اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما اور وفاقی وزیر فیصل واڈا نے پاکسان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کو ماسی قرار دیا .مریم اورنگزیب کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے وفاقی وزیر فیصل واڈانے کہاہے کہ سب کو پتہ ہے کہ مریم اورنگزیب کو کس طرح نواز ا گیا سب کو اس بات کا علم ہے .مریم اورنگزیب ماسی تھیں جس طرح مالشیے ہوتے ہیں، اس طرح ماسیاں بھی ہوتی ہیں۔
فیصل واڈانے کہاہے کہ ہمیں اپوزیشن کا بہت کچھ پتہ ہے لیکن خاموش ہیں، مریم اورنگزیب خود سلیکٹڈ طریقے سے آئیں،ریجکیٹڈ اگر سلیکٹڈ کہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ میر ی وزارت میں تعلیم یافتہ لوگ چپڑاسی کی نوکری چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف فیصل واڈا اپوزیشن پر مختلف ٹی وی شوز میں بڑے جارحانہ انداز میں تنقید کررہے ہیں.یہی وجہ ہےکہ اپوزیشن کی طرف سے بیان بازی کی گولہ باری کا نشانہ بھی اکثر و بیشتر فیصل واڈا ہی ہوتے ہیں
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکہ باز نہ آیا تو وہ اس کے مزید ڈرون بھی گرائے گا.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی طرف سے یہ یہ دھمکی اس وقت دی گئی ہے جب امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو گلف ممالک کے دورہ پر ہیں. ایران کے نیوی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ہماری حدود کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ مزید ڈرون گرانے سے دریغ نہیں کرے گا.
سربراہ ایرانی بحریہ ریئر ایڈمرل حسین خانزادی نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ایران امریکا کے مزید جاسوس طیارے اور ڈرون مار گرائے گا اور ہم یہ صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ایران دوبارہ بھی ایسا ردعمل دے سکتا ہے اور دشمن یہ بات جانتا ہے۔
واضح رہے کہ ایران نے چار روز قبل آبنائے ہرمز میں امریکا کا بغیر پائلٹ والا ڈرون مار گرایا تھا جس کی مالیت 10 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے. ایران کی طرف سے ڈرون گرائے جانے کے بعد امریکہ نے ایران پر نئی پابندیوں کا بھی اعلان کر دیا ہے.
لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) پرانے بازار میں سٹی پولیس لودھراں نے افغانسان اور بنگلہ دیش میچ پر جواء کھیلنے والے جواریوں پر مخبری پر چھاپہ مارا اور موقع پر پانچ جواری گرفتار کو گرفتار کر لیا گیا ہے ان کے قبضے سے نقدی، لیپ ٹاپ، موبائل فونز برآمد کر لیے ہیں اس کے علاوہ ملزمان کے قبضے سے داؤ پر لگے 7090 روپے، 11 موبائل فونز برآمد ہوئے، تھانہ سٹی پولیس لودھراں نے ایف آئی آر درج کر لی ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق امریکہ کی طرف سے تازہ پابندیوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ٹارگٹ کیا گیا ہے. میڈیا رپورٹس میں ابھی امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے نئی پابندیاں لگائے جانے کی اطلاع دی گئی ہے، اس حوالہ سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی.
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل اتوار کو کہا تھا کہ وہ آج پیر کے روز سے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک ایسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کے لیے تیار ہیں جو ایران کی معیشت کو سہارا دے سکے۔
امریکی صدر کا یہ موقف اتوار کی شام NBC ٹی وی چینل کے پروگرام "میٹ دی پریس” میں گفتگو کے دوران سامنے آیا تھا . اسی طرح ٹرمپ نے ہفتے کے روز بھی اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ "ہم پیر کے روز ایران پر سخت اضافی پابندیاں عائد کریں گے اور یہ کہ ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے.
دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایران کی خبر رساں ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پابندیاں تمام نوعیت کی پابندیوں کے سائے میں محض ایک پروپیگنڈا ہے۔ اب مزید کوئی پابندی باقی نہیں رہی۔
ٹرمپ کی طرف سے تازہ پابندیوں کی خبروں پر ابھی ایران کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے.
بستی ملوک تھانہ بستی ملوک کے علاقہ اڈا بصیرہ کے قریب موٹروے روڈ پرمسافر وین کوحادثہ ایک خاتون زخمی
،تفصیلات کے مطابق مسافر وین نمبر CU/6842 تیز رفتاری کی وجہ سے پل کی دیوار سے ٹکرا کر پل کے نیچے جاگری۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122بستی ملوک اور موٹروے پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ریسکیو1122نے معمولی زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جبکہ ایک شدید زخمی خاتون کو ہسپتال منتقل کر دیا مسافر وین کراچی سے ملتان جارہی تھی موٹروے پولیس نے مسافر وین کو کرین کی مدد سے پل میں سے نکال کر اپنی تحویل میں لے لیا.
پاکستان میں اخبارات و جرائد اور پرنٹنگ پریس کی ڈیکلریشن پر 5 ہزار روپے فی ڈیکلریشن ڈیوٹی لگا دی گئی ہے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی کا فیصلہ فنانس بل 2019ء میں کیا گیا ہے. یہ فیس ڈیکلریشن لینے والے کو ادا کرنا پڑے گی. جب تک یہ ڈیوٹی ادا نہیں کی جائے گی ڈیکلریشن کی تصدیق نہیں کی جاسکے گی.
واضح رہے کہ اخبارات و جرائد پر پانچ ہزار روپے ڈیوٹی لگائے جانے پر اخبارات و جرائد کے مالکان اسے اضافی بوجھ تصور کر رہے ہیں اور ان کی طرف سے خوشی کا اظہار نہیں کیا گیا.
لاہور :پاکستان میں میوزک انڈسٹری زوال کی طرف رواں دواں جدید میوزک کے ساتھ کلاسیکل موسیقی بھی دم توڑنے لگی.شاید اس کی وجہ جدید ٹیکنالوجی ہے یا پھر عوام الناس کی عدم دلچسپی اور یا پھر معاشی مسائل .بہر کیف یہ ماننا ہی پڑے گا کہ میوزک انڈسٹری کو شاید اب کوئی سہارا نہ مل سکے.ویسے بھی یہ بات ایک محاورے کے طور پر استعمال ہونے لگی ہے کہ انسان خوش ہو، غمزدہ ہو، پریشان ہو یا پھر جشن منانا چاہتا ہو ایک چیز ایسی ہے جو ہر حالت میں اس کا ساتھ دیتی ہے اور وہ ہے موسیقی۔ روح کی غذا کہلائی جانے والی موسیقی انسان کے موڈ اور مرضی کے مطابق اسے میسر ہوتی ہے۔ موسیقی انسان کی طبعیت پر خوشگوار اثرات چھوڑتی ہے اور اس کا موڈ بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
پاکستان میں موسیقی کا شمار بھی اس انڈسٹری میں ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زوال کا شکار ہوتی جارہی ہے۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ میوزک انڈسٹری نے پاکستان میں بہت سنہرا دور دیکھا۔ اس سنہرے دور میں پاکستان نے لازوال اور صدیوں یاد رہ جانے والے لازوال گیت تخلیق کئے۔ ساتھ ساتھ بے شمار میوزک ڈائریکٹرز، گیت کار اور گلوکار بھی پیدا ہوئے جنہوں نے انمٹ گیت تخلیق کئے۔ پاکستان کی میوزک انڈسٹری کا ماضی مایا ناز موسیقار، گلوکار اور گیت کاروں سے بھرا پڑا ہے۔ جن کی بنائی ہوئی دُھنیں، جن کے گائے ہوئے گانے اور جن کے لکھے گئے الفاظ آج بھی دل میں چاشنی بھر دیتے ہیں۔پاکستان کی میوزک انڈسٹری نے مہدی حسن، احمد رشدی، اے نیّر، نور جہاں ، رونا لیلیٰ ، ناہید اختر جیسے کانوں میں رس بھرتے سریلے گلوکار، نثار بزمی ، ماسٹر عنائت ، ماسٹر عبداللہ، بخشی وزیر ،طافو خاں جیسے سُر لے اور تال کا حق ادا کرنے والے موسیقار اور احمد راہی ، خواجہ پرویز جیسے موتی اگلتے گیت کار پیدا کئے جنہوں نے نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا میں ایک نام اور مقام پیدا کیا۔ قوالی کو جلا بخشنے والے اور اسے پوری دنیا میں متعارف کرانے والے استاد نصرت فتح علی خان پاکستان کی میوزک انڈسڑی کا وہ ستارہ ہیں جس کی روشنی سے آج بھی دنیا بھر کےلوگ فیضیاب ہو رہے ہیں۔ دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں استاد نصرت فتح علی خان کے نام سے نہ صرف ڈیپارٹمنٹ ہیں بلکہ ان پر پی ایچ ڈی بھی کرائی جا رہی ہے۔
پاکستان میں میوزک انڈسٹری کے زوال کا سب سے بڑا سبب پاکستان میں فلم انڈسٹری کی زبوں حالی ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان فلم انڈسٹری نے کافی فلمز بنائی ہیں اور یہ فلمز بڑے بڑے پوڈیوسر اور ٹی وی چینلز نے مل کر بنائیں۔لیکن اس کے باوجود وہ کوئی ایک ایسا گانا تخلیق کرنے میں ناکام رہے جس کو عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی ہو یا زبان ذدعام ہوا ہو۔ میوزک کو فلم کی کامیابی کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے پاکستان فلموں کی ناکامی کی ایک اہم وجہ میوزک کا اچھا نہ ہونا ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ پاکستان کی موجودہ فلم انڈسٹری کوئی ایک گانا ایسا نہ دے سکی جس نے شائقین کے دل میں گھر کیا ہو۔
میوزک کو زندہ رکھنے کا کام میوزک بینڈز یا سولو سنگرز کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں گنتی کے چند بینڈز یا سنگرز کے علاوہ سب اس سلسلہ میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کے زیادہ تر سنگرز بس ایک یا دو ہٹ گانے دینے کے بعد رک سے جاتے ہیں اور وہ اپنے انہی چند ہٹ گانوں کو ہر جگہ پرفارم کرتے ہیں۔ انہی چند گانوں کو بار بار سننے کی وجہ سے شائقین میں وہ سنگرز اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ نئے، اچھے اور عمدہ گانوں کے میسر نہ ہونے کے سبب پاکستان میں میوزک کنسرٹ بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں اور لوگوں کا رحجان پاکستانی میوزک سے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں میوزک کمپنیاں بھی اپنا وجود کھو بیٹھی ہیں اور میوزک چینلز بھی بند ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہی ہو گئے ہیں۔
موسیقارو شاعر مبشر حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں میوزک انڈسٹری کے زوال کا سبب نئے گلوکاروں کا گائیکی کو سمجھے اور سیکھے بغیر اس فیلڈ میں آنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میوزک ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سیکھنا اور پریکٹس کرنا لازم و ملزوم ہے بغیر سیکھے گانا گا لینا ایسے ہی ہے جیسے کسی ایسے بندے کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دینا جس کو ڈرائیونگ نہ آتی ہو، جس کا نتیجہ حادثے کی صورت میں نکلتا ہے۔ مبشر حسن کے بقول پاکستان کی میوزک انڈسڑی کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ یہ اناڑیوں کے ہاتھ لگ گئی جس کے باعث آج پاکستان کی میوزک انڈسٹری زوال کا شکار ہے۔ سولو سنگرز میں ساحر علی بگا، آئمہ بیگ، بلال سعید، عاصم اظہر اور فلک شبیر وہ چندنام ہیں جنہوں نے پاکستان میں میوزک انڈسٹری کو بہرحال کسی نہ کسی طرح سے بچا کرکھا ہوا ہے۔ خصوصا ساحر علی بگا، بلال سعید اور عاصم اظہر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کے ہر نئے آنے والے گانے کو پاکستان اور پاکستان سے باہر ملنے والی پذیرائی انتہائی قابل تحسین ہے۔ نوجوانوں میں ساحرعلی بگا، بلال سعید اور عاصم اظہر کے گانوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی ڈیمانڈ پاکستان میوزک انڈسٹری کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
میوزک انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے افراد اور کمیونٹی کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی کلچرل منسٹری کو بھی اس شعبے کی ترقی کی طرف توجہ دینی چاہئیے اور ملک کے انسٹیٹوٹس میں اس کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اس کو باقاعدہ سکھایا جائے جیسے دنیا کے مختلف ممالک میں کیا جا رہا ہے۔
ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری شادی پر لاگو شرائط مثلاً بیوی سے اجازت کے ساتھ ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز وہ اٹھا رہے ہیں جن کی ابھی ایک بھی نہیں ہوئی اور اگلے کئی سالوں تک دور دور تک ان کی کنوارگی ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے.
بہر حال یہ شرائط کسی طور بھی مدینہ کی اسلامی ریاست میں لاگو نہیں تھیں. دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنا خالصتا کسی بھی فرد کا ذاتی، انفرادی اور خاندانی ایشو یا عمل ہے گورنمنٹ اور مصالحتی کمیٹیوں اور کونسل کو ان میں دخل دینے کا اختیار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے. یہ ہمارے برصغیر کا ہی ایشو ہے جس میں دوسری، تیسری شادی کو برائی کی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. یہاں پر سوکن اور دوسری شادی جیسے لفظوں کو گالی کی حد تک برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ہمارے مقامی معاشرے میں بالکل بھی برداشت یا قبولیت نہیں ہے.
