Baaghi TV

Blog

  • 
یوٹیوب کا مفت صارفین کے لیے بیک اہم فیچر بند کرنے کا فیصلہ

    
یوٹیوب کا مفت صارفین کے لیے بیک اہم فیچر بند کرنے کا فیصلہ

    
یوٹیوب کی جانب سے مسلسل کوشش کی جا رہی ہے کہ مفت سروس استعمال کرنے والے صارفین کو پریمیئم پلان کی طرف منتقل کیا جائے، جس کے تحت اب ایک مقبول فیچر تک مفت صارفین کی رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق یوٹیوب موبائل براؤزرز پر بیک گراؤنڈ پلے بیک فیچر کو مفت صارفین کے لیے بند کرنے کے اقدامات کر رہا ہے۔ یہ فیچر صارفین کو اس وقت بھی ویڈیو یا آڈیو چلانے کی سہولت دیتا ہے جب ایپ یا براؤزر بیک گراؤنڈ میں ہو۔
    ‎کافی عرصے سے مفت صارفین گوگل کروم کے علاوہ دیگر موبائل براؤزرز جیسے مائیکرو سافٹ ایج، بریو اور سام سنگ انٹرنیٹ کے ذریعے اس فیچر سے فائدہ اٹھا رہے تھے، حالانکہ کروم پر یہ سہولت صرف یوٹیوب پریمیئم صارفین کو حاصل ہے۔
    ‎تاہم حالیہ دنوں میں متعدد صارفین نے شکایت کی ہے کہ اب یہ فیچر ان کے موبائل براؤزرز پر کام نہیں کر رہا۔ گوگل نے اس حوالے سے تصدیق کی ہے کہ موبائل براؤزرز پر بیک گراؤنڈ پلے بیک کے استعمال کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
    ‎گوگل کے مطابق یہ فیچر خاص طور پر یوٹیوب پریمیئم صارفین کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ کچھ مفت صارفین موبائل براؤزرز کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کر رہے تھے، جسے روکنے کے لیے بتدریج کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں تمام مفت صارفین کے لیے یہ فیچر مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔

  • 
ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے اور لائسنس حاصل کرنے کی باضابطہ اجازت

    
ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے اور لائسنس حاصل کرنے کی باضابطہ اجازت

    
ایران میں خواتین کو باضابطہ طور پر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے، جس کے بعد اب خواتین موٹر سائیکل چلانے کا لائسنس بھی حاصل کر سکیں گی۔
    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے موٹر سائیکل چلانے کے حوالے سے برسوں سے موجود قانونی ابہام ختم ہو گیا ہے۔ اس سے قبل قانون میں خواتین کے موٹر سائیکل یا اسکوٹر چلانے پر واضح پابندی موجود نہیں تھی، تاہم عملی طور پر حکام خواتین کو لائسنس جاری کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔
    ‎اس قانونی خلا کے باعث ٹریفک حادثات کی صورت میں خواتین کو قانونی طور پر ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاتا رہا، حالانکہ انہیں باقاعدہ لائسنس حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔
    ‎ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے ایک نئی قرارداد پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد ٹریفک قوانین کو واضح بنانا ہے۔ یہ قرارداد گزشتہ ماہ کے آخر میں ایرانی کابینہ سے منظور کی گئی تھی۔
    ‎قرارداد کے تحت ٹریفک پولیس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خواتین درخواست گزاروں کو عملی تربیت فراہم کرے، پولیس کی نگرانی میں ڈرائیونگ ٹیسٹ لے اور کامیاب امیدواروں کو موٹر سائیکل چلانے کا باقاعدہ لائسنس جاری کرے۔

