Baaghi TV

Blog

  • تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    تشکیلِ فکر کا بحران،تحریر: اقصیٰ جبار

    انسان کی اصل پہچان اس کی سوچ سے بنتی ہے۔
    نہ عمر اس کا تعارف ہے، نہ لباس، نہ ڈگری اور نہ ہی ظاہری کامیابیاں۔ اصل پہچان وہ زاویۂ نظر ہے جس سے وہ زندگی، انسان اور مسائل کو دیکھتا ہے۔ یہ زاویہ یکایک پیدا نہیں ہوتا بلکہ آہستہ آہستہ تشکیل پاتا ہے، اور اس کی بنیاد عموماً نوجوانی میں رکھی جاتی ہے۔ اگر یہی بنیاد کمزور ہو تو بعد کی ساری عمارت بھی غیر متوازن ہو جاتی ہے۔
    آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، اس کا سب سے بڑا بحران نہ تو معاشی ہے، نہ سیاسی اور نہ ہی محض اخلاقی۔ یہ بحران دراصل فکری ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جاننے کے ذرائع بے شمار ہیں، معلومات ہر لمحہ ہماری دسترس میں ہے، مگر اس کے باوجود سوچنے، ٹھہرنے اور غور کرنے کے مواقع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو سب کچھ سکھایا جا رہا ہے، سوائے سوچنے کے۔

    تشکیلِ فکر کوئی فوری عمل نہیں۔ یہ نہ کسی نصاب کے ایک باب سے مکمل ہوتی ہے اور نہ کسی تقریر کے اختتام پر۔ یہ مطالعے، مشاہدے، سوال، تنقیدی نظر اور مسلسل غور و فکر کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا موجودہ تعلیمی اور سماجی نظام انسان کو معلومات تو فراہم کرتا ہے، مگر فکر پیدا نہیں کرتا۔ ہم پڑھتے ہیں مگر سمجھنے کے لیے نہیں، بلکہ آگے بڑھنے کے لیے۔ ہم سیکھتے ہیں مگر جانچنے کے لیے نہیں، بلکہ دہرانے کے لیے۔

    اسی مرحلے پر انسانی ذہن ایک خطرناک عادت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ سوچنے کے بجائے ردِعمل دینا سیکھ لیتا ہے۔ نتیجتاً آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان ذہن، رائے تو رکھتا ہے مگر بنیاد کے بغیر۔ وہ فیصلے تو کرتا ہے مگر سوال کے بغیر۔ یہ فکری سطحیت محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تربیت یافتہ رویہ ہے۔ ہمیں شروع سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ جلدی بولو، واضح مؤقف رکھو اور کسی قسم کے ابہام کو کمزوری نہ بننے دو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فکر کی اصل بنیاد ابہام ہی سے جنم لیتی ہے۔ سوچ وہیں پروان چڑھتی ہے جہاں انسان کو مکمل یقین حاصل نہ ہو۔

    یہاں ادب کا کردار غیر معمولی ہو جاتا ہے۔ ادب انسان کو ٹھہراؤ عطا کرتا ہے۔ وہ ذہن کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کا فوری جواب ضروری نہیں اور ہر مسئلے کا حل ایک جملے میں ممکن نہیں۔ ادب ذہن کو وسعت دیتا ہے، برداشت سکھاتا ہے اور مختلف زاویوں سے سوچنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ مگر جب ادب کو محض نصابی ضرورت بنا دیا جائے یا صرف ذوقی مشغلہ سمجھ لیا جائے تو وہ اپنی فکری تاثیر کھو دیتا ہے۔

    آج کا انسانی ذہن رفتار کا اسیر بن چکا ہے۔ وہ گہرائی کے بجائے خلاصہ چاہتا ہے، فلسفے کے بجائے اقتباس اور استدلال کے بجائے نعرہ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے فیصلے تیز تو ہوتے ہیں، مگر پختہ نہیں۔ ہم جلد مان لیتے ہیں اور جلد رد بھی کر دیتے ہیں، بغیر یہ جانے کہ ہم نے جو قبول کیا یا جسے مسترد کیا، اس کی فکری بنیاد کیا تھی۔
    تشکیلِ فکر کا بحران دراصل اسی عدم توازن کا نام ہے۔ یعنی ذہن میں مواد تو بہت ہو، مگر ترتیب نہ ہو۔ الفاظ ہوں، مگر مفہوم نہ ہو۔ علم ہو، مگر حکمت نہ ہو۔ یہ بحران فرد کی ذات سے شروع ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ پورے سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ جب ذہن تربیت یافتہ نہ ہو تو اختلاف بدتمیزی بن جاتا ہے، تنقید نفرت میں بدل جاتی ہے اور مکالمہ شور کا روپ دھار لیتا ہے۔
    ہم اختلاف اس لیے برداشت نہیں کر پاتے کہ ہم نے سوچ کو وسعت دینا نہیں سیکھا۔ ہم سوال سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ہمیں سوال کرنا سکھایا ہی نہیں گیا۔ حالانکہ سوال ذہن کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو ذہن سوال کرنا چھوڑ دے، وہ یا تو مطمئن نہیں بلکہ مقلد بن جاتا ہے۔

    یہاں ادب ایک مرتبہ پھر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ادب انسان کو دوسرا زاویہ دکھاتا ہے۔ وہ اسے اپنے سچ کے ساتھ دوسروں کے سچ کو بھی سننے کی تربیت دیتا ہے۔ تشکیلِ فکر کا مطلب کسی خاص نظریے کو اپنانا نہیں بلکہ ذہن کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ نظریات کو پرکھ سکے، تول سکے اور پھر شعوری طور پر کسی نتیجے تک پہنچے۔آج ہمیں ایسے انسان درکار ہیں جو صرف بولنا نہ جانتے ہوں بلکہ سوچنا بھی جانتے ہوں۔ جو اختلاف کریں تو فہم کے ساتھ، اور مانیں یا رد کریں تو دلیل کے ساتھ۔ یہ صلاحیتیں اچانک پیدا نہیں ہوتیں۔ یہ مطالعے، ادب سے رشتے، سوال سے دوستی اور خاموش غور و فکر کے نتیجے میں جنم لیتی ہیں۔

    اگر نوجوانی میں ذہن کی تشکیل نہ ہو تو انسان عمر بھر دوسروں کی سوچ کا بوجھ اٹھاتا رہتا ہے۔ وہ خود فیصلے کرنے کے بجائے مستعار خیالات پر زندگی گزارتا ہے۔ اور یہی اصل غلامی ہے۔ یہ غلامی زبان کی نہیں بلکہ ذہن کی ہوتی ہے۔تشکیلِ فکر کا بحران درحقیقت انسان کے آزاد ہونے کا بحران ہے۔ آزاد بولنے کا نہیں، آزاد سوچنے کا۔ اگر ہم نے اپنے ذہن کو سوچنے کی تربیت نہ دی تو باقی ساری ترقی محض ظاہری ہوگی۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ اور ذہن تب بنتا ہے، جب اسے سوچنے دیا جائے

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سٹی ہسپتال نہیں مردہ خانہ بن گیا

    ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سٹی ہسپتال نہیں مردہ خانہ بن گیا

    گوجر خان (قمرشہزاد) لاکھوں کی آبادی، کروڑوں کا ٹیکس مگر صلہ صفر تحصیل گوجرخان کا سرکاری ہسپتال سیاسی لاوارثی اور شعبہ صحت کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر بلال کی راولپنڈی روانگی نے ہسپتال کے شعبہ اطفال کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ڈاکٹر کنزہ پہلے ہی جا چکی ہیں، ڈاکٹر زاہد چھٹیوں پر ہیں جبکہ ایک اکیلی لیڈی ڈاکٹر فائزہ لاکھوں بچوں کی مسیحائی کا بوجھ اٹھائے کھڑی ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر بلال صرف ایک نام نہیں بلکہ گوجرخان کے غریب والدین کے لیے امید کی آخری کرن تھے۔ ان کی موجودگی میں نومولود بچوں سے لے کر کم سن بچوں تک کو گھر کی دہلیز پر علاج میسر تھا، مگر اب ہسپتال کی راہداریوں میں صرف ماؤں کی آہیں اور بچوں کے رونے کی صدائیں گونجیں گی۔

    کیا محکمہ صحت نے گوجرخان کو صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا اکھاڑہ بنا رکھا ہے؟ حلقہ پی پی 8 کے سیاسی ٹھیکیداروں کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے جو ووٹوں کے وقت تو مسیحا بن کر آتے ہیں مگر اب گوجرخان کے بچے سسکیں گے اور ان کی زبانوں پر تالے ہوں گے۔ غریب عوام سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنے لختِ جگر کو لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر خوار ہوں یا پرائیویٹ ہسپتالوں کے قصابوں کے آگے ڈال دیں؟ اس مہنگائی میں جہاں دو وقت کا آٹا میسر نہیں وہاں ہزاروں روپے کی فیسیں کون بھرے گا؟ اہلیانِ گوجرخان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرِ صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر فوری طور پر ڈاکٹر بلال کی واپسی یا ان کے متبادل دو قابل چائلڈ اسپیشلسٹ تعینات نہ کیے گئے تو مقامی باسی پرائیویٹ ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہوں گے۔ یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ان ہزاروں ماؤں کی پکار ہے جن کے بچے آج سرکاری بے حسی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔

  • بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کریگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، کیپٹن (ر)صفدر

    بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کریگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، کیپٹن (ر)صفدر

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما و وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر)صفدر نے کہا ہے کہ مریم نوازکی پالیسیوں سے ریلیف عام آدمی تک پہنچ رہا ہے، ترقی کا عمل لاہور سے نکل کر اب گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔

    شیخوپورہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر)صفدر کا کہناتھاکہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیے بغیر حقیقی تبدیلی کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوسکتا، وزیراعلیٰ کےپی صوبے پر توجہ دینے کے بجائےکراچی جاکرعوام کوبھاشن دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک ہفتہ لاہورآئیں انہیں معلوم ہوجائےگا ترقی کا عمل ہرگلی اور محلہ تک پہنچ چکا ہے، پاکستان دفاعی اور معاشی طورپرایشیاکی مضبوط ترین قوت بننے جا رہا ہے، بسنت میں لاکھوں افرادکی شرکت ثابت کردےگی کہ عوام تفریح چاہتے ہیں، مریم نوازکی پالیسیوں سے ریلیف عام آدمی تک پہنچ رہا ہے، ترقی کا عمل لاہور سے نکل کر اب گاؤں گاؤں تک پہنچ چکا ہے

  • ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی،اہلیہ ارشد شریف

    ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی،اہلیہ ارشد شریف

    ارشد شریف قتل کیس، وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے کیس نمٹانےپر ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا ردعمل سامنے آ گیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا کہنا تھا کہ "ہم نے تعزیت سمیٹنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی تھی اگر سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت انصاف نہیں دے سکی تو ایک ضلعی کچہری میں کیسے انصاف ہوگا جب آج تک ارشد شریف کے خلاف ہراسانی دھمکیوں سر میں گولی مارنے اور پھر قتل کرنے کی ایف آئی آر فیملی کی مدعیت میں درج نہیں ہوسکی۔ کوئی نظام موجود نہیں بس ایک بار آپ ساتھ ظلم ہوگیا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں یہاں پر یہ کہا جاتا ہے”.

    واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے۔
    ‎عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، جس کے بعد اس مرحلے پر عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں رہی۔‎فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانی عوام کے دکھ اور تشویش کو سمجھتی ہے۔ تاہم تحقیقات اور قانونی کارروائی متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت جاری ہے۔
    ‎عدالت نے واضح کیا کہ مقتول کے ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ فورمز یا عدالتوں سے رجوع کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔‎فیصلے کے مطابق پاکستان اور کینیا کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک اپنے اپنے قوانین کے تحت ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

  • بشیر  بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    بشیر بلوچ خواتین کو اغوا کر کے زیادتی،خودکش حملوں میں استعمال کرتا تھا،گرفتار کمانڈرکا انکشاف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے گرفتار کمانڈر درزاد بلوچ نے تفتیش کے دوران ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تنظیم کا سرغنہ بشیر زیب بلوچ خواتین کو اغوا کر کے نہ صرف جنسی استحصال کا نشانہ بناتا تھا بلکہ انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا۔

    درزاد بلوچ کے مطابق بی ایل اے کی قیادت منظم انداز میں دیہی اور پسماندہ علاقوں سے کم عمر اور نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتی رہی، جہاں انہیں ذہنی و جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کر کے ذہنی و جسمانی استحصال، جبری مشقت اور عسکری تربیت دی گئی۔ وہ بشیر زیب کے حکم پر 50 سے زائد خواتین کو اغوا کر کے افغانستان منتقل کرتا تھا،اس نے 50 سے زائد لڑکیوں کو دیہی علاقوں سے اٹھایا، جہاں سے خبر نکلنے کا خطرہ کم تھا، اور انہیں برین واش کر کے میر آباد منتقل کیا جاتا۔ وہاں ان لڑکیوں پر کئی ماہ جنسی زیادتی کی جاتی، پھر گھریلو کام کروائے جاتے اور بالآخر خودکش حملوں کی تربیت دے کر گوریلا جنگ میں استعمال کیا جاتا۔ درزاد نے یہ بھی مانا کے یہ "دلالی” تھی اور بشیر زیب پر لعنت بھیج کر قوم سے معافی مانگی کی درخواست کی،

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار کمانڈر نے بیان دیا کہ اغوا کی جانے والی لڑکیوں کو شدت پسند نظریات کے زیرِ اثر لانے کے لیے شدید ذہنی دباؤ، دھمکیوں اور تشدد کا استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض خواتین کو زبردستی خودکش بمبار بنانے کی تربیت دی گئی۔ درزاد بلوچ نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں تنظیمی قیادت کی ہدایات پر کی جاتیں اور مخالفت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتیں۔

    تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ درزاد بلوچ کے اعترافی بیان نے بی ایل اے کے اندرونی ڈھانچے، فنڈنگ، تربیتی مراکز اور سرحد پار روابط سے متعلق کئی اہم پہلوؤں کو بے نقاب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کے اغوا اور استحصال کا نیٹ ورک ایک منظم چین کے تحت کام کرتا تھا، جس میں مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز تک شامل تھے۔گرفتار کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ تنظیم کی نام نہاد جدوجہد دراصل معصوم لوگوں، خصوصاً خواتین، کے خون اور عزت سے کھیلی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ شدت پسند قیادت نے بلوچ عوام کے نام پر ذاتی مفادات اور بیرونی ایجنڈوں کو فروغ دیا۔ درزاد بلوچ نے اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے معافی مانگی اور نوجوانوں کو شدت پسندی کے راستے سے دور رہنے کی اپیل کی۔

    سکیورٹی اداروں کے مطابق اعترافات کی روشنی میں مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں، ریاست دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔سیاسی و سماجی حلقوں نے ان انکشافات کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے اغوا، جنسی استحصال اور خودکش کارروائیوں میں استعمال جیسے جرائم میں ملوث تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مبصرین کے مطابق یہ اعترافات شدت پسند تنظیموں کے اصل چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں اور نوجوان نسل کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ تشدد اور انتہا پسندی کسی مسئلے کا حل نہیں۔

  • بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی  کا انعقاد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد

    بلوچستان کے ضلع بارکھان میں پاکستان و پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا گیا

    ریلی میں ہزاروں افراد پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تھامے شریک ہوئے،ریلی کی قیادت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران کررہے تھے ،اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ؛دور دراز سے لوگ افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے سبزہلالی پرچم تھامےاس ریلی میں شریک ہیں،میں فیلڈ مارشل کی بات کی تائید کرتا ہوں کہ دہشت گردوں کی دس نسلیں بھی بلوچستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، بلوچستان کے عوام اس کی محافظ ہے،اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، یہ بلوچستان ہے،یہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا اور پاکستان ہمیشہ زندہ باد رہے گا، ریلی میں موجود لوگوں نے پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلگ شگاف نعرے بھی لگائے

  • بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان، تین روزہ آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 197 دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف گزشتہ تین دن سے جاری بھرپور اور فیصلہ کن آپریشنز کے دوران فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 197 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں میں دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے متعدد علاقوں کو کلیئر کرا لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف ان کارروائیوں میں سیکیورٹی فورسز کے 22 بہادر جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، جنہوں نے ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیوں کو قوم کی سلامتی کے لیے سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں نے بزدلانہ کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہریوں کو بھی شہید کیا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے آبادیوں کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عام شہریوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور مواصلاتی نیٹ ورک بھی تباہ کر دیے گئے۔ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے اور فتنہ الہندوستان سمیت تمام دہشتگرد گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ قوم اور سیکیورٹی ادارے ایک صفحے پر ہیں اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور پاکستان کے امن، استحکام اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے تمام علاقائی طاقتیں سرگرم

    مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ٹالنے کے لیے تمام علاقائی طاقتیں سرگرم

    ‎قطر نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے تمام اہم علاقائی ممالک فعال ہو گئے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق ایران اور امریکا کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سعودی عرب، ترکی، مصر اور عمان سمیت دیگر پڑوسی ممالک بھی مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔
    ‎ماجد الانصاری نے بتایا کہ قطری وزیراعظم کا حالیہ دورہ تہران اور ایرانی حکام سے ملاقاتیں خطے میں امن قائم کرنے اور تصادم کے خدشات کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام علاقائی طاقتیں خطے کو کسی بھی بڑے بحران سے بچانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔
    ‎ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ ایکس پر جاری پیغام میں انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ مذاکرات مناسب ماحول میں اور خطرات سے پاک طریقے سے آگے بڑھیں۔ صدر پزیشکیان نے کہا کہ یہ مذاکرات امریکی صدر کی پیشکش کے بعد خطے کی دوست حکومتوں کی مشاورت سے شروع کیے جا رہے ہیں اور یہ مذاکرات ایران کے قومی مفادات کے دائرہ کار میں ہوں گے۔
    ‎عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور قطر، ترکی اور مصر ثالثی کے کردار میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    بلوچستان میں دہشت گرد حملوں میں بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری بے نقاب

    کوئٹہ: بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے دوران بھارتی اور غیر ملکی سہولت کاری کے واضح شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں غیر ملکی ساختہ اسلحہ، جدید جنگی سازوسامان اور دیگر آلات برآمد ہوئے ہیں، جن کی مجموعی مالیت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر دہشت گرد کو اوسطاً 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے اسلحے اور ساز و سامان سے لیس کیا گیا تھا، جو کسی منظم بیرونی نیٹ ورک اور مالی معاونت کی نشاندہی کرتا ہے۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں جدید امریکی ساختہ M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزرز اور نائٹ ویژن گوگلز شامل ہیں، جو عام طور پر جدید عسکری فورسز کے زیرِ استعمال ہوتے ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد بیرونی ساختہ بلٹ پروف جیکٹس اور جدید وائرلیس کمیونیکیشن سیٹس سے بھی لیس تھے، جس سے ان کے درمیان رابطہ اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ اس کے علاوہ فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بے حسی پیدا کرنے والی نشہ آور ادویات اور انجکشن بھی برآمد ہوئے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر حملوں سے قبل استعمال کیا جاتا تھا تاکہ دہشت گرد خوف اور درد کے احساس سے بے نیاز ہو کر کارروائیاں انجام دے سکیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ اور تعاقبی آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ رات ہونے والے تعاقبی آپریشنز میں مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر گزشتہ تین روز کے دوران مختلف کارروائیوں میں 197 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں، اسلحہ ڈپوؤں اور مواصلاتی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کی آپریشنل صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی۔سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ریاست دشمن عناصر اور بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آپریشنز جاری رکھے جائیں گے، تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

  • نیا وائرس سامنے آگیا، نیپاہ جیسی علامات اور انسانوں میں خاموشی سے پھیلنے کا خدشہ

    نیا وائرس سامنے آگیا، نیپاہ جیسی علامات اور انسانوں میں خاموشی سے پھیلنے کا خدشہ

    انسانوں میں خاموشی سے پھیل رہا ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس ابتدائی طور پر نیپاہ وائرس جیسی علامات پیدا کرنے والے مریضوں میں پایا گیا، تاہم نیپاہ کے ٹیسٹ منفی آئے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نئے وائرس کو طبی طور پر پٹروپائن اوریوریو وائرس (PRV) کہا گیا ہے، اور اس کی علامات نیپاہ وائرس سے مشابہت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس بنگلہ دیش کے پانچ مریضوں میں پایا گیا، جنہوں نے حال ہی میں کھجور کے درخت سے حاصل کردہ کچا رس استعمال کیا تھا، جو نیپاہ، ریبیز اور ماربرگ جیسے وائرسز کے پھیلاؤ کا معروف ذریعہ ہے۔
    ‎مریضوں میں شدید سانس اور اعصابی علامات دیکھنے میں آئیں، جبکہ کچھ افراد میں بیماری کے مہینوں بعد بھی تھکن، سانس لینے اور چلنے میں مشکلات برقرار رہیں۔ ایک مریض کی موت بھی ہوئی، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ PRV وائرس کی وجہ سے ہوئی یا نہیں۔
    ‎کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے ڈاکٹروں کو ہدایت کی ہے کہ نیپاہ جیسی علامات والے مریضوں میں اس نئے وائرس کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر نشے مشرا نے کہا کہ کچی کھجور کے رس کے استعمال سے نیپاہ کے علاوہ دیگر خطرناک وائرسز بھی پھیل سکتے ہیں، اور اس لیے وسیع نگرانی کے نظام کی فوری ضرورت ہے۔
    ‎برطانیہ کے صحت حکام نے بھی بھارت کے مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے حالیہ پھیلاؤ پر نظر رکھنے کی تصدیق کی ہے، جہاں تقریباً 200 افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