آئی ڈیپ لرننگ پر مبنی ہوتی ہے، جو انسانی دماغ کے کام کرنے کے انداز سے متاثر ایک طریقہ ہے۔
پی کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟
پی سے مراد "پری ٹرینڈ” ہے۔ یعنی اس ماڈل کو پہلے ہی وسیع ڈیٹا پر تربیت دی جا چکی ہوتی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کو اربوں الفاظ پر مشتمل ڈیٹا سیٹس سے تربیت دی گئی، جن میں ویب پیجز، کتابیں اور دیگر تحریری مواد شامل تھا۔ تربیت کے بعد ماڈل کو عوام کے لیے پیش کیا گیا۔ بعد ازاں انسانی فیڈ بیک کے ذریعے اس کی کارکردگی مزید بہتر کی جاتی ہے۔
ٹی کا مطلب کیا ہے؟
ٹی سے مراد "ٹرانسفارمر” ہے۔ یہ ایک نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر ہے جو متن کو چھوٹے حصوں یا ٹوکنز میں تقسیم کرکے سیاق و سباق کو سمجھتا ہے اور پھر جواب تیار کرتا ہے۔ یہی ٹیکنالوجی اسے لمبی گفتگو کو سمجھنے اور مربوط جواب دینے کے قابل بناتی ہے۔
مجموعی طور پر جی پی ٹی ایک لارج لینگوئج ماڈل ہے جو ڈیپ لرننگ اور نیورل نیٹ ورکس کی مدد سے زبان کو سمجھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نام کیسے رکھا گیا؟
اوپن اے آئی کے عہدیداروں کے مطابق ابتدا میں اسے "چیٹ ود جی پی ٹی 3.5” کہا جا رہا تھا، تاہم متعارف کرانے سے قبل ایک میٹنگ میں نام کو مختصر اور سادہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یوں "چیٹ جی پی ٹی” کا نام سامنے آیا، جو بعد میں دنیا بھر میں پہچان بن گیا۔
Blog
-

چیٹ جی پی ٹی میں جی، پی اور ٹی کا مطلب کیا ہے؟
-

وفاقی حکومت جلد رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان کرے گی
وفاقی حکومت جلد رمضان ریلیف پیکیج کا اعلان کرے گی، جو معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو رمضان کے مقدس مہینے میں مالی اور ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیکیج کی رونمائی وزیراعظم شہباز شریف خود وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ خصوصی تقریب میں کریں گے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج شام وزیراعظم کی صدارت میں طلب کیا جا سکتا ہے تاکہ پیکیج کی منظوری دی جا سکے۔
اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ بھی لیا جائے گا اور کئی اہم معاملات زیر غور آئیں گے۔ اسلام آباد کے ٹارلائی علاقے میں حالیہ خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ بھی کابینہ کو پیش کی جائے گی تاکہ وزراء کو بریفنگ دی جا سکے۔
کابینہ اجلاس میں موجودہ سیکیورٹی اور اقتصادی چیلنجز کے پیش نظر عوامی مفاد میں مؤثر اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔ -

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: جنوبی افریقا کی افغانستان کو دوسرے سپر اوور میں شکست
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ ڈی کے سنسنی خیز میچ میں جنوبی افریقا نے افغانستان کو دوسرے سپر اوور میں 4 رنز سے شکست دے دی۔
احمد آباد میں کھیلے گئے اس مقابلے میں افغانستان کے کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر پہلے جنوبی افریقا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ مقررہ 20 اوورز کے اختتام پر دونوں ٹیمیں 187، 187 رنز پر برابر رہیں، جس کے بعد فیصلہ سپر اوورز پر چلا گیا۔
پہلے سپر اوور میں افغانستان نے بیٹنگ کرتے ہوئے 17 رنز بنائے۔ جواب میں جنوبی افریقا بھی 17 رنز ہی اسکور کر سکا، یوں مقابلہ مزید سنسنی اختیار کر گیا اور نتیجہ دوسرے سپر اوور پر جا پہنچا۔
دوسرے سپر اوور میں پروٹیز نے پہلے کھیلتے ہوئے 23 رنز جوڑے۔ افغان ٹیم ہدف کے تعاقب میں 19 رنز بنا سکی اور اس طرح جنوبی افریقا نے 4 رنز سے کامیابی اپنے نام کی۔
اس سے قبل جنوبی افریقا کی اننگز کا آغاز ایڈم مارکرم اور کوئنٹن ڈی کوک نے کیا، تاہم مارکرم 12 کے مجموعے پر فضل حق فاروقی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ ایک وکٹ گرنے کے بعد ڈی کوک اور ریان رکلٹن نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی اور اسکور کو مستحکم کیا۔ دونوں نے اسی اوور میں اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔ رکلٹن 61 اور ڈی کوک 59 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
ڈیوالڈ بریوس نے 23 جبکہ ڈیوڈ ملر نے 20 رنز اسکور کیے۔ افغانستان کی جانب سے عظمت اللہ عمرزئی نے 3 اور راشد خان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔ -

بھارتی سیاحوں کا نامناسب رویہ،تھائی لینڈ کے یونا بیچ کلب نے داخلہ بند کر دیا
بین الاقوامی سیاحتی حلقوں میں حالیہ دنوں بھارتی سیاحوں کے مبینہ نامناسب رویّے سے متعلق خبروں نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
تھائی لینڈ کے مشہور سیاحتی مقام “یونا بیچ کلب” میں بھارتی سیاحوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ماضی میں پیش آنے والے چند ناخوشگوار واقعات کے بعد کیا گیا۔یونا بیچ کلب، جو اپنی پرتعیش سہولیات اور بین الاقوامی سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث معروف ہے، کی انتظامیہ کے مطابق بعض مواقع پربھارتی سیاحوں کا رویّہ غیر مہذب اور کلب کے ضابطہ اخلاق کے خلاف تھا، اس فیصلے کا مقصد تمام مہمانوں کے لیے محفوظ اور پُرسکون ماحول کو یقینی بنانا ہے۔واضح رہے کہ تھائی لینڈ کی سیاحتی صنعت بھارتی سیاحوں پر کافی حد تک انحصار کرتی ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں بھارتی شہری وہاں کا رخ کرتے ہیں۔
تھائی لینڈ کے معروف اور سیاحوں میں مقبول یونا بیچ کلب (Yona Beach Club) میں بھارتی سیاحوں کے داخلے سے مبینہ انکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ بھارتی سیاحوں کے ایک گروپ نے کلب انتظامیہ پر نسلی امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ماضی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے باعث بھارتی شہریوں کے داخلے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی گئی ہے۔ گوا سے تعلق رکھنے والے موسیقار جوناس مونٹیرو (Jonas Monteiro) نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو تصدیق شدہ بکنگ اور درست ٹکٹ ہونے کے باوجود کلب میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔جوناس مونٹیرو کے مطابق وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ مقررہ وقت پر کلب پہنچے اور ان کے پاس باقاعدہ تصدیق شدہ ٹکٹ موجود تھے، تاہم داخلی دروازے پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں روک دیا۔
سب سے سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ گروپ کے ارکان نے مبینہ طور پر کلب کے عملے کو یہ کہتے ہوئے سنا،“کسی بھارتی کو اندر مت آنے دو۔”
ماضی میں چند بھارتی سیاحوں کے ہنگامہ آرائی اور غیر مہذب رویے کے واقعات کے بعد کلب انتظامیہ نے سخت اقدامات کیے،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سیاحتی مقامات پر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کیے جاتے ہیں ،
-