  • جرمن کمپنی کا ایسا اسمارٹ فون جس کی بیٹری ایک ہفتےتک چلتی ہے۔

    جرمن کمپنی پونکیٹ نے ایم سی 03 نامی ایسا اسمارٹ فون تیار کیا ہے جس کی بیٹری لائف دیگر فونز کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک طویل ہے اور اسے 6 سے 7 دن تک بغیر چارج کیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر اسمارٹ فونز میں بیٹری ایک یا دو دن کے بعد ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ متعدد ایپس پسِ منظر میں فعال رہتی ہیں اور ڈیٹا یا توانائی استعمال کرتی ہیں، مگر ایم سی 03 میں صارفین کی پرائیویسی کو ترجیح دی گئی ہے اور فون خود ایپس کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔
    فون میں بائی ڈیفالٹ ایپس کو انٹرنیٹ تک رسائی سے روکا گیا ہے، جس سے بیک گراؤنڈ ڈیٹا کا جمع ہونا ممکن نہیں۔ کمپنی کے مطابق، فون کی بیٹری عام استعمال میں 6 سے 7 دن تک اور زیادہ استعمال میں 4 سے 5 دن تک بغیر چارج کیے چل سکتی ہے، جبکہ فون کی بیٹری دیگر فونز جتنی ہی سائز میں ہے، لیکن توانائی کے انتظام میں جدید تکنیک استعمال کی گئی ہے۔
    ‎ایم سی 03 اوپن سورس اینڈرائیڈ پراجیکٹ پر مبنی آپریٹنگ سسٹم AphyOS پر کام کرتا ہے، جس میں صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ فون میں 120 ہرٹز او ایل ای ڈی ڈسپلے موجود ہے اور بیٹری کو آسانی سے نکال کر بدلا جا سکتا ہے، جو اس کے استعمال کو مزید صارف دوست بناتا ہے۔

  • گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ، کمیٹی غائب

    گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ، کمیٹی غائب

    مارکیٹ کمیٹی کی مجرمانہ خاموشی یا آڑھتی مافیا سے حصہ داری؟ سی ایم کے ریلیف مشن کا جنازہ نکل گیا
    گوجرخان سبزی منڈی نہیں ڈاکوؤں کی کمین گاہ مارکیٹ کمیٹی غائب، پرائس مجسٹریٹس کا شکار صرف غریب ریڑھی بان، بڑے مگرمچھوں کو کھلی چھوٹ
    گوجرخان میں قانونِ جنگل نافذ نجی منڈی میں آڑھتیوں کی غنڈہ گردی، مارکیٹ کمیٹی پرائس مجسٹریٹس بھتہ خوری میں برابر کے شریک؟ شہریوں کی دہائی
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں ریاست نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی، رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی گوجرخان میں گراں فروشوں اور آڑھتیوں نے پنجے گاڑ لیے، گلیانہ موڑ سبزی منڈی مڈل مین آڑھتی مافیا کے ٹارچر سیل میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں ہر صبح چھوٹے سبزی و پھل فروشوں کی جیبوں پر سرِ عام ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے عوام کو سستی اشیائے خوردونوش فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے گوجرخان کی سبزی منڈی میں دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گلیانہ موڑ نیو سبزی و فروٹ منڈی میں بولی کے دوران مارکیٹ کمیٹی کا عملہ پراسرار طور پر غائب رہتا ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آڑھتیوں اور مڈل مینوں نے غریب عوام کو لوٹنے کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ عوامی ریلیف کے دعوے گوجرخان کی گرد آلود گلیوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی پیرا فورس اور پرائس مجسٹریٹس نے عوامی ریلیف کے ویژن کو آڑھتیوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔ متعلقہ حکام کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ نام نہاد پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیرا فورس کے شیر صرف نہتے ریڑھی بانوں اور دیہاڑی دار دکانداروں پر گرجتے ہیں۔ چند روپوں کے فرق پر غریب کا چالان کرنے والے ان افسران کی زبانیں آڑھتیوں کے سامنے گنگ ہو جاتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جہاں سے مہنگائی کا طوفان اٹھتا ہے یعنی کہ نیو سبزی منڈی کے وہ آڑھتی جو من مانی بولی لگا کر ریٹ بڑھاتے ہیں انہیں قانون سے بالاتر قرار دے دیا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان مجسٹریٹس کی قانون پسندی صرف کمزور ریڑھی و چھابہ فروشوں کے لیے ہے، جبکہ منڈی کے بڑے مگرمچھوں نے شاید ان کے ضمیروں کی قیمت لگا دی ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کا عملہ بولی کے وقت کسی پراسرار غار میں روپوش ہو جاتا ہے تاکہ آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے غریب کی کھال ادھیڑ سکیں۔گوجرخان کی سبزی منڈی پنجاب کا وہ کالا دھبہ ہے جو سرکاری اراضی کے بجائے نجی قبضے میں پل رہی ہے۔ یہاں قانون نہیں، کمیشن مافیا کا سکہ چلتا ہے۔

    آڑھتیوں، مڈل مینوں نے مل کر ایسا جال بنا رکھا ہے کہ کسان کو صلہ ملتا ہے نہ عوام کو ریلیف۔ مارکیٹ کمیٹی کی خاموشی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ کیا یہ سمجھا جائے کہ متعلقہ حکام ان آڑھتیوں سے ماہانہ نذرانہ وصول کر کے عوامی چیخوں پر کان نہیں دھر رہے؟ عوامی سماجی حلقوں نے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ اس پرائیویٹ ٹارچر سیل نیو سبزی منڈی کو فوری طور پر سرکاری جگہ حیلیاں منتقل کیا جائے اور بولی کا کنٹرول اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خود اپنے پاس رکھیں۔ اگر اس لوٹ مار کو روکا نہ گیا تو رمضان المبارک میں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی بھی خواب بن جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان سفید پوش ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کار افسران کے خلاف فوری ایکشن نہ لیا گیا، تو رمضان المبارک میں غریب طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور سوئی ہوئی مارکیٹ کمیٹی پر ہوگی۔

  • یوم یکجہتی کشمیر،مرکزی مسلم لیگ کے لاہور،پشاور،کراچی سمیت تمام شہروں میں پروگرام

    یوم یکجہتی کشمیر،مرکزی مسلم لیگ کے لاہور،پشاور،کراچی سمیت تمام شہروں میں پروگرام

    مرکزی مسلم لیگ کے زیرانتظام 5فروری کو لاہور ،کراچی،اسلام آباد، پشاور کی طرح ملک بھر میں یکجہتی کشمیر کنونشن،کانفرنسوں، جلسوں اور ریلیوں کا انعقادکیا گیا ،ملک بھر میں ہونے والی کشمیر کانفرنسوں،جلسوں، ریلیوں میں تمام مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کراچی سے پشاور تک بڑے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا ،تقریبات میں انٹراپارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے یونین کونسل امیدواروں سے حلف بھی لیا گیا.

    لاہور میں مرکزی مسلم لیگ کا سب سے بڑاپروگرام ایوان اقبال میں ہوا،ہوا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو ،انجینئر حارث ڈار،مزمل اقبال ہاشمی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہے اور کشمیری ہم سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کی قیمت ظلم و جبر کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔مسلم یوتھ لیگ کی جانب سے مال روڈ لاہور پر یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی، ملی رکشہ یونین کے زیر اہتمام مال روڈ پرریلی سےمرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری و دیگر نے خطاب کیا،مرکزی ترجمان تابش قیوم نے مقامی ہوٹل میں اپووا کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کیا، یکجہتی کشمیر جلسوں اور کانفرنسوں کے دوران کشمیر ہمارا ہے ‘ سارے کا سارا ہے۔ کشمیریوں سے رشتہ کیا لاالہ الااللہ، کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے جاتے رہے۔شرکا نے بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے،

    اسلام آباد میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام زیروپوائنٹ سے پریس کلب تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، فیصل آباد میں کشمیر ریلی سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما حمید الحسن و دیگر نے خطاب کیا،ملتان میں پریس کلب نواں چوک شہر میں ہونیوالی یکجہتی کشمیر ریلی سے ضلعی سیکرٹری جنرل رانا عبدالرحمان و دیگر نے خطاب کیا،راولپنڈی میں پریس کلب کے سامنے یکجہتی کشمیر پروگرام کا انعقاد کیا گیا، مرکزی مسلم لیگ ہاؤس کراچی میں یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔ اس موقع پر انٹرا پارٹی الیکشن میں نو منتخب ہونے والے یوسی صدور سے عہدے کاحلف بھی لیاگیا۔ کانفرنس میں مرکزی مسلم لیگ کے قائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس سے صدر مرکزی مسلم لیگ سندھ فیصل ندیم ،کل جماعتی حریت رہنما شاہین اقبال ،صدر مرکزی مسلم لیگ کراچی احمد ندیم اعوان و دیگر نے خطاب کرتےہوئے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کا رشتہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہے اور کشمیری ہم سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کی قیمت ظلم و جبر کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ پشاور پریس کلب کے سامنے مرکزی مسلم لیگ کی ذیلی تنظیمات کے زیرِ اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں عوام نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرے کے بعد مقررین، معزز مہمانوں اور شرکاء نے یکجہتی کشمیر کے اظہار کے لیے سگنیچر وال پر دستخط کیے،مسلم ویمن لیگ حیدرآباد کی جانب سے اقصیٰ آڈیٹوریم میں کشمیری عوام سے اظہار ہمدردی و محبت کے لئے یکجہتی کشمیر کانفرنس کی گئی جس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی،ننکانہ صاحب میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر خواتین ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین، اساتذہ اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مسلم ویمن لیگ لودھراں کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار کا انعقاد کیا گیا،

    مرکزی مسلم لیگ چنیوٹ کے زیر انتظام یکجہتی کشمیر ریلی میں تعلیمی اداروں کے طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی،مرکزی مسلم لیگ لودھراں کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جم خانہ کلب میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں مذہبی و سیاسی جماعتوں سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی،مسلم سٹوڈنٹس لیک چونیاں قصور کی جانب سے چونیاں شہر میں کشمیر کی پکار کے موضوع پر یکجہتی کشمیر کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقے بھر سے نوجوانوں نے شرکت کی، ہارون آباد،بہاولنگر ، وہاڑی، خوشاب،رحیم یار خان ،منڈی بہاؤالدین،ساہیوال، خانپور،ٹنڈوالہیار ،پنڈی بھٹیاں، ایبٹ آباد،بہاولپور،چکوال،شیخوپورہ،پاکپتن،میاں چنوں، قمبر شہداد کوٹ،گوجرانوالہ ،نارووال ،چیچہ وطنی،سرگودھا ،حیدر آباد،قصور،گجرات ،میانوالی،ڈی جی خان ،جہلم ،لاڑکانہ،میر پور خاص، تلہ گنگ ،ڈسکہ،کامونکی،وزیرآباد،کھڈیاں خاص، گوجرخان، ہری پور، مانسہرہ، مردان ،سوات و دیگر شہروں میں بھی مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنسوں، جلسوں اورریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر مرکزی مسلم لیگ کا اعلامیہ
    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں ہونے والی کشمیر کانفرنسوں، جلسوں اور سیمینارز کے دوران جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا یہ شہہ رگ بھارت کے پنجہ میں قید ہے،شہہ رگ پاکستان کو بھارت سے چھڑوانے کے اقدامات کئے جائیں.پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کی وجہ کشمیر ہے لیکن پانچ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضہ کو مستحکم کیا ہے جبکہ ریاست پاکستان کا کردار اس پر خاموش تماشائی کا رہا ہے،کشمیر کا مقدمہ پاکستان عالمی سطح پر اٹھائے، پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی وکالت کی ہے، یہ پاکستان کے پانیوں کا مسئلہ ہے اور پانی زندگی ہے،آزادی کشمیر کے بنا پاکستان کی تکمیل نہیں ہوتی،پاکستان سفارتی سطح پر متحرک ہو،دوست ممالک، عالمی اداروں،طاقتوں کے ساتھ ملکر کشمیر کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑا جائے،کشمیر کمیٹی کو بھرپور فعال کیا جائے ،بھارت اپنے تمام تر جنگی وسائل اور قوت کشمیر میں جھونک دینے کے باوجود کشمیریوں کے دلوں سے جذبہ حریت کو کم نہیں کرسکا، کشمیری تحریک آزادی کے لیے آج بھی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں،بھارت کی مسلح افواج اور ریاستی دہشت گردی نے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے، بھارتی افواج کشمیر میں سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہیں، اجتماعی قبریں اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ اقوام عالم اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔بھارت پاکستان کو کشمیر سے دست بردار کرنے لیے پاکستان میں ہر طرح کی دہشت گردی کروا رہا ہے،پاکستان نے کشمیر سے منہ موڑا تو آج بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں، بھارت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بھارت ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی میں ملوث ہےکینیڈین حکومت اور امریکی اخبارات اس پر شاہد ہیں لہذا اقوام متحدہ بھارت کی اس غنڈہ گردی پر واضح اقدام اٹھائے اور بھارت کو دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کیا جائے۔بھارت اس تمام تر دہشت گردی کے باجود کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبانے میں ناکام رہا ہے، تمام تر مظالم کے باوجود کوئی کشمیری پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوا، کسی ایک بھی حریت لیڈر کو بھارت کی ظالم افواج نہیں توڑ سکیں ، کشمیری آج بھی پاکستانی جھنڈے میں دفن ہونا فخر سمجھتے ہیں بھارت اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے۔