گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)ڈی پی او گجرات سید علی محسن کا پولیس افسران اور پولیس شہداء کے بچوں کی تعلیم کیلئے احسن اقدام،انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سکول گجرات کیمپس سے ایم او یو سائن تفصیلات کے مطابق پولیس افسران اور پولیس شہدا ء کے بچوں کی تعلیم کے لئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات کا ایک اور احسن اقدام، انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سکول گجرات کیمپس سے معاہدہ سائن کر دیا گیا۔ ایم او یو کے مطابق انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادگجرات کیمپس سکول میں شہداء کے بچوں کو مفت تعلیم جبکہ کنسٹیبلان اور ہیڈ کنسٹیبلان کے بچوں کے لئے ماہانہ فیس میں 35فیصد,کلاس فور ملازمین کے لئے 40فیصد، اپر اسپارڈینیٹ کے لئے 25فیصد رعائیت دی جائے گی۔جبکہ داخلہ فری دیا جائے گا۔اس موقع پر انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سکول گجرات کیمپس کے ڈائریکٹرز محمد عرفان اسحاق بانٹھ ایڈوکیٹ، کرنل (ر) علی رضا مدثر، سید فر یاد حسین شاہ، چوہدری ظفر اقبال بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات سید علی محسن کا کہنا تھا کہ گجرات پولیس انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سکولز کی انتظامیہ کی مشکور ہے جنہوں نے پولیس افسران اور پولیس کے شہداء کے بچوں کی تعلیم کے لئے خصوصی کاوش کی۔
Blog
-

کفایت شعاری کی نئی مثال عثمان بزدار نےوزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات میں کروڑوں روپے کی کمی کا اعلان کردیا
لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے بالآخر وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق بچت اورغیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کے عمل کا آغاز وزیراعلیٰ پنجاب کے آفس سے کر ہی دیا جو سب کے لیے قابل تقلید مثال بن گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر وزیراعلیٰ کے دفترنے تنخواہوں کے علاوہ دیگراہم مدات میں 2017-18 کے نسبت مالی سال 2018-19 کے حقیقی اخراجات میں تقریباً 60فیصد کمی کی ہے،وزیراعلیٰ کے تحائف و مہمانداری کے اخراجات 11کروڑ روپے سے کم کر کے 3کروڑ روپے کردئیے گئے ہیں او راس طرح اس مد میں تقریباً 8کروڑ روپے کی بچت کی گئی ہے
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کفایت شعاری اورغیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی پالیسی کے تحت گاڑیوں کی مرمت کی مد میں اخراجات ساڑھے 4کروڑروپے سے کم کرکے نصف کر دئیے گئے ہیں . وزیراعلیٰ اوران کے عزیزواقارب کی نجی رہائشگاہوں کی سیکورٹی پر تقریباً 2ہزار سے زائد اہلکار تعینات تھے لیکن اب ان اہلکاروں کی تعدادمیں خاطر خواہ کمی کی گئی ہے اور سیکورٹی کے لئے ناگزیر ضرورت کے تحت اہلکار تعینات کئے گئے ہیں،اس طرح سیکورٹی اخراجات میں تقریباً66فیصد کمی کی گئی ہے جو 83کروڑروپے سے کم ہو کر 28کروڑ روپے رہ گئے ہیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب کا لاہور میں کوئی کیمپ آفس، نجی رہائش یا دفتر نہیں اورمیں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائشگاہوں کی بہتری اور نئی تعمیر ات کی غلط روایت کو بھی بدل دیا گیاہے.پی ٹی آئی حکومت نے سابقہ دورحکومت میں سیکورٹی کے نام پر ذاتی رہائشگاہوں کی دیواروں وغیرہ کی تعمیر ومرمت پر سخت تنقید تھی .لیکن اب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کفایت شعاری کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کے ویژن پر ہر صورت عمل کرکے عمران خان کے اعتماد کو بحال رکھیں گے.
-

مریم نواز نے شہباز شریف کی کھل کر مخالفت کر دی، کہا ان کا پوائنٹ آف ویو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے
پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف کے موقف کی کھل کر مخالفت کی اور کہا ہے کہ ان کا پوائنٹ آف ویو ہمیشہ مختلف ہوتا ہے. مسلم لیگ ن کے اندر جمہوریت ہے ہماری اپروچ میں فرق ہو سکتا ہے تاہم آخری فیصلہ نواز شریف ہی کرتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف بھی پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں. اپوزیشن کی اے پی سی کو وہی لیڈ کرینگے۔ جب پارٹی کا صدر موجود ہے تو میں کیوں اے پی سی کو لیڈ کروں گی، میری شرکت کا فیصلہ پارٹی کرے گی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہ یہ ملک مصر ہے نہ ہم نوازشریف کو مرسی بننے دیں گے۔ شہباز شریف کی اپنی رائے اورمیری اپنی رائے ہے۔ میثاق معیشت کی کھل کر مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے اسے مذاق معیشت قرار دیدیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کو دل کا عارضہ پرانا ہے انہیں تیسری بار جیل میں ہارٹ اٹیک ہوا لیکن ہمیں لاعلم رکھا گیا ،نوازشریف کی صحت کے معاملے پر آگاہ ہونا عوام کا حق ہے میاں صاحب کودل کا عارضہ15 سے20سال پرانا ہے ،نوازشریف کی صحت کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینا چاہتی ہوں ، میاں صاحب کو ایک اور بائے پاس کی ضرورت ہے، ان کو ضمانت نہیں دی گئی،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب کو تیسری بار ہارٹ اٹیک اسوقت ہوا جب وہ اڈیالہ جیل میں تھے، میاںصاحب کی طبیعت خراب ہوئی تو ایک دن سیل میں مجھے میسج دیا گیا کہ سپیڈنڈٹ آفس فوری پہنچیں وہاں گئی تو کچھ حضرات بیٹھے تھے کچھ پمز کے کارڈیالوجسٹ تھے انہوں نے بتایا کہ میاں صاحب کی طبیعت خراب ہے انہیں کہیں کہ ہسپتال چلے جائین اسی دوران نواز شریف وہاں آگئے ان کو ہسپتال جانے کا کہا تو وہ نہیں آئیں گے ،میاں صاجب نے کہا مجھے منطور نہیں کہ میں اکیلا آپ کو جیل چھوڑ کر ہسپتال چلا جاوں، ڈاکٹرز نے کہا کہ میاںصاحب کو کنوینس کریں کہ وہ ہسپتال جائیں مغرب کے بعد کا وقت تھا میں محسوس کر رہی تھی کہ کچھ ہلچل ہے لیکن کچھ بتایا نہیں جا رہا،
مریم نواز سے جب تاریخ پوچھی تھی تو انہوں نے کہا کہ کیلکولیٹ کر لیں مجھے تاریخ یاد نہیں. مریم نواز نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان کو ایمرجنسی میں لاہور سے اڈیالہ بلوایا گیا اور کہا کہ میاں صاحب کا ٹیسٹ کروانا ہے، میں نے ایک گھنٹہ لگا کر کنوینس کیا کہ وہ ہسپتال جائٰیں، ڈاکٹر عدنان آ گئے ،میاں صاحب ہسپتال چلے گئے ان کو دو یا تین دن رکھا گیا، وہ مزید بھی رکھنا چاہتے تھے، مجے ان کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی جاتی تھی، ایک دن مجھے خبر ملی کہ میاں صاھب واپس آ رہے ہیں جب واپس آئے تو میری دس منٹ کی ملاقات ہوئی، میاںصاحب ڈاکٹر کی ہدایات کے باوجود جیل واپس آئے تھے، ان کو میڈیکل سہولیات اپنے آپ دے دی گئیں، ایمرجنسی کی چیزیں مہیا کر دی گئیں میں یہ سوچتی رہی کہ کیا بات ہے، پھر ایک دن معالج نے بتایا کہ میاں صاحب کو اس دن ہارٹ اٹیک ہوا تھا، ہمیں کسیڈاکٹر، جیل کے عملے نے کوئی ریکارڈ نہیں دیا، ڈسچارج سلپ کچھ ہفتے بعد ملی جس میں واضح لکھا ہے کہ میاں صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا، یہ مریض ،لواحقین اور مریض کے معالج کو دیا گیا.