فتنہ الخوارج ،فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلیے قومی یکجہتی کی ضرورت،تحریر:جان محمد رمضان
وطنِ عزیز اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی و خارجی سازشوں کی گرد آلود ہوائیں ہمارے عزم و استقلال کو آزمانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں سر اٹھانے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان جیسے عناصر محض چند گمراہ گروہوں کا نام نہیں بلکہ ایک منظم سوچ اور بیرونی سرپرستی کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنا ہے۔ ایسے میں وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم ذاتی، سیاسی اور لسانی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پرچم تلے مجتمع ہو جائے۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سیکیورٹی فورسز، پاک فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کی جنگ ہے۔ جب تک قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو محسوس نہیں کرے گا، تب تک اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشت گردی ایک ایسا عفریت ہے جو معصوم جانوں کو نگلتا اور ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی سازش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے کے لیے صرف بندوق نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور عزم کی بھی ضرورت ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور غیر متزلزل عمل درآمد سے مشروط ہے۔ یہ منصوبہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ قومی سلامتی کا جامع لائحۂ عمل ہے، جس پر مؤثر عمل ہی ملک کو پائیدار امن کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ خصوصاً خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی یہی حکمتِ عملی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، اور اس ضمن میں حالیہ اجلاسوں کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کو افغانستان میں دہشت گردانہ تربیت فراہم کی گئی۔ یہ عناصر دراصل خطے میں بدامنی پھیلا کر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ فتنہ الہندوستان کو بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ عناصر احساسِ محرومی کے نعرے کی آڑ میں خونریزی کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں، مگر بلوچستان کی باشعور عوام اب ان کے چہروں کو پہچان چکی ہے۔تین برس قبل روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ایک کھلا راز تھی، جس سے حاصل ہونے والی خطیر رقوم دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتی تھیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس غیر قانونی دھندے کا خاتمہ دہشت گردوں کی مالی شہ رگ کاٹنے کے مترادف ہے، جو ریاستی رٹ کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گڈ گورننس کو واحد اور مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ شفافیت، انصاف، میرٹ اور عوامی خدمت کا نظام ہی وہ بنیاد ہے جس پر امن کا مضبوط قلعہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم دراصل دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہماری کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے، کیونکہ ہمارا بیانیہ صرف اور صرف پاکستان ہے۔تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔ کوئی بھی منفی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا۔ سیکیورٹی ذرائع نے اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان کو افسوسناک اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سیاست اور فوج دو جدا دائرے ہیں؛ بات چیت سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے جبکہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ قانونی اور عدالتی معاملات کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق عدالتیں ہی کریں گی۔جس طرح قوم نے معرکۂ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی، اسی طرح آج بھی اتحاد و اتفاق سے دہشت گردی کے فتنے کو نیست و نابود کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے اختلافات بھلا کر ایک نصب العین پر جمع ہو جائیں تو کوئی سازش ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی مفادات، سیاسی کشمکش اور گروہی تعصبات سے بلند ہو کر ریاست اور آئین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ فتنہ الخوارج ہو یا فتنہ الہندوستان، ان کا خاتمہ صرف طاقت سے نہیں بلکہ قومی شعور، یکجہتی اور گڈ گورننس سے ممکن ہے۔پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی اسی میں مضمر ہے کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں ،نہ تقسیم ہوں گے، نہ جھکیں گے، اور نہ ہی دہشت گردی کے آگے سر تسلیم خم کریں گے
-

کراچی میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کی تقریب، گورنر سندھ کی شرکت
کراچی میں ایرانی قونصل خانے میں انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامران ٹیسوری نے کہا کہ پاکستان کو سب سے پہلے ایران نے تسلیم کیا تھا، جبکہ ایران میں اسلامی انقلاب کو سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور پاکستان متحد ہو جائیں تو کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو یکجا ہو کر چیلنجز کا سامنا کرنا چاہیے۔
گورنر سندھ نے مزید کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران پوری قوم متحد تھی اور اسی اتحاد کی بدولت کامیابی حاصل ہوئی۔ -

