Baaghi TV

Blog

  • الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟

    الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟

    الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    آج کے نوجوانوں میں الیکٹرک سگریٹ یا ویپ (Vape) ایک فیشن بن چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جدیدیت کا ایسا پہلو ہے جو صحت کے لیے سنگین خطرات رکھتا ہے۔ معاشرتی سطح پر اسے محفوظ متبادل اور سگریٹ چھوڑنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کے مطابق یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔

    الیکٹرک سگریٹ ایک بیٹری سے چلنے والا آلہ ہے جس میں E-liquid استعمال ہوتا ہے، جو گرم ہو کر بھاپ میں تبدیل ہوتی ہے اور سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچتی ہے۔ یہ مائع عموماً نکوٹین، خوشبو دار فلیورز اور دیگر کیمیائی مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگرچہ دھواں نہیں نکلتا، مگر بھاپ میں موجود باریک زہریلے ذرات پھیپھڑوں تک پہنچ کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔

    نکوٹین سب سے خطرناک عنصر ہے، جو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ کئی الیکٹرک سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار عام سگریٹ سے زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل اس کی لت میں پھنس رہی ہے۔ نکوٹین وقتی سکون فراہم کرتی ہے، مگر ذہنی بے چینی، چڑچڑاپن اور ڈپریشن کو فروغ دیتی ہے۔

    پھیپھڑوں پر اثرات کے علاوہ نکوٹین دل اور خون کی نالیوں کو بھی متاثر کرتا ہے، دل کی دھڑکن تیز اور بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نوجوان، جو خود کو صحت مند سمجھتے ہیں، کم عمری میں دل کے مریض بن رہے ہیں۔

    الیکٹرک سگریٹ کے فلیورز بھی خطرناک ہیں۔ اسٹرابری، آم، چاکلیٹ اور منٹ کے نام پر استعمال شدہ کیمیکلز زیادہ حرارت پر فارملڈیہائیڈ جیسے عناصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ نوجوان دماغی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں، اور نکوٹین یادداشت، توجہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس سے تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

    منہ اور دانتوں کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہے۔ مسلسل استعمال سے منہ خشک رہتا ہے، دانت کمزور ہو جاتے ہیں، مسوڑھوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور سانس کی بدبو مستقل مسئلہ بن جاتی ہے۔ جلد کی رنگت متاثر ہوتی ہے اور قبل از وقت بڑھاپا ظاہر ہو سکتا ہے۔

    الیکٹرک سگریٹ کے پھٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، خاص طور پر غیر معیاری آلات سے ہاتھ، چہرہ اور جسم کے دیگر حصے جھلسنے کے حادثات ہوتے ہیں۔ یہ آلہ محض صحت ہی نہیں بلکہ جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) نوجوانوں اور غیر سگریٹ نوش افراد کو الیکٹرک سگریٹ سے دور رہنے کی سخت ہدایت دیتا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس کی فروخت اور تشہیر پر پابندیاں عائد ہیں، مگر ہمارے ہاں قانون سازی اور آگاہی کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔

    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ الیکٹرک سگریٹ ایک جدید فریب ہے، جو نوجوان نسل کو صحت کی تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ حکومت، والدین، تعلیمی ادارے اور میڈیا مل کر مؤثر آگاہی پھیلائیں تاکہ یہ خاموش خطرہ نوجوانوں کی زندگیوں کو متاثر نہ کرے۔ صحت کوئی فیشن نہیں اور زندگی کسی تجربے کا میدان نہیں۔

  • رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    رحم جرم بن گیا، جو کتوں کو بچائیں وہی مجرم ٹھہرے،تحریر:صدف برار

    ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا تاثر عام کر دیا گیا ہے کہ جو لوگ گلی محلوں میں موجود اسٹریٹ ڈاگز کو کھانا کھلاتے ہیں، زخمی جانوروں کا علاج کرواتے ہیں یا ان کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کوئی “ممی ڈیڈی” قسم کے لوگ ہیں جنہیں انسانوں سے زیادہ کتوں کی فکر ہے۔ رحم کرنا جیسے کوئی جرم بن گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ذرا اسلام آباد اور اس کے گرد و نواح میں سی ڈی اے کی پالیسیوں پر تحقیق کریں تو حقیقت اس تاثر سے کہیں زیادہ خوفناک نظر آتی ہے۔ یہاں مسئلے کا حل ویکسینیشن، نیوٹرنگ یا بہتر شیلٹرز نہیں بلکہ گولیاں، زہر اور اجتماعی ہلاکتیں ہیں۔ کتوں کو پکڑ کر مار دیا جاتا ہے، زہر دے کر ہلاک کیا جاتا ہے، ماؤں کو ان کے بچوں سے جدا کر دیا جاتا ہے اور بڑی تعداد میں انہیں نام نہاد شیلٹرز میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں نہ مناسب خوراک ہے، نہ صاف پانی، نہ چھت اور نہ ہی موسم کی شدت سے بچنے کا کوئی انتظام۔ یہاں تک کہ پانی تک میسر نہیں ہے اور جانور پیاس سے تڑپتے رہتے ہیں۔ یہ شیلٹر نہیں بلکہ اذیت گاہیں ہیں۔

    سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ نومولود پلے جب ماں سے جدا کیے جاتے ہیں تو یا تو بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں یا بڑے کتوں کا شکار بن جاتے ہیں۔ کئی زخمی ہو کر سڑتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ دوسری طرف ہم روز اخبارات میں یہ خبریں پڑھتے ہیں کہ ریبیز کے باعث کتوں نے لوگوں کو کاٹا اور اسپتالوں میں ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار کتا ہے یا ہمارا ناکام ہیلتھ سسٹم؟ ریبیز ویکسین مہیا کرنا حکومت اور محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ ہر گلی کے کتے کو گولی مار دینا۔ ایک جانور کی غلطی کی سزا پورے علاقے کے تمام جانوروں کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟

    یہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟ “کتا نظر آئے تو پتھر مار دو، ڈنڈا اٹھاؤ، بھگا دو۔” ظاہر ہے جب جانور کو خطرہ محسوس ہوگا تو وہ اپنے دفاع میں بھونکے گا یا کاٹے گا۔ زیادہ تر واقعات جارحیت نہیں بلکہ خوف کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جانور بھی زندہ مخلوق ہیں، ان میں بھی درد، خوف اور محبت کا احساس ہوتا ہے۔ جو لوگ انہیں کھانا کھلاتے ہیں، وہ شوقیہ نہیں کرتے بلکہ انہیں بھی جینے کا حق دیتے ہیں۔ کیونکہ ماں، ماں ہوتی ہے، چاہے انسان کی ہو یا کسی جانور کی۔ ذرا سوچئے اگر کسی انسان کے بچے کو زہر دے کر مار دیا جائے تو والدین پر کیا گزرے گی؟ تو پھر ایک بے زبان جانور کی ماں کا درد ہمیں کیوں نظر نہیں آتا؟

    افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالتیں بھی واضح احکامات دے چکی ہیں کہ کتوں کو مارنے کے بجائے نیوٹر کیا جائے، ویکسینیشن کی جائے اور آبادی کو انسانی طریقے سے کنٹرول کیا جائے، مگر ان احکامات پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔ گولی چلانا آسان ہے، نظام بنانا مشکل۔ دنیا بھر میں کامیاب ماڈلز موجود ہیں جہاں نیوٹرنگ اور ویکسینیشن کے ذریعے مسئلہ حل کیا گیا، لیکن ہم اب بھی قتل عام کو حل سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے کتے مارے جائیں گے، اتنی ہی تیزی سے نئے پیدا ہو جائیں گے، کیونکہ مسئلہ قتل سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے حل ہوتا ہے۔

    سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین صرف انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ کیا باقی مخلوق کو جینے کا حق نہیں؟ ہمارا مذہب بھی ہمیں بے زبان جانوروں پر رحم کا درس دیتا ہے۔ اگر ہم پورے ملک سے تمام کتوں کا خاتمہ بھی کر دیں تو کیا ہمارے اسپتال بہتر ہو جائیں گے؟ کیا ویکسین دستیاب ہو جائے گی؟ کیا ہمارا نظام ٹھیک ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ہم صرف مزید بے حس ہو جائیں گے۔ کیونکہ جس معاشرے میں رحم ختم ہو جائے، وہاں انسانیت بھی مر جاتی ہے۔

  • سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    باڑہ / ضلع خیبر:سیاسی اتحاد باڑہ نے تیراہ میدان سے نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کے آپریشنز، شیلنگ، ڈرون کارروائیوں اور بدامنی کے باعث بے گھر ہونے والے متاثرین کو فوری طور پر باعزت طریقے سے بحال کیا جائے۔

    سیاسی اتحاد باڑہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ متاثرینِ تیراہ گزشتہ کئی برسوں سے بے سرو سامانی، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے ہر دور میں ریاست کے ساتھ تعاون، صبر اور قربانی کی مثالیں قائم کیں، مگر اس کے باوجود آج بھی انہیں بنیادی انسانی، آئینی اور قبائلی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
    اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔

    خیبر قومی جرگہ میں باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان، جنرل سیکرٹری عطاء اللہ، شیریں آفریدی،سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی، اے این پی عبدالرزاق،فاٹا لویہ جرگہ صدر ملک بسم اللہ، جماعت اسلامی کے شاہ فیصل،پی ٹی آئی عابد آفریدی،جماعت اسلامی خان ولی آفریدی،مسلم لیگ ن اصغر آفریدی،ملک محمد حسین سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،سیاسی اتحاد باڑہ کے اہم مطالبات میں کہا گیا ہے کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے۔تیراہ میں فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر گولے برسائے جانے اور ہیلی کاپٹر کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے، کیونکہ ان اقدامات سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔متاثرینِ تیراہ کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور ان سے کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری و عملی طور پر نافذ کیا جائے۔متاثرین کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔تیراہ کے بلند ایریاز میں گھروں کے درست پتے نہ رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز کا اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائے اور امدادی پیکیجز میں شامل کیا جائے۔پولیٹیکل انتظامیہ یا نادرا کی من پسند اور خود ساختہ رجسٹریشن کو سیاسی اتحاد باڑہ کسی صورت قبول نہیں کرتا کیونکہ اس عمل سے حقیقی متاثرین محروم ہو رہے ہیں۔وادی تیراہ کے بعد اپر باڑہ اور بازو پین ایریا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کنٹرول کا مطالبہ کیا گیا۔

    قیامِ امن کے لیے سیاسی اتحاد باڑہ نے آج سے باڑہ میں امن تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔باڑہ میں اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور شہریوں میں خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے متاثرینِ تیراہ کے حوالے سے غیر سنجیدہ بیانات قابل افسوس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر مستقل حل نکالیں۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر سیاسی اتحاد باڑہ کے آئینی، قانونی اور اخلاقی مطالبات پر فوری اور عملی عمل درآمد نہ ہوا تو متاثرینِ تیراہ اور ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔سیاسی اتحاد باڑہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔اعلامیے کے آخر میں کہا گیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سیاسی اتحاد باڑہ مرکزی حکومت، وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے متاثرین کی 13,744 گاڑیوں کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرے گا۔

  • اوکاڑہ: ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں جدید ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح

    اوکاڑہ: ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں جدید ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) چیف منسٹر ڈائیلسز پروگرام کے تحت ٹی ایچ کیو ہسپتال رینالہ خورد میں جدید ڈائیلسز سنٹر کا افتتاح کر دیا گیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی خواجہ عمران نذیر نے نئے وارڈ کا افتتاح کیا اور مریضوں سے سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔

    افتتاحی تقریب میں ممبر قومی اسمبلی ندیم عباس ربیرہ، ایم پی اے چوہدری جاوید علاؤالدین، ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید، اسسٹنٹ کمشنر انعم علی خان، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فواد افتخار، ہسپتال انتظامیہ اور میڈیا نمائندگان بھی موجود تھے۔