مریم نواز نے کہا کہ جیل حکام نے بڑی غفلت برتی اگر کچھ نقصان ہوتا تو میری روح کانپ جاتی، نواز شریف کی ہارٹ کی دو میجر سرجریز ہو چکی ہیں،
مریم نواز نے مزید کہا کہ میاں صاحب کی ایک بڑی شریان 95 فیصد بند ہے،میاں صاحب کو ایک اور بائے پاس کی ضرورت ہے، ان کو ضمانت نہیں دی گئی، میں آئی وٹنس ہوںجب وہ ہسپتالوں کے چکر لگا رہے تھے مجھے ہسپتال جانے کی اجازت تھی، کئی ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ ہائی رسک کیس ہے،
واضح رہے کہ میاں نواز شریف کو 29 جولائی 2018 کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا . نواز شریف کے بائیں بازو اور سینے میں تکلیف کے باعث ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کر کے فوری طور پر جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا تھا.
-

راولپنڈی پولیس نے منشیات فروش گرفتار کرلیا
راولپنڈی :تھانہ ائیرپورٹ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش عبدالمنیب گرفتار کر لیا۔
ملزم سے 1 کلو 400 گرام چرس برآمد کی گئی۔ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے سورس آف سپلائی معلوم کرنے کا تحرک جاری ہے۔ -

ہنڈا کمپنی نے کیا گاڑیوں کی قیمت میں آضافہ
پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہنڈا کمپنی نے پاکستان میں اپنی گاڑیاں مہنگی کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہنڈا کمپنی نے اپنی گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ نئی قیمتوں میں 2 لاکھ 60 ہزار سے چار لاکھ تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کے مطابق 24 جون سے ہنڈا سوک ٹربو آر ایس کی قیمت 41 لاکھ 99 ہزار روپے پر پہنچ جائے گی۔ اسی طرح سوک 1.8L VTI CVT کی قیمت بھی 35 لاکھ 99 ہزار روپے ہوجائے گی۔
نئی قیمتوں کے مطابق ہونڈا سٹی 1.3L MT اور ہنڈا سٹی 1.5L Aspire MT کی قیمت میں 2 لاکھ 60 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
ہنڈا کمپنی نے نوٹیفیکشن جاری کیا ہے کہ 19 جون تک جن گاڑیوں کی بکنگ ہو چکی ہے وہ پرانی قیمت پر ہی ملے گی لیکن 22 جون سے گاڑیوں کی بکنگ نئی قیمت پر کی جاٸے گی ۔ -

ایم پی اے سلیم سرور جوڑا کی گرانٹ سے جی ٹی روڈ تعمیر،سفر آرام دہ ہو گیا
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)ایم پی اے چوہدری سلیم سرور جوڑا کے5کروڑ روپے کے خصوصی فنڈز سے گلزار مدینہ چوک تا پاک فین جی ٹی روڈ ایک ساتھ کمپیکشن کے بعد چند دنوں میں کارپٹ روڈ مکمل کر لی گئی۔ جدید مشینری سے تیار ہونے والی کارپٹ روڈ ہموار ہونے سے ٹریفک کے لیے سفر آرام دہ ہو گیا۔ کھنڈر بنی سڑک سے نجات ملنے سے گاڑی مالکان نے سکون کا سانس لیا۔ ٹرانسپورٹ کی ٹوٹ پھوٹ کو بریک لگ گئی۔ کھنڈر بنی سڑک سے نہ صرف لوگوں کی گاڑیاں تباہ ہو رہی تھیں بلکہ لوگوں کو سڑک کے کھڈے ہلا کر رکھ دیتے تھے۔اگرچہ چناب پل تا بھمبر پل پرانا جی ٹی روڈ ایک عشرہ سے زائد عرصہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سابق حکمران اس منصوبے کی ہلکی پھلکی مرمت تو کرا گئے لیکن سڑک کی دوبارہ اچھی تعمیر کیلئے فنڈز متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کو نہ دلا سکے۔ اگرچہ پوری روڈ تعمیر کی طلبگار ہے لیکن چند کلومیٹر سیکشن کی تعمیر بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ گجرات شہر کو عرصہ دراز سے ایسی ہی معیاری جدید کارپٹ روڈز کی فوری ضرورت ہے۔ کچہری روڈ، سرکلر روڈ، گلزار مدینہ روڈ اور شہر کی دوسری آر سی سی تعمیر ہونے والی سڑکیں فوری توجہ کی منتظر ہیں۔ ان سڑکوں کی اپ گریڈیشن کی فوری ضرورت ہے۔ لین مارکنگ سے ٹریفک رولز کی آگاہی کا منصوبہ بھی شامل ہونا چاہئے۔ سڑک کے اطراف صفائی کی بھی ضرورت ہے۔
