Baaghi TV

Blog

  • 
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا آغاز، 19 ممالک کی شرکت

    
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کا آغاز، 19 ممالک کی شرکت

    
9ویں انٹرنیشنل پاکستان آرمی ٹیم اسپرٹ مقابلوں کی افتتاحی تقریب کے ساتھ 60 گھنٹے پر مشتمل پیٹرولنگ ایکسرسائز کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق مقابلوں میں 19 دوست ممالک کی 24 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ متعدد ممالک کے عسکری مبصرین بھی مشق کا حصہ ہیں۔ بحرین، بنگلا دیش، بیلاروس اور مصر کی ٹیمیں مقابلوں میں شریک ہیں، جبکہ انڈونیشیا، میانمار اور تھائی لینڈ بطور مبصر شامل ہیں۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق عراق، اردن، سعودی عرب، ملائیشیا، مالدیپ اور مراکش کی ٹیمیں بھی مشق میں حصہ لے رہی ہیں۔ پاکستان آرمی اور پاکستان نیوی کی 16 ملکی ٹیمیں جبکہ پاکستان ایئر فورس کے مبصرین بھی اس بین الاقوامی مشق میں شامل ہیں۔
    ‎مشق کے دوران اعلیٰ جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی اور پیشہ ورانہ عسکری مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ ٹیم اسپرٹ کے ذریعے استقامت، باہمی تعاون اور بنیادی عسکری صلاحیتوں کو نکھارنا اس مشق کا بنیادی مقصد ہے۔
    ‎تقریب کا مقصد دوست ممالک کی افواج کے درمیان ملٹری ٹو ملٹری تعاون کو فروغ دینا اور پیشہ ورانہ تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔

  • ضلع کرم میں آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم میں اضافہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    ضلع کرم میں آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم میں اضافہ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع کرم میں آپریشن سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقم میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎وزیراعلیٰ کے مطابق آپریشن متاثرین کے لیے امدادی رقم ایک لاکھ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 30 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی قبائلی بے گھر افراد کے دوہرے پتے کے مسئلے کو حل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
    ‎سہیل آفریدی نے کہا کہ جو بے گھر افراد میزبان گھروں میں مقیم ہیں، انہیں بھی امدادی پیکیج فراہم کیا جائے گا تاکہ کوئی متاثرہ خاندان حکومتی معاونت سے محروم نہ رہے۔
    ‎وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہمیں مہذب قوموں کی طرح باہمی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو پس پشت ڈال کر ترقی، امن اور خوشحالی پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت متاثرہ عوام کی بحالی اور مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

  • سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت

    سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز بلوچستان میں 31 جنوری کو مختلف مقامات پر ہونے والے ’بزدلانہ اور گھناؤنے دہشت گرد حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے-

    یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہی گئی، جسے وزارتِ خارجہ نے بھی شیئر کیا بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے ان حملوں کو ’انتہائی قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    یہ بیان ہفتے کے اختتام پر بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آیا منگل کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران کالعدم عسکری تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 197 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ ان کارروائیوں میں 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

    کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے، ار کا نِ سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے بیان میں تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

    سلامتی کونسل نے اس امر کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام اقدامات ناقابلِ جواز اور مجرمانہ ہیں، چاہے ان کا مقصد، وقت، مقام یا مرتکب کوئی بھی ہو، اور ان کے خلاف اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

  • ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ ریاست کی طرف دھکیل رہے ہیں،ہیومن رائٹس

    ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ ریاست کی طرف دھکیل رہے ہیں،ہیومن رائٹس

    ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے خبردار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ ریاست کی طرف دھکیل رہے ہیں-

    نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی واپسی نے انسانی حقوق کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید شدید کر دیا ہے جو پہلے ہی روس اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث دباؤ کا شکار تھی،قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کچلا جا رہا ہے جبکہ دنیا بھر میں جمہوریت گزشتہ 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

    ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ امریکا میں صدر ٹرمپ نے انسانی حقوق کے لیے کھلی بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا ہے، جن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے نقاب پوش اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے ’سینکڑوں غیر ضروری طور پر پرتشدد اور توہین آمیز چھاپے‘ شامل ہیں۔

    رپورٹ میں انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا کہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر الزام تراشی، نیشنل گارڈ کی اندرونِ ملک تعیناتی، سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں، اور ایگزیکٹو اختیارات میں اضافے کی کوششیں امریکا کو آمریت کی جانب لے جا رہی ہیں۔

    تنظیم نے یہ بھی دہرایا کہ امریکا نے 252 وینزویلا کے تارکینِ وطن کو ایل سلواڈور کی ایک سخت سکیورٹی جیل میں منتقل کر کے ’جبری گمشدگی‘ جیسے بین الاقوامی جرم کا ارتکاب کیا بعد ازاں ان افراد نے تشدد اور جنسی زیادتی کے الزامات بھی عائد کیے جمہوریت کی عالمی صورتحال 1985 کی سطح پر آ چکی ہے، جب کہ روس، چین اور اب امریکا بھی پہلے کے مقابلے میں کم آزاد ہو چکے ہیں۔

    رپورٹ میں اسرائیل پر بھی غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزامات دہرائے گئے ہیں، جنہیں اسرائیل اور امریکا نے مسترد کر دیا ہے۔

  • اسپین کا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ

    اسپین کا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ

    ‎اسپین نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے اس اقدام کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی اثرات سے بچانا قرار دیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام لازمی ہوگا۔
    ‎ہسپانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ اقدامات بچوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں اور دوسرے یورپی ممالک پر بھی ایسے قوانین نافذ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسپین نے سرحد پار ریگولیشن کو مربوط کرنے کے لیے پانچ دیگر ممالک کے ساتھ ‘Coalition of the Digital Willing’ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
    ‎گذشتہ سال دسمبر میں آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے والا پہلا ملک بنا تھا۔ اسپین کی جانب سے سوشل میڈیا ایگزیکٹوز کو غیر قانونی مواد کے لیے جوابدہ ٹھہرانے، الگورتھم میں ہیرا پھیری کو جرم قرار دینے اور عمر کی تصدیق کے مضبوط نظام کو لازمی کرنے کے لیے بھی بل پیش کیا جائے گا۔
    ‎ادھر، یونان نے بھی 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے پابندی کا اعلان کرنے کے قریب ہونے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ فرانس میں ایوان زیریں نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل منظور کر لیا ہے، تاہم سینیٹ کی منظوری باقی ہے۔
    ‎یہ اقدامات دنیا بھر میں بچوں کی آن لائن حفاظت، ذہنی صحت اور منفی رجحانات کے بڑھتے خطرات کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔

  • ایپسٹین  فائلز سےمیری ازدواجی زندگی کے نہایت تکلیف دہ لمحات دوبارہ یاد آ گئے ،میلنڈا گیٹس

    ایپسٹین فائلز سےمیری ازدواجی زندگی کے نہایت تکلیف دہ لمحات دوبارہ یاد آ گئے ،میلنڈا گیٹس

    بل گیٹس کی سابق اہلیہ میلنڈا فرنچ گیٹس نے کہا ہے کہ جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی سرکاری فائلز میں سابق شوہر بل گیٹس کا نام سامنے آنے سے ان کی ازدواجی زندگی کے نہایت تکلیف دہ لمحات دوبارہ یاد آ گئے ہیں۔

    این پی آر کے پوڈکاسٹ ’وائلڈ کارڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے میلنڈا فرنچ گیٹس نے کہا کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کی جانے والی لاکھوں دستاویزات نے انہیں ناقابلِ بیان غم میں مبتلا کر دیا جب بھی یہ تفصیلات سامنے آتی ہیں تو میرے لیے ذاتی طور پر یہ بہت مشکل ہوتا ہے، کیونکہ اس سے میری شادی کے کچھ انتہائی دردناک دن یاد آ جاتے ہیں۔

    ایپسٹین 2019 میں جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کے دوران جیل میں ہلاک ہو گیا تھا اگرچہ فائلز میں کسی کا نام آنا بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں، تاہم ان دستاویزات نے ایک بار پھر اس وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جس میں سیاستدان، بزنس ٹائیکونز، فلاحی شخصیات اور مشہور افراد شامل تھے اور جن میں سے کئی نے ایپسٹین کے 2008 میں نابالغ لڑکی سے جنسی جرم کی سزا کے بعد بھی اس سے روابط قائم رکھے۔

    ‎نوشکی میں عوامی خدمت روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون

    ان فائلز میں بدنام فنانسر جیفری ایپسٹین کے تحریر کردہ ایسے حوالے شامل ہیں جن میں بل گیٹس کا ذکر کیا گیا ہے تاہم میلنڈا نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں اپنے سابق شوہر کا دفاع نہیں کریں گی’جو بھی سوالات باقی ہیں، وہ ان لوگوں کے لیے ہیں، حتیٰ کہ میرے سابق شوہر کے لیے بھی، ان سوالوں کا جواب انہیں دینا ہوگا، مجھے نہیں۔

    میلنڈا فرنچ گیٹس نے کہامجھے( بل گیٹس کے ساتھ) اپنی شادی ختم کرنا پڑی، پھر میں نے فاؤنڈیشن سے بھی علیحدگی اختیار کی یہ سب بہت افسوسناک ہے، لیکن میں زندگی میں آگے بڑھ سکی ہوں، اور اب امید ہے کہ ان خواتین کو انصاف ملے گا جنہوں نے یہ سب کچھ برداشت کیا۔‘

    مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    جاری کردہ فائلز میں 2013 کی 2 ای میلز بھی شامل ہیں، جو مبینہ طور پر ایپسٹین نے خود تحریر کیں،ایک ای میل میں اس نے دعویٰ کیا کہ بل گیٹس کسی جنسی بیماری میں مبتلا ہوئے اور اپنی اہلیہ کو خفیہ طور پر اینٹی بایوٹکس دینے کے خواہاں تھے،دوسری ای میل میں ایپسٹین نے بل گیٹس پر ’اخلاقی طور پر نامناسب‘ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔

    تاہم بل گیٹس کے ترجمان نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے ’ایک ثابت شدہ جھوٹے اور ناراض شخص‘ کے ہیں اور سراسر بے بنیاد ہیں، یہ دستاویزات صرف ایپسٹین کی مایوسی کو ظاہر کرتی ہیں کہ اس کا بل گیٹس سے تعلق برقرار نہ رہ سکا۔

    بل گیٹس ماضی میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ان کی ایپسٹین سے ملاقاتیں محدود تھیں اور وہ بھی محض فلاحی منصوبوں پر گفتگو تک تھیں، جو کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکیں۔

    میلنڈا اور بل گیٹس نے 27 سالہ شادی کے بعد 2021 میں طلاق لے لی تھی۔ امریکی میڈیا کے مطابق میلنڈا طلاق سے قبل ہی بل گیٹس کے ایپسٹین سے روابط پر شدید بے چینی کا شکار تھیں بعد ازاں بل گیٹس نے 2019 میں مائیکروسافٹ کی ایک ملازمہ سے تعلق کا اعتراف بھی کیا تھا۔

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

  • ‎نوشکی میں عوامی خدمت روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون

    ‎نوشکی میں عوامی خدمت روکنے کی دہشتگردوں کی کوشش ناکام: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون

    ‎اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون نے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے کوشش کی کہ وہ نوشکی کے عوام کی خدمت نہ کر سکیں، تاہم انہیں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان سے متعلق بیان میں اسسٹنٹ کمشنر نوشکی ماریہ شمعون نے بتایا کہ 31 جنوری کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے ڈپٹی کمشنر نوشکی اور ان کے اہلِ خانہ کو یرغمال بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا مقصد یہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوامی خدمات انجام نہ دے سکے، مگر ان کی یہ کوشش ناکام رہی۔
    ‎ماریہ شمعون نے کہا کہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں پاک فوج مسلسل ہمارے شانہ بشانہ رہی اور ہمیں بحفاظت گھروں تک پہنچایا گیا۔
    ‎اسسٹنٹ کمشنر نوشکی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر، کور کمانڈر کوئٹہ اور آئی جی ایف سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرا خاندان ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تعاون کے معترف ہیں۔
    ‎انہوں نے نوشکی سمیت بلوچستان کے عوام کو پیغام دیا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر قسم کے حالات میں عوام کی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کبھی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔

  • مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی  اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    مئی 2020میں بھارت چین کا تصادم،بھارتی اسٹریٹجک ناکامیا ں اور دفاعی کمزوریاں نمایاں

    دفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا-

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ گرما گرم بحث نے 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چین کے ساتھ پیش آنے والے فوجی تصادم کے دوران نئی دہلی کی اسٹریٹجک ناکامیوں اور دفاعی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہےدفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤ ں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کو واضح تزویراتی برتری حاصل ہوئی۔

    یہ معاملہ اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب سابق بھارتی آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواَنے کی غیر شائع شدہ کتاب “Four Stars of Destiny” کے اقتباسات ایک بھارتی جریدے میں رپورٹ ہوئے،کتاب کے مسودے کے مطابق چین نے تبت میں جاری فوجی مشقوں سے دستے اچانک ایل اے سی کے اگلے مورچوں پر منتقل کیے، جس نے بھارتی افواج کو ششدر کر دیا۔

    مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

    جنرل نرواَنے، جو دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے سربراہ رہے، اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت چین کی فوجی نقل و حرکت کی رفتار اور پیمانے کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا، اگرچہ بعد ازاں بھارتی فوج نے پوزیشنز مستحکم کر لیں، تاہم ابتدائی انٹیلی جنس خلا بھاری ثابت ہوایہ کشیدگی اپریل اور مئی 2020 میں جھڑپوں کی صورت میں بڑھی اور 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں خونریز ہاتھا پائی پر منتج ہوئی، جس میں 45 برس بعد پہلی مرتبہ بھارت چین سرحد پر ہلاکتیں ہوئیں۔

    منگل کے روز پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کی جانب سے کتاب کے حوالے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاحال شائع نہیں ہوئی تاہم قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے مسودے پر مبنی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بحران سے متعلق حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے بالآخر ایل اے سی کے ساتھ 40 سے 50 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں بھارت کو ہنگامی بنیادوں پر اضافی فوج، توپ خانہ، میزائل اور راکٹ سسٹمز تعینات کرنا پڑے۔

  • مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

    مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی

    مولانا طاہر اشرفی نے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا ہے-

    پاکستان علماء و مشائخ کونسل کے سربراہ مولانا طاہر محمود اشرفی نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور امتِ مسلمہ کا وہ گہرا زخم ہے جو فلسطین کی طرح مسلسل خون بہا رہا ہے۔

    مولانا طاہر محمود اشرفی پاکستان کی عوام اور ریاست ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اس وقت تک کھڑی رہے گی جب تک کشمیریوں کو اقو ام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت نہیں مل جاتا، 5 فروری کو پورے ملک میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جائے گا صبح فجر کی نماز کے بعد کشمیری عو ام، ان کے شہداء اور غازیوں کے لیے دعائیں کی جائیں گی ملک کے تمام علماء، مشائخ اور مختلف مذاہب کے افراد کشمیری عوام کو خراج تحسین پیش کر یں گے۔

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    کشمیری جدوجہد کی پوری دنیا میں ہر جگہ پر جہاں پر بھی کوئی امن پسند ہےوہ تائید کرےگا اور جمعہ کو جہاں پر پورے ملک میں بلوچستان میں ہونےوالی دہشت گردی پر یوم مذمت منایا جائے گا وہاں پر ہندوستان کی جارحیت کے خلاف اور کشمیری عوام کی جدوجہد کے حق میں بھی خطبات جمعہ میں علماء اور مشایخ اور پاکستان کی عوام ان کو خراج تحسین پیش کریں گے،انشاءاللہ تعالی وہ دن قریب ہے جب کشمیر بنے گا پاکستان، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملے گا اور یہ ہندوستان کی اور اسرائیل کی جو بربریت و وحشت ہے یہ کشمیر اور فلسطین سے ختم ہوگی۔

    فیلڈ مارشل نے مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا،وہ سچ کردکھایا

  • پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس: اصلاحات، قیادت اور تسلسل کی امید، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس پر عوامی تحفظ، ریاستی رِٹ اور قانون کی عمل داری کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے گزشتہ چند برسوں میں اس ادارے میں جو مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، ان کے پس منظر میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    ڈاکٹر عثمان انور کے دورِ قیادت میں پولیس اصلاحات محض کاغذی دعوؤں تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر ان کے اثرات نمایاں ہوئے۔ صوبے بھر میں نئے تھانوں کا قیام، پرانے تھانوں کی مرمت اور انہیں عوام دوست، صاف ستھرا اور باوقار ماحول فراہم کرنا ایک ایسا قدم تھا جس نے پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا، تھانہ کلچر میں بہتری دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔

    تاہم، ان تمام اقدامات میں سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو پولیس شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے کیے گئے اقدامات ہیں شہداء کی فیملیز کی مالی معاونت، فلاح و بہبود اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے کیے گئے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ڈاکٹر عثمان انور نے پولیس فورس کو محض ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان سمجھ کر لیڈ کیا۔ اسی طرح پنجاب پولیس کے ماتحت عملے کی ترقیوں اور کیریئر اسٹرکچر میں بہتری نے فورس کے مورال کو بلند کیا۔

    ریاستی رِٹ کے استحکام اور حکومتِ پنجاب کی عمل داری کو مضبوط بنانے میں بھی پولیس کے کردار کو مؤثر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کو زمینی حقائق میں بدلنے میں ڈاکٹر عثمان انور نے ایک کلیدی کردار ادا کیا اسی تسلسل میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا کردار بھی غیر معمولی رہا۔

    ڈی جی سیف سٹی احسن یونس کی قیادت میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے پنجاب کو ایک کنٹرول روم سے مانیٹر کرنے کا نظام قائم ہونا ایک انقلابی قدم تھا۔ سیف سٹی کیمروں، ڈیٹا اینالیسس اور فوری رسپانس میکانزم نے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد دی بلکہ پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ اس ضمن میں ڈی جی سیف احسن یونس کا کردار بھی قابلِ قدر رہا، جنہوں نے اس نظام کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی انسان غلطیوں سے مبرا نہیں ہوتا۔ ممکن ہے تین سالہ دور میں بعض فیصلے تنقید کی زد میں آئے ہوں، لیکن مجموعی طور پر کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں پنجاب پولیس نے بہتری کی سمت میں واضح پیش رفت کی، اب جبکہ پنجاب پولیس کو نئی قیادت میسر ہے، امید کی جانی چاہیے کہ اصلاحات کا یہ سفر رکے گا نہیں بلکہ مزید مضبوط ہوگا، پولیس شہداء، فورس کے جوانوں اور عوام کے اعتماد کو مرکز میں رکھ کر اگر یہی سمت برقرار رہی تو پنجاب پولیس واقعی ایک جدید، باوقار اور عوام دوست ادارے کے طور پر اپنی شناخت مزید مستحکم کر سکے گی۔