برطانیہ میں شدید بارشوں کے باعث 100 علاقوں میں سیلاب کا خطرہ
برطانیہ میں مسلسل ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث تقریباً 100 علاقوں میں سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیشنل انوائرمنٹ ایجنسی نے 98 سیلاب وارننگز اور 158 فلڈ الرٹس جاری کیے ہیں۔ حالیہ بارشوں کے نتیجے میں کم از کم 300 گھر متاثر ہوئے ہیں، جبکہ اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں بھی سیلاب کے خطرات موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں ندی نالوں کے کنارے پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
سیلاب کے باعث ٹرانسپورٹ کے نظام پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، اور کئی سڑکیں اور پل بند کیے جا سکتے ہیں۔ نیشنل انوائرمنٹ ایجنسی نے عوام سے کہا ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور خطرے کی صورت میں فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ -

خالصتان حامیوں نے امرتسر میں پاکستانی پرچم والی پتنگیں اڑا دیں
بھارتی پنجاب کے علاقےامرتسر میں بسنت کے تہوار کے دوران خالصتان تحریک کے حامیوں کی جانب سے پاکستانی قومی پرچم والی پتنگیں اُڑانے کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔
مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریوں نے بسنت کے موقع پر ایسی پتنگیں اڑائیں جن پر پاکستان کا قومی پرچم بنا ہوا تھا،باخبر ذرائع کے مطابق یہ اقدام روایتی بسنت منانے کے بجائے ایک علامتی احتجاج کے طور پر کیا گیا۔ خالصتان حامیوں نے اس عمل کو بھارتی پنجاب میں سکھوں کے حقوق سے متعلق مبینہ مسائل اور شکایات کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ خالصتان تحریک سکھوں کے لیے علیحدہ ریاست کے قیام سے متعلق ایک نظریہ ہے، جو ماضی میں شدت اختیار کر چکا ہے اور آج بھی وقفے وقفے سے اس کے حامی اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔
-

ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تہران میں ہزاروں افراد کی مارچ
ایران میں اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت تہران کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔
مارچ کے دوران ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی جانچ پڑتال کے لیے تیار ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ ایران ایٹم بم بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
تہران کے آزادی اسکوائر پر صدر پزشکیان نے مزید کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران مغربی ممالک کے ’ضرورت سے زیادہ‘ مطالبات کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور جوہری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھے گا۔ -

"انسان واپس لوٹ سکتا ہے؟ ” تحریر: عائشہ اسحاق
بسنت جیسے خونی تہوار کی اجازت اقتدار میں بیٹھی ہوئی عورت نے دے کر فضا میں موت کے پروانے آزاد کر دیے۔ چھتوں پر اڑتی پتنگیں ،،سڑکوں پر چلنے والوں کی موت کا سامان ھیں میڈیا پر بسنت کے جشن اور اس خونی تہوار کے نام پر کاروباری سطح پراربوں کے منافع اور دیگر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں مگر تمام چینلز اور میڈیا پتنگ بازی کے باعث کئی زخمی اور مرنے والے بے زبان معصوم پرندوں ، چھت سے گر کر ، کرنٹ لگنے سے اور گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والے انسانوں کے متعلق بات کرنے سے قاصر ہیں۔ کیا اربوں روپے کسی مرنے والے ایک بھی شخص کو واپس لا سکتے ہیں؟
کیا پتنگ بازی کا شوق انسانی جان سے زیادہ اہم ہے؟ڈور کی صورت فضا میں موت کا رقص کوئی تہوار یا جشن کہلا سکتا ہے؟ انسانی جانیں گنوا کر پیسہ کمانا منافع کہلا سکتا ہے؟ اقتدار میں بیٹھا ٹولہ ان متاثرین کے درد کا مداوا کر سکتا ہے؟ افسوس ہے ایسی بے حسی پر اور ایسی غافل غلام عوام پر جو اپنے حقوق کے بارے میں سوال نہیں اٹھا سکتے وہ ایسے تماشوں پر تین روز تک ناچتے رہے۔ یاد رکھیں ڈور سے مرنے والوں کے قاتلوں میں اپ سبھی شامل ہیں۔