-

معاشرہ اور ایک شرمناک پہلو ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی
دور جہالت میں عورتوں کو عزت و احترام دینا عیب سمجھا جاتا تھا اور معاشرے میں عورت ذات سب سے حقیر طبقہ کا حصہ تھی۔
عورتوں پر ظلم وبربریت کو وہ وحشی اور دردندہ صفت لوگ اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اگر کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے منہ چھپاتا پھرتا اور غم و غصے سے دن رات گزارتا سب قبیلے والے لوگ اسکا مزاق اڑاتے ہر طرح کے طعنے دیتے جن سے تنگ آ کر وہ اپنی بیٹیوں سے شدید نفرت کرتا اس نفرت کی آگ کو بیٹیوں پر تشدد کرکے بجھاتا اور بعض لوگ تو بدنامی کے ڈر سے اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے۔
بیچاری ننھی معصوم سی جانوں کو زندہ ہی دفنا دیا جاتا۔
عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے ان پر ظلم و ستم کی ایسی ایسی داستانیں رقم کیں جاتیں کہ تاریخ کے اوراق آج بھی چیخ چیخ کر ان کے مظالم بیان کرتے ہیں۔
لیکن اسی اثناء میں بہت ہی خوبصورت اور بہت پیارا دین اسلام جو کہ شاہ عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت پوری دنیا میں پھیلا اس دین نے عورتوں کو عزت بخشی ان کو ہر روپ میں حقوق عطا فرمائے عورت کے ہر رشتے چاہے وہ بیٹی ہے یا بیوی ، ماں ہے یا بہن الغرض ہر روپ میں عورت کو معزز اور عزت دار بنایا۔
اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورتوں کے تمام حقوق کا محافظ ہے۔
عورت شرم و حیا کا پیکر ہے اور ڈھکی چھپی ہوئی چیز ہے بازاروں میں بکنے والی نہیں ہے دین اسلام جہاں حقوق کا تحفظ کرتا ہے وہیں عورت کی عزت و آبرو کے بچاؤ اور رب العزت کی رضا مندی کے حصول کے لیے حدود و قیود بھی متعین کرتا ہے۔
جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حدود کو توڑ کرنا فرمانی کر کے اس کو ناراض کیا جائے گا اور شیطانوں کو خوش کیا جاۓ گا تو ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنے گی۔
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی بدولت ہی پچھلی قوموں پر عذاب آیا اور صف ہستی سے مٹا دی گئیں۔
اگر آج ہم بھی کفار کی مشابہت اختیار کر کے ان کے نقش قدم پر چلیں گے تو ہم بھی رب العالمین کی رحمت سے دور ہو جائیں گے
اور عذاب الہٰی سے دوچار ہوں گے۔کفار مسلط ہم پر ہوۓ
اسلام سے جب ہم دور ہوۓ
اب دین رہا جب ہم میں نہیں
دنیا میں ہم کمزور ہوۓعورت جب تک گھر میں ہے محفوظ ہے ہر قسم کے شیطانی ہتھکنڈوں سے لیکن جب یہ اسلام کو چھوڑ کر بے پردگی کرتی ہے اپنا حسن غیر محرم پر عیاں کرتی ہے تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کا سبب بنتی ہے جبکہ اسی سے عورتوں پر زیادتی کے امکانات بڑھ گئے ہیں جب عورت نے اپنا مقام ہی نہیں پہچانا اور زمانہ جہالت کی طرح بے دریغ اور بے پردہ ہوکر فحاشی پھیلا رہی ہے تو شیطان کو بھی وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
دنیا میں سب سے بدترین ہے وہ عورت جو اپنی خوبصورتی غیر محرموں پر ظاہر کرتی ہے۔
آزادی کے نام پر چند کھوٹے سکوں کی خاطر اپنی عزت و آبرو کی دھجیاں بکھیرنے والی اور "میرا جسم میری مرضی”
