Baaghi TV

Blog

  • بسنت نہیں مناؤں گی،مگر پتنگ تھیم کلیکشن،ماریہ بی پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید،منافق قرار دیا

    بسنت نہیں مناؤں گی،مگر پتنگ تھیم کلیکشن،ماریہ بی پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید،منافق قرار دیا

    ماریہ بی سوشل میڈیا پر اس وقت تنقید کی زد میں آگئیں جب انہوں نے بسنت کا بائیکاٹ کرنے کے اعلان کے بعد تہوار کی مناسبت سے بچوں کا لباس متعارف کرایا- ۔

    ماریہ بی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئی ہیں جب بسنت نہ منانے کے بیان کے بعد انہوں نے پتنگ تھیمڈ بچوں کے ملبوسات لانچ کیےحالیہ پوسٹس میں، ڈیزائنر نے کائٹ کلب کے عنوان سے اپنی آنے والی بچوں کے لباس کی لائن کو فروغ دیا، بہار سمر کلیکشن ’26، ایک ایسا مجموعہ جس کی برانڈنگ نمایاں طور پر پتنگوں کا حوالہ دیتی ہے – بسنت کی مرکزی علامت۔ اسی وقت ماریہ بی نے اعلان کیا تھا کہ وہ تہوار نہیں منائیں گی۔

    ماریہ بی نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ بسنت نہیں منا رہیں اور دوستوں سے درخواست کی ہے کہ دعوتیں بھیجنا بند کریں ان کے مطابق یہ خوشی کا موقع نہیں بلکہ غور و فکر اور افسوس کا وقت ہے، کیونکہ ہم اپنی انسانیت اور اقدار کھو چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جشن منانے سے پہلے خود احتسابی ضروری ہے۔

    انٹرنیٹ صارفین نے اس تضاد کو کھلی منافقت قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل دیا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بسنت سے اصولی اختلاف ہے تو اس سے جڑی تھیم پر بزنس کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے؟ یہ معاملہ مختلف پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث ہے، جہاں کچھ لوگ اسے صرف ایک تجارتی حکمتِ عملی جبکہ دیگر اسے بیانیے اور عمل کے درمیان واضح فرق قرار دے رہے ہیں۔

  • ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کی تاریخی پونچھ ہاؤس میں آمد

    ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کی تاریخی پونچھ ہاؤس میں آمد

    لاہور: سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے ڈی-8 رکن ممالک کے اعلیٰ سطحی وفد کا تاریخی پونچھ ہاؤس میں پرتپاک استقبال کیا۔

    ڈی-8 مندوبین میں بنگلہ دیش، مصر، ایران، انڈونیشیا، ملائیشیا، نائجیریا، ترکی اور آذربائیجان کے نمائندے شامل تھے جنہوں نے پنجاب کے ثقافتی حسن اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و فروغ کے اقدامات کو سراہا،بسنت کی رنگا رنگ ثقافتی تقریب میں ڈی-8 مندوبین پتنگ بازی اور مقامی کھانوں سے لطف اندوز ہوئے، اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک سید عاشق حسین کرمانی اور دیگر ملکی و غیر ملکی وفود بھی موجود تھے۔

    دو روزہ قیام کے دوران وفد نے واہگہ بارڈر، شالامار باغ، مزار اقبال، بادشاہی مسجد، حضوری باغ اور شاہی قلعہ کا دورہ کیا، دوروں کے دوران وفد کو تاریخی و ثقافتی اہمیت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، مندوبین نے پنجاب کی مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی، وفد نے دورے کے اختتام پر باہمی خیرسگالی اور دوستانہ تعلقات کے فروغ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ثقافتی روابط، اقتصادی تعاون اور عوامی سطح پر اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کا اعادہ کیا۔

  • اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملہ آور کا بہنوئی کراچی سے، والدہ اسلام آباد سے گرفتار

    اسلام آباد امام بارگاہ خودکش حملہ آور کا بہنوئی کراچی سے، والدہ اسلام آباد سے گرفتار

    اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں وسیع کارروائیاں شروع کر دی ہیں –