    صوبائی وزیر نے ڈائیلسز وارڈ کی بروقت تکمیل پر ڈپٹی کمشنر اور ایم ایس کی کاوشوں کو سراہا اور ہسپتال انتظامیہ کو مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں دس مزید ڈائیلسز مشینیں ہسپتال کو فراہم کی جائیں گی، جس سے مریضوں کو اپنے ہی شہر میں معیاری علاج کی سہولت میسر ہوگی۔

    خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ پنجاب بھر میں جلد ہزاروں نئے ڈاکٹرز، کنسلٹنٹ اور سپیشلسٹ بھرتی کیے جائیں گے، اور ڈاکٹروں کی کارکردگی کے لیے کے پی آئیز بنائے جائیں گے۔ ہسپتالوں میں ایل پی کے ذریعے مریضوں کو تمام ضروری ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چھوٹے شہروں میں جدید طبی سہولیات کے ذریعے بھی مریضوں کا مکمل علاج ممکن ہوگا، اور وزیراعلیٰ پنجاب کے روڈ میپ پر عملدرآمد سے ہسپتالوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔

  • کندھ کوٹ: ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

    کندھ کوٹ: ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

    کندھ کوٹ (نامہ نگار) میونسپل کمیٹی کندھ کوٹ کے ریٹائرڈ ملازمین نے اپنی واجب الادا تنخواہوں، ڈیفرنس اور نئی مقررہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف پریس کلب کندھ کوٹ کے سامنے شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور میونسپل انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

    احتجاج کے دوران یعقوب شیخ، سرداران شیخ، مائی منیران شیخ، مائی شانی، نبی بخش شیخ، ماروی شیخ اور غلام شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ریٹائر ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے، مگر تاحال نہ تو ان کی بقایاجات تنخواہیں ادا کی گئی ہیں اور نہ ہی ڈیفرنس اور نئی تنخواہیں جاری کی گئی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل میونسپل کمیٹی کے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں مگر عملہ ملنے کو تیار نہیں اور کلرک ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے اور بچے بھوک برداشت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ قرض خواہ روزانہ تنگ کر رہے ہیں۔

    مظاہرین نے میونسپل کمیٹی کے چیئرمین میر غلام راشد خان سندرانی، سی ایم او مقصود جتوئی اور دیگر متعلقہ افسران سے فوری طور پر بقایاجات تنخواہیں، ڈیفرنس اور نئی تنخواہیں ادا کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ان کے گھروں کے چولہے جل سکیں۔ بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

  • صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود انتقال کرگئے

    صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود انتقال کرگئے

    آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقال کرگئے۔

    خاندانی ذرائع نے صدر بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال کی تصدیق کردی ہے بیرسٹر سلطان محمود کی نماز جنازہ ان کے آبائی ضلع میرپور میں ادا کی جائےگی۔

    واضح رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کچھ عرصہ سے علالت کے باعث سیاسی سرگرمیوں سے دور ہو گئے تھے، جس کے بعد اسپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے قائم مقام صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی تھیں۔

    بیرسٹر سلطان محمود کو 2021 کے عام انتخابات کے بعد صدر ریاست بنایا گیا تھا،بیرسٹر سلطان محمود نے حال ہی میں اپنے گروپ سمیت پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اس سے قبل وہ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کا حصہ تھے۔

    ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا، ان کے والد چوہدری نور حسین بھی کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں نام رہے، جنہوں نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر کے ’آزاد مسلم کانفرنس‘ کے نام سے اپنی جماعت بنائی اور اسی پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

    بیرسٹر سلطان محمود نے برطانیہ سے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور 1980 کی دہائی میں وطن واپسی کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا۔ واپسی پر انہوں نے اپنے والد کی قائم کردہ جماعت آزاد مسلم کانفرنس کی قیادت سنبھالی۔

    1985 میں وہ پہلی بار قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے 8 مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور اس سیاسی سفر کے دوران ایک مرتبہ وزیراعظم اور ایک مرتبہ اپوزیشن لیڈر اور پھر صدر ریاست کے عہدے پر فائز ہوئے-

  • پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار قرضہ وقت سے پہلے واپس کردیا

    پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار قرضہ وقت سے پہلے واپس کردیا

    پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار قرضہ وقت سے پہلے واپس کر دیا، مالی سال 2026 میں قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی مالی سال 2025 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ رہی۔

    پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر قرضے مقررہ میعاد سے قبل واپس کرکے ایک اہم معاشی سنگ میل حاصل کر لیا ہے،وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ 2024 کے آخر سے جنوری 2026 تک صرف 14 ماہ کے دوران پاکستان کی حکومت نے مجموعی طور پر 3 ہزار 654 ارب روپے کا اندرونی قرضہ وقت سے پہلے واپس کر دیا ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔

    تازہ ترین ادائیگی کے تحت حکومت نے جنوری 2026 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 300 ارب روپے ادا کیے جبکہ مالی سال 26 کے ابتدائی سات ماہ (جولائی 2025 تا جنوری 2026) میں 2,150 ارب روپے سے زائد قرضہ قبل از وقت واپس کیا گیا،مالی سال 26 میں قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی مالی سال 25 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ قبل از وقت ادائیگیوں میں 65 فیصد اسٹیٹ بینک، 30 فیصد ٹی بلز اور 5 فیصد پی آئی بیز شامل ہیں۔

    بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    ان ادائیگیوں کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کا قرضہ 5,500 ارب سے کم ہو کر تقریباً 3,000 ارب روپے رہ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا وہ قرضہ جس کی میعاد 2029 میں پوری ہونی تھی، مدت سے قبل ادا کر دیا گیا۔ پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد تک آ گیا، بہتر قرض نظم و نسق کے باعث مالی سال 25 میں 850 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

    وزیراعظم نے پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا افتتاح کردیا

  • بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک میں بارش اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کر دی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں آج سے تین فروری تک بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہےشمالی بلوچستان اور شمالی علاقوں میں آئندہ چند روز کے دوران بارش اور برفباری کا امکان ہے،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برفباری کی توقع ہےاسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، مری، گلیات اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے،محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے، جس کے باعث شہریوں اور مسافروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد،شہداء کے لواحقین سے ملاقات،وزیراعلیٰ بلوچستان ہمراہ

    وزیراعظم نے پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا افتتاح کردیا

    ایران کے شہر بندر عباس میں دھماکا

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد،شہداء کے لواحقین سے ملاقات،وزیراعلیٰ بلوچستان ہمراہ

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد،شہداء کے لواحقین سے ملاقات،وزیراعلیٰ بلوچستان ہمراہ

    کوئٹہ ،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد، امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی رابطے،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی شہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے پولیس لائن پہنچ گئے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی،شہداء کے لواحقین سے ملاقات کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی آبدیدہ ہو گئے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی، ہمارے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کا جرات اور عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا، ریاست ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور کھڑی رہے گی، شہداء رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھیں گے، یہ عظیم قربانی ہے،ہمارے شہداء نے بہت بڑی قربانی دی، بلوچستان کے عوام ان کے خون کے مقروض ہیں، میرا شہداء کے لواحقین سے وعدہ ہے کہ خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا،شہداء کے ورثاء حوصلہ اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں،

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نہایت بہادر اور باہمت ہیں،ہمارے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی، شہداء کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، پوری قوم ان کو سلام پیش کرتی ہے،

  • مرکزی مسلم لیگ کا دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر سیکورٹی اداروں کو خراج تحسین

    مرکزی مسلم لیگ کا دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر سیکورٹی اداروں کو خراج تحسین

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے، دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے مرکزی مسلم لیگ سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل سے سیکیورٹی فورسز کی بروقت، جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارروائیوں نے ایک بڑے قومی سانحے کو ٹال دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔فتنۃ الہندوستان کے ذریعے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی منظم کوششیں دراصل پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی پر حملہ ہیں، جنہیں قوم کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی،مرکزی مسلم لیگ بہادر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے، دہشت گردی کے پس پردہ ہاتھوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جائے اور بلوچستان کی ترقی، روزگار اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید تیز کیا جائے ۔

    خالد مسعود سندھو نے دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کے دوران شہید سیکورٹی اہلکاروں کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے.