Baaghi TV

Blog

  • اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اخلاق حیدرآبادی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس ،رکن مرکزی مجلس عاملہ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ (ادارہ مصنفین پاکستان)

    اردو اس خطے کی تہذیبی روح اور عوامی اظہار کی سب سے توانا علامت رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ ریاستی نظام میں رائج لسانی ترجیحات نے عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ جب حکمرانی اور فیصلے عوام کی فہم سے باہر زبان میں کیے جائیں تو محرومی اور بیگانگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ لسانی ناانصافی صرف زبان کا مسئلہ نہیں بل کہ سماجی مساوات اور شہری حقوق سے جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ زیر نظر تجزیہ اسی المیے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ زبان اور اقتدار کے اس نابرابر رشتے کو سمجھا جا سکے۔

    آئینی حیثیت کے باوجود اردو کی نظراندازی: قومی زبان اور عملی تضاد
    (آئینِ پاکستان، عدالتی فیصلے اور سرکاری وعدے بمقابلہ عملی صورتِ حال)
    آئینِ پاکستان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی امور، سرکاری مراسلت اور عدالتی کارروائیاں اسی زبان میں انجام پائیں مگر عملی سطح پر یہ آئینی شق محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلوں کی زبان، قوانین کے مسودے، احکامات اور نوٹیفکیشنز ایسی زبان میں مرتب کیے جاتے ہیں جو عام شہری کی فہم سے بالاتر ہے۔ اس صورتِ حال میں قومی زبان کا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود اس سے مسلسل انحراف ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام جنھوں نے ریاست کو وجود بخشا، وہی اپنے ہی ملک میں سرکاری زبان کے ذریعے اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ آئین کا مقصد یہ تھا کہ زبان کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان قربت پیدا ہو مگر موجودہ طرزِ عمل نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ اردو کی نظراندازی صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بل کہ یہ شہری حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون، فیصلہ اور ہدایت عوام کی زبان میں نہ ہوں تو وہ ان کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ آئینی وعدے محض رسمی ہیں اور ان پر عمل درآمد ریاست کی ترجیح نہیں۔ قومی زبان کو نظر انداز کرنا دراصل قومی شناخت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر آئین کی بنیادی شقوں پر ہی عمل نہ ہو تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیتا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بل کہ عملی رہنما سمجھا جائے اور قومی زبان کو واقعی اس کا جائز مقام دیا جائے۔

    انگریزی بطور طاقت کی زبان: طبقاتی تفریق اور عوامی بیگانگی
    (زبان کا استعمال بطور اقتدار، اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلہ)
    یہ موضوع محض لسانی بحث نہیں بل کہ طاقت، اختیار اور سماجی درجہ بندی کا گہرا مسئلہ ہے۔ انگریزی بطور طاقت کی زبان دراصل ایک ایسے نظام کی علامت بن چکی ہے جس میں علم، مواقع اور اختیار چند مخصوص طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں جب کہ عوام کی اکثریت خود کو اس دائرے سے باہر محسوس کرتی ہے۔ یہ زبان رفتہ رفتہ علمی برتری، ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ قرار دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی زبانوں سے وابستہ افراد کمتر، غیر متعلق اور پس ماندہ سمجھے جانے لگتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفتری نظام اور ریاستی بیانیے میں اسی زبان کی بالادستی طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرتی ہے کیوں کہ جسے اس زبان پر عبور حاصل نہیں وہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور سماجی ترقی کے عمل سے عملاً خارج ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بل کہ ایک ایسا ہتھیار بن جاتی ہے جو عوام کو ان کی اپنی ثقافت، فکری روایت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو زبان کے ذریعے طاقت سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسی زبان کے باعث خود کو اجنبی، خاموش اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر زبان کو علم اور شعور کی ترسیل کے بجائے سماجی امتیاز کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف عوامی بیگانگی کو جنم دیتا ہے بل کہ فکری انصاف اور ثقافتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی: فہم کی رکاوٹ یا انصاف کی نفی؟
    (انگریزی عدالتی اصطلاحات، عام سائل کی مجبوری اور انصاف میں تاخیر)
    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی کا مسئلہ دراصل عام شہری اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے کی علامت ہے، جہاں پیچیدہ، اجنبی اور غیر مانوس زبان فہم کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب عدالتوں میں ایسی زبان رائج ہو جو عوام کی اکثریت کی روزمرہ بول چال اور فکری سطح سے ہم آہنگ نہ ہو تو انصاف محض ایک نظری تصور بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ جسے بات ہی سمجھ نہ آئے وہ اپنے حق کا مطالبہ کیسے کرے۔ عدالتی اصطلاحات، طویل جملے اور مبہم اسلوب عام فرد کو خوف، الجھن اور بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ وکیلوں، کاتبوں اور دلالوں پر غیر معمولی انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انصاف کا عمل سادہ حق کے بجائے ایک مہنگی اور پیچیدہ رسم بن جاتا ہے جو صرف باخبر اور صاحبِ وسائل طبقے کے لیے قابلِ حصول رہتی ہے۔ یوں زبان انصاف کی وضاحت کا ذریعہ ہونے کے بجائے اس کی نفی کا سبب بننے لگتی ہے کیوں کہ فہم کے بغیر انصاف محض فیصلے کا اعلان ہے، شراکت اور اطمینان کا ذریعہ نہیں۔ اگر عدالتی زبان عوام کی ذہنی سطح اور لسانی روایت سے قریب نہ ہو تو یہ نظام خود اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور انصاف ایک زندہ حقیقت کے بجائے دور، سرد اور غیر متعلق تصور میں ڈھل جاتا ہے۔

