Baaghi TV

Blog

  • فریال تالپور سندھ اسمبلی پہنچیں تو کیسا ہوا استقبال؟

    فریال تالپور سندھ اسمبلی پہنچیں تو کیسا ہوا استقبال؟

    سابق صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور سندھ اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے اسمبلی پہنچیں تو اراکین نے پھولوں‌ کی پتیاں نچھاور کیں،

    فریال تالپور کو عدالت پیش کر دیا گیا،گرفتاریاں سیاسی ہیں، فریال تالپور

    فریال تالپور مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لئے فریال تالپور ایوان مٰیں پہنچیں تو پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے استقبال کیا ، اراکین اسمبلی نے ڈیسک بجاکرفریال تالپور کاخیر مقدم کیا. اس موقع پر فریال تالپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب میں آپ کی شکر گزار ہوں،میرے لیےمشکلات نئی نہیں شوہر، بھائی، والد اور بی بی کو جیل میں ڈالا گیا،میں بے گناہ ہوں مجھے پتاہے یہ سب جھوٹ ہے، فریال تالپور کا مزید کہنا تھا کہ ایک عورت اور پاکستانی عورت کی حیثیت سے کہتی ہوں کبھی گھبرانا نہیں .

    جن کے خلاف مقدمات ہوں وہ ہائپر ٹینشن کا شکار کیوں ہو جاتا ہے،عدالت نے ایسا کیوں کہا؟

    فریال تالپور جب اسمبلی پہچنیں تو ارکان پیپلز پارٹی نے فریال تالپور سے ان کی نشست پر ملاقات کی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتطامات کئے گئے ہیں ،ﭘﯽ ﭘﯽ ﺭﮐﻦ ﮐﻮ ﭘﺮﻭﮈﮐﺸﻦ ﺁﺭﮈﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﻤﺒﻠﯽ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ.

    واضح رہے کہ جعلی اکاونٹس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر فریال تالپور کو نیب نے گرفتار کیا ہے، نیب نے فریال تالپور کی رہائشگاہ کو سب جیل قرار دیا ہے، عدالت نے فریال تالپور کا جسمانی ریمانڈ دیا تا ہم سندھ اسمبلی کا اجلاس ہونے کی وجہ سے سپیکر سندھ اسمبلی نے فریال تالپور کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے،

    ریاست کے اندر ایک اور ریاست نہ بنائیں، پیپلز پارٹی کی حکومت کو دھمکی

    قومی اسمبلی اجلاس، اپوزیشن کا احتجاج، اسمبلی کو کینیٹینر نہ بنائیں، راجہ پرویز اشرف

    زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر پی پی کا سینیٹ سے واک آوٹ

  • پاکستانی آموں کا دنیا بھر میں چرچا…خاص رپورٹ

    پاکستانی آموں کا دنیا بھر میں چرچا…خاص رپورٹ

    دنیا بھر میں پاکستانی آموں کو بہت پسند کیا جاتا ہے.پاکستان میں اس وقت آموں کا سیزن ہے، گرمیوں کے موسم میں اگر کوئی چیز تازگی وراحت کا احساس دیتی ہے تو وہ ٹھنڈے اور میٹھے آم ہی ہیں۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستانی آموں کو دنیا بھر میں خاص مقام حاصل ہے اور اس پھل کی اقسام اور ذائقے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب نے بھی پھلوں کے بادشاہ کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آم میٹھے اور ڈھیرسارے ہونے چاہئیں۔‘ پاکستان آم کی پیداوار کے لیے مشہور ہے اور پاکستانیوں کو تو یہ پھل اس قدر مرغوب ہے کہ شدت سے اس کے سیزن کا انتظار کرتے ہیں لیکن اب بیرون ملک بھی پاکستانی آموں کے چرچے ہونے لگے ہیں۔
    ملک میں آموں کی دو سو سے زائد اقسام ہیں مگر ان میں سے بیس اقسام کے آم کو تجارتی بنیاد پر کاشت کیا جاتا ہے اور انہیں برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔

    پاکستان کے علاوہ آم کی کاشت انڈونیشیا، تھائی لینڈ، سویڈن، ڈنمارک، فلپائن، ملائیشیا، سری لنکا، مصر، امریکہ، اسرائیل، فلوریڈا، برازیل اور ویسٹ انڈیز وغیرہ میں کی جاتی ہے

  • ریجنل پولیس آفیسر کی شیخوپورہ آمد، سٹی سرکل کےپولیس آفیسرز سے میٹنگ

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ سہیل حبیب تاجک نے ڈی پی او آفس شیخوپورہ میں سٹی سرکل کے تمام ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کے ساتھ خصوصی میٹنگ کی۔ جس میں فرداً فرداً ہر افسر سے اس کے مقدمات کی انویسٹی گیشن کے بارے میں پوچھا۔ اور سٹی سرکل کے کرائم کے بارے میں سرکل آفیسر اے ایس پی توحید میمن سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ڈی پی او شیخوپورہ غازی محمد صلاح الدین بھی موجود تھے۔

  • نشاط چونیاں ملز،غیر قانونی فائدہ دینے والے ملزم کے ریمانڈ میں توسیع

    نشاط چونیاں ملز،غیر قانونی فائدہ دینے والے ملزم کے ریمانڈ میں توسیع

    نشاط چونیاں ملز کو 8 ارب کا غیر قانونی طور پر فائدہ پہنچانے والے ملزم کے ریمانڈ میں عدالت نے دس روز کی توسیع کر دی

     

    نواز شریف کے قریبی دوست میاں منشا کی کمپنی کو نوازنے پر نیب کی تحقیقات کا آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نشاط چونیاں ملز کو 8 ارب روپے کا غیر قانونی طور پر فائدہ دینے کے معاملہ پر احتساب عدالت میں سماعت ہوئی، نیب کی جانب سے سید انصاف احمد کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ،نیب پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم سے ابھی مزید تفتیش کرنا باقی ہے،ملزم نے نیپرا میں باضابطہ طور پر مالی بے ضابطگی کی، ملزم نے نشاط چونیاں پاور کمپنی سے بجلی انتہائی مہنگے داموں خریدی ،ملزم کی وجہ سے حکومتی خزانے کو 8 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،عدالت نے نیب کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم سید انصاف احمد کے جسمانی ریمانڈ میں 10روزکی توسیع کر دی .

    واضح رہے کہ نیب نے آئی پی پیزسے متعلقہ 300 ارب کی مبینہ کرپشن کیس میں جاری تحقیقات پر نیب لاہور نے اہم پیش رفت کے طور پر سابق ڈی جی نیپرا ملزم سید انصاف احمد کو دس جون کو حراست میں لیا تھا. ان پر مبینہ طور پر 8 ارب مالیت کی مبینہ کرپشن کا الزام ہے. نیب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ملزم سید انصاف احمد نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ (IPP) سے ٹھیکہ جات میں بجلی نرخ انتہائی مہنگے داموں مقرر کئے جو حکومتی خزانے کو 8 ارب کے نقصان کا موجب بنا. نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کی جانب سے 2010میں 200 میگا واٹ پر مشتمل پاور پلانٹ کی تنصیب کی گئی. معاہدہ کے مطابق تاحال 17 ارب روپے نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کو بجلی کی قیمت کی مد میں ادا کئے گئے ہیں. نیب کا کہنا ہے کہ ملزمان کی جانب سے 8 ارب روپے کی رقم صرف نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ کو غیرقانو ی طور پر منتقل کی گئی. اسی طرح کہا گیا ہے کہ آئ پی پیز کیساتھ معاہدوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال، مبینہ جعلسازی اور دھوکہ دہی سے غیر قانونی ٹیرف مقرر کئے گئے جسکی مد میں اربوں روپے کی زائد رقم آئ پی پیز کو ادا کی گئی. نیب لاہور آئی پی پیز میں مبینہ بدعنوانی کے دیگر 5 کیسز کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے جس میں مبینہ طور پر اربوں روپے کے غبن کے شواہد حاصل ہو رہے ہیں.

    نشان چونیاں ملز میاں منشا کی ہیں اور پاکستان کے معروف بزنس مین میاں منشا سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے تفتیش میں انکشافات کیا تھا کہ غیرملکی اثاثے شہزاد سلیم کے پاس محفوظ ہیں، چونیاں پاور، نشاط پاور سے قومی خزانے کو 80 ارب کا نقصان پہنچایا، دونوں پاور پلانٹ نشاط گروپ کی ملکیت ہیں، دونوں پاور پلانٹس سے سالانہ 80 ارب روپے کا فراڈ ہوتا تھا۔ میاں منشا اور اُن کے بیٹوں پرمنی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے، میاں منشا نے 2010 میں برطانیہ میں سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب خریدا، جس کی خریداری کے لیے انہوں نے کروڑوں پاؤنڈز غیر قانونی طریقے سے برطانیہ بھیجے۔ واضح رہے کہ میاں منشا کے خلاف پاکستان ورکر پارٹی کے چیئرمین فاروق سلہریا نے گزشتہ برس بھی ایک درخواست نیب میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میاں منشا نے 95ملین ڈالر منی لانڈرنگ کرکے پاکستان سے برطانیہ منتقل کئے ہیں۔ ایم سی بی بینک‘نشاط گروپ‘ڈی جی خان سیمنٹ‘آدم جی انشورنس اور نشاط پاور کمپنیاں میاں منشا کی ملکیت ہیں. نیب نے گزشتہ سال جون میں میاں محمد منشا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

  • گرمی میں کھیرے کے فوائد جانیے خاص رپوٹ مٰں

    گرمی میں کھیرے کے فوائد جانیے خاص رپوٹ مٰں

    گرمی کے موسم میں کھیرا کھانا ماہرین غذا کےمطابق نہات مفید ہے اور گرمیوں میں کھیرے کو اپنی خوراک کاحصہ بنانا چاہییے

    تفصیلات کے مطابق گرمیوں کا موسم جہاں گرمی سے بے حال کردیتا ہے وہیں بھوک بھی اڑا دیتا ہے، گرم موسم میں روایتی کھانے کھانا نہایت مشکل لگتا ہے۔

    تاہم ایسے میں جسم کو درکار غذائی ضروریات بھی پوری کرنی ہیں، لہٰذا ایسی غذائیں کھانی چاہئیں جو اس موسم میں جسم کو ہلکا پھلکا رکھیں اور جسم کو توانائی بھی فراہم کریں۔

    کھیرا موسم گرما کی ایسی ہی جادوئی غذا ہے۔ یہ اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے۔

    گرمیوں کے موسم میں جب عام طور پر بیشتر افراد تیزابیت کی شکایت کرتے ہیں، کھیرا اسے دور کرنے کا نہایت آسان علاج ہے۔ کھیرے میں ایسے وٹامنز پائے جاتے ہیں جو معدہ کی جلن، تیزابیت اور السر جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔

  • کسی کو این آراو نہیں دوں گا، وزیراعظم کا ایک بار پھر اعلان

    کسی کو این آراو نہیں دوں گا، وزیراعظم کا ایک بار پھر اعلان

    وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ کسی کو این آر او نہیں دوں گا.

    اوبر اور کریم پر خواتین کے لئے سفر ہوا غیر محفوظ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جاری ہے، اجلاس میں اتحادی جماعتوں کے اراکین بھی شریک ہیں، اجلاس میں حکومت کے خلاف اپوزیشن کی اے پی سی اور بجٹ کی منظوری کے حوالہ سے بات چیت جاری ہے. وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا،قانون سے باہر کچھ نہیں ہوگا .

