Baaghi TV

Blog

  • غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک طرف دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور دوسری طرف ہم آج بھی الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری اور لاحاصل مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی رسم، جسے کبھی بسنت اور کبھی روایت کا نام دے دیا جاتا ہے، اس پر گھنٹوں کی بحث قوم کی ترجیحات پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کے مباحث پہلے بھی ہمارے فکری زوال کا سبب بنے،کبھی “کوا حلال ہے یا حرام” جیسے موضوعات نے ذہنوں کو الجھائے رکھا، اور آج وہی روش نئے عنوانات کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔

    اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا شوق درست ہے یا غلط، اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں؟ کیا دنیا پتنگیں اڑا کر آگے بڑھی ہے، یا تعلیم، تحقیق، صنعت اور مضبوط معیشت کے ذریعے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک میں آج بھی عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور تعلیمی نظام اور ناقص صحت کی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں قومی مکالمہ اصل مسائل کے بجائے غیر سنجیدہ موضوعات کے گرد گھوم رہا ہو۔

    میڈیا کا کردار قوم کی رہنمائی اور شعور کی بیداری ہے، مگر جب توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے تو عوامی سوچ بھی منتشر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت اور توجہ قیمتی قومی سرمایہ ہیں۔ اگر یہ سرمایہ غیر ضروری بحثوں میں ضائع ہوتا رہا تو نقصان صرف آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، درست ترجیحات طے کریں اور قومی بیانیے کو ترقی، اصلاحات اور عوامی فلاح کی سمت موڑیں۔ بصورت دیگر افسوس کے سوا ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔

  • بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ نافذ

    بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ نافذ

    بھارت میں نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہنگامی حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں اور زمینی سرحدوں پر اسکریننگ کے عمل کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جب کہ ہر آنے والے اور ٹرانزٹ مسافر کی 100 فیصد اسکریننگ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت صحت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری ہسٹری کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ نیپاہ وائرس سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے افراد پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ ہر مسافر کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کلیئرنس مکمل ہونے تک کسی بھی فرد کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے کم از کم پانچ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جس کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان میں احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    ادھر بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد محکمہ صحت سندھ نے بھی باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے، تاہم اطمینان بخش بات یہ ہے کہ پاکستان میں تاحال نیپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    ایڈوائزری کے مطابق نیپاہ وائرس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جب کہ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، جسم میں درد اور الٹی شامل ہیں۔ محکمہ صحت سندھ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتال الرٹ ہیں اور وفاقی وزارت صحت کی جاری کردہ گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر ہی اعتماد کریں۔

  • افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت  ردعمل

    افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت ردعمل

    افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت ردعمل سامنے آ گیا

    افغان طالبان رجیم نے مذموم عزائم کے لئے اظہارِرائے کی آزادی پر نئی پابندیاں عائد کر دیں،افغان طالبان رجیم نےذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے بعدمیڈیاسپورٹ تنظیموں کے پرمٹ بھی منسوخ کر دیے،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ؛یہ اقدا م افغانستان میں آزادی اظہار رائے کو دبانے اور میڈیا پر کنٹرول قائم کرنے کی مذموم کوشش کا حصہ ہیں ، طالبان رجیم میں میڈیا سپورٹ تنظیمیں پہلے ہی دھمکیوں، پابندیوں اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں ،افغان طالبان کے انتہا پسندانہ اقدامات میڈیا کو زیادہ موثر اور منظم بنانے کے دعوی ٰکے برخلاف ہیں ،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی آمرانہ سوچ اورغیر منصفانہ فیصلے سے آزاد میڈیا کو خطرہ اور صحافت مزید غیر محفوظ ہو گئی ہے،افغان طالبان جوابدہی ،شفافیت اورانسانی حقوق کی پامالیوں کو دبانے اوراپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے میڈیا پر شکنجے مزید مضبوط کررہےہیں ،افغانستان میں میڈیا پر پابندیاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سچ،اختلاف رائے اور عوامی شعور کے خاتمے کی مذموم کوشش ہے

  • طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی

    طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی

    طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی، متبادل سہولتوں کے بغیر ایک اور قدغن

    افغانستان میں طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر صوبہ نورستان میں خواتین کی مشقت اور مزدوری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مقامی اطلاعات کے مطابق نورستان میں خواتین برسوں سے پہاڑی علاقوں سے سر پر لکڑیاں لانے سمیت سخت جسمانی مشقت کے کام انجام دیتی رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ معاشی مجبوری، غربت اور حکومتی سہولیات کا فقدان ہے۔ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت پر پہلے ہی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور اب محنت مزدوری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

