میٹر و پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی سرکاری زمین کوڑیوں کے بھاو بیچنے کا معاملہ ، سابق ٹاو ن ناظم کوئٹہ کے بھائی سمیت تین بے نامی دار گرفتار ، قانون کی آنکھ میں دُھول جھونکھتے ہوئے ملزمان نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اور قومی احتساب بیورو بلوچستان نے سابق ٹاو ن ناظم کوئٹہ قہارودان اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے آفسران کی جانب سے سرکاری زمین کی بندر بانٹ میں ملوث تین ملزمان سلطان محمد ،رحمت اﷲ ، اور عبد الرازق کو گرفتار کرلیا ہے۔ نیب بلوچستان کی تحقیقات کے مطابق سابق ٹاون ناظم کوئٹہ قہارودان نے میٹر و پولیٹن کارپوریشن کے آفسران کی ملی بھگت سے شہر کے وسط میں واقع کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین اپنے بے نامی دار عزیز کو غیر قانونی طور پر ننانونے سال کی لیز پر الاٹ کی ۔ بعد ازاں جھٹکا مارکیٹ کوئٹہ میں واقع مذکورہ سرکاری زمین دوسری پارٹی پر بیچتے ہوئے اپنے بھائی کے آکاو نٹس میں رقم وصول کی ۔ نیب بلوچستان کے قانونی نوٹسز پر پیش نہ ہونے اور تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر قومی احتساب بیورو بلوچستان کی اینٹیلیجنس ٹیم نے سابق ٹاون ناظم کوئٹہ کے بھائی سمیت تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے ۔ ملزمان کو احتساب عدالت پیش کر کے ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔مزید تحقیقات جاری ہیں۔
Blog
-
مظفرگڑھ میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کےلئے ہنگامی مشقیں
ممکنہ سیلاب کی تیاریوں کے حوالے سے مظفرگڑھ میں دریائے چناب پر ریسکیو 1122 کی جانب سے فرضی مشقیں کی گئیں،اس موقع پر سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کا عملی مظاہرہ بھی کیاگیا.ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر مظفرگڑھ میں دریائے چناب پر ریسکیو کی جانب سے فرضی مشقیں کی گئیں.ضلعی انتظامیہ ملتان کے زیراہتمام ہونے والی مشقوں کے دوران محکمہ صحت،لائیوسٹاک، سول ڈیفنس سمیت دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے بھی کیمپ لگائے گئے تھے.ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک نے مشقوں کا معائنہ کیا،اس دوران ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے سیلاب میں پھنسے افراد کو بحفاظت طریقے سے نکالنے اور غوطہ خوری کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا.مشقوں کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ملتان عامر خٹک اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ملتان ڈاکٹر کلیم ممکنہ سیلاب کے حوالے سے ریسکیو سمیت تمام سرکاری محکموں کی تیاریاں مکمل ہیں اور فرضی مشق کا مقصد سیلاب کے حوالے سے تیاریوں کو جانچنا تھا.

-

وکلا دیں گے سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے سپریم کوٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کر دیا.
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق .سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ دو جولائی کو وکلا سپریم کورٹ کےداخلی دروازے پر دھرنادیں گےوکلا جوڈیشل کونسل کی کارروائی تک بیٹھے رہیں گے،چیئرمین سینیٹ کیخلاف سازش بلوچستان کیخلاف سازش ہے.
انہوں نےکہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف ریفرنس کےبعدچیئرمین سینیٹ کےپیچھےپڑےہیں،امان اللہ کنرانی نے مزید کہا کہ بلوچستان،حکومت کی ترجیحات میں ہے نہ ہی اپوزیشن کی ترجیحات میں ہے.الیکشن کمیشن کےارکان کےتقرر میں ڈیڈلاک آگیا ہے،
دونوں جماعتیں سندھ سے نمایندے پر راضی ہیں.بلوچستان کی نمایندگی کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہے،دہشت گردی بھی اس قوم کیخلاف جنگ ہے،کرپشن کیخلاف کارروائی نیب کا کام نہیں ہے.ہم سب کو مل کر کر کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا،اگر کچھ منفی آتا ہے تو ایکشن کمیٹی کےتوسط سے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے.آج اگر آپ کو کھٹکتا ہے تو چیئرمین سینیٹ کھٹکتا ہے کیونکہ وہ کمزور ہے، -

بلاول پہنچے اے ہی سی میں، مولانا نے اجتماعی استعفوں کی تجویز دے دی
اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان نے اجتماعی استعفوں کی تجویز دے دی
غیرمنتخب نمائندے کی سربراہی میں ہونیوالی اے پی سی میں غیر منتخب نمائندوں کی بھرمار
اے پی سی کا آغاز،بلاول پہنچے عدالت، مریم نواز کو کہاں بٹھایا گیا؟ اہم خبر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اسلام آباد کے مقامی ہوٹل مٰں جاری ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھی اے پی سی میں پہنچ گئے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے اے پی سی میں تجویز دی ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اجتماعی طور پر اسمبلی سے استعفیٰ دیں، مولانا فضل الرحمان نے 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تجویز بھی دے دی.
اے پی سی سے قبل اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس
اپوزیشن کی اے پی سی شروع ہونے سے قبل ہی ناکام ،اہم خبر
بلاول زرداری جب اے پی سی میں پہنچے تو مولانا فضل الرحمان نے استقبال کیا، اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین شریک ہیں.
اپوزیشن کی اے پی سی ہو گی ان کیمرہ، میڈیا بریفنگ ہو گی آخر میں
حکومتی اتحادی جماعت بی این پی اے پی سی میں شرکت کریگی یا نہیں، فیصلہ ہو گیا
اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلیے مولانا متحرک، نیشنل پارٹی کے وفد سے ملاقات
مریم نواز کا ایک اور یوٹرن، مولانا فضل الرحمان کا رابطہ، مریم نواز نے کیا کہا؟
-

پاکستان فلم انڈسٹری لالی وڈ .. محمد فہد شیروانی
پاکستان کی فلم انڈسٹری "لالی ووڈ” کا آغاز 1948 میں ڈائریکٹر داؤد چاند کی فلم "تیری یاد” سے ہوا۔ 1947 سے لے کر 2007 تک لاہور پاکستان کی فلم انڈسٹری کا گڑھ رہا ہے۔ ستر کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری دنیا کی چوتھی بڑی فلم انڈسٹری تھی۔ دنیا کی تاریخ میں سب سے ذیادہ فلمز میں ایکٹنگ کرنے کا ریکارڈ بھی پاکستانی اداکار سلطان راہی مرحوم کے پاس ہے جنہوں نے لگ بھگ 803 پنجابی اور اردو فلمز میں کام کیا۔ اسی بناء پر سلطان راہی مرحوم کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری نے اب تک تقریباً 10 ہزار اردو فلمز، 8 ہزار پنجابی فلمز، 6 ہزار پشتو فلمز اور 2 ہزار سندھی فلمز پروڈیوس کی ہیں۔ مزید علاقائی زبانوں میں بنائی گئی فلمز ان کے علاوہ ہیں۔ اگر اوسطا دیکھا جائے تو 72 سال میں پاکستان نے تقریباً ہر روز ایک نئی فلم کو جنم دیا۔