عالمی دباؤکے تحت ہندوستان نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دیا جس کے بعد کشمیر کی تحریک آزادی میں حصہ لینے والے کئی افراد کو دہشتگردقرار دیا گیا، ایک طرف بھارت نے کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم ڈھائے اور ان کو جیلوں اور اذیتوں میں بند کیا اور عمر قید کی سزائیں سنائیں تو دوسری طرف پاکستان میں کشمیریوں کے پشتیبانوں کو پابند سلاسل کرکے تحریک آزادی کشمیر کا گلا گھونٹا ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے والے قائدین کو بیرونی دباؤ پر پابندسلاسل کرنے کی بجائے رہا کیا جائے،دنیا کے حالات بدل رہے ہیں، کشمیریوں کی آزادی ان شاءاللہ قریب ہے،بھارت بنگلہ دیش کا انجام یاد رکھے، جس طرح بنگلہ دیش میں بھارتی اثرورسوخ ،ہتھکنڈے ناکام ہوئے اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں‌بھی بھارتی مظالم، ہتھکنڈے ناکام ہوں‌گے . ریاست پاکستان زبانی جمع خرچ کی بجائے اپنی کشمیر پالیسی کو واضح کرے ، کشمیر پالیسی کا ون پوائنٹ ایجنڈا رکھا جائے جوکہ فقط آزادی کشمیر ہو. ریاست کی تمام تر توانائیاں آزادی کشمیر کے لیے صرف ہونی چاہیں۔ ریاست پاکستان اپنے خارجہ و داخلہ دفاتر اور سفارت خانوں میں باقاعدہ کشمیر ڈیسک قائم کرے اور کشمیر پر انٹرنیشنل کانفرنسز منعقد کروائے، میڈیا اور شوبز انڈسٹری میں باقاعدہ تحریک آزادی کشمیر کے لیے لوگ اور وقت مختص کیا جائے۔ دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے باخبر مندوب مقرر کیے جائیں۔کشمیر ہاؤسز کا قیام کیا جائے،تعلیمی اداروں میں کشمیر کے مسئلہ پر بھر پور تحریک چلا کو قوم کو متحد کیا جائے.ریاست پاکستان کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کشمیر پر سینسر شپ ختم کروائے تاکہ پاکستان کی ڈیجیٹل فورس بھارتی عزائم کو خاک میں ملا سکے اور ہندو توا کے بھارتی ایجنڈے کی ہولناکیوں کو دنیا کے سامنے آشکار کیا جاسکے۔ بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا الزام ماضی کی طرح پاکستان پر عائد کیا اور پاکستان میں مساجد و مدارس پر حملے کئے، پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا، بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز تحریک آزادی کشمیر سے توجہ ہٹانے اور اپنی ریاستی باوردی دہشتگردی پر پردے ڈالنے کے لئے ہیں، بھارت نے اب اگر کوئی مذموم سازش کی تو قوم معرکہ حق کی طرح متحد ہو کر جواب دے گی. کشمیر کے رہنما سید علی گیلانی، آسیہ اندرابی، ڈاکٹر قاسم فکتو، مسرت عالم بھٹ، یسین ملک، برہان وانی اور ڈاکٹر منان وانی سمیت تمام ہیروز جو نہتے تکمیل پاکستان کی جنگ میں شریک تھے اور ہیں، ریاست پاکستان ان کی خدمات کا اعتراف کرے اور ان کو پاکستان کے اعلیٰ ترین ایوارڈز سے نوازے اور تعلیمی نصاب میں ان کی کہانیوں کو جگہ دے۔ دختران ملت کی چیئرمین سیدہ آسیہ اندرابی ،یاسین ملک سمیت دیگر حریت قائدین جو بھارتی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں اور بھارتی عدالتیں انہیں تحریک آزادی کے جرم میں سزاسنا سکتی ہے، پاکستان حریت قائدین کی رہائی کے لئے کردار ادا کرے، امریکی صدر کی جانب سے قائم کردہ بورڈ آف پیس میں پاکستان کشمیر کا مقدمہ بھی اٹھائے، مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد بھارت ایکسپوز ہوا، مودی سرکار نے جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام ہوا، جنگ کے بعد عالمی دنیا کے سامنے بھارت رسوا ہو چکا،اور پاکستان فاتح ٹھہرا، پاکستان کی عسکری برتری دنیا کے سامنے ہے،دفاع وطن کے لئے پاکستان کا بچہ بچہ مسلح افواج کے ساتھ ہے. اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کشمیریوں کو مسلح جدوجہد کا حق حاصل ہے، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ،مرکزی مسلم لیگ کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت اور مدد جاری رکھے گی، ان شاءاللہ