    رپورٹس کے مطابق، خودکش بمبار یاسر ولد بہادر خان کے اہلِ خانہ اور معاونین کی اہم گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، بمبار کے بہنوئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس کے بھائی کو پشاور سے حراست میں لیا گیا،ایک اہم سہولت کار کو نوشہرہ میں ہلاک کر دیا گیا، جب کہ سب سے اہم گرفتاری بمبار کی والدہ کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے گھر سے گرفتار کر کے تفتیش کے لیے منتقل کیا گیایہ کارروائیاں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کو ختم کرنے اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کی جا رہی ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات آئندہ سامنے آئیں گی۔

    دوسری جانب امام بارگاہ پر خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے 15 شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی،13 شہداء کی نماز جنازہ جی نائن امام بارگاہ میں ادا کی گئی جس میں وفاقی وزراء طارق فضل چودھری، سردار محمد یوسف، راجہ خرم نواز، آئی جی اسلام آباد سمیت بڑی تعداد میں شہریوں اور تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی۔

    جنازہ گاہ کے اطراف سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، شہداء کے نماز جنازہ سیکرٹری جنرل نفاذ فقہ جعفریہ، امام جامعہ مسجد خدیجۃ الکبری علامہ بشارت نے پڑھائی۔ نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کو تدفین کیلئے روانہ کردیے گئے دو شہدا کی نماز جنازہ امام بارگاہ جامع صادق میں ادا کی گئی جس میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی شرکت کی۔، آغا شیخ محمد شفا نجفی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

    گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں کی امام بارگاہ و مسجد جامعہ خدیجۃ الکبری میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 32 افراد شہید اور 162 زخمی ہوگئے تھے جن مین سے 29 کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔

    اسلام آباد بم دھماکے کا ایک اور زخمی دم توڑ گیا، شہداء کی تعداد 33 ہوگئی

    ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص اسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد شہادتوں کی تعداد 33 ہو گئی،اسپتال ذرائع نے بتایا کہ پمز اسپتال میں دھماکے کے بعد کل 149 افراد لائے گئے تھے جن میں 121 زخمی اور 28 لاشیں شامل تھیں۔

    رات بھر طبی امداد کے بعد زخمیوں کی تعداد 64 رہ گئی ہے جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک اور 9 افراد آئی سی یو میں ہیں،زخمیوں کا علاج سرجیکل وارڈ 1 اور سرجیکل وارڈ 4 میں جاری ہے، جبکہ پولی کلینک اسپتال میں 13 زخمی زیر علاج ہیں۔

  • اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

    اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت

    اسلام آباد میں پیش آنے والا حالیہ دلخراش واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک صدمہ ہے امریکہ، یورپ، روس، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے مذمتی بیانات اور افسوس کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ذی شعور انسان کے لیے قابلِ مذمت ہے اور اس پر کسی دو رائے کی گنجائش نہیں۔

    افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر کے ممالک اس سانحے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے، وہیں ہمارے اپنے سوشل میڈیا پر موجود نام نہاد دانشوروں نے بغیر تحقیق اور ذمہ داری کے اس واقعے کو ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کا ذریعہ بنا لیا۔ یہ طرزِ عمل نہ تو جمہوری اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔

    پاکستان کی قربانیاں: ایک نظر ماضی پر

    اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہزارو ں سویلین، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئےآپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردّالفساد جیسے جامع آپریشنز کے ذریعے پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں نے مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ڈھانچے کو بڑی حد تک توڑا۔ یہ کامیابیاں آسان نہیں تھیں بلکہ ان کے پیچھے بے مثال قربانیاں شامل ہیں۔

    ایسے میں ریاستی اداروں پر اندھا دھند تنقید کرنا، بغیر شواہد کے الزامات لگانا، درحقیقت دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ریاست سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر بات پر خاموشی اختیار کی جائے، لیکن یہ ضرور ہے کہ تنقید ذمہ دارانہ، باخبر اور تعمیری ہو۔

