Baaghi TV

Blog

  • مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں  گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں بطور گارنٹی جمع کروائے گئے 7 کروڑ روپے کی واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس کیس کو بے بنیاد قرار دے کر پہلے ہی خارج کر چکا ہے، اس لیے کیس کے خاتمے کے بعد بطور گارنٹی جمع کرائی گئی رقم واپس کی جائے۔درخواست کی سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل ہیں۔

    درخواست گزار مریم نواز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب نے مکمل تحقیقات کے بعد کسی بھی قسم کے الزامات ثابت نہ ہونے پر کیس کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے باوجود دورانِ سماعت بطور گارنٹی جمع کرائی گئی خطیر رقم تاحال واپس نہیں کی گئی، جو آئینی اور قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔
    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کسی مقدمے کو متعلقہ ادارہ خود ہی بے بنیاد قرار دے کر ختم کر دے تو ایسی صورت میں ضمانت کے طور پر جمع کرائی گئی رقم کو روکے رکھنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت عالیہ اس رقم کی فوری واپسی کا حکم صادر کرے۔

  • انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    ادب کی تاریخ میں بعض لمحات محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتے بلکہ روایت، شناخت اور فکری تسلسل کی علامت بن جاتے ہیں۔ انجمن ترویجِ زبان و ادب کے قیام کو مکمل ہونے والا پہلا برس بھی ایسا ہی ایک یادگار اور بامعنی لمحہ تھا، جسے انجمن کے اراکین نے محبت، وقار اور اعلیٰ ادبی شعور کے ساتھ منایا۔ اولین یومِ تاسیس کی یہ تقریب دراصل لفظ، احساس اور رفاقت کا جشن تھی، جہاں قلم نے دلوں سے مکالمہ کیا اور ادب نے روحوں کو یکجا کر دیا۔

    تقریب کا آغاز شکرگزاری، دعا اور اس پختہ عزم کے ساتھ ہوا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب اردو زبان و ادب کے فروغ کا وہ چراغ ہے جو اخلاص، محنت اور فکری دیانت سے روشن کیا گیا ہے۔ اسی روحانی فضا میں محمد اویس کی دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرتی حمد و نعت پیش کی گئی، جس نے انجمن کو روحانی و نورانی حرارت سے سرور بخشا۔ ان کی مترنم آواز، خلوصِ عقیدت اور اثرانگیز انداز نے حاضرین کے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے گرمایا اور محفل کو روحانی سکون سے ہمکنار کیا۔

    اس موقع پر انجمن کی بانی و سرپرست پارس کیانی کو پُرخلوص خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے فکری وژن، گہرے ادبی شعور اور سنجیدہ رہنمائی نے اس خواب کو عملی صورت عطا کی۔ ان کا قلم اور ان کی قیادت انجمن کی فکری بنیاد اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔منتظم اعلیٰ سلیم خان اور بانی و سرپرست پارس کیانی نے تقریب میں موقع کی مناسبت سے روح کی غذایت کا اہتمام خوبصورت گیتوں کے انتخاب کی صورت میں کیا اور ثابت کیا کہ ایسے برمحل انتخاب محفل کو توازن، لطافت اور داخلی سکون عطا کرتے ہیں۔

    منتظمِ اعلیٰ سلیم خان کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کی بے لوث قیادت، ادب نوازی، انسان دوستی اور مسلسل عملی تعاون نے انجمن کو استحکام بخشا۔ وہ محض نظم و نسق کے نگران نہیں بلکہ محبتوں کے سفیر اور ادب کے سچے خادم ہیں۔ انہوں نے بھی روح کو سرشار کرنے والے گیتوں کے انتخاب سے انجمن کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

    تقریب میں سابق منتظمِ ثانی احمد منیب کا تذکرہ نہایت عقیدت اور احترام سے کیا گیا، جو اپنی نجی مصروفیات کے باعث اس وقت انجمن سے رخصت پر ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی، علمی ذوق اور ادبی وابستگی کو انجمن کی تاریخ کا قیمتی حوالہ قرار دیا گیا۔انتظامی ٹیم میں منتظمہ عمارہ کنول چوہدری، منتظم خان عبداللہ ایلیاء اور منتظمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی منظم، مخلص اور فعال خدمات کو انجمن کے تسلسل اور استحکام کی ضمانت قرار دیا گیا۔ ان کی انتھک محنت نے انجمن کو ایک مربوط، شائستہ اور باوقار ادبی پلیٹ فارم بنایا۔فعال اراکینِ انجمن کی خدمات تقریب کا روشن اور قابلِ فخر باب رہیں۔ ڈاکٹر ارشاد خان کو قادرالکلام شاعر و نثر نگار کی حیثیت سے فکری گہرائی اور ادبی وقار کی علامت قرار دیا گیا۔ خواجہ ثقلین سمیط کی بذلہ سنجی، شعری مہارت اور لفظوں کے برمحل استعمال نے محفل کو تازگی اور توانائی بخشی۔ رانا طارق بلال کے روزانہ سلامتی اور خیرسگالی پر مبنی پیغامات کو روحانی خوشبو سے تعبیر کیا گیا۔ عبدالرحمان واصف کے کلام میں سچائی اور اثر پذیری کو نمایاں طور پر سراہا گیا، جبکہ سید عارف لکھنوی کی حمد، نعت اور منقبت کو عقیدت اور فن کا حسین امتزاج قرار دیا گیا۔

    ڈاکٹر شگفتہ کی غزل گوئی کو نسائی حساسیت اور شعری لطافت کی نمائندہ کہا گیا۔ پروفیسر محمد صدیق بزمی کی علمی بصیرت، ادبی وقار اور وقیع انتخاب کو انجمن کا قیمتی علمی سرمایہ قرار دیا گیا۔ ثاقب قریشی، چٹکلوں کے بادشاہ، نے اپنی بذلہ سنجی سے محفل میں مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ ملک عدیل عاصم کی ادبی خدمات، محمد ساجد کی سنجیدہ اور معیاری ادبی ترسیلات، محمد عتیق الرحمن کی علمی جستجو اور فضل کریم کے قرآن و سنت پر مبنی اصلاحی و فکری پیغامات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

    تقریب کا ایک نہایت قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا پہلو انجمن کی جانب سے بہترین کارکردگی کے حامل اراکین کو اسنادِ اعزاز جاری کرنے کی روایت کا آغاز تھا۔ اس اقدام کو اراکین کی حوصلہ افزائی، ادبی خدمات کے اعتراف اور مثبت مسابقت کے فروغ کی عمدہ مثال قرار دیا گیا۔اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب آئندہ بھی شائستگی، برداشت، اخلاص اور فکری دیانت کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہے گی۔ دعا کی گئی کہ یہ ادبی قافلہ یوں ہی علم، محبت اور خیر بانٹتا رہے اور آنے والے برس اس کی تاریخ میں مزید روشن اور یادگار ابواب کا اضافہ کریں۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • دو سالہ بچے نے اسنوکر میں دو گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیے

    دو سالہ بچے نے اسنوکر میں دو گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیے

    ‎اسنوکر ایک ایسا کھیل ہے جو بیشتر بالغ افراد کے لیے بھی کھیلنا مشکل سمجھا جاتا ہے، مگر دو سالہ بچے نے اس کھیل میں غیر معمولی کارنامہ انجام دے دیا۔
    ‎برطانوی شہر مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے جوڈی اوئنز نے اسنوکر سے جڑے دو گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیے ہیں اور مشکل شاٹس کھیلنے والے کم عمر ترین فرد بن گئے ہیں۔
    ‎گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق جوڈی اوئنز نے 12 اکتوبر 2025 کو پول بینک شاٹ کامیابی سے کھیلا، اس وقت ان کی عمر 2 سال اور 302 دن تھی۔ اس سے قبل انہوں نے 2 سال اور 261 دن کی عمر میں اسنوکر ڈبل پوٹ مکمل کر کے ایک اور ریکارڈ قائم کیا تھا۔
    ‎ان کامیابیوں کے بعد جوڈی اوئنز کا نام باضابطہ طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈز میں شامل کر لیا گیا ہے۔

  • برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر تین روزہ دورے پر چین پہنچ گئے

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر تین روزہ دورے پر چین پہنچ گئے

    ‎برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر تین روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچ گئے ہیں۔
    ‎غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یہ 2018 کے بعد کسی بھی برطانوی وزیراعظم کا پہلا دورۂ چین ہے۔ کیئر اسٹارمر کی چین کے صدر شی جن پنگ سے جمعرات کو ملاقات متوقع ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم کے ہمراہ 60 کاروباری اور ثقافتی شخصیات بھی چین پہنچی ہیں۔
    ‎برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران چین کے ساتھ معاشی تعلقات پر بات چیت کی جائے گی، جبکہ انسانی حقوق اور سائبر سکیورٹی سے متعلق امور بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔

  • دبئی نے دنیا کی پہلی سونے کی سڑک بنانے کا اعلان کر دیا

    دبئی نے دنیا کی پہلی سونے کی سڑک بنانے کا اعلان کر دیا

    ‎دبئی حکومت نے دنیا کی پہلی گولڈ اسٹریٹ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے نئے گولڈ ڈسٹرکٹ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس نئی سڑک پر تجارتی سرگرمیاں جلد شروع ہو جائیں گی۔
    ‎دبئی کے گولڈ ڈسٹرکٹ میں ایک نیا سیاحتی مقام بھی قائم کیا جائے گا، جہاں منصوبے اور ڈیزائن مرحلہ وار پیش کیے جائیں گے۔ یہاں ہزار سے زائد گولڈ ریٹیلرز کے ساتھ ایک جدید مرکز تعمیر کیا جائے گا۔
    ‎دبئی حکومت کے مطابق اس نئے مرکز میں ریٹیل، ہول سیل اور سرمایہ کاری کے تمام شعبے ایک جگہ جمع ہوں گے اور مکمل سونے اور زیورات کی ویلیو چین یہاں دستیاب ہوگی۔
    ‎اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ سونا دبئی کی شان اور تجارتی ورثے کی علامت ہے اور یہ منصوبہ شہر کی عالمی تجارتی حیثیت کو مزید مضبوط کرے گا۔

  • بھارتی صحافی کی آئی سی سی ، بی سی سی آئی کی ورلڈ کپ پالیسیوں پر سخت تنقید

    بھارتی صحافی کی آئی سی سی ، بی سی سی آئی کی ورلڈ کپ پالیسیوں پر سخت تنقید

    ‎آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلا دیش کے ایونٹ سے باہر ہونے اور پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کے امکان پر بھارتی صحافی شاردا اگرا نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی پر شدید تنقید کی ہے۔
    ‎شاردا اگرا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کا دفتر اب بی سی سی آئی کا دبئی آفس بن چکا ہے اور آئی سی سی وہی کرتا ہے جو بی سی سی آئی چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ آئی سی سی کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بھی واضح تھا۔
    ‎بھارتی صحافی نے کہا کہ ورلڈ کپ کے موجودہ مسائل نہایت بھونڈے انداز میں ہینڈل کیے گئے ہیں اور اس سے آئی سی سی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بنگلا دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالا گیا، اور پاکستان کا رویہ ماضی میں بھارت کے رویے کا ردعمل ہو سکتا ہے۔
    ‎شاردا اگرا نے مزید کہا کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنا سیاسی فیصلہ تھا اور بی سی سی آئی بھارت کے حکمرانوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی ٹیم کو پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے کس نے روکا، اور یہ آج تک واضح نہیں ہوا۔

  • سعودی عرب ,قطر کے شام کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے عالمی بینک کو 15 ملین ڈالر ادا

    سعودی عرب ,قطر کے شام کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے عالمی بینک کو 15 ملین ڈالر ادا

    ‎سعودی عرب اور قطر نے عالمی بینک کو شام کے بقایاجات کی ادائیگی کرتے ہوئے تقریباً 15 ملین (ڈیڑھ کروڑ) ڈالر ادا کیے ہیں، جس کا مقصد شام کی معیشت کی بحالی اور تیز رفتار ترقی میں مدد فراہم کرنا ہے۔
    ‎سعودی پریس ایجنسی (SPA) کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب اور قطر نے اعلان کیا کہ انہوں نے شام کے عالمی بینک کے بقایاجات کی ادائیگی مکمل کر دی ہے۔ خلیجی ممالک کی وزارت خزانہ نے بیان میں کہا کہ یہ اقدام شامی عرب جمہوریہ کی معیشت کی بحالی میں تعاون اور تیزی لانے کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق، ریاض نے عالمی بینک کو یہ رقم ادا کر کے شام کے پبلک سیکٹر کی بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں کے لیے لاکھوں ڈالر کی فنڈنگ گرانٹس کی منظوری کا راستہ ہموار کیا ہے۔ اس اقدام سے شام کی معیشت کو استحکام اور ترقی کی جانب مزید گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔

  • بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    بوسنیائی،افغان، چیچن و دنیا بھر کے مہاجرین کا میزبان پاکستان،تحریر: غنی محمود قصوری

    الحمدللہ اس ارض پاک پاکستان کے باشندوں کو میرے رب نے بہت کشادہ قلب عطاء کیا ہے جس میں امت کا درد موجود ہے،الحمدللہ اس ارض پاک نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر امت کے مفلسوں،مظلوموں اور مصیبت زدگان کی مدد کی ہے جس کاماضی بھی گواہ ہے اور حال بھی گواہ ہے،1990 کی دہائی انسانی تاریخ کے اُن المناک ادوار میں شمار ہوتی ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، ظلم اور جبر نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا،یورپ میں بوسنیا کے مسلمان نسل کشی کا شکار ہوئے تو خطے میں پہلے سے جاری افغان جنگ نے بھی کروڑوں افراد کو دربدر کر رکھا تھا،دوسری سمت چیچنیا میں بھی جنگ نے لاکھوں چیچن لوگوں کو سخت پریشان کر دیا تھا،ایسے حالات میں پاکستان وہ ملک بن کر سامنے آیا جس نے نسل، زبان اور جغرافیہ سے بالاتر ہو کر مظلوم انسانوں کو گلے لگایا،1994 کے دوران بوسنیا کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں ظالم درندہ صفت سرب افواج کے ہاتھوں قتلِ عام، اجتماعی قبروں کی دریافت اور جبری ہجرت نے عالمی ضمیر کو ہلا دیا

    6 اپریل 1992 کو بوسنیا نے یوگوسلاویہ سے آزادی کا اعلان کیا تو سرب فورسز نے جنگ شروع کر دی جس سے بوسنیا کے مختلف شہروں پر حملے شروع ہوئے،1992 تا 1993 میں بوسنیا کے شہر سرایوو، موستار، برچکو میں شدید لڑائیاں جاری رہیں اور شہری علاقوں میں محاصرے اور تباہی جاری ہو گئی،1993 میں اقوام متحدہ نے بوسنیا میں امن زونز کا اعلان کیا لیکن بہت سے علاقے محصور اور غیر محفوظ ہو گئے تو 1994 میں بوسنیا کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہوئے،کچھ ممالک نے انہیں پناہ دی تھی جن میں پاکستان بھی شامل ہے جس نے مہاجرین کو عارضی پناہ دی تھی،یہ مہاجرین اسلام آباد اور گردونواح میں مقیم رہے تھے

    11 سے 31 جولائی 1995 کو سربرینیتسا نسل کشی میں تقریباً 8,000 بوسنیائی مسلمان مرد اور جوان لڑکے شہید ہوئے تھے
    نومبر 1995 کو امریکی ثالثی کے تحت ڈیتون امن معاہدہ پر مذاکرات شروع ہوئے،دسمبر 1995 کو Dayton Peace Accords پر دستخط ہوئے اور جنگ رسمی طور پر ختم ہو گئی اور بوسنیا کو دو انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا گیا جس کے بعد
    1996 تا 1997 تک مہاجرین کی واپسی کا عمل شروع ہوا ، اس نازک وقت میں پاکستان نے نہ صرف بوسنیا کے حق میں عالمی سطح پر آواز بلند کی تھی بلکہ ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کو پاکستان لا کر عارضی پناہ گزین کیمپوں میں پناہ دی جنہیں اسلام آباد اور دیگر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں میں عزت، تحفظ، خوراک، علاج اور تعلیم کی سہولیات فراہم کی گئیں تھیں،جواب میں بوسنیائی باشندے آج بھی پاکستان کو خاص عزت دیتے ہیں

    یہی وہ پاکستان ہے جو اس سے قبل اور اس کے ساتھ ساتھ افغان پناہ گزینوں کا سب سے بڑا میزبان بھی بن چکا تھا
    سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے نتیجے میں لاکھوں افغان خاندان پاکستان آئے اور دہائیوں تک یہاں مقیم رہے،پاکستان کی عوام نے اپنی محدود وسائل کے باوجود افغان مہاجرین کو اپنے شہروں، دیہات، بازاروں اور گھروں میں جگہ دی، افغان پناہ گزینوں نے بھی پاکستان کی معیشت، مزدوری، تعمیرات، تجارت اور کاروبار میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی معاشرے کا حصہ بن کر رہے،وقت گزرتا گیا اور افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گی جسکی بڑی حد تک اسلامی نظام سے مماثلت تھی تاہم اس کے باوجود بھی افغان باشندے اپنے وطن جانے کو تیار نا ہوئے کیونکہ ان کو علم تھا یہ امن بھی عارضی ہو گا،وقت گزرتا گیا اور افغان پناہ گزین جعلی طریقے سے شناختی کارڈ بنوا کر باقاعدہ پاکستان کے شہری بننا شروع ہو گئے،نیز ان افغان لوگ نے مختلف قسم کے جرائم کیساتھ ساتھ جنگی جرائم میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا جس سے پاکستان کو سخت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑانیز افغان گورنمنٹ نے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو کھلے عام پناہ دینا شروع کر دی جس کو پاکستان نے عالمی سطح پر درجنوں بار ثابت بھی کی مگر افعان اپنے میزبان پر بھاری ہوتا چلا گیا ہے مجبوراً پاکستان کو سختی سے ان کو نکالنا پڑا جو سلسلہ آج دن تک جاری ہے کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب افغان باشندے موجود ہیں جس میں سے محض 20 فیصد سے بھی کم واپس گئے ہیں

    چیچنیا میں 1994 تا 1996 اور 1999 تا 2009 تک جنگی حالات،خانہ جنگی کے باعث کئی ہزار چیچن شہری جنگ اور تباہی سے بچنے کے لئے پاکستان آئے،یہ تعداد افغان یا بوسنیائی مہاجرین کے مقابلے میں بہت محدود تھی، ان مہاجرین کو بھی زیادہ تر اسلام آباد، راولپنڈی اور شمالی علاقوں میں عارضی رہائش اور امداد دی گئی،پاکستانی اسلامی تنظیموں اور خیراتی گروہوں نے انہیں خوراک، رہائش اور تعلیم کے مواقع فراہم کئے اور انہیں بلکل احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک غیر ملک میں ہیں بلکہ افغان و بوسنیائی پناہ گزینوں کی طرح انہیں بھی وہی ہسپتال ،سکول،کالجز و دیگر سہولیات مہیا کی گئیں جو ہر پاکستانی کے پاس تھیں مطلب ان کو ہر لحاظ سے ایک پاکستانی شہری کے برابر سہولیات حاصل تھیں، زیادہ تر چیچن مہاجرین نے جنگ کے بعد یا یورپ کے دیگر ممالک کی طرف واپس جانے یا منتقل ہونے کا راستہ اختیار کیا
    اور پاکستان کو بڑے باعزت طریقے سے خیر آباد کہا اور آج بھی وہ اس پاکستانی قربانی پر فطرت جذبات سے لبریز ہو کر پاکستان کو بڑی عزت و تکریم سے پکارتے ہیں

    ان تین ممالک کے مہاجرین کے علاوہ مملکت پاکستان نے پاک بھارت جنگ 1971 کے بعد بہت سے بنگلہ دیشیوں کو پاکستان میں پناہ دی گئی جن میں سے بیشتر آج بھی پاکستان بھر خاص کر کراچی میں آباد ہیں،اسی طرح ایران میں 1979 کے رجیم چینج کے بعد سیاسی مخالفین اور اقلیتی شورش کے بعد بہت سے ایرانیوں نے صوبہ بلوچستان کے علاقوں میں پناہ لی ،عراق کی خلیجی جنگ 1991 کے بعد بیشتر عراقیوں نے پناہ کیلئے پاکستان کا رخ کیا جنہیں پاکستان نے خوش آمدید کہا ،ارض انبیاء مملکت شام میں 2011 کی خانہ جنگی میں بہت سے شامی مہاجر پاکستان میں پوری آزادی اور عزت سے رہے،قبلہ اول فلسطین کے باسی بھی مختلف ادوار میں خاص کر 1967 کے بعد پاکستان میں پناہ لینے پہنچے جہاں ان کو شاندار پروٹوکول کیساتھ مرحبا کہا گیا،اسی بناء پر وہ آج بھی پاکستان کو خاص پیار اور محبت سے نوازتے ہیں

    تاجکستان میں 1992 تا 1997 کے دوران تاجک خانہ جنگی کے نتیجے میں،پاکستان نے مظلوموں کے لئے اپنی مملکت کے دروازے کھولے اور انہیں عارضی پناہ فراخ دلی سے دی گئی تھی،2012 میں برما میں خانہ جنگی اور مسلم کشی کے دوران میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ظلم و بربریت کے باعث بہت سے افراد پاکستان آئے تو انہیں عارضی رہائش، خوراک اور ابتدائی تعلیم فراہم کی گئی تھی، زیادہ تر یہ مہاجرین بعد میں دیگر ممالک منتقل ہو گئے تھے،جو کہ آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہمیں پوری عزت کیساتھ قبول کیا گیا تھا،نیز آج بھی انڈین مقبوضہ کشمیر سے ہزاروں خاندان ہجرت کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں میں مکمل آزادی اور پوری عزت کیساتھ سکونت پذیر ہیں

    دنیا بھر کے مہاجرین کو پناہ دینے کے یہ واقعات پاکستان کی انسانیت اور مہمان نوازی کی مثال ہیں جہاں محدود تعداد کے مہاجرین کو بھی محفوظ پناہ دی گئی اور افغانستان کے بے یارو مددگار اور بے سروساماں کی بہت بڑی تعداد کو بھی گلے سے لگائے رکھا،آج جب مہاجرین کے مسئلے کو محض بوجھ سمجھا جاتا ہے، تو بوسنیا،چیچنیا اور افغان و دنیا بھر کے مسلمان مہاجرین کی مثال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مظلوموں کے لئے دروازے کھولیں ہیں چاہے وہ یورپ کے مسلمان ہوں یا ہمسایہ افغان بھائی یاپھر روس کی ریاست چیچنیا کے مسلمان ،پاکستان ہمیشہ حاضر رہا ہے

  • پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو کموڈورز کو ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

    ریئر ایڈمرل جاوید ضیاء نے 1994 میں پاکستان نیوی کی ویپن انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹر آف سائنس کے اہل ہیں۔ اپنے شاندار نیول کیریئر کے دوران افسر نے مختلف اہم تقرریوں پر خدمات انجام دیں۔ اس وقت ایڈمرل نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (مٹیریل) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    ریئر ایڈمرل ارمغان احمد نے 1994 میں پاکستان نیوی کی میرین انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے NUST سے مینوفیکچرنگ سسٹم انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ میں ماسٹر آف سائنس کیا۔ ان کے پاس ایک شاندار سروس کیریئر ہے جس میں اہم تقرریوں پر خدمات انجام دینے کا وسیع تجربہ ہے۔ اس وقت وہ مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکیارڈ (کراچی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔فلیگ آفیسرز کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔

  • پاکستان میں چاندی کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ

    پاکستان میں چاندی کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ

    پاکستان میں چاندی کی قیمت عالمی مارکیٹ میں طلب و رسد، ڈالر کی قیمت، مہنگائی، عوامی طلب اور حکومتی پالیسیوں جیسے متعدد عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔
    ‎آج ملک کے مختلف شہروں میں 10 گرام چاندی کی قیمت تقریباً 9,713 روپے رہی، جبکہ ایک تولہ چاندی کی قیمت 11,317 روپے ریکارڈ کی گئی۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی یہی نرخ دیکھنے میں آئے۔
    ‎چاندی پاکستان میں نہ صرف زیورات کے لیے بلکہ ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق:
    * مہنگائی کے خلاف ہیج: چاندی مہنگائی میں اضافے کے دوران قیمت بڑھنے کا امکان رکھتی ہے۔
    * طویل مدتی سرمایہ کاری: اگرچہ مختصر مدت میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے، لیکن طویل مدت میں چاندی اچھی سرمایہ کاری ثابت ہو سکتی ہے۔
    * سونا کے مقابلے میں کم خطرناک: چاندی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سونے کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، اس لیے یہ نسبتاً کم خطرناک سرمایہ کاری مانی جاتی ہے۔
    ‎پاکستان میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو زیادہ تر زیورات کے معیار اور وزن کے لیے بطور حوالہ استعمال کیا جاتا ہے، اور مقامی کرنسی میں روزانہ نرخ اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