کے نعرے لگانے والی عورت جب سج دھج کر خوشبوؤں میں نہا کر اور اسلامی تعلیمات کا جنازہ نکال کر گھر سے باہر نکلتی ہے تو سمجھتی ہے کہ وہ محفوظ ہے تو ایسا بالکل نہیں ہے درندہ صفت شیطان انسانوں کے روپ دھارے ان کے تعاقب میں ہوتے ہیں اور موقع پاتے ہی ان پر وار کر دیتے ہیں تب اس عورت کو مظلوم بنا دیا جاتا ہے جبکہ وہ خود اسکی زمہ دار ہوتی ہے۔جب گوشت کو سر عام بازار میں رکھ دیا جاۓ گا تو مکھیاں اور درندے تو اس پہ ضرور آئیں گے تو قصور مکھیوں اور درندوں کا نہیں بلکہ گوشت کو سر عام رکھنے والوں کا ہے۔
اسلام میں پہلے عورت کو پردہ کرنے اور اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد مرد کو نظریں نیچی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن عورت سمجھتی ہے کہ وہ جیسے چاہے باہر نکلے لیکن مرد اپنی نظریں نیچی رکھے تو ایسی عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہے۔
عورت باپردہ ہوکر گھر سے نکلے گی تو مرد کو بھی غیرت آۓ گی وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھے گا اور اسکا عزت و احترام کرے گا۔آج کل عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے چہرے کا نہیں تو وہ اس بات کا جواب دیں کہ کیا تمام صحابیات اور امہاتُ المومینین کے دل صاف نہیں تھے کیا انکے دلوں کا پردہ نہیں تھا جبکہ ان کو بھی پردے کا حکم دیا گیا حالانکہ اس وقت تو مرد بھی عمر اور صدیق جیسے تھے۔
اور آج کے دور میں نہ کوئی عمر ہے نہ صدیق پھر بھی نادان عورت سمجھتی ہے کہ پردہ تو دل کا ہوتا ہے۔
جب پردے کو دلوں تک محدود رکھا جاتا ہے تو وہ معاشرہ گناہوں کی دلدل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔آج کل میڈیا کے ذریعے بھی فحاشی اور عریانی کو فروغ دیا جا رہا ہے عورتوں کو آزادی کے نام پہ دین سے دور کیا جارہا ہے جس سے عورتوں نے اپنی حدود کو توڑنا شروع کردیا ہے آج کل ایک سرف بنانے والی کمپنی نے عورت کے گھر کی چار دیواری میں ٹھہرنے ایک داغ قرار دیا ہے جو کہ اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کیا دین اسلام یہ سکھاتا ہے؟؟؟؟
اسلامی ریاست جو کہ لا الہ الاللہ کے نام پر حاصل کی گئی تھی اس میں اس طرح سر عام فحاشی پھیلانا نا قابل برداشت ہے۔ نوجوان نسل کو بھٹکایاجا رہا ہے تاکہ وہ دین سے دور ہو جاۓ۔ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات پر پابندی لگائی جاۓ تاکہ معاشرے میں بدکاری نہ پھیلے اور اسلامی مملکت اپنے دینی احکامات کی پابندی کرکے اپنے رب کو راضی کرنے کے مواقع میسر آئیں نہ کہ نافرمانی اور معصیت کے۔
-

گورنر پنجاب کی آمد پر تاجروں کی دہائی
سرگودہا ٹرسٹ پلازہ کے کئی
تاجروں کا گورنر پنجاب کی آمد پرپولیس کے خلاف احتجاج
تفصیلات کے مطابق ٹرسٹ پالزہ کے تاجر عابد اور عبد الرحمن کو تھانہ سٹی نےگرفتار کرکے تشدد کیا
تاجروں نے اجتجاجن دکانیں بند کر دیں اور سرکٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا
پولیس نے تاجر کو رات بھر تشدد کا نشانہ بنایا 40 ہزار رشوت لیکر چھوڑا۔ تاجروں کا الزام -

ناقص گاڑیاں، ایک اور نوجوان لو کوالٹی سیفٹی اسٹینڈرڈ کے سبب زندگی کی بازی ہار گیا
لو کوالٹی سیفٹی اسٹینڈرڈ کی وجہ سے ایک اور نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے جس پر شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اور اس غفلت کا ذمہ دار کون ہے؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بہاولپور سے علی موٹرز کے نوجوان مالک یاسرعلی کا خیرپور سے بہاول پور جاتے ہوئے کار ٹرالے سے ٹکرانے پر ایکسیڈنٹ ہوگیا. یہ حادثہ اس قدر خوفناک تھا کہ نوجوان کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی. پولیس نے موقع پر پہنچ کر اپنی کاروائی شروع کر دی ہے.