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اراکین پارلیمنٹ بھی ٹیکس دینے کے لیے عوام میں آگاہی مہم چلائیں،معاشی سمت کا تعین کردیا ہے، بحران سے نکل رہے ہیں ،اپوزیشن اےپی سی کرے یا تحریک چلائے، این آر او نہیں ملے گا،سب کومعلوم ہےمیں کرپشن کیسزپرسمجھوتانہیں کرونگا، وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن احتجاج کاشوق پوراکرے کوئی پروا نہیں،ہمیں کارکردگی سےجواب دیناہے ،اراکین پارلیمنٹ عوام کو معاشی بحران کے ذمے داروں سے آگاہ کریں، وزیراعظم نے اراکین سے کہا کہ بجٹ منظوری قانونی تقاضا ہے،تمام اراکین اپنی حاضری یقینی بنائیں ،

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی مٰیں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ بحث کےد وران خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم سے این آر او کس نے مانگا ہے اگر وہ عوام کو نہیں بتانا چاہتے تو سپیکر قومی اسمبلی کے کان میں بتا دیں.

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا تھا کہ کہا جارہا ہے کسی کواین آراونہیں دوں گا،اوبھائی آپ سے مانگا کس نے ہےاین آراو؟ جوخود کسی کا محتاج ہو وہ کسی کو کیا این آر او دے گا ،دھاندلی کے ذریعے آنیوالے ہمیشہ خوف میں رہتے ہیں

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ این آر لینے اور دینے والے لعنت، عمران خان سن لو ہمارا احتساب کر لو ہم بھی تمہارا احتساب کریں، پارٹی میں نواز اور شہباز کا بیانیہ ایک ہے

  • کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟  عفیفہ راؤ

    کیا سمر کیمپس کی ضرورت واقعی ہمارے بچوں کو ہے؟؟؟ عفیفہ راؤ

    جب سے صحافت کے شعبے میں قدم رکھا توفون کے کانٹیکٹ نمبرز سے لے کر سوشل میڈیا کی فرینڈ لسٹ اور فالوورز تک میں زیادہ تر وہ لوگ موجود تھے جن کا تعلق صحافت اور میڈیا انڈسٹری سے ہے ۔اور پھر جیسے جیسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کا رواج بڑھنا شروع ہوا تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہر جان پہچان والے پر فرض ہے کہ وہ جو بھی گروپ بنائیں اس میں ہمیں ضرور ایڈ کرنا ہے۔۔اور یوں میں بہت سے گروپس میں شامل ہو گئی۔لیکن اس میں ایک چینج اس وقت آیا جب میں ماں بنی اور ایک دو ایسے گروپس کو پہلے تو میں نے خود لائک کیا جو ماو¿ں اوربچوں سے متعلق تھے لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ گروپس کی خود سے ریکویسٹ آنا شروع ہو گئیں مختصر یہ کہ اب ایک طویل فہرست ایسے گروپس کی ہے جو ماں اوربچوں سے متعلق ہیں اور میں ان کی ممبر ہوں۔اور میں ان گروپس کو فالو بھی کرتی ہوں کیونکہ ان میں موجود دوسرے لوگوں سے آپ بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں۔
    آج صبح ایک ایسے ہی گروپ میں میری نظر سے ایک پوسٹ گزری جس نے مجھے سمر کیمپس جیسے موضوع پر لکھنے پر مجبور کر دیا۔آجکل سوشل میڈیا پر آپ کو سمر کیمپس کے اشتہارات ، مختلف پوسٹس اور گروپس کی بھرمار نظر آئے گی اور کیوں نہ ہو ان کا تو یہ سیزن ہے وہ اس وقت ایکٹو نہیں ہوں گے تو اور کب ہونگے۔لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اصل میں یہ سمر کیمپس کس کے لئے ضروری ہیں؟؟؟ ان سمر کیمپس میں ایسا کیا خاص ہے کہ ہمارے بچوں کو ضرور انھیں جوائن کرنا چاہیے؟؟؟