    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن: فائل، فارم اور فرد کی بے بسی
    (درخواستیں، نوٹیفکیشنز، دفتری کارروائی اور عوامی مشکلات)
    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے جہاں کاغذی کارروائی، درخواست نامے اور دفتری تحریریں ایک ایسی زبان میں ہوتی ہیں جو عوام کی فہم اور تجربے سے میل نہیں کھاتیں۔ جب ایک سادہ انسان کسی کام کے لیے دفتر کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی خوف اور تذبذب کا شکار ہوتا ہے، مگر اجنبی اصطلاحات، پیچیدہ جملے اور غیر مانوس اسلوب اس کی بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ دفتری تحریر کا مقصد رہنمائی اور سہولت ہونا چاہیے لیکن جب زبان رکاوٹ بن جائے تو شہری اپنی ہی درخواست کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ اہلکاروں کی مرضی، ترجمانوں کے سہارے اور غیر ضروری سفارشات کا محتاج بن جاتا ہے، جس سے عزتِ نفس مجروح اور اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یوں زبان خدمت کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار کی علامت بن جاتی ہے جہاں عام فرد خود کو نظام کے سامنے بے زبان اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر سرکاری دفاتر میں زبان عوام کے مزاج اور فہم کے مطابق نہ ہو تو یہ لسانی الجھن شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتی ہے، اور انتظامی عمل سہولت کے بجائے مستقل اذیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اردو رسم الخط کی بگڑتی صورت اور تعلیمی و ثقافتی بحران
    (غلط املا، رومن اردو، نصابی کمزوری اور تہذیبی شناخت کا زوال)
    اردو رسم الخط کی بگڑتی ہوئی صورت دراصل ہمارے تعلیمی اور ثقافتی بحران کی گہری علامت ہے جہاں سہولت اور جلد بازی کے نام پر زبان کی اصل ہیئت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں درست املا اور خوش خطی کی تربیت بتدریج نظر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل حروف کی ساخت، صوتی آہنگ اور لفظی تہذیب سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ تحریر میں بے احتیاطی نے رسم الخط کو ایک غیر واضح اور منتشر شکل دے دی ہے جس سے نہ صرف فہم میں دشواری پیدا ہوتی ہے بل کہ تہذیبی تسلسل بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ رسم الخط محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بل کہ صدیوں کی فکری روایت، شعری ذوق اور علمی وراثت کا امین ہوتا ہے اور جب اسی کو بگاڑ دیا جائے تو ادب، تاریخ اور ثقافت سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں طلبہ زبان سے رغبت کے بجائے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور یوں اردو آہستہ آہستہ تعلیمی دائرے سے سکڑ کر رسمی یا جذباتی اظہار تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ ادراک نہ کیا گیا تو اردو رسم الخط کے ساتھ جڑا ہوا پورا تہذیبی شعور کمزور پڑ. جائے گا اور ہم اپنی شناخت کے ایک بنیادی ستون سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی ترلائی میں امام بارگاہ آمد، شہداء کے اہل خانہ سے اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کی ترلائی میں امام بارگاہ آمد، شہداء کے اہل خانہ سے اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کا دورہ کیا۔
    ‎انہوں نے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی سے بڑی بربریت کوئی نہیں ہو سکتی اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر پوری قوم سوگوار تھی، تاہم مثبت بات یہ تھی کہ تمام مکاتب فکر کے علما نے اس کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم نے عون عباس کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ تاریخ ان کی قربانی کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔
    ‎وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو متحد کر دیا اور آئندہ بھی قوم یکجہت رہے گی۔

  • اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی حلف برداری کی تقریب

    اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی حلف برداری کی تقریب

    اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آئی یو جے) کے نو منتخب عہدیداران کی حلف برداری کی پروقار تقریب کا انعقاد اسلام آباد ہوٹل میں کیا گیا، جس میں سینئر صحافیوں، تجزیہ کاروں، مختلف میڈیا ہاؤسز کے نمائندگان اور صحافتی تنظیموں کے عہدیداران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کے مہمان خصوصی ممتاز سینئر صحافی اور تجزیہ کار خوشنود علی خان تھے، تقریب کے دوران چیئرمین شاہنواز خان نے اپنے عہدے کا حلف ممتاز سینئر صحافی و تجزیہ کار خوشنود علی خان سے لیا۔ بعد ازاں چیئرمین شاہنواز خان نے دیگر عہدیداران سے ان کے عہدوں کا حلف لیا، جبکہ ایگزیکٹو ممبران سے حلف شمشاد مانگٹ نے لیا۔نو منتخب عہدیداران میں صدر عامر چوہدری،نائب صدور فیاض تنولی، ملک ظفر، عباس احمد، منصور قریشی،نائب صدر خواتین فائزہ یونس،جنرل سیکرٹری سردار سجاد طارق،ڈپٹی جنرل سیکرٹری راشد عباسی،ڈپٹی جنرل سیکرٹری خواتین سلمی ملک،جوائنٹ سیکرٹری ملک نجیب،ڈپٹی جوائنٹ سیکرٹریز واجد عباسی، وقار عباسی،انفارمیشن سیکرٹری محمد عادل خان،ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری چوہدری عابد حسین،ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری خواتین نبیلہ حفیظ،ایڈیشنل جنرل سیکرٹری راجہ نعمان،فنانس سیکرٹری راشد اشرف،ڈپٹی فنانس سیکرٹری سردار تنویر عابد،ایڈیشنل انفارمیشن سیکرٹریز عبدالرزاق، قاسم جمشید، عمران قادر،آفس سیکرٹری قاسم منیر،لیگل سیکرٹری ملک سیف ایڈووکیٹ،پریس سیکرٹری ملک احتشام فاروق شامل تھے جبکہ گورننگ باڈی میں شیر دل خان، فاروق خان، راجہ ارسلان، راجہ خلیل جنجوعہ، رجب علی، شیخ طیب، وقاص کھوکھر، عثمان عباسی، چوہدری عبد الرحمان، ملک نوید آصف، عمر فاروق چوہدری، سید ایم فیضان علی شاہ، کامران کھوکھر، ایم سلیم، بلال احمد ملک، راجہ جمیل، امجد کیانی، عمران عمار، ولید خان شلمانی، ملک اختر شامل تھے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین شاہنواز خان نے کہا کہ اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، آزادیٔ صحافت کے فروغ اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تنظیم کسی بھی صحافی کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور قانونی و پیشہ ورانہ معاونت فراہم کی جائے گی۔
    صدر عامر چوہدری نے کہا کہ صحافی معاشرے کی رہنمائی کا اہم فریضہ انجام دیتے ہیں، اس لیے صحافیوں کے اتحاد، تحفظ اور وقار کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔دیگر عہدیداران نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، تنظیم کو مضبوط اور فعال پلیٹ فارم بنائیں گے اور صحافتی مسائل کے حل کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔

    تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی، آزادیٔ صحافت، صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تنظیم کی ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ آئی یو جے کی نئی قیادت صحافتی برادری کو اتحاد، طاقت اور بہتر مستقبل فراہم کرے گی

  • پی ٹی آئی کے کنٹینر میں تیل نظر نہیں آ رہا،مولانا فضل الرحمان

    پی ٹی آئی کے کنٹینر میں تیل نظر نہیں آ رہا،مولانا فضل الرحمان

    ‎چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان ورکنگ ریلیشن قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور وزیراعظم کی ملاقات تین ماہ قبل ہونی چاہیے تھی۔
    ‎مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سیاست پارٹیاں کرتی ہیں، جبکہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کی ذمہ دار ہے، اور کوئی صوبہ وفاق کی مدد کے بغیر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا۔
    ‎انہوں نے طنزاً کہا کہ پی ٹی آئی کے کنٹینر میں انہیں تیل نظر نہیں آ رہا، جس سے پارٹی کی کارکردگی پر سوال اٹھا۔

  • اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے،سیکیورٹی ذرائع

    اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے،سیکیورٹی ذرائع

    لاہور میں میڈیا نمائیندگان سے سیکیورٹی عہدیدار، ذرائع کی ملاقات ہوئی ہے

    سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا،دہشت گردی کیخلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز ، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے، پاکستان کے اندر تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، حالیہ ترلائی امام بارگاہ کے حملہ آور کو دہشتگردانہ حملے کی ٹریننگ افغانستان نے دی،بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کیخلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں، آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو ، اس سے فرق نہیں پڑتا، البتہ دہشت گردی کیخلاف ہمیں متحد ہونا ہے، ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہے فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے، سیکیورٹی ذرائع

    سیکورٹی ذرائع کے مطابق تین سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی، جو اب ختم ہوچکی ہے، اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں استعمال ہوتا ہے، گُڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتی ہے،احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گردوں کو بلوچستان کی عوام پہچان چکی ہے،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، اس سلسلے میں پختونخواہ میں کی جانیوالی حالیہ میٹنگز خوش آئیند ہے ،جس طرح ہم نے معرکہ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی اسی طرح ہم دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے، تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کی عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے ، کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے، اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے، بات چیت تمام سیاسی جماعتیں کا استحقاق ہے، سیاست سے فوج کا کچھ لینا دینا نہیں ، قانونی اور کورٹ کیسز اور اس سے جڑےتمام معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے،

  • ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی حکام کا تیل بردار جہازوں کو ضبط کرنے پر غور

    ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی حکام کا تیل بردار جہازوں کو ضبط کرنے پر غور

    ‎امریکی حکام نے ایران پر معاشی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی تیل بردار ٹینکرز کو ضبط کرنے کے ممکنہ اقدام پر غور شروع کر دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایران کی سب سے بڑی آمدنی یعنی تیل کی برآمدات کو نشانہ بنا کر تہران کو اپنی پالیسیوں میں سخت اقدامات پر مجبور کرنا ہے۔
    ‎اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس اقدام پر بحث ہو رہی ہے اور اسے ایران کے جوہری مذاکرات کے عمل میں ایک آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکی حکومت کے پاس متعدد متبادل آپشنز موجود ہوں۔
    ‎تاہم امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ٹینکرز کو ضبط کرنے کے دوران ایران جوابی کارروائی کر سکتا ہے، جس میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا یا خطے میں امریکی اتحادی ممالک کے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں امریکا نے متعدد ایسے جہاز ضبط کیے ہیں جو ایران کے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ یعنی خفیہ بیڑے کا حصہ سمجھے جاتے ہیں، جو پابندیوں کے باوجود تیل منتقل کرتے ہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ٹینکرز کو ضبط کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ ایران کی معیشت پر دباؤ ڈالے گا اور خطے میں تیل کی قیمتوں اور عالمی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی بھی تیاری کر رہا ہے، اور سابق صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے کے لیے دوسرا طیارہ بردار بحری بیڑہ بھیجا جا سکتا ہے۔

  • نیپرا کا عوام کو  ٹیکا ،300 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز

    نیپرا کا عوام کو ٹیکا ،300 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز

    اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بلوں میں فکسڈ چارجز کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت اب 300 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد ہوں گے۔

    نیپرا کی جانب سے یہ فیصلہ پاور ڈویژن کی درخواست پر جاری کیا گیا۔ اس سے قبل فکسڈ چارجز صرف 300 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لاگو تھے، تاہم نئے فیصلے کے بعد پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں اقسام کے صارفین اس دائرہ کار میں آ گئے ہیں۔نیپرا فیصلے کے مطابق ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد کیے گئے ہیں۔ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز مقرر کیے گئے ہیں۔

    نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فکسڈ چارجز کی نئی شرحیں درج ذیل ہیں،100 یونٹ تک استعمال پر 275 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز،200 یونٹ تک استعمال پر 300 روپے فکسڈ چارجز،300 یونٹ تک استعمال پر 350 روپے فکسڈ چارجز ہوں گےمزید برآں 301 سے 400 یونٹ تک استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے فکسڈ چارجز میں 200 روپے اضافہ کر کے 400 روپے مقرر کر دیے گئے ہیں۔401 سے 500 یونٹ تک استعمال پر 100 روپے اضافے کے بعد فکسڈ چارجز 500 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔600 یونٹ ماہانہ استعمال پر فکسڈ چارجز میں 75 روپے اضافہ کر کے 675 روپے کر دیے گئے ہیں۔700 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے 125 روپے کمی کے بعد فکسڈ چارجز 675 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے 325 روپے کمی کے بعد فکسڈ چارجز 675 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