  • ‎ملبورن میں مہاتما گاندھی کا کانسی کا مجسمہ چوری

    ‎ملبورن میں مہاتما گاندھی کا کانسی کا مجسمہ چوری

    ‎آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں آسٹریلین انڈین کمیونٹی سینٹر کے باہر نصب مہاتما گاندھی کا 426 کلوگرام وزنی کانسی کا مجسمہ چوری ہو گیا ہے۔ یہ مجسمہ 2021 میں انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR) کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ چوری جنوری 2026 کے اوائل میں ہوئی، تاہم اس کی اطلاع فروری کے شروع میں منظر عام پر آئی۔
    ‎سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق چوروں نے اینگل گرائنڈر کا استعمال کرتے ہوئے مجسمے کو ٹخنوں کے مقام سے کاٹا اور اسے اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ باقی پاؤں کو پائے راستے پر چھوڑ دیا۔ اس واقعے کی تحقیقات وکٹوریہ پولیس کر رہی ہے اور اسے ایک سنگین "نفرت انگیز جرم” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے آسٹریلوی حکام سے مجسمے کی فوری بازیابی اور مجرموں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

  • بسنت کے موقع پر لاہور میں کتنی گاڑیاں داخل ہونے کا امکان ہے؟

    لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول پر لاکھوں گاڑیاں کے داخل ہونے کا امکان ہے۔

    بسنت کے موقع پر شہرِ لاہور میں تقریبا 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر پٹرولنگ ٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں10 ہزار پولیس اہلکار اور 2500 ٹریفک وارڈنز تعینات ہوں گے چیف ٹریفک آفیسر نے پورے پاکستان کو لاہور میں بسنت منانے دعوت بھی دی ہےشہر کے داخلی راستوں کے علاوہ ریڈ زون میں سیف سٹی کیمروں سے براہِ راست مانیٹرنگ کی جائے گی ٹریفک انتظامات کو حتمی شکل بھی دے دی گئی ہے۔

    چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اطہر وحید کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری جبکہ ریڈ زون کی چھتوں پر کیمرے نصب کر کے آپریشنل کیے جائیں گے جن کی مدد سے براہ راست مانیٹرنگ ہوگی،ایس پی آپریشنز سیف سٹی محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ریسکیو اور پولیس سمیت 15 محکموں کی مشترکہ ٹیمیں متحرک رہیں گی، شہری قانون کی پاسداری یقینی بنائیں تو بسنت فیسٹیول مستقل بنیادوں پر جاری رہے گا۔

    دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران موٹرسائیکل پر پابندی ہوگی، شہری فری ٹرانسپورٹ استعمال کریں،بسنت کے دوران شہری کم سے کم گاڑیوں کو سڑکوں پر لائیں اور فری حکومتی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ آلودگی میں مزید کمی لائی جا سکے، موٹر سا ئیکل پر پابندی ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ان تمام اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ، منظم اور آلودگی سے پاک ماحول میں منانا ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر سموگ کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے جبکہ اے آئی بیسڈ مانیٹرنگ اور جی ایس میپنگ کے ذریعے آلودگی پر مؤثر کنٹرول کیا جا رہا ہے، لاہور میں فضائی آلودگی کے حوالے سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 173 ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ بہتری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شر یف کے انسدادِ سموگ اقدامات اور عوامی تعاون کا نتیجہ ہے جس کے باعث مقامی آلودگی پر مؤثر حد تک قابو پایا جا سکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتی سیاسی عزم اور عوامی تعاون سے ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوئی ہے جبکہ آلودگی کے اسباب کے خاتمے کے لیے جامع ملٹی سیکٹورل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہے، تمام صنعتی چمنیوں کی ای پی اے کے ذریعے 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے، سموگ کنٹرول روم مکمل طور پر فعال ہے اور ڈرونز و سی سی ٹی وی کی مدد سے کڑی مانیٹرنگ جاری ہے، بھٹوں، صنعتی یونٹس اور گاڑیوں کے اخراج پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ ہے اور خلاف ورزیو ں پر قانونی کارروائیاں کی جائے گی جبکہ فیلڈ ٹیمیں بھی مکمل طور پر متحرک ہیں حکومت کا ہدف پورا سال بہتر اے کیو آئی برقرار رکھنا ہے، انہوں نے بزرگوں اور بیمار شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

  • بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    بسنت کی تیاریاں:مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ ، شہریوں سے براہِ راست ملاقات

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لبرٹی چوک کا دورہ کیا اور شہریوں سے براہِ راست ملاقات کی۔

    لاہور میں بسنت کے آغاز پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز لبرٹی چوک پہنچ گئیں، جہاں انہیں دیکھتے ہی شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی شہریوں نے خوشی کا اظہار کیا اور وزیراعلیٰ کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں،مریم نواز نے اپنی گاڑی روک کر شہریوں کو ہاتھ ہلایا اور ان سے گفتگو کی ،چھوٹے بچوں کو پیار دیااس دوران انہوں نے موٹر سائیکل سوار وں کو حفاظتی اقدامات اپنانے کی ہدایت کی اور ایک موٹر سائیکل سوار کو سیفٹی راڈ لگانے کا کہا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل چلانے پر پابندی نہیں، تاہم سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں موٹر سائیکل بند کر دی جائے گی، حفاظتی اقدامات کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے وزیراعلیٰ کی موجودگی پر شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی اور شہریوں نے پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں کو سراہا۔

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    بسنت کے باعث لاہور میں فضائی سرگرمیوں کیلئے نوٹم جاری

    نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ

  • ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آمد

    ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد آمد

    
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف پاکستان کے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ نور خان ائیر بیس پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ازبک صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔
    صدر مرزائیوف کے خصوصی طیارے سے باہر اترنے پر صدر مملکت اور وزیراعظم نے ان سے پرجوش مصافحہ اور معانقہ کیا۔ وزیر اعظم سے ان کا خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ معزز مہمان کو اکیس توپوں کی سلامی دی گئی جبکہ روایتی اور ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے گلدستے پیش کیے اور دونوں ملکوں کے قومی پرچم تھامے ہوئے ان کا خیرمقدم کیا۔ وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کو بھی معزز مہمان کا تعارف کرایا۔

  • آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج کے لیے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں نہیں بند کرنے دیں گے اور نہ ہی عوام کو تکلیف پہنچانے دیں گے۔

    اس کے علاوہ یوم کشمیر کی ریلی سے خطاب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہماری جدوجہد کشمیر کی آزادی تک جاری رہےگی۔

    گزشتہ روز کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ضیا لنجار کا کہنا تھاکہ شاہراہ بند کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، زبردستی دکانیں بند کرائیں تو قانون حرکت میں آئےگاجماعت اسلامی نے شارع فیصل بند کرکے قانون کی خلاف ورزی کی، شارع فیصل بندکرنے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے چاہیے تھی، دہشت گردی کی دفعات شامل ہوں گی تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی، حافظ نعیم کو پیغام پہنچایا ہے سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کریں، احتجاج کرنا ہے تو مرکزی سڑک پر نہیں بلکہ سروس روڈ پرکریں، اگر احتجاج کرنا ہے پریس کلب کے باہر کریں۔

    خیال رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