Baaghi TV

Blog

  • پاکستان 2026 کے لیے ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کا صدر منتخب

    پاکستان 2026 کے لیے ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن کا صدر منتخب

    اسلام آباد: پاکستان کو عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی اور ٹیکنالوجیکل کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں پاکستان کو 2026 کے لیے ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔

    اس کامیابی کو ملک کے ڈیجیٹل مستقبل، آئی ٹی شعبے اور عالمی تعاون کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ڈی سی او کی صدارت سنبھالنے پر اپنے ردِعمل میں اسے ملک و قوم کے لیے باعثِ فخر اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت میں ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن نہ صرف رکن ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کو فروغ دے گی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف بھی مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے گا۔

    شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ بطور صدر پاکستان کو مصنوعی ذہانت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اکانومی، سائبر سیکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے اپنی پالیسیوں اور وژن کو عالمی فورمز پر پیش کرنے کا ایک مضبوط موقع ملے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ڈیجیٹل اختراعات، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس ایک متحرک نوجوان آبادی، مضبوط آئی ٹی ٹیلنٹ اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر موجود ہے، جو اسے عالمی ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ڈی سی او کی صدارت پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، بین الاقوامی شراکت داری اور ڈیجیٹل اصلاحات کے نئے دروازے کھولے گی۔

    ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن ایک بین الحکومتی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینا، ٹیکنالوجی کے ذریعے معاشی ترقی کو ممکن بنانا اور ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی صدارت نہ صرف ملکی آئی ٹی انڈسٹری کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوگی بلکہ خطے اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کرے گی۔ڈی سی او کی صدارت پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک تاریخی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے

  • نواز شریف کا بھی بسنت منانے کا فیصلہ

    نواز شریف کا بھی بسنت منانے کا فیصلہ

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی لاہور میں بسنت کی بعض تقریبات میں شرکت کریں گے۔

    ذرائع کے مطابق نواز شریف نے بسنت کے موقع پر ایک دن اندرونِ شہر میں گزارنے کا پروگرام ترتیب دیا ہے، جہاں وہ اپنے قریبی اور پرانے دوستوں کے ساتھ بسنت منائیں گے اور ماضی کی یادیں تازہ کریں گے۔نواز شریف ممکنہ طور پر بلال یاسین کے گھر کی چھت پر بسنت منائیں گے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرونِ لاہور میں منعقد ہونے والی اس نجی تقریب میں محدود افراد کو مدعو کیا گیا ہے، جہاں روایتی انداز میں بسنت کا جشن منایا جائے گا۔ نواز شریف اس موقع پر لاہوری ثقافت، پرانی روایات اور اپنے بچپن و لڑکپن کی یادوں کو بھی دوستوں کے ساتھ شیئر کریں گے۔

    نواز شریف کو لاہوری کلچر سے خصوصی لگاؤ ہے اور وہ ہمیشہ بسنت کو پنجاب کا ایک اہم ثقافتی اور موسمی تہوار قرار دیتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے نواز شریف محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے متحرک رہے اور اس حوالے سے پنجاب کے کلچر اور ثقافت سے وابستہ افراد سے متعدد ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بسنت کو ایسے طریقے سے منایا جائے جس سے کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہ ہو۔نواز شریف کا مؤقف ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ پنجاب کی تہذیب اور ثقافت کی نمائندہ علامت ہے۔ ان کے مطابق بسنت کے ذریعے نہ صرف پنجاب کا مثبت تشخص اجاگر ہوتا ہے بلکہ اس سے مقامی معیشت، سیاحت، دستکاری، پتنگ سازی اور دیگر وابستہ کاروباروں کو بھی فروغ ملتا ہے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اندرونِ لاہور میں اپنے بچپن اور لڑکپن کا خاصا وقت گزارا ہے اور بسنت ان یادوں کا اہم حصہ رہی ہے، اسی لیے وہ اس تہوار کو محفوظ انداز میں بحال کرنے کے حامی رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ لاہور میں 6 سے 8 فروری تک بسنت کا تہوار منایا جا رہا ہے، جس کے لیے صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور شہریوں کی جانب سے بھرپور انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر بھر میں چھتوں، گلیوں اور کھلے مقامات پر بسنت کی رونقیں دیکھنے میں آ رہی ہیں جبکہ سیکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اور 5 فروری کو خیبرپختونخوا میں 2 الگ جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 خوارج مارے گئے،ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا، آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج ہلاک کر دیے گئے، ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا، ضلع خیبر میں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 خوارج ہلاک کردیے گئے،علاقے میں دیگر بھارتی سرپرست خوارج کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہیں، کلیئرنس آپریشنز کا مقصد باقی دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے، انسداد دہشت گردی مہم وژن عزمِ استحکام کے تحت جاری ہے، بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف فورسز کا فیصلہ کن کریک ڈاؤن جاری ہے۔

  • بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    بسنت کی پہلی رات، ایک شخص جاں بحق، بچوں سمیت 5 زخمی

    لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 5 زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق باغبانپورہ میں سکھ نہر کےقریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کےلیے بجلی کےکھمبے پر چڑھا، اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا،ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈورگردن پر پھرنے سے نوجوان رافع زخمی ہوگیا، اسی طرح گلشن راوی میں بھی پتنگ کی ڈور پھرنے سے 8 سالہ ارسا اور45سالہ شبیر زخمی ہوگئے، لوئر مال کے علاقے میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبد الواحد زخمی ہوا جبکہ گلشن راوی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتار رہا تھا کہ اس دوران زخمی ہوگیا۔

    لاہورمیں بسنت کا تہوار جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، جہاں عورتیں، بچے اور بزرگ سب ہی رنگا رنگ پتنگوں کے ساتھ خوشیوں میں ڈوبے نظر آ رہے ہیں۔ کئی برسوں کے طویل وقفے کے بعد لاہور میں ایک بار پھر بسنت کی بہار لوٹ آئی ہے اور شہر کی گلیاں، کوچے اور سڑکیں پتنگوں سے سجی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔لاہور کے مختلف علاقوں میں چھتوں پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو پتنگ بازی میں مصروف ہے، جبکہ بازاروں میں پتنگ اور ڈور کی خریداری کا رش بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگرچہ پتنگ اور ڈور کی قیمتیں ماضی کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہیں، اس کے باوجود شہر بھر میں یہ اشیاء نایاب ہوتی جا رہی ہیں، جس سے بسنت کے شوقین افراد کی دلچسپی اور جوش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    طویل عرصے بعد بسنت منانے کے موقع پر وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت فضا خوشگوار ہے اور کوئی کسی کو تنگ نہیں کر رہا، ہر شخص اپنی مستی اور خوشی میں مگن ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ خوشیاں تین دن تک برقرار رہیں اور کسی کی نظر نہ لگے۔واضح رہے کہ پنجاب بھر میں بسنت کے باعث آج اور کل عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو تہوار منانے کا بھرپور موقع میسر آیا ہے ،تاہم خوشیوں کے اس موقع پر بعض ناخوشگوار واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ لاہور میں بسنت کے دوران مختلف حادثات میں ایک شخص جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور حفاظتی قوانین پر عمل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔بسنت کی بحالی نے جہاں شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں، وہیں انتظامیہ کے لیے یہ ایک چیلنج بھی ہے کہ خوشیوں کے اس تہوار کو محفوظ بنایا جائے تاکہ کسی قیمتی جان کا ضیاع نہ ہو اور عوام بلا خوف و خطر اس تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔

  • سینیئر صحافی پر قصور میں تشدد،ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کا اظہار تشویش

    سینیئر صحافی پر قصور میں تشدد،ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کا اظہار تشویش

    قصور
    سینئیرصحافی مہر عتیق انور پر بلدیہ ملازم کا بہیمانہ تشدد قابل افسوس ھے تین دن گزر جانے کے باوجود مقدمہ کا اندراج نہ ھونا قابل مزمت ھے ۔ڈی پی او قصور فوری نوٹس لیں مقدمہ درج کرکے ملزمان کو گرفتار کیا۔ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور اپنے صحافی بھائی کے ساتھ کھڑے ھے ان خیالات کا اظہار صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب شریف سوھڈل نے ضلع بھر کے سینئیر صحافیوں سے گفتگو کرتے ھوئے کاانہوں نے کہا کہ مقامی صحافی کا قصور صرف اتنا ھے کہ اس نے مختلف غیر قانونی سرگرمیوں اور کرپشن کے راستے بند کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔اور حقائق اعلی حکام تک پہنچانے کے لئے کردار ادا کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ انہوں نے اپنا فرض ادا کیا کرپشن ننگی کرنے کے دکھ میں ایک صحافی پر بہیمانہ تشدد کی جتنی مزمت کی جائے کم ھے انہوں نے ڈی پی او قصور سے ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کرتے ھوئے کہا کہ مقامی پولیس تھانہ اے ڈویزن کو پارٹی نہیں بننا چاہئے اور ملزمان کے خلاف حسب ضابطہ کاروائی ھونی چاہئیے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانا ان کی زمہ داری ھے انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں پر آئے روز حملے قابل افسوس ھے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ھے کہ بااثر ملزمان کے خلاف کاروائی میں تاخیر ملزمان کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ھے ۔انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے اور یہ صرف تب ھی ممکن ھے جب متاثرہ صحافی کے ساتھ انصاف ھو اور ملزمان کے خلاف فوری کاروائی کی جائے ۔

  • ہزاروں لوگوں کی قصور سے لاہور آمد،سخت تنقید کی گئی

    ہزاروں لوگوں کی قصور سے لاہور آمد،سخت تنقید کی گئی

    قصور
    قصور ضلع بھر و گردونواح سے بسنت منانے کیلئے لاہور پہنچنے والے ہزاروں افراد پر تنقید
    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر سے بسنت کے لئے لاہور جانے والے ہزاروں افراد کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کی روایتی خوشیوں کے ساتھ ساتھ اس تہوار کو کچھ حلقوں نے خونی تہوار قرار دے کر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے
    لاہور کے مختلف علاقوں میں بسنت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے ہیں
    مگر مقامی شہری اور ماحولیاتی کارکنوں نے پتنگوں اور دھاگوں کی وجہ سے خطرات، پرندوں اور انسانی جانوں کو لاحق نقصان کی بابت تشویش کا اظہار کیا ہے سوشل میڈیا صارفین نے خاص طور پر قصور سے آئے ہوئے افراد کی لاپرواہی پر تنقید کی اور بسنت کو غیر محفوظ اور نقصان دہ قرار دیا ہے
    لاہور شہر کی انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں تاہم واقعہ کی نوعیت اور مقامی افراد کی رائے نے بسنت کے جشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے

  • چین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے PL-17 میزائل کی پہلی جھلک

    چین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے PL-17 میزائل کی پہلی جھلک

    
چین کے جدید اور پراسرار ہتھیاروں میں شمار ہونے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ائیر ٹو ائیڑ میزائل PL-17 کی پہلی جھلک منظر عام پر آ گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ میزائل دنیا کے سب سے زیادہ رینج رکھنے والے فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں میں سے ہو سکتا ہے اور مغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی برتری کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    چینی میڈیا کے مطابق یہ تصویر حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، تاہم اس کی تاریخ اور مقام کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تصویر میں میزائل یا اس کا ماڈل ایک اسٹینڈ پر رکھا ہوا دکھایا گیا ہے، جس کے سامنے ایک شخص کھڑا ہے جس کا چہرہ ڈیجیٹل طور پر چھپایا گیا ہے۔ بیشتر دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صرف ماڈل ہے، مگر اس کا سائز اصل میزائل کے برابر ہے۔
    ‎چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے لیے تیار کی جانے والی PL سیریز میں کم فاصلے کے لیے PL-10، درمیانے فاصلے کے لیے PL-11 اور PL-12 جبکہ طویل فاصلے پر نشانہ لگانے کے لیے PL-15 اور اب PL-17 میزائل شامل ہیں۔

  • 
پی ٹی آئی کا مشال یوسفزئی کو بیانات پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

    
پی ٹی آئی کا مشال یوسفزئی کو بیانات پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

    
پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی رہنما سینیٹر مشال یوسفزئی کے متنازعہ بیانات کے بعد انہیں شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور فیملی کے خلاف نامناسب زبان کے استعمال کے پیش نظر کی جا رہی ہے۔
    ‎چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "بہت ہوگیا، مشال یوسفزئی کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ بانی پی ٹی آئی کی فیملی یا بہنوں کے خلاف کسی بھی زبان کی اجازت پارٹی میں نہیں دی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی بھی شخص بانی پی ٹی آئی کی فیملی پر جملے کسے گا تو وہ پارٹی میں جگہ نہیں رکھے گا۔
    ‎بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ اتنی بڑی سیاسی جماعت میں اختلافات معمول کی بات ہیں اور ایک سیاسی ورکر کو چیئرمین سے اختلاف کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے خلاف کسی بھی قسم کی تنقید برداشت نہیں کی جائے گی۔
    ‎پارٹی ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں مشال یوسفزئی کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اس کے بعد آئندہ کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

  • 
دو سال بعد رفح کراسنگ کھلنے کے بعد فلسطینیوں کا غزہ واپسی کا سلسلہ جاری

    
دو سال بعد رفح کراسنگ کھلنے کے بعد فلسطینیوں کا غزہ واپسی کا سلسلہ جاری

    
غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ جزوی طور پر کھلنے کے بعد فلسطینیوں کی غزہ واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ شب مزید 25 فلسطینی غزہ واپس پہنچے، جو اس کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے بعد داخل ہونے والے تیسرے گروپ میں شامل ہیں۔ یہ افراد مقامی وقت کے مطابق رات تین بجے غزہ پہنچے۔
    عرب میڈیا کے مطابق، کچھ ہی گھنٹوں بعد 13 فلسطینی مریضوں کو ان کے اہل خانہ اور عالمی ادارہ صحت کے اہلکاروں کے ہمراہ بیرونِ ملک علاج کے لیے رفح کراسنگ کی جانب منتقل کیا گیا۔
    ‎غزہ واپس آنے والے کئی افراد نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں اسرائیلی سکیورٹی چیک پوائنٹس پر تفتیش اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ واپسی کے دوران اہل خانہ سے ملاقات کے جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ ایک خاتون عائشہ بلاوی نے کہا، "یہ خوشی اور غم کے درمیان معلق ہونے جیسا احساس ہے۔ اپنے خاندان سے مل کر خوش ہوں، لیکن اپنے وطن کی تباہی دیکھ کر دل افسردہ ہے۔”
    ‎فلسطینیوں کی واپسی اور مریضوں کی علاج کے لیے رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنا امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی شرائط میں شامل تھا۔ فی الحال صرف وہی فلسطینی واپس آ سکتے ہیں جو جنگ کے دوران غزہ سے باہر گئے تھے۔
    ‎واضح رہے کہ اسرائیل نے مئی 2024 میں رفح کراسنگ پر قبضہ کر کے اسے آمدورفت کے لیے بند کر دیا تھا۔

  • ‎خلیج میں ایران نے ایندھن اسمگلنگ پر دو آئل ٹینکر تحویل میں لے لیے

    ‎خلیج میں ایران نے ایندھن اسمگلنگ پر دو آئل ٹینکر تحویل میں لے لیے

    
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خلیج میں کارروائی کرتے ہوئے دو آئل ٹینکروں کو ایندھن اسمگلنگ کے الزام میں تحویل میں لے لیا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ان ٹینکروں میں غیر ملکی عملہ سوار تھا، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ضبط کیے گئے جہاز کن ممالک کے پرچم تلے رجسٹرڈ تھے اور عملے کا تعلق کن ممالک سے ہے۔
    ‎ایرانی خبررساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ دونوں ٹینکروں سے 10 لاکھ لیٹر سے زائد اسمگل شدہ ایندھن برآمد کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر عملے کے 15 غیر ملکی ارکان کو گرفتار کر کے عدالتی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
    ‎خبر ایجنسی کے مطابق یہ کارروائی خلیج میں واقع ایرانی جزیرے فارسی کے قریب کی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جہاز گزشتہ کئی ماہ سے ایندھن اسمگلنگ میں ملوث تھے اور نگرانی، انٹیلی جنس معلومات اور سمندری آپریشنز کے بعد انہیں روکا گیا۔
    ‎خیال رہے کہ ایران ماضی میں بھی خلیج اور آبنائے ہرمز میں ایسے آئل ٹینکروں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے جنہیں وہ غیر قانونی ایندھن تجارت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران میں ایندھن کی قیمتیں دنیا میں کم ترین شمار ہوتی ہیں، جس کے باعث پڑوسی ممالک کو ایندھن اسمگل کرنا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