    اس فیصلے کے ساتھ کوئی متبادل روزگار، مالی مدد یا سماجی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ طالبان ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ نورستان کے بعد دیگر صوبوں میں بھی ایسے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔

  • سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں،عبدالعلیم خان

    سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں،عبدالعلیم خان

    این ایچ اے نے کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے کرتارپور کی موٹروے دیگر منسلک شہروں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگی، نارنگ منڈی اور بدو ملہی کے شہری بھی اس موٹروے سے مستفید ہو نگے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا اہم اقدام، کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ہدایت کی ہے کہ سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں، نئی موٹروے کو گرونانک ایکسپریس وے کے نام سے منسوب کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ کرتار پور ہائی وے کے گرد تھری، فور اور فائیو اسٹار ہوٹل بنائے جائیں گے، سکھ کمیونٹی کی سرمایہ کاری کیلئے لندن، کینیڈا اور امریکا میں اشتہارات دیں گے، سکھوں کے مقدس مقامات کیلئے این ایچ اے عالمی سطح پر مارکیٹنگ کرے گی۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے کے ننکانہ صاحب اور کرتارپور کے منصوبے گیم چینجر ثابت ہونگے، این ایچ اے ان منصوبوں کو عالمی روڈ شو میں شامل کرے، این ایچ اے بہترین ریسٹ ایریاز اور شاپنگ مال کی تعمیر یقینی بنائے گی۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے کرتارپور کی موٹروے دیگر منسلک شہروں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگی، نارنگ منڈی اور بدو ملہی کے شہری بھی اس موٹروے سے مستفید ہو نگے۔

  • ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا،عطا تارڑ

    ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیدیا۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ آنکھوں کے ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ انہیں پمز لے جانا ضروری ہے، ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا، جہاں مزید طبی معائنہ ہوا، ان کی رضا مندی کے بعد 20 منٹ کی طبی کارروائی ہوئی، جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ منتقل کردیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی بالکل ٹھیک ہیں، سوشل میڈیا پر آنے والی باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں، طبی معائنے کے دوران بھی وہ مکمل صحت مند تھے، تمام قیدیوں کو ڈاکٹرز تک رسائی دینا رولز کے مطابق ہے۔

  • سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سنادیا

    سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سنادیا

    سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سنادیا-

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم پچھلے تمام واجبات حاصل کرنے کا حق دار ہےعدالت نے تمام بقایا جات ایک ماہ کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا اور خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جو پولیس اہلکاروں کے پچھلے واجبات دینے سے انکار کر رہا تھا،سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے یہ فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا ہے-

    سپریم کورٹ نے فیصلے کے آغاز میں ایک نظم کے الفاظ درج کیے جس کے مطابق انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے جبکہ عدا لت نے ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    عدالت نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے صوابدیدی اختیارات ایک مقدس امانت ہیں، جو محض ذاتی پسند ناپسند کے لیے استعما ل نہیں کی جا سکتی۔

    سپریم کورٹ نے ملازمین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملازم کو صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا۔ جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔

    بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد ان کے پچھلے واجبات روک دیے گئے تھے،ملازمین کی استدعا تھی کہ بحالی کے بعد انہیں تمام پچھلے واجبات بھی ملنے چاہئیں، جبکہ محکمہ پولیس کا موقف تھا کہ پچھلے واجبات کی ادائیگی اتھارٹی کی صوابدید پر ہے-

  • جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    تعارف
    جھیلِ طبریہ—جسے بحرِ طبریہ، سی آف گلیل یا کنیرت بھی کہا جاتا ہے—شمالی فلسطین/اسرائیل میں واقع ایک میٹھے پانی کی جھیل ہے جو یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں میں غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ روحانی علامت سے بڑھ کر، آج یہ جھیل مذہب، قومی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے نازک امتزاج پر واقع ہے، جس کے باعث یہ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ زیرِ نگرانی آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔

    یہودی مذہبی اہمیت
    یہودیت میں جھیلِ طبریہ یہودی تاریخ اور علمی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
    جھیل کے مغربی کنارے واقع شہر طبریہ، دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد یہودی تعلیم و فقہ کا ایک مرکزی مرکز بن گیا۔
    متعدد جلیل القدر یہودی علماء اور بزرگ اس کے اطرافی علاقوں میں مدفون ہیں۔
    تاریخی طور پر یہ جھیل ایک اہم میٹھے پانی کا ذریعہ رہی ہے، جس نے شمالی فلسطین میں زراعت اور آبادیوں کو سہارا دیا۔
    یہودی روایت میں جھیلِ طبریہ وراثت، تسلسل اور بقا کی علامت ہے۔