پاکستانی فلم انڈسٹری نے پاکستان کے مثبت اور ثقافتی تشخص کو ابھارنے میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستانی فلمز نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں فلم بینوں کی توجہ حاصل کی۔ پاکستانی فلمز کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں مختلف ممالک میں ان کی علاقائی زبان میں "ڈبنگ” کرکے دکھایا جاتا رہاہے۔ چین میں پاکستانی اداکاروں کے مجسمے بھی بنا کر شہروں میں نصب کئے گئے جو کہ پاکستانی فلمز کی عالمی مقبولیت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
بدقسمتی سے 80 کی دہائی سے لے کر 2013 تک پاکستانی فلم انڈسٹری بیرونی سازشوں اور اپنوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہوگئی تھی۔ پھر اداکار و فلمساز ہمایوں سعید پاکستان فلم انڈسٹری کے لئے ہوا کا جھونکا ثابت ہوئے اور انہوں 2013 میں بطور فلمساز اپنی پہلی فلم ” میں ہوں شاہد آفریدی ” پروڈیوس کی جو پاکستانی فلم انڈسٹری پر طاری جمود توڑنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان میں فلمز بنانے کا سلسلہ چل نکلا جس نے نہ صرف نئے اداکار، ڈائریکٹر، کیمرہ مین، تیکنیک کار اور رائٹر پیدا کئے بلکہ نئے فلمسازوں کو بھی فلمز بنانے کا حوصلہ دیا۔
اس وقت پاکستان کے نمایاں فلمسازوں میں ہمایوں سعید، سلمان اقبال، جرجیس سیجا، شہزاد نصیب، حسن ضیاء، یاسر نواز، فضا علی مرزا، جاوید شیخ، سید نور، علی ظفر، مہرین جبار، سلطانہ صدیقی، میمونہ درید، خالد علی اور شمعون عباسی کے نام قابل ذکر ہیں۔ پاکستان کی سب بڑی سینما کمپنی "Cinepax” کے ترجمان حسیب سید کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 30 پرانی(35MM) اور 120 ڈیجیٹل سینما سکرینز موجود ہیں جبکہ 28 نئی سینما سکرینز کا اضافہ رواں سال کے آخر تک ہو نے کا امکان ہے۔ جیو فلمز، اے آر وائی فلمز، ہم فلمز، اردو1 فلمز، ایور ریڈی فلمز، ڈسٹری بیوشن کلب، HKC انٹرٹینمنٹ، فٹ پرنٹ انٹرٹینمنٹ اور آئی ایم جی سی کا شمار پاکستان کے بڑے فلم ڈسٹری بیوٹر ز میں ہوتا ہے۔
پاکستان کی بڑی سینما کمپنیوں کے مالکان نے فلمی صنعت کی بحالی کے لئے "ایکسیلینسی فلمز” کے نام سے ایک فنڈ کا اجرء کیا۔ "ایکسیلینسی فلمز” اپنے تیار کردہ فارمولے کے تحت پاکستان کے فلم سازوں کو فلم بنانے کے لئے پیسہ فراہم کرتی ہے تاکہ پاکستان کی فلم انڈسٹری ترقی کے منازل باآسانی طے کرسکے۔ "ایکسیلینسی فلمز” اب تک پاکستان کے کئی فلمسازوں کو فلم بنانے کے لئے فنڈز فراہم کر چکی ہے جو کہ ایک خوش آئند اور سراہا جانے والا عمل ہے۔
حکومتی سطح پر ہر دور میں فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کرنے کی بات کی جاتی رہی ہے لیکن ہر دور حکومت میں یہ بات صرف اور صرف کھوکھلے دعوے ثابت ہوئی جبکہ عملی طور پر فلمی صنعت کی بحالی کے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ حکومتی سرپرستی اور سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان فلم انڈسٹری زبوں حالی اور بد حالی کا شکار ہے۔ اگر حکومت اس صنعت کی طرف خصوصی توجہ دے تو نہ صرف یہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے بلکہ ملک کے سافٹ امیج کو بحال کرنے میں اپنا نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ دنیا بھر میں فلم انڈسٹری زرمبادلہ کمانے کا اہم زریعہ سمجھی جاتی ہے ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت ریونیو کمانے میں بھارت کی سب سے بڑی صنعت میں شمار کی جاتی ہے۔ پاکستانی گورنمنٹ کی توجہ اور مناسب حکمت عملی کے باعث پاکستان کی فلم انڈسٹری ملک کی ترقی کی راہ میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام بالا سے استدعا ہے کہ وہ گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کو سہارا دیں اور اس سے وابستہ ہزاروں لوگوں کے روزگار کا سبب بنیں۔

-

آصف زرداری نے تمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں
آصف زرداری نےتمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لےلیں
آصف زرداری کو نیب نے اسمبلی کی بجائے کہاں پہنچا دیا؟ بلاول پریشان
آصف زرداری کو عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت کا نیب کو حکم
بلاول زرداری کے حلقہ میں خاتون نے فون پر بات کرنے سے انکار کیا تو اسکے ساتھ کیا ہوا، افسوسناک خبر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں پارک لین، توشہ خانہ، بلٹ پروف گاڑیوں کے کیس کی سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اخترکیانی نے سماعت کی، کیس کی سماعت شروع ہوئی تو آصف علی زرداری نے خود دلائل دینا شروع کر دیے، آصف زرداری نے عدالت میں کہا کہ مجھ پرجعلی کمپنی بنا کرقرض لینے کا الزام ہے ،مجھ میں ہمت اورطاقت ہے میں ملک کی جمہوریت کومضبوط بناؤں گا، دوران سماعت آصف زرداری نےتمام مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں اور کہا کہ معلوم ہےمیں یہاں کیوں کھڑاہوں ، مجھے پہلے بھی 8 سال بعدرہا کیا گیا، کیس واپس لیتاہوں،میں کسی کوشرمندہ نہیں کرناچاہتا.
حکومت کو نکالنے کیلئے سیاسی قوتوں کو آگے ہونا ہو گا، آصف زرداری
ایک ہفتے کی جیل کے بعد زرداری کی بس ہو گئی، اسمبلی میں کیا کہہ دیا؟ بڑی خبر؟
نیب نے عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر سابق صدر کو اسلام آبادہائیکورٹ میں پیش کردیا،پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملاقات کیلئے اسلام آبادہائیکورٹ پہنچے تو پولیس اہلکاروں نے انہیں گیٹ روک لیا، پولیس اہلکاروں کاکہناتھا کہ آپ کا نام فہرست میں نام نہیں اس لئے آپ اندر نہیں جا سکتے ،تاہم اجازت ملنے کے بعد بلاول بھٹو کو عدالت میں جانے کی جازت دیدی گئی ،بلاول بھٹو زرداری کمرہ عدالت میں آصف زرداری سے گلے ملے،آصف زرداری نے بلاول بھٹو کو اپنے ساتھ والی نشست پر بٹھا لیا
-

طالبان کو افغانستان سےفوج نکالنے کی یقین دھانی کرا دی، امریکا
امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ طالبان کو یقین دہانی کرادی ہے کہ ہم غیرملکی فوج نکالنے کو تیار ہیں، امید ہے طالبان سے یکم ستمبر تک افغان امن سمجھوتہ طے پاجائے گا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی وزیرخارجہ کا کابل میں افغان قیادت سے ملاقاتوں کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حقیقی پیشرفت حاصل کرلی ہے، سمجھوتے کا مسودہ بھی تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان امن سمجھوتے کے سلسلے میں پاکستان کا کردار اہم ہے، امریکا مذاکرات کے نتائج سے متعلق ہدایات نہیں دے سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے افغان سرزمین اب دوبارہ دہشت گردی کا مرکز نہیں بنے گی، توقع ہے دہشت گردوں کو اب افغانستان میں محفوظ ٹھکانے نہیں ملیں گے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو افغانستان کے غیر اعلانیہ دورہ پر ہیں، اس دوران انہوں نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔
-

لوگ صحافت کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں … ناصر بیگ چغتائی
ہم جب پرنٹ میں تھے تو ہم پر ہر قسم کی مافیا کا دباو تھا ۔دباو بھی ایسا کہ رات کو تعاقب کیا جاتا تھا ۔گھر پر فون کر کے کہا جاتا تھا کہ آج تو آجائے گا لیکن باز نا آیا تو پھر واپس نہیں آئے گا ۔ کبھی فون امی اٹھا لیتیں تو ہماری جان پر بن جاتی بھی کہ وہ دل کی مریض تھیں ۔۔۔کئی بار پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔۔۔ہم ان کے نام بتاتے تو ہنس پڑتیں
ایک دن میرے دوست مسرور احسن کا پیپلز پارٹی سے اور دوسرے دوست آفاق احمد کا ایم کیو ایم سے فون آیا 1۔ شارع فیصل سے مت جانا 2 ۔ یونیورسٹی روڈ سے مت جانا ۔۔۔۔پوچھا پھر کون سا راستہ اختیار کریں ہم لوگ ۔۔۔۔دونوں ہنس پڑے ۔۔۔۔ہم چپ رہے لیکن رات 3 بجے شارع فیصل سے ہی گئے
اس زمانے میں ذہنی دباو بہت تھا اور یہ مالکان اور اسٹاف دونوں پر تھا ۔ دن بھر دھمکیاں اور خوف کے سائے لیکن موت کا خوف ہونے کے باوجود کسی کا ہارٹ اٹیک ہوا نا برین ہیمرج ۔ یہ دباو ہر جماعت کا تھا حتی کہ جماعت اسلامی بھی گھیراو کا شوق پورا کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔لیکن یہ کیسا دباو ہے کہ یکے بعد دیگرے بے روزگار ہی نہیں با روزگار بھی دل کے دورے سے یا برین ہیمرج سے مر رہے ہیں ۔ چالیس سے 50 سال کا تجربہ رکھنے والے نکالے جارہے ہیں اور پندرہ بیس سال محنت کرنے والے دل کے دورے سے مر رہے ہیں ۔
پہلے دور میں جب سیاسی دباو تھا کارکنوں کو تنخواہ بر وقت ملتی تھی ۔۔۔سات آٹھ بونس مل جاتے تھے اور سروس اسٹرکچر تھا ۔۔۔پراویڈنٹ فنڈ ایک بڑا سہارا تھا ۔۔۔۔۔
اب ایسا کیا ہے کہ میڈیا سے اموات کی خبریں مسلسل آرہی ہیں ۔ بہت سی ہم تک نہیں پہنچیں ۔ لیکن لوگ مر رہے ہیں ۔ وجہ ؟؟؟؟؟
1۔ 5 پانچ مہینے کی تنخواہ نہیں ملنا
2 ۔ ملازمت کی سیکیورٹی نا ہونا
3۔ ملازمت چھوڑنے یا ختم ہونے کی صورت میں خالی ہاتھ گھر جانا
4 ۔ کنٹریکٹ پر ملازمتیں
5 ۔ میڈیکل کی ناکافی سہولت
6 ۔ لائف انشورنس کا نا ہونا ۔
کامران فاروقی اس راہ مرگ کا نیا راہی ہے ۔ اپنے چھوٹے بچوں اور بیوہ کو سال گرہ والے دن چھوڑ گیا ۔ صدمہ سب کو ہوا بہت سے روئے ۔ بیوہ حنا سے بھی خواتین جا کر ملیں جو خود صحافی تھی اور جس نے گھر کی خاطر ملازمت چھوڑ دی تھی ۔
دوست بتا رہے ہیں کہ کامران یہ ” کم بخت پیشہ ” چھوڑنے والا تھا جس نے اس کو میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی بھی مہلت اور وسائل نہیں دئیے ۔ وہ ھی ہر ایک کی طرح دوسروں سے پوچھتا تھا کہ تنخواہ کب آئے گی ۔۔۔۔وعدے یقین دہانیاں سب بے سود رہیں ۔ کامران نے دوسری نوکری کی تلاش شروع بھی کردی ۔ بقول بن غازی ۔۔۔وہ کچھ سرٹیفیکٹ بھی تیار کروا رہا تھا ۔۔
یہ کامران کی کہانی نہیں ۔۔۔درجنوں صحافیوں کیمرہ مین اور ٹیکنیکل کی کہانی ہے جو اس ” گلیمرس کیرئر ” سے نجات حاصل کر کے دوسری نوکری کی تلاش کررہے ہیں
یہ ہے سوچنے کی بات ۔ اگر تربیت یافتہ صحافی چلے گئے اور یا نکال دیئے گئے تو صحافت کی ننگی نہائے گی کیا نچوڑی گی کیا؟
Nasir Baig Chughtai -

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک اور کشمیری شہید
مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال میں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے ایک اور کشمیری کو شہید کر دیا
چار کشمیری شہداء کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت، علاقہ میں مکمل ہڑتال
سرینگر سے کشمیری صحافی کیا بھارت سرکار نے گرفتار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے ترال میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران ایک کشمیری کو شہید کر دیا. بھارتی فوج کے ساتھ سرچ آپریشن میں سی آرپی ایف نے بھی حصہ لیا اس موقع پر علاقہ بھر مٰیں موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی.