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں لاکھوں روپے مالیت کی گاڑیاں بیچی اور خریدی جا رہی ہیں لیکن ان گاڑیوں میں انسانی جان کی حفاظت کے لئے کوئی انتظامات نہیں . لاکھوں روپے کی گاڑیوں میں ائیر بیگ نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے. پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ کے بیٹے کی کار حادثے میں موت ہوئی تو پاکستان کے سینئر تجزیہ نگار، صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے گاڑیوں میں ائیر بیگ نہ ہونے کے معاملہ پر زبردست آواز بلند کی جس پر ملک بھر میں ایک تحریک بنی لیکن اس کے بعد پھر خاموشی چھا گئی اور حکومتی سطح پر ابھی تک اس سلسلہ میں کوئی انتظامات نہیں کئے جارہے.
سوشل میڈیا پر لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر گاڑیوں میں مکمل حفاظتی انتظامات ہوں تو کئی لوگوں کی زندگیاں بچ سکتی ہیں. ایک رپورٹ کے مطابق مقامی سطح پر گاڑیوں کی ناقص کوالٹی کی وجہ سے ملک میں درآمدی گاڑیوں کا رجحان بڑھنے لگا ہے اورگزشتہ سال ملک میں 30 ہزار گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں. مہنگے سپیئر پارٹس ہونے کے باوجود بھی عوام امپورٹڈ گاڑیاں خرید رہے ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایسی گاڑیاں فروخت کی جا رہی ہیں جن میں ائیر بیگز سمیت انسانی جانوں کی حفاظت کے لئے دیگر سہولیات نہیں ہوتی اور ان گاڑیوں کی قیمت لاکھوں روپے ہوتی ہے. ان گاڑیوں کی وجہ سے پاکستان میں آئے روز حادثات میں اموات زیادہ ہوتی ہیں، پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ کا بیٹا کار حادثے میں جاں بحق ہوا، مسلم لیگ ن کے رہنما بلیغ الرحمان کی بیوی اور بیٹے کی بھی کار حادثہ میں وفات پا گئیں.
ٹویٹر پر ایک صارف جویریہ صدیق لکھتی ہیں کہ پاکستان میں بیچی جانے والی مہنگی گاڑیوں میں ائیر بیگ اور دیگر سیفٹی فیچرز نہیں میری حکومت سے گزارش ہے اس پر فوری طور پر ایکشن لے اور مہنگی گاڑیوں کے ساتھ متوسط طبقے کی گاڑیوں مہران کلٹس ویگن آر دیگر میں یہ ائیر بیگ انسٹال کئے جائیں.
-
پنجاب میں افغانوں کے کاروبار پر پابندی عائد، مکان، دوکان اور ہوٹل بھی کرایہ پر نہیں دیے جا سکیں گے
پنجاب میں افغانیوں کے کاروبار پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ اسی طرح جن مساجد میں افغانی امام ہیں انہیں فوری طور پر ہٹانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانیوں کو مکان، دوکان اور ہوٹل بھی کرایہ پر دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے. افغان شہریوں کو جائیداد کے لین دین پر بھی پابندی ہو گی. اس سلسلہ میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے. محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پنجاب کے تمام شہری علاقوں میں رہائش پذیر افغان مقامی تھانوں میں رجسٹریشن کروانے کے پابند ہوں گے۔
یہ فیصلہ ملک بھر میں سکیورٹی کی صورتحال، دہشتگرادنہ سرگرمیوں میں افغان شہریوں کے ملوث پائے جانے کے بعد محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں افغان شہریوں کیساتھ ہر قسم کے کاروبار، لین دین اور جائیداد کی خرید و فروخت پر پابند ی لگا ئی گئی ہے، خلاف ورزی کی صورتحال میں ملوث افغان شہری کیساتھ اس کے شراکت دار کیخلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے علاوہ پنجاب بھر کی تمام مساجد میں امام مسجد کی خدمات سرانجام دینے والے تمام امام، معلموں کو فوری طور پر ان کی ذمہ داری سے ہٹانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اس نوعیت کے اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں.