    توانائی ماہرین کے مطابق فکسڈ چارجز کے نفاذ کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی حالت بہتر بنانا اور ریونیو میں استحکام لانا ہے، تاہم اس فیصلے سے کم اور متوسط آمدنی والے صارفین پر اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔صارفین تنظیموں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف کے علاوہ فکسڈ چارجز میں اضافے سے مجموعی بلوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے مہنگائی کے موجودہ دور میں عوام کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔نیپرا کی جانب سے جاری کردہ فیصلہ آئندہ بلنگ سائیکل سے نافذ العمل ہوگا، جس کے بعد صارفین کو اپنے ماہانہ بلوں میں نئی شرحوں کے مطابق فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔

  • عافیہ صدیقی کیس:وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی روک دی

    عافیہ صدیقی کیس:وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی روک دی

    ‎وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیراعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو روک دیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی اور فریقین کو نوٹس جاری کیے۔
    ‎وفاقی حکومت نے 16 مئی 2025 کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست میں ترمیم کی اجازت کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور کابینہ سے امریکا میں قانونی کوششوں کی حمایت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی تھی۔
    ‎وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ درخواست میں ترمیم عدالتی اختیارات سے تجاوز اور طے شدہ مقدمات کی حتمیت کے منافی ہے۔ اکتوبر 2024 میں وزیراعظم نے امریکی صدر کو رحم کی اپیل کی حمایت میں خط لکھا، اعلیٰ سطحی وفد بھیجا گیا اور قیدیوں کی منتقلی سے متعلق معاہدوں کی کوششیں کی گئیں، مگر امریکی حکام نے معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
    ‎عدالت نے بعد ازاں اس معاملے کی سماعت ملتوی کر دی۔

  • سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ گھر میں گر کر زخمی

    سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ گھر میں گر کر زخمی

    اسلام آباد: سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اپنے گھر میں گرنے کے باعث زخمی ہو گئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو گرنے سے جسم کے مختلف حصوں پر چوٹیں آئی ہیں۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے پیش آیا جب وہ اپنے گھر کے واش روم میں اچانک پھسل کر گر گئے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرنے کے نتیجے میں ان کے سر پر بھی زخم آئے ہیں، جس کے باعث ڈاکٹروں نے انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کر دیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق سابق آرمی چیف کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا معائنہ کر رہی ہے۔

    خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) باجوہ کو بروقت طبی امداد فراہم کر دی گئی تھی اور فی الحال وہ ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہیں۔ مزید طبی معائنے اور ضروری ٹیسٹ بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ اندرونی چوٹوں کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ نے نومبر 2022 میں اپنی مدتِ ملازمت مکمل کرنے کے بعد پاک فوج کی سربراہی سے ریٹائرمنٹ حاصل کی تھی۔ ان کی اچانک علالت کی خبر سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سسٹم نافذ

    پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سسٹم نافذ

    ‎پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لین دین کے لیے ٹی پلس ون (T+1) سیٹلمنٹ سسٹم مؤثر طور پر نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان دنیا کا ساتواں ملک بن گیا ہے جو یہ جدید نظام اپنا رہا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق 9 فروری کو ہونے والے سودے 10 فروری کو کامیابی کے ساتھ سیٹل کیے گئے، جو نئے نظام کے تحت پہلی باقاعدہ سیٹلمنٹ تھی۔
    ‎ٹی پلس ون سیٹلمنٹ کے تحت شیئرز کی خرید و فروخت کے سودے ایک کاروباری دن بعد مکمل کیے جاتے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو تیز اور مؤثر لین دین کی سہولت ملتی ہے۔
    ‎چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ڈاکٹر کبیر سدھو نے اس پیش رفت کو ملکی کیپٹل مارکیٹ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ نظام مارکیٹ میں شفافیت، کارکردگی اور رسک مینجمنٹ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
    ‎ماہرین کے مطابق ٹی پلس ون سیٹلمنٹ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، لیکویڈیٹی بہتر ہوگی اور مارکیٹ میں سرمایہ کی گردش تیز ہونے سے مجموعی مالیاتی نظام کو استحکام حاصل ہوگا۔