    عیسائی مذہبی اہمیت
    عیسائیوں کے نزدیک بحرِ طبریہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اور تبلیغی مشن سے وابستہ مقدس ترین مقامات میں شامل ہے:
    حضرت عیسیٰؑ نے اس کے کناروں پر واقع بستیوں—کفرناحوم، بیت صیدا اور مگدلہ—میں وسیع پیمانے پر تبلیغ کی۔
    اس جھیل سے منسوب کئی عظیم معجزات بیان کیے جاتے ہیں:
    پانی پر چلنا
    طوفان کو پرسکون کرنا
    مچھلیوں کا معجزاتی شکار
    حواریوں کی دعوت
    یہ علاقہ حضرت عیسیٰؑ کی عوامی دعوت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اسی لیے جھیلِ طبریہ آج بھی دنیا بھر کے عیسائیوں کے لیے ایک بڑا زیارتی مقام ہے۔

    اسلامی نقطۂ نظر اور نبوی اہمیت
    اسلام میں جھیلِ طبریہ—جسے صحیح احادیث میں بحیرۂ طبریہ کہا گیا ہے—قیامت سے پہلے کے حالات (علاماتِ قیامت) میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور دجال کے ظہور سے براہِ راست منسلک ہے۔
    صحیح حدیث کا حوالہ
    حضرت فاطمہ بنت قیسؓ سے مروی ایک معروف روایت، جو صحیح مسلم میں مذکور ہے، میں حضرت تمیم داریؓ کا ایک جزیرے پر ایک زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص سے سامنا بیان کیا گیا، جسے بعد ازاں نبی اکرم ﷺ نے دجال قرار دیا۔
    صحیح مسلم، حدیث 2942
    دجال کے سوالات میں ایک سوال یہ تھا:
    کیا بحیرۂ طبریہ میں پانی موجود ہے؟
    جب بتایا گیا کہ ابھی پانی موجود ہے تو اس نے کہا:
    “قریب ہے کہ یہ خشک ہو جائے گا۔”
    نبی کریم ﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی، یوں بحیرۂ طبریہ کا خشک ہو جانا دجال کے ظہور سے قبل کی بڑی علامات میں شامل قرار پایا۔
    علمائے اسلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عارضی کمی یا موسمی اتار چڑھاؤ اس پیش گوئی کے مصداق نہیں؛ بلکہ اس سے مراد جھیل کا مکمل طور پر خشک ہو جانا ہے۔
    دجال کی جسمانی علامات (جیسا کہ صحیح احادیث میں بیان ہوا)
    نبی اکرم ﷺ نے امت کو فتنۂ دجال سے بچانے کے لیے اس کی واضح نشانیاں بیان فرمائیں:
    دجال کانا ہوگا
    اس کی دائیں آنکھ اندھی ہوگی، جسے یوں بیان کیا گیا:
    “گویا ابھرا ہوا انگور” (صحیح بخاری 3438؛ صحیح مسلم 2933)
    اس کی پیشانی پر لفظ “کافر” (كافر) لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا
    وہ جھوٹا دعویٰٔ الوہیت کرے گا اور فریب پر مبنی کرتب دکھائے گا
    اس کا فتنہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔

    جدید اسٹریٹجک اور سلامتی کا پہلو
    موجودہ دور میں جھیلِ طبریہ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک اہمیت بھی اختیار کر چکی ہے:
    اسرائیل قومی آبی نظم و نسق اور ماحولیاتی توازن کے باعث جھیلِ طبریہ کی سطحِ آب کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
    جھیل کے گرد بعض علاقوں میں رسائی محدود ہے، اور اطراف کے کچھ حصوں کو وقتاً فوقتاً حساس یا عسکری کنٹرولڈ زون قرار دیا جاتا رہا ہے۔
    شہری نقل و حرکت، ماہی گیری اور تعمیراتی سرگرمیاں، خصوصاً اسٹریٹجک تنصیبات کے قریب، سخت ضوابط کے تحت ہیں۔
    گزشتہ دہائیوں میں پانی کی سطح میں کمی نے اس جھیل کو محض مذہبی مقام سے بڑھا کر ایک اسٹریٹجک اثاثہ بنا دیا ہے، جس پر ریاستی ادارے کڑی نظر رکھتے ہیں۔
    یہ نگرانی نہ صرف ماحولیاتی خدشات کی عکاس ہے بلکہ پانی کی قلت کے شکار خطے میں میٹھے پانی کی جغرافیائی سیاست کی حساسیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

    اسلامی عقیدے میں حضرت عیسیٰؑ کا کردار
    اسلامی عقیدے کے مطابق دجال کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے قریب نزول فرمائیں گے اور بالآخر دجال کو قتل کریں گے، جس کے نتیجے میں عدل، حق اور اخلاقی نظام بحال ہوگا—اس سے قبل کہ انسانی تاریخ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو۔

    خلاصہ
    جھیلِ طبریہ ایمان، نبوت اور سلامتی کے ایک منفرد سنگم کی حیثیت رکھتی ہے۔
    یہودیوں کے لیے یہ علمی وراثت کی علامت ہے؛ عیسائیوں کے لیے حضرت عیسیٰؑ کی دعوت کی زندہ سرزمین؛ اور مسلمانوں کے لیے انسانیت کے آخری امتحانات سے جڑی ایک واضح نبوی نشانی۔
    جدید دور میں اس کی سخت نگرانی اور محدود حیثیت اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ جھیلِ طبریہ محض ایک مذہبی یادگار نہیں—بلکہ ایک اسٹریٹجک، علامتی اور نبوی مرکز ہے، جس کی اہمیت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔

  • بیٹے کی شادی پرمریم نواز کے ساتھ تصویر نہ ہونے کے سوال پر کیپٹن صفدر نے کیاجواب دیا؟

    بیٹے کی شادی پرمریم نواز کے ساتھ تصویر نہ ہونے کے سوال پر کیپٹن صفدر نے کیاجواب دیا؟

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر سابق کیپٹن (ر) صفدر نے اپنے بیٹے کی شادی میں اپنی بیوی کے ساتھ مشترکہ تصاویر نہ ہونے کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے دیا ہے۔

    کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی لاہور کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہوئی، جوسوشل میڈیا پر کئی دن تک زیر بحث رہی، شادی کی تقریب کی زیادہ تر تصاویر میں مریم نواز نظر آئیں، جبکہ کیپٹن صفدر کی چند ہی تصاویر سامنے آئیں،سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ شادی میں جوڑے کی مشترکہ تصاویر کیوں نہیں ہیں۔

    اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن صفدر نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو آج ہی میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک تصویر بھیج سکتا ہوں، مسئلہ صرف تصاویر کا نہیں ہے، بلکہ دلوں کا جڑا ہونا اہم ہے، ہمارے دل گہرائی سے جڑے ہیں، جب یہ دل دھڑکتا ہے تو وہ بھی دھڑکتا ہے، اور جب وہ دھڑکتا ہے تو یہ بھی دھڑکتا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کیپٹن (ر) صفدر نے کہا کہ جو لوگ ہمارے بیٹے کی شادی پر تنقید کرتے ہیں، میں دعا کروں گا کہ اللہ ان کے گھروں میں بھی خوشیاں لائے میں سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، چاہے وہ تنقید کرنے والے ہوں یا خیر مقدم کرنے والے، جنہوں نے ہماری خوشی میں شرکت کی۔

    بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

  • پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    مشال یوسفزئی نے انکشاف کیا ہے کہ شیخ وقاص اکرم کے ذریعے جاری پریس ریلیز میں وہ تمام اہم فیصلے غائب ہیں جو کور کمیٹی کی میٹنگ میں طے پائے تھے۔

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کی گئی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کور کمیٹی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں 2 گھنٹے طویل نشست کے بعد لیے گئے فیصلے شامل نہیں ہیں اور یہ پریس ریلیز اصل میٹنگ کے منٹس سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس میں عمران خان کے احکامات، ملاقاتوں یا شوکت خانم کے ڈاکٹروں کی رسائی کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں ہے۔

    ملائیشین مذہبی امور کے وزیر کے ہم جنس پرستی کے بیان نے شدید تنازع کھڑا کر دیا

    مشال یوسفزئی نے کہا کہ شیخ وقاص اکرم کے ذریعے جاری پریس ریلیز میں وہ تمام اہم فیصلے غائب ہیں جو کور کمیٹی کی میٹنگ میں طے پائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پریس ریلیز میں جو معلومات دی گئی ہیں، وہ حقیقت سے مختلف ہیں اور میٹنگ کے اصل منٹس سے مطابقت نہیں رکھتیں، میٹنگ میں کئی دیگر اہم امور پر بات ہوئی جو پریس ریلیز میں شامل نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے پارٹی کے اندرونی فیصلوں کی مکمل تصویر عوام کے سامنے نہیں آ رہی۔

    بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    یہ واضح رہے کہ پریس ریلیز پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کی جانب سے جاری کی گئی تھی، تاہم مشال یوسفزئی کے مطابق اس میں کور کمیٹی کی میٹنگ میں ہونے والے حقیقی فیصلوں کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