    علاقائی عدم استحکام اور بیرونی عوامل

    ریاستِ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے، جن کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

    یہاں عالمی برادری، خصوصاً وہ ممالک جو بھارت اور افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں—جیسے متحدہ عرب امارات، قطر، دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، چین اور دیگر عالمی طاقتیں—ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان ریاستوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

    قومی اتحاد: وقت کی اہم ترین ضرورت

    سوال یہ نہیں کہ ایک واقعہ کیوں پیش آیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور قوم اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ کیا ہم انتشار، الزام تراشی اور اداروں کی تضحیک کا راستہ اپنائیں گے؟ یا قومی یکجہتی، صبر اور اجتماعی شعور کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے؟پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے دفاعی اور سلامتی کے اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہ بننے دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اور اس جنگ میں سب سے مضبوط ہتھیار قوم اور ریاست کے درمیان اعتماد ہے۔

    اسلام آباد کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے، مگر اسے قومی کمزوری میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم جذباتیت، افواہوں اور پروپیگنڈا کے بجائے ہوش، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں—کیونکہ مضبوط قومیں حادثات سے نہیں، انتشار سے ٹوٹتی ہیں۔

  • ہسپتال میں مبیبہ غفلت سے مریض جانبحق،احتجاج،ڈی سی کا دورہ

    ہسپتال میں مبیبہ غفلت سے مریض جانبحق،احتجاج،ڈی سی کا دورہ

    قصور
    بابا بلہے شاہ سپتال میں مبینہ غفلت سے شہری سراپا احتجاج،ڈپٹی کمشنر کا رات ایک بجے اچانک دورہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال المعروف بابا بلہے شاہ ہسپتال میں مبینہ غفلت کے باعث ایک اور مریض جان کی بازی ہار گیا جس کے بعد شہریوں اور لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا گیا
    ذرائع کے مطابق مریض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا لیکن بروقت طبی امداد، مناسب توجہ اور ضروری سہولیات فراہم نہ کی جا سکیں
    لواحقین کا الزام ہے کہ ڈاکٹروں کی غیر سنجیدگی اور تاخیر کی وجہ سے مریض کی حالت بگڑتی گئی اور وہ جانبر نہ ہو سکا
    واقعہ کے بعد ہسپتال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا
    دوسری جانب ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا نے ڈی رات ایک بجے ہسپتال کا دورہ کیا اور صحت کی سہولیات کا جائزہ لیا گیا جس میں ادویات کی دستیابی اور طبی سہولیات کے حوالے سے مریضوں اور تیمارداروں کی جانب سے فیڈبیک لیا گیا ہوا
    شہری حلقے ابھی بھی مبینہ غفلت اور انتظامی کوتاہی پر تحفظات رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ عملی اقدامات کے ذریعے مریضوں کے مسائل حل کیے جائیں

  • کویت میں رمضان کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار مختصر

    کویت میں رمضان کے دوران سرکاری دفاتر کے اوقات کار مختصر

    ‎رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی کویت نے سرکاری دفاتر کے نئے اوقات کار کا اعلان کر دیا ہے۔ یکم رمضان سے سرکاری اداروں میں کام کے اوقات ساڑھے چار گھنٹے ہوں گے۔
    ‎عرب میڈیا کے مطابق سول سروس کمیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملازمین صبح ساڑھے 8 بجے سے ساڑھے 10 بجے کے درمیان کسی بھی وقت دفتر آ کر ساڑھے چار گھنٹے کام مکمل کر سکتے ہیں۔
    ‎کمیشن نے رمضان کے دوران تمام سرکاری اداروں میں مقررہ دورانیے پر عمل درآمد کی ہدایت بھی کی ہے۔
    ‎واضح رہے کہ خلیجی ممالک میں پہلا روزہ 18 فروری جبکہ پاکستان سمیت دیگر خطے کے ممالک میں 19 فروری کو ہونے کا امکان ہے۔

  • اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد پر حملہ: خاموشی نہیں، فیصلہ کن اقدام کا وقت.تجزیہ :شہزاد قریشی

    اسلام آباد میں مسجد کے اندر پیش آنے والا حالیہ دہشت گردی کا واقعہ پوری قوم کے لیے گہرے صدمے اور تشویش کا باعث ہے۔ دارالحکومت، جو ریاستی رِٹ، سکیورٹی اور نظم و ضبط کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے دشمن اب کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کر رہے۔

    حکومتی ذرائع اور سکیورٹی اداروں کی ابتدائی معلومات کے مطابق اس دہشت گردانہ کارروائی کے تانے بانے افغانستان اور بھارت سے جا ملتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف جاری پراکسی وار کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ملک میں خوف، عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہے۔

    یہ حقیقت اب عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں رہنی چاہیے کہ افغانستان کی سرزمین طویل عرصے سے دہشت گرد عناصر کے استعمال میں رہی ہے۔ ماضی میں بھی وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں اور حالیہ برسوں میں ایک بار پھر ان سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغانستان خود دہشت گردی کی آگ میں جلتا رہا ہے، مگر افسوس کہ اس کے اثرات ہمسایہ ممالک تک پھیل رہے ہیں۔

    اسی طرح بھارت کا کردار بھی مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارتی مداخلت کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ اسلام آباد میں مسجد جیسے مقدس مقام کو نشانہ بنانا اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ دشمن قوتیں مذہبی جذبات کو بھی استعمال کر کے پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔

    یہ واقعہ صرف ریاستی اداروں کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی دنیا کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر دہشت گردی واقعی ایک عالمی مسئلہ ہے تو پھر اس کے خلاف ردعمل بھی عالمی سطح پر یکساں اور غیرجانبدار ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی اداروں اور طاقتوں کو چاہیے کہ وہ افغانستان کو واضح طور پر پابند کریں کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، اور بھارت کو یہ پیغام دیا جائے کہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے۔ ہزاروں معصوم شہری، نمازی، علما اور سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اب مزید صبر کا مظاہرہ ممکن نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تشویش کے اظہار سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستان کے بے گناہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والا یہ حملہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر دشمن عناصر کو بروقت اور مؤثر انداز میں لگام نہ دی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر اپنے شہریوں کے خون پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

  • رحمان اللہ گرباز پشاور زلمی  ٹیم میں شامل

    رحمان اللہ گرباز پشاور زلمی ٹیم میں شامل

    
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 11 کے آغاز سے قبل پشاور زلمی نے افغانستان کے وکٹ کیپر اور جارحانہ بلے باز رحمان اللہ گرباز کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا ہے۔
    ‎ٹیم کے مالک جاوید آفریدی نے سوشل میڈیا پر گرباز کو ’زلمی فیملی‘ میں خوش آمدید کہا۔ رحمان اللہ گرباز پہلے بھی پی ایس ایل میں کھیل چکے ہیں اور اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کے پاور پلے میں جارحانہ انداز سے بلے بازی کرنے کی صلاحیت زلمی کو ابتدائی شروعات میں فائدہ دے سکتی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق گرباز اس وقت افغانستان کی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 اسکواڈ میں شامل ہیں، جو 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔
    ‎پی ایس ایل 11 کی ابتدائی مارکیٹ میں دیگر فرنچائزز نے بھی اہم کھلاڑی سائن کیے ہیں۔ لاہور قلندرز نے بنگلہ دیش کے پیک اسٹار مستفیض الرحمٰن کو اپنی ٹیم میں شامل کیا، اسلام آباد یونائیٹڈ نے ڈیوون کون وے کو سائن کیا، کراچی کنگز نے معین علی کو ٹیم میں شامل کیا، جبکہ سیالکوٹ اسٹالینز نے آسٹریلوی اسٹار سٹیو اسمتھ کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔

  • سہراب برکت کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے, سی پی جے

    سہراب برکت کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے, سی پی جے

    ‎صحافیوں کے حقوق کے لیے نیویارک سے کام کرنے والی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے جمعرات کو پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحافی سہراب برکت کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا ادارہ آزادانہ طور پر خبریں نشر کرتا رہے۔
    ‎سہراب برکت ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ’سیاست ڈاٹ پی کے‘ کے لیے کام کرتے ہیں اور انہیں 26 نومبر 2025 کو اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کے تحت رپورٹنگ سے متعلق تین الگ الگ شکایات کا سامنا ہے۔
    ‎چھ دسمبر 2025 کو لاہور کی مقامی عدالت نے سہراب کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ پاکستان میں سائبر کرائم ایکٹ کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور ڈیجیٹل میڈیا صحافیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎گذشتہ ماہ 18 جنوری کو ان کے ادارے ’سیاست ڈاٹ پی کے‘ نے اعلان کیا کہ وہ اپنا اسلام آباد دفتر بند کر دے گا اور اس فیصلے کو سہراب برکت کی حراست سے جوڑا گیا ہے۔

  • ناروے کی شاہی شخصیتیں اور سابق رہنما منظر عام پر، ایپسٹین فائلز

    ناروے کی شاہی شخصیتیں اور سابق رہنما منظر عام پر، ایپسٹین فائلز

    ناروے گذشتہ 120 برسوں سے نوبیل امن انعام جاری کر رہا ہے، لیکن 1960 کے بعد مالدار ہونے والے ناروے نے سفارت کاری کے ذریعے خود کو عالمی امن کا لیڈر بنانے کی کوشش کی۔ اوسلو کو دنیا کے جھگڑوں کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا گیا، مگر ایپسٹین فائلز نے ناروے کی پچاس سالہ سفارت کاری کو شدید دھچکہ پہنچا دیا۔
    ‎امریکی بزنس مین اور بچوں سے جنسی زیادتی کا مجرم جیفری ایپسٹین 2019 میں مر گیا، لیکن اس کے چھوڑے گئے خفیہ فائلز، ای میلز، تصاویر اور ویڈیوز نے دنیا کے بڑے عزت دار افراد کی برہنگی کو بے نقاب کر دیا۔
    ‎اب تک ناروے کی بادشاہت کی اگلی ملکہ میتے ماریت، سابق وزیراعظم یاگ لاند، سابق وزیر و ڈپلومیٹ تھاریے رود لارشن اور صف اول کی سفیر مونا یول کے نام سامنے آئے ہیں۔ یہ تمام افراد ایپسٹین کے انتہائی قریبی سرکل سے تعلق رکھتے تھے اور کئی بار ان کے ساتھ دیکھے گئے، ساتھ ہی ہزاروں ای میلز اور پیغامات کے ذریعے رابطے میں رہے۔
    ‎ناروے کے عوام میں خاص طور پر شہزادی میتے ماریت زیرِ تنقید ہیں۔ پھیپھڑوں کی مزمن بیماری میں مبتلا شہزادی کے لیے حالات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں کیونکہ گذشتہ دو برس سے ان کے سابق شوہر سے بیٹے ماریئس ہویبی کی گرفتاری، تفتیش اور عدالتی ٹرائل جاری ہے، جس پر چار خواتین کے ساتھ ریپ کے الزامات ہیں۔
    ‎شہزادی میتے پر ایپسٹین فائلز کا اثر ایک بم کے طور پر پڑا ہے۔ شہزادی کی تصاویر، ایپسٹین سے ذاتی نوعیت کے تعلقات اور مستقل رابطے سکیورٹی ماہرین کی نظر میں صرف دوستی سے زیادہ ہیں، اور یہ ناروے کے شاہی محل میں براہِ راست رسائی کی پیچیدہ کہانی بیان کرتے ہیں۔
    ‎ایپسٹین فائلز میں سابق نارویجن وزیراعظم تھور بیورن یاگ لاند بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، یاگ لاند نے ایپسٹین کے ساتھ پیغامات میں نازیبا جنسی استعارے بھی لکھے اور ان کے درمیان لاکھوں ڈالر کے مالی معاملات بھی جاری رہے۔ یہ معاملہ صرف اخلاقی برائی تک محدود نہیں بلکہ قانونی اور سیاسی پیچیدگیوں کو بھی جنم دیتا ہے۔