موئے مقدس کے محافظ خاص،درگارہ حضرت بل سرینگر کے سجادہ نشین غلام حسن بانڈے وفات پا گئے
بلٹ پروف جیکٹ پہنے بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں نے کیسے مارا؟ مودی سرکار حیران
بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں
کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر مٰیں سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج گھروںپر چھاپے مارتی ہے اور احتجاج کرنے والے کشمیریوں کو شہید کر دیتی ہے
-

وسیم اکرم نے محمد عامر سے اپنے جیسے کردار کی توقع لگا لی
سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نیوزی لینڈ پر ہمیشہ نفسیاتی برتری حاصل رہتی ہے، کھلاڑیوں کو 92 ورلڈ کپ کی داستان سے حوصلے مل سکتے ہیں۔امید ہے کہ عامر وہی کردار ادا کریں گے جو 1992ء کے ورلڈ کپ کے اندر میں نے کیا تھا .
تفصیلات کے مطابق وسیم اکرم نے کہا ہے کہ انہوں نے کہا کہ 92 کے ورلڈکپ میں بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم کوئی میچ نہیں ہاری تھی، پھر ہم سے ہاری تھی، امید ہے کہ اس بار بھی ایسا ہو، پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ تینوں میچز جیتے، ٹیم اپنے میچز پر توجہ دے پھر جو ہوگا دیکھیں گے۔
سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نیوزی لینڈ پر ہمیشہ نفسیاتی برتری حاصل رہتی ہے، کھلاڑیوں کو 92 ورلڈ کپ کی داستان سے حوصلے مل سکتے ہیں۔
انہوں نے قومی ٹیم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی بہترین ٹیم ہے، کیوی بولر ٹرینٹ بولٹ کو شروع میں وکٹیں نہ دیں، چاہے 5 اوورز میں 12 رنز ہی کیوں نہ ہوں کیوں کہ بولٹ دو یا تین سلپ لے کر نئے گیند سے بولنگ کرائے گا لہٰذا باہر جاتی گیند کو جانے دیں۔
وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ جب اہم بولر کو وکٹ نہیں ملے گی تو باقی بولرز پر بھی دباؤ آئے گا، بولر کو مجبور کریں کہ وہ آپ کے پلان کے مطابق بولنگ کرے۔
محمد عامر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عامر کی لائن لینتھ کافی بہترین جارہی ہے، امید ہے محمد عامر وہی کردار ادا کرے گا جو 92 میں میرا تھا، عامر کو ہمیشہ سپورٹ کیا کیوں کہ معلوم تھا کہ اسکو وکٹ مل گئی تو ردھم واپس آجائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہاب ریاض بھی اچھا پرفارم کررہا ہے اور پاکستان ٹیم کو پرفارم کرتا دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔
سابق کپتان نے اوپنرز کو مشورہ دیا کہ ابتدائی تین بیٹسمینوں کا کردار کافی اہم ہوگا، ہماری شروع کی وکٹیں گرجاتی ہیں تو ہم لڑکھڑا جاتے ہیں، پاکستان نے جنوبی افریقا کے خلاف کافی اچھی بیٹنگ کی، نیا گیند دیکھ کر کھیلا، یہی حکمت عملی ہونی چاہیئے۔