Baaghi TV

ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان سٹی ہسپتال نہیں مردہ خانہ بن گیا

گوجر خان (قمرشہزاد) لاکھوں کی آبادی، کروڑوں کا ٹیکس مگر صلہ صفر تحصیل گوجرخان کا سرکاری ہسپتال سیاسی لاوارثی اور شعبہ صحت کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر بلال کی راولپنڈی روانگی نے ہسپتال کے شعبہ اطفال کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ڈاکٹر کنزہ پہلے ہی جا چکی ہیں، ڈاکٹر زاہد چھٹیوں پر ہیں جبکہ ایک اکیلی لیڈی ڈاکٹر فائزہ لاکھوں بچوں کی مسیحائی کا بوجھ اٹھائے کھڑی ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر بلال صرف ایک نام نہیں بلکہ گوجرخان کے غریب والدین کے لیے امید کی آخری کرن تھے۔ ان کی موجودگی میں نومولود بچوں سے لے کر کم سن بچوں تک کو گھر کی دہلیز پر علاج میسر تھا، مگر اب ہسپتال کی راہداریوں میں صرف ماؤں کی آہیں اور بچوں کے رونے کی صدائیں گونجیں گی۔

کیا محکمہ صحت نے گوجرخان کو صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا اکھاڑہ بنا رکھا ہے؟ حلقہ پی پی 8 کے سیاسی ٹھیکیداروں کے لیے یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے جو ووٹوں کے وقت تو مسیحا بن کر آتے ہیں مگر اب گوجرخان کے بچے سسکیں گے اور ان کی زبانوں پر تالے ہوں گے۔ غریب عوام سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ اپنے لختِ جگر کو لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر خوار ہوں یا پرائیویٹ ہسپتالوں کے قصابوں کے آگے ڈال دیں؟ اس مہنگائی میں جہاں دو وقت کا آٹا میسر نہیں وہاں ہزاروں روپے کی فیسیں کون بھرے گا؟ اہلیانِ گوجرخان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرِ صحت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اگر فوری طور پر ڈاکٹر بلال کی واپسی یا ان کے متبادل دو قابل چائلڈ اسپیشلسٹ تعینات نہ کیے گئے تو مقامی باسی پرائیویٹ ہسپتالوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہوں گے۔ یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ان ہزاروں ماؤں کی پکار ہے جن کے بچے آج سرکاری بے حسی کی وجہ سے خطرے میں ہیں۔

More posts