حالانکہ دوسری شادی کرنے والا نہ تو جہیز وغیرہ کا طالب ہوتا اور نہ ہی دیگر سخت شرائط عائد کرتا ہے جن کی وجہ سے بیٹیوں کے والدین کی زندگیاں عذاب بنی ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ فضول رسموں اور رواجوں میں بھی دوسری شادی کے وقت پیسہ اور وقت برباد نہیں کیا جاتا ہے دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں اور بہنیں وطن عزیز میں ایسی ہیں جو جہیز اور لڑکے والوں کی سخت ترین شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دل میں لاکھوں ارمان لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. پاکستان میں خواتین کی ویسے ہی ماشاءاللہ سے کثرت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسری شادی پر پہلے ہی والدین ڈرتے رہتے ہیں. ایسے میں جب آپ دوسری ، تیسری شادی کے حوالے سے اتنی سخت شرائط عائد کردو گے تو اس سے معاشرے میں انصاف نہیں پھیلے گا صاحب بلکہ شادیوں کی شرح کم ہوگی اور جس معاشرے میں شادی کی شرح کم ہوتی ہیں وہاں بے حیائی اور زناء کی شرح بڑھ جاتی ہے.
اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور خاندانوں کے عائلی مسائل جب آپ ان مصالحتی کونسلوں کے سپرد کرو گے تو اس سے بھی گھروں اور معاشروں میں اصلاح کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوں گے. کوئی بھی بندہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن، بیوی اور بیٹی کا مسئلہ باہر کے لوگ حل کرتے پھریں.
ہاں آپ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھو کہ کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناروا سلوک تو نہیں کرتا، ظلم و زیادتی کا رویہ تو نہیں روا رکھتا.
لہذا جو صاحب استطاعت ہیں ان کو کسی بھی شرط کے بغیر دوسری یا تیسری شادی وغیرہ کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے. سب سے بڑھ کر جب اسلام نے دوسری شادی پر کوئی قدغن، پابندی یا شرط نہیں لگائی بلکہ کتاب و سنت سے اس پر واضح احکام ملتے ہیں اور اسلام اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسلام سے بھی آگے نکل کر یہ شرائط اور پابندیاں لگانے والے؟؟
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے واضح طور پر کہا ہے کہ کسی شخص کیلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ دوسری شادی سے قبل اپنی بیوی سے اجازت لے.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قانون میں یہ بات کہی گئی ہے کہ دوسری شادی کیلئے پہلے بیوی سے اجازت لینا ہو گی. اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لینا اگرچہ قانونی ضرورت تو ہے تاہم اس کام کیلئے یہ شرعی ضرورت کسی طور نہیں ہے.
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے دوسری شادی سے متعلق اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہاکہ اسلام نے دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی سے اجازت لینے کا پابند نہیں بنایا البتہ پاکستانی قانون کے مطابق بیوی سے اور مصالحاتی کمیٹی سے اجازت لینا ضروری ہے اور اگر اسکی خلاف ورزی ہوئی تو سزا اور جرمانہ تو ہوگا لیکن دوسری شادی برقرار رہے گی ۔
واضح رہے کہ آج ہی یہ خبر آئی تھی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلی بیوی سے اجازت کے باوجود دوسری شادی کے لیے مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری قرار دے دی ہے. اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ پہلی بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل انکار کردے تو دوسری شادی پر سزا ہوگی، مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے مطابق مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر شادی کرنے والے شخص کو سزا اور جرمانہ ہوگا۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا یہ بیان ہائی کورٹکے اس فیصلہ کے بعد آیا ہے.
اسلام آباد:وزیر اعطم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے افواج پاکستان کے کردار دے متعلق ایک سوال کے جواب میں یہ کہ کردلیل پیش کردی ہے کہ یہ افواج اس ملک کی ہیں اور پاکستان کی بہتری کےلیے پاک افواج کی خدمات لی جائیں گی.فردوس عاشق اعوان نے کہ افواج پاکستان ملک کاحصہ ہیں اور ملک کے مفاد میں جہاں بھی ان کی ضرورت محسوس ہوگی ، فوج سے کام لیا جائے گا.ایک نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کہنا تھا کہ قرضوں کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن بنایا جارہاہے ، انٹیلی جنس اداروں کے لوگوں کواس لئے شامل کیا جارہاہے کہ وہ جہاں جہا ں پیسے کا غلط استعمال ہواہے اس کے بارے میں درست معلومات مہیا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سول ادارے میں اہلیت کا فقدان ہیں اور اس طرح معلومات اکٹھی نہیں کرسکتے۔
فردوس عاشق اعوان اپوزیشن کی طرف سے انکوائری کمیشن میں انٹیلی جنس اداروں کی شمولیت پر اعتراض کیا تھا جس کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی نے فوج کے کردار پر وضاحت پیش کی انہوں نے کہا کہ فوج کوہم اپنے ملک کے نظام کا اہم حصہ سمجھتے ہیں اور جہاں ہم سمجھیں کہ سول اداروں میں مطلوبہ استعداد نہیں ہے فوج سے کام لیا جائیگا ۔