    میری یاداشت کے مطابق ان سمر کیمپس کا رواج 2004یا 2005سے شروع ہوا اور اس وقت یہ کیمپس سکولز کی طرف سے ان بچوں کے لئے لگائے جاتے تھے جو کلاس میں اپنے باقی ساتھیوں سے پراگریس وائز کم ہوتے تھے ان کو صرف سکول بلایا جاتا تھا تاکہ کچھ توجہ دے کر ان کی کارکردگی کو تھوڑا بہتر کیا جاسکے۔ لیکن آج کل تو جیسے ہی گرمیاں شروع ہوتی ہیں میڈیا پر ہر طرف سے خوب شور کیاجاتا ہے
    کہ ملک میں گرمی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے اور بچوں کاسکول آنا جانا مشکل ہے ۔کسی چینل پرایک بچے کے گرمی سے بے ہوش ہونے کی خبر چلتی ہے تو کسی چینل پر ایک سے زیادہ کی۔اور حکومت پر شدید دباو¿ ڈالا جاتا ہے کہ جلد سے جلد چھٹیوں کا اعلان کیا جائے اور بات بھی ٹھیک ہے جب گرمی کی لہر اتنی شدت اختیار کر جائے تو معصوم بچوں کو گھر سے باہر نکالنا ان پر ظلم ہی ہے۔
    لیکن چھٹیوں کی نوید ملتے ہی سمر کیمپس کروانے والے ادارے فل ٹائم ایکٹو ہو جاتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ ایڈمیشن مل سکیں اور ظاہری بات ہے ان کا یہ کاروبار ہے تو ان کی یہ کوشش جائز بھی ہے لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مائیں خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کر کے اپنے بچوں کے لئے سمر کیمپس ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں لوگوں سے مشورہ طلب کر رہی ہوتی ہیں کہ کون سا سمر کیمپ سب سے اچھا ہے۔اب یہاں چند سوالات جنم لیتے ہیں کہ:

    اگر ملک میں اس وقت اتنی گرمی ہے کہ بچے سکول نہیں جا سکتے تو سمر کیمپ کے لئے کیسے جا سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ملتا ہے کہ سمر کیمپ میں رومز ائیر کنڈیشنڈ ہوتے ہیں تو یہاں آپ کو میں یہ بتاتی چلوں کہ جو بچے سمر کیمپ جاتے ہیں یہ بچے کوئی گورنمنٹ سکولز میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے نہیں ہوتے یہ بچے جن سکولز میں پڑھتے ہیں ان میں بھی کلاس رومز ائیر کنڈیشنڈ ہی ہوتے ہیں۔
    اس کی ایک لاجک یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ سمر کیمپ میں بچہ صرف دو یا تین گھنٹے کے لئے جاتا ہے اور واپس آجاتا ہے۔تو اگر ہم گرمی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بچوں کو دو تین گھنٹوں کے لئے گھر سے باہر بھیج سکتے ہیں تو پھر ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہونا چاہیے کہ سکولوں کی گرمیوں میں ٹائمنگ تبدیل کی جانی چاہیں نہ کہ فل ٹائم چھٹیاں۔

    سکولوں کے حوالے کے ایک شکایت اور بھی بہت زیادہ سننے میں آتی ہے کہ یہ والدین سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس کیوں لیتے ہیں ۔پہلے پہل یہ شکایت ان سکولوں سے آتی تھیں جن کی فیس باقی پرائیوٹ سکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی تھی لیکن بہت ٹائم ہو گیا کہ ان کی طرف سے تو یہ شکایت کم ہو گئی ہے شاید ان کو اس کی عادت ہو گئی ہے لیکن اب یہ شکایت ان سکولوں کی طرف سے آرہی ہوتی ہے جن کی فیس کئی ہزاروں میں ہوتی ہے ۔یہ والدین سکولوں کی فیس پر تو بولتے ہیں لیکن سکول سے چھٹیاں ہوتے ہی ان گھروں سے ہی تعلق رکھنے والی مائیں ہی سب سے پہلے اپنے بچوں کے لئے سوشل میڈیا پر سب سے بہترین سمر کیمپس کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں اور یہ سمر کیمپس ان سے جو فیس چارج کرتے ہیں وہ تقریبا ایک ہزار روپے فی گھنٹے سے بھی زیاد ہ ہوتی ہے سکولز جو فیس پورے ماہ کے لئے چارج کرتے ہیں وہ یہ سمر کیمپس چند گھنٹوں اور کچھ دنوں کے لئے چارج کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔


    اس تحریر کے ساتھ دی گئی سوشل میڈیا کی پوسٹ اگر آپ دیکھیں جو صبح میری نظر سے گزری تو اس پوسٹ میں ایک ماں اپنے 2سال اور اس سے کچھ بڑی عمر کے بچے کے لئے سمر کیمپ کا مشورہ مانگ رہی ہے۔ کیا کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ دو سال کے بچے کو سمر کیمپپ کی کیا ضرورت ہے؟ جن بچوں کو آج کل سمر کیمپ میں داخلہ کروایا جاتا ہے ان عمر کے بچوں کو نہ تو سمر کیمپ کا خود سے پتہ ہوتا ہے نہ ہی ان کی اس کے بارے میں کوئی رائے یاسوچ ہوتی ہے کہ سمر کیمپ میں جاناچاہیے یا نہیں ۔ دراصل یہ سوچ آجکل ہماری ماو¿ں کے ذہن میں ہوتی ہے جس کے لئے پہلے وہ والد کو راضی کرتی ہیں اور اس کے بعد ان معصوم بچوں کو کھیلنے کا،باہر جانے کا ، نئے دوست بنانے کااور دوسری کئی ایکٹیویٹیز کا لالچ دے کر اس کا داخلہ کروا دیا جاتا ہے۔لہذا یہ سمر کیمپ بچوں کی نہیں دراصل ماو¿ں کی ضرورت پر اپنا کاروبار چمکا رہے ہیں کیونکہ مائیں چاہتی ہیں کہ بچے کچھ ٹائم گھر کے علاوہ کہیں مصروف رہیں۔ماو¿ں کی اس پلاننگ کے پیچھے ہو سکتا ہے کہ ان کی کوئی جائز وجہ بھی ہولیکن بات یہ ہےکہ ان چھٹیوں کے دنوں میں بھی کوئی ضروری نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں پر یہ سمر کیمپ نامی بوجھ ڈال دیں بہت کچھ اس سے بہتر بھی سوچا جا سکتا ہے۔

    ان سمر کیمپس میں بچے کیا سیکھتے ہیں یا ان کی کن صلاحیتوں پر کام کیا جاتا ہے ؟
    کیا وہ سب سکھانے کے لئے صرف سمر کیمپ ہی واحد حل ہے ؟
    ان سوالوں کے جوابات اگلی تحریر میں شائع کئے جائیں گے۔۔

    اپنی رائے سے آگاہ کرنے کے لئے ای میل کریں:
    afeefaumar@gmail.com

    Afeefa Rao

    ٹویٹر پر فالو کریں.

     

  • ورلڈ کپ :روائتی حریف کا آج ہوگا ٹاکرا

    ورلڈ کپ :روائتی حریف کا آج ہوگا ٹاکرا

    رویتی حریف کا آج ہو گا ٹاکرا.کرکٹ ورلڈکپ کے 32ویں میچ میں آج روایتی حریف انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

    انگلینڈ کو سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے ایونٹ میں اپنے بقایا تمام 3 میچز جیتنا ہوں گے جو کہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف ہیں۔

    پوائنٹس ٹیبل پر انگلش ٹیم 8 پوائنٹس کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے جب کہ آسٹریلوی ٹیم 10 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

    سیمی فائنل کی دوڑ میں پاکستان، سری لنکا اور بنگلادیش کی ٹیمیں بھی موجود ہیں تاہم اگر مگر پھر بھی موجود ہے۔

  • اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلیے مولانا متحرک، نیشنل پارٹی کے وفد سے ملاقات

    اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلیے مولانا متحرک، نیشنل پارٹی کے وفد سے ملاقات

    اپوزیشن جماعتوں کے حکومت کے خلاف اے پی سی کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمان متحرک ہیں.

    حکومت اے پی سی بلائے، پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

    لفظ سیلکٹڈ پر پابندی کے خلاف ن لیگ نے کرائی اسمبلی میں مذمتی قرارداد جمع

    قومی سلامتی کےاداروں کوسیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیئے،مریم کا مطالبہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کو کامیاب بنانے کے لئے مولانا فضل الرحمان تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے رابطے کر رہے ہیں اور انہیں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی اتحادی جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل سے بھی رابطہ کیا کہ وہ اے پی سی میں شرکت کریں.

    نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ داری سب پر،جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگتی، مریم نواز

    نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہوا تھا تیسرا ہارٹ اٹیک ،مریم نواز نے کیا پریس کانفرنس میں انکشاف

    نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء میر حاصل خان بزنجو ، سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی اور نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ایوب ملکنے مولانا فضل الرحمٰن سے انکی رہائشگاہ پر ملاقات کی، جس میں آل پارٹیز کانفرنس کے‌ حوالہ سے مشاورت کی گئی،

    مریم نواز کا ایک اور یوٹرن، مولانا فضل الرحمان کا رابطہ، مریم نواز نے کیا کہا؟

    بلوچستان حکومت گرانے کے لئے مولانا فضل الرحمان سرگرم، کس سے ملاقات کی؟

    مولانا فضل الرحمان اے پی سی سے قبل اپوزیشن کو ایک ایجنڈے پر متفق کرنا چاہتے ہیں، جے یوآئی کے سربراہ کا اصل مقصد نااہل حکومت سے جان چھڑانا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں حکومت کے خاتمے پر متفق نہیں ہے، پیپلزپارٹی پارلیمان کے اندر تبدیلی لانا چاہتی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے خود ہی ختم ہو جائے گی۔

    مولانا فضل الرحمان غریبوں کے بچوں کو…….علی امین گنڈا پور نے ایسی بات کر دی کہ……

    اسلام آباد کی جانب مارچ کب ہو گا، مولانا فضل الرحمان نے سب کو دعوت دے دی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ کہ اگر اپوزیشن ایک ایجنڈے پر متفق نہ ہوئی تو احتجاج اور ملین مارچ ہوں گے اور جے یوآئی اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز پر بھی غور کریگی۔ مولانا فضل الرحمان اے پی سی سے قبل اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ ہم اسلام آباد کا گھیراو کریں گے، جماعت اسلامی اپنی الگ تھریک چلا رہی ہے ، جماعت اسلامی نے اے پی سی میں شریک ہونے سے انکار کیا ہے.

    قومی اسمبلی اجلاس، وزیراعظم کیا کرتے رہے؟ مولانا فضل الرحمان سن کر ہوں پریشان

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلاول زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں. واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

     

  • ایس۔400 میزائل ڈیفنس سسٹم بارے ترکی کا بڑا اعلان

    ایس۔400 میزائل ڈیفنس سسٹم بارے ترکی کا بڑا اعلان

    ترقی وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا کہ ہم نے روس سے ایس۔400 ہوائی دفاعی نظام خرید لیا ہے اب اس کی ترکی کو حوالگی کے شیڈول پر بات ہو رہی ہے۔

    باغی ٹی وی رپورٹ کےمطابق ترکی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ روس سے میزائل دفاعی نظام ایس 400 سے پیچے ہٹنے کا سوال ہی نہیں بنتا .چاوش اولو نے دارالحکومت انقرہ میں رواندا کے وزیرِخارجہ و بین الاقوامی تعاون ڈاکٹر رچرڈ سیزی بیرا کے ساتھ مشترکہ پیرس کانفرس کا اہتمام کیا۔

    اس دوران امریکہ کے ساتھ بحث کا موضوع بننے والے ایس۔400 کا ذکر چھیڑتے ہوئے ترک وزیر نے کہا کہ "امریکہ کےاس حوالے سے اقدامات قوانین کے منافی ہیں، ہم اس ملک کے مؤقف کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔”

    امریکی دھمکیوں پر بھی اپنے جائزے پیش کرتے ہوئے جناب چاوش اولو نے بتایا کہ "چاہے یہ جس قسم کی بھی پابندیوں کا فیصلہ کیوں نہ کریں ہم ایس۔400 خرید چکے ہیں، اس معاملے میں قدم پیچھے ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ "