اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کے روز بلوچستان میں 31 جنوری کو مختلف مقامات پر ہونے والے ’بزدلانہ اور گھناؤنے دہشت گرد حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے-
یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہی گئی، جسے وزارتِ خارجہ نے بھی شیئر کیا بیان میں کہا گیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان نے ان حملوں کو ’انتہائی قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
یہ بیان ہفتے کے اختتام پر بلوچستان میں مختلف مقامات پر ہونے والے مربوط دہشت گرد حملوں کے بعد سامنے آیا منگل کے روز سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران کالعدم عسکری تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 197 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ ان کارروائیوں میں 22 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ’دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میں عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے، ار کا نِ سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے بیان میں تمام ممالک سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔
سلامتی کونسل نے اس امر کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام اقدامات ناقابلِ جواز اور مجرمانہ ہیں، چاہے ان کا مقصد، وقت، مقام یا مرتکب کوئی بھی ہو، اور ان کے خلاف اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
