Baaghi TV

Blog

  • گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں،شرجیل میمن

    گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں،شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کی تعمیر میں کم از کم 2 سال لگیں گے،گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں-

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد لوگوں کی جانیں بچانا اور تاجروں کی بحالی ہے، وزیراعلیٰ نے سانحے کی انکوائری کا حکم دیا ہے، انکوائری رپورٹ کسی بھی وقت آسکتی ہے، اگر انکوائری رپورٹ اطمینان بخش نہ ہوئی تو فوراً جوڈیشل انکوائری کرائیں گے، رپورٹ میں جسے بھی ذمہ دار نامزد کیا گیا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    شرجیل میمن کہ سندھ حکومت گل پلازہ کو دوبارہ تعمیر کرنے جارہی ہے، اس کی تعمیر میں کم از کم 2 سال لگیں گے، گل پلازہ میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی دکانیں تھیں، تاجروں کو قریبی پلازوں کی دکانوں میں شفٹ کیا جائے گا کراچی چیمبر حکومت کے ساتھ مل کر مارکیٹ ایسوسی ایشن سے ایس او پیز پر بات کررہی ہے، جن مارکیٹوں میں ایس او پیز مکمل نہیں ہوں گی ان مارکیٹوں کو بند کریں گے۔

  • اندرون لاہور کی 300 سے زائد عمارتیں غیر محفوظ قرار

    اندرون لاہور کی 300 سے زائد عمارتیں غیر محفوظ قرار

    لاہور: والڈ سٹی اتھارٹی نے اندرون لاہور کی 300 سے زائد عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دے دیا۔

    والڈ سٹی اتھارٹی نے پتنگ بازی کی اجازت کے خلاف درخواست میں رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروادی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بسنت سے قبل اندرون لاہور کی خطرناک اور خستہ حال عمارتوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اندرون لاہور کی 346 خستہ حال عمارتوں میں سے 183 عمارتیں ناقابل مرمت قرار دی گئی ہیں جبکہ انتہائی خستہ حال 92 عمارتیں خالی کروا لی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 254 خطرناک عمارتیں تاحال آباد ہیں جو خطرےکے باوجود خالی نہیں کرائی جا سکیں، آباد عمارتوں میں103 عمارتیں ناقابل مرمت اور 151 قابل مرمت قرار پائی ہیں جبکہ خالی کرائی گئی عمارتوں میں 80 عمارتیں قابل مسمار اور 12 قابل مرمت قرار دی گئی ہیں، خطرناک عمارتوں کی چھتیں بسنت سرگرمیوں کے لیے غیرمحفوظ ہیں، جس کیلئے والڈسٹی اتھارٹی کے وارننگ نوٹسز اور آگاہی بینرز آویزاں کیےجا رہے ہیں۔

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کردیں،حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے، کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں سمیت 30 روز کیلئے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری و خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے بسنت کے دوران بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، خلاف قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے-

  • بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا  ٹیکسٹائل ملز غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے کا اعلان

    بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا ٹیکسٹائل ملز غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے کا اعلان

    ڈھاکا: بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (بی ٹی ایم اے) نے حکومت کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر وزارتِ تجارت کی سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو ملک بھر کی تمام اسپننگ ملز یکم فروری 2026 سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائیں گی۔

    یہ انتباہ جمعرات کو ڈھاکا کے علاقے کاروان بازار میں واقع بی ٹی ایم اے کے دفتر میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا، جس کی صدارت بی ٹی ایم اے کے صدر شوکت عزیز رسل نے کی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ سات دن کے اندر درآمدی دھاگے (یارن) پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس نہ لی گئی تو بنیادی ٹیکسٹائل شعبہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور ملز کی سرگرمیاں جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ملز کی بندش کے نتیجے میں اگر مزدوروں میں بے چینی یا احتجاج پیدا ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ “اگر اس صورتحال کے باعث بینکاری اور مالیاتی نظام میں عدم استحکام پیدا ہوا تو اس کی بھی پوری ذمہ داری حکومت کو قبول کرنا ہو گی۔”

    ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ 30 دنوں کے دوران ملک کی بیشتر اسپننگ ملز صرف 50 فیصد پیداواری استعداد پر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کو 12 ہزار سے 15 ہزار کروڑ ٹکہ تک کا نقصان ہو چکا ہے۔بی ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید مالی دباؤ کے باعث مل مالکان کے لیے بینک قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی ممکن نہیں رہی، جس سے پورے مالیاتی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شوکت عزیز رسل نے صورتحال کو ٹیکسٹائل صنعت کے لیے “ہنگامی حالت” قرار دیتے ہوئے کہا “ٹیکسٹائل شعبہ ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے، مگر عبوری حکومت ہمارے مسائل سننے کے لیے 13 منٹ بھی نہیں نکالتی۔”انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت مسئلہ حل کرنے کے بجائے ذمہ داری ایک وزارت سے دوسری وزارت کو منتقل کر رہی ہے۔

    بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ اس معاملے پر بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی ایم ای اے) سے بھی بات چیت کی گئی ہے، جس میں گارمنٹس سیکٹر نے اسپننگ انڈسٹری کے بحران کی سنگینی اور اس کے ملبوسات کی پوری ویلیو چین پر منفی اثرات کو تسلیم کیا ہے۔بی ٹی ایم اے کے مطابق بی جی ایم ای اے نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت کے تحت سستے درآمدی دھاگے پر انحصار ملکی اسپنرز کو کمزور کر رہا ہے، بیک ورڈ لنکیج انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہا ہے اور طویل المدت بنیادوں پر خود گارمنٹ ایکسپورٹرز کے لیے سپلائی رسک بڑھا رہا ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملکی اسپننگ ملز ملک کی 50 سے 70 فیصد یارن کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اگر یہ صلاحیت ختم ہوئی تو گارمنٹ صنعت کو درآمدات پر مزید انحصار، طویل ڈیلیوری ٹائم اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔بی ٹی ایم اے نے واضح کیا کہ اسپنرز اور گارمنٹ ایکسپورٹرز کے درمیان یہ کوئی تنازع نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے مربوط ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے نظام کے تحفظ کا اسٹریٹجک معاملہ ہے۔

    بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ وزارتِ تجارت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد 10، 20 اور 30 کاؤنٹ یارن کی درآمد پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس لینے کی سفارش کی تھی، جو HS کوڈز 52.05، 52.06 اور 52.07 کے تحت آتی ہے، اور اس پر عملدرآمد کے لیے 30 ورکنگ ڈیز کی مدت تجویز کی گئی تھی۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ پالیسی میں مزید تاخیر کے نتیجے میں ملز کی بندش، روزگار کے مواقع کا خاتمہ، قرضوں کی عدم ادائیگی اور مالی دباؤ میں تیزی آئے گی۔بی ٹی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزارتِ تجارت کی سفارشات پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ ملکی ویلیو ایڈیشن، صنعتی استحکام، روزگار کے تحفظ اور معیشت کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ کا گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اہم فیصلہ سامنے آگیا، لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کا 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

    عدالت نے اداکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،میشا شفیع نے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان نہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہتک عزت کے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکنے کا فیصلہ درست ہے، اظہار رائے کے معاملے پر عدالت بڑا احتیاط برتتی ہیں،میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ہتک عزت کے معاملے پر حکم امتناعی نہیں دیا جاسکتا، عدالت کے پاس اختیار ہے وہ حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روک سکتی ہے۔

    ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو 24 جنوری 2019 کو ہتک عزت کے کیس پر بیان دینے سے روکا تھا ا،داکارہ میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ،عدالت نے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت دعویٰ پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے۔

    عدالتی فیصلے کے بعد علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی وہ رِٹ پٹیشن خارج کر دی ہے، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناع کو چیلنج کیا تھا۔ معزز عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھا ہے اور واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ میشا شفیع کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر آپ کے خلاف عوامی بیانات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔عدالت عالیہ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار ایک مطلق حق نہیں ہے اور اس کا دائرہ اختیار اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکتا کہ اس کے تحت لاپرواہ، بار بار دہرائے جانے والے یا غیر ثابت شدہ الزامات لگائے جائیں جو کسی دوسرے شخص کی عزت، وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں، بالخصوص اس صورت میں جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو۔

    فیصلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے مطابق انسانی وقار ناقابلِ تنسیخ ہے۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ ایسے الزامات کی مسلسل تشہیر ایک متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہوگی، جو کہ ناقابلِ قبول ہے، اور یہ کہ ساکھ کا تحفظ ایک بنیادی آئینی قدر ہے۔مزید برآں، عدالت نے اس امر کی بھی توثیق کی ہے کہ ہتکِ عزت کے معاملات میں عبوری پابندی غیر معمولی حالات میں جائز ہے، جیسا کہ موجودہ معاملہ، جہاں ساکھ کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان محض مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے معزز ٹرائل کورٹ کو یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ میشا شفیع کے خلاف آپ کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے اصل مقدمے کو تیزی سے نمٹایا جائے اور ترجیحاً تیس (30) دن کے اندر فیصلہ سنایا جائے، کیونکہ معاملہ اس وقت حتمی دلائل کے مرحلے میں ہے۔

  • انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت  ملتوی

    انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کر دی ہے –

    جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں اسلم خاکی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل پیش نہ ہو سکے، جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے بتایا کہ اٹارنی جنرل دیگر مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے، لیکن عدالت کی ہدایت پر آئندہ سماعت میں پیش ہو جائیں گے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی،اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو آئندہ سماعت پر پیش ہو کر عدالتی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    درخواست گزار اسلم خاکی، اسلامی نظریاتی کونسل کے وکیل اور متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے درخواست میں ڈاکٹر محمد اسلم خاکی نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے والی اسلامی نظریاتی کونسل کی فتویٰ نما رائے کو چیلنج کیا ہوا ہے۔

    امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

  • اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے ملک میں مقیم تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے،اس منصوبے کو سرکاری فرمان کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔

    ہسپانوی میڈیا کے مطابق ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن ایلماسیز نے بتایا کہ حکومت ایک سرکاری حکم نامے کی منظوری دینے جا رہی ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو قانونی رہائش اور کام کی اجازت ملے گی مستفید ہونے والوں کی حتمی تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، تاہم قانونی حیثیت ملنے کے بعد یہ افراد اسپین کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے حکومت امیگریشن کا ایسا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جو انسانی حقوق، سماجی شمولیت، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے اصولوں پر مبنی ہو۔

    وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے

    یہ فیصلہ یورپ کے کئی ممالک میں سخت امیگریشن پالیسیوں کے برعکس اسپین کا ایک نمایاں اقدام قرار دیا جا رہا ہے اس پالیسی سے وہ تارکینِ وطن فائدہ اٹھا سکیں گے جو کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہیں، درخواست دہندگان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہوگا یہ فیصلہ ان بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے ہی اسپین میں رہائش پذیر ہیں، درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے اور جون کے آخر تک جاری رہے گا –

    دوسری جانب قدامت پسند اور دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے غیرقانونی امیگریشن میں اضافہ ہو سکتا ہے اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ملک کو افرادی قوت کی کمی پوری کرنے اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے امیگریشن کی ضرورت ہے۔

    اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

    تھنک ٹینک فنکاس کے مطابق جنوری 2025 کے آغاز میں اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیرقانونی تارکینِ وطن مقیم تھے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 4 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی میں 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی مہاجرین شامل ہیں۔

  • وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے

    وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے

    وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلے کئے گئے-

    نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ ڈویژن نذر محمد بزدار( پی اے ایس۔گریڈ 21 ) وزیراعظم آفس میں ایڈیشنل سیکریٹری تعینات کر دیے گئے، سیکریٹری قانون و انصاف کمیشن سیدہ تنزیلہ صباحت جوائنٹ سیکریٹری قومی ورثہ ڈویژن اور جوائنٹ سیکریٹری قومی ورثہ ڈویژن غلام مجتبیٰ جوئیو کو جوائنٹ سیکریٹری تخفیف غربت ڈویژن تعینات کر دیا گیا،جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ڈویژن رضوان احمد شیخ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

    اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

    پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم کی دو سالہ چیئرمین شپ سنبھال لی

  • امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

    امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

    امریکا کی ڈیموکریٹک مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر بدبودار مائع پھینک دیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ خطاب کر رہی تھیں، واقعہ رمنی سوٹا کے شہر میناپولیس میں ایک ٹاؤن ہال میٹنگ کے دوران پیش آیا، مائع پھینکے جانے سے الہان عمر کو کوئی چوٹ نہیں آئی، موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر سفید فام شخص کو حراست میں لے لیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق الہان عمر اس اجلاس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوم سے استعفے یا مواخذے کا مطالبہ کر رہی تھیں،کرسٹی نوم اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر پر ایک واقعے سے متعلق گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ منی سوٹا میں ایک مظاہرے کے دوران آئیس اہلکاروں نے ایک شخص کو ہلاک کیا تھا، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ مسلح تھا، تاہم بعد میں سامنے آیا کہ متاثرہ شخص غیر مسلح تھا اور فائرنگ سے قبل اسے قابو میں کر لیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ الہان عمر کو ماضی میں بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا ہے ان کے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے اور وہ امریکا میں مسلم کمیونٹی کی نمایاں آواز سمجھی جاتی ہیں۔

  • اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

    اپنی زمین اور فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ٹیلیفونک گفتگو کی،ایرانی صدر نے امریکی طیارہ بردار جہاز کے خطے میں پہنچنے کے بعد سعودی ولی عہد کو فون کیا۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق منگل کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر گفتگو میں کہا کہ مملکت اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی،سعودی عرب ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کا باعث بنیں اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں۔

    صدر پزشکیان نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر مملکت کے ثابت قدم مؤقف پر اظہارِ تشکر کیا اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے ولی عہد کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیاصدر پزشکیان نے شہزادہ محمد بن سلمان کو بتایا کہ اسلامی ممالک کی ’وحدت اور یکجہتی‘ خطے میں ’پائیدار سلامتی، استحکام اور امن‘ کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم کی دو سالہ چیئرمین شپ سنبھال لی

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدرمسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک ٹیلیفون کال میں امریکی ’دھمکیوں‘ پر کہا کہ ان کا مقصد ’خطے کی سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے اور اس سے عدم استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘

    سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ولی عہد نے پیزشکیان کو بتایا ہے کہ ریاض ’اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

    ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان

    مسعود پزشکیان کے دفتر کے مطابق انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کو بتایا کہ ’امریکیوں کی دھمکیوں اور نفسیاتی کارروائیوں کا مقصد خطے کی سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے اور ان (کے خطے) کے لیے عدم استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر پزشکیان نے کہا کہ تہران ہمیشہ ایسے کسی بھی عمل کا خیر مقدم کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جنگ کو روکنے میں مدد دے۔

    واضح رہےکہ امریکی فوج کا یو ایس ایس ابراہم لنکن ائیر کرافٹ کیریئر اور اس کے ساتھ موجود دیگر جنگی جہازوں پر مشتمل بحری بیڑا مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔

    صدر یو اے ای اور صدر آصف زرادری کی ملاقات،دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

  • پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم کی دو سالہ چیئرمین شپ سنبھال لی

    پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم کی دو سالہ چیئرمین شپ سنبھال لی

    پاکستان نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی دو سالہ چیئرمین شپ باضابطہ طور پر سنبھال لی ہے-

    پاکستان 2026 اور 2027 کے دوران تنظیم کی قیادت کرے گا،اس موقع پر پاکستان کی جانب سے سال 2025 میں ای سی او کی قیادت کرنے پر قازقستان کا شکریہ ادا کیا گیا اور ای سی او کے امور میں اس کے مؤثر کردار اور بھرپور قیادت کو سراہا گیا۔

    پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے کہا کہ پاکستان بطور بانی رکن ای سی او کو اپنی روح اور پہچان قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور چیئرمین ای سی او کو مزید مضبوط، فعال اورمؤثر بنانے کیلئے بھرپور کردارادا کرے گا ای سی اوکے رکن ممالک نے پاکستان کی چیئرمین شپ کا خیرمقدم کیا ہے اوراس امید کا اظہارکیا ہے کہ پاکستان کی قیادت سے تنظیم میں نئی توانائی اورسرگرمی آئے گی۔

    ایران کا آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کا اعلان

    مدثر ٹیپو نے کہا کہ پاکستان خطے میں اقتصادی تعاون، تجارت اوررابطوں کے فروغ کے لئے ای سی او کوایک متحرک پلیٹ فارم بنانے کیلئے عملی اقدامات کریگا،پاکستانی سفیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی چیئرمین شپ کے دوران ای سی او کے مقاصد کے حصول، علاقائی ترقی اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے بھرپور کوششیں کرے گا۔

    صدر یو اے ای اور صدر آصف زرادری کی ملاقات،دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال