Baaghi TV

Blog

  • دوسری شادی کرنے والوں کےلیے ایک اور شرط لگا دی گئی،

    دوسری شادی کرنے والوں کےلیے ایک اور شرط لگا دی گئی،

    دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری ہوگی۔ عدالت عالیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا جس کے مطابق دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری ہوگی۔
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کشمیر کے شہری لیاقت علی میر کی بریت کے خلاف پہلی بیوی کی اپیل پر سماعت کی اور بریت کو کالعدم قرار دے دیا۔

    لیاقت علی میر کو ایک ماہ قید اور 5 ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہوگا۔

    فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل انکار کردے تو دوسری شادی پر سزا ہوگی، ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کیس کا فیصلہ کریں۔

    ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ چونکہ نکاح اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہے اس لیے عدالت کا مکمل دائرہ اختیار ہے جب کہ مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 کے مطابق اجازت کے بغیر شادی کرنے والے شخص کو سزا اور جرمانہ ہوگا۔

    یاد رہے کہ مجسٹریٹ اسلام آباد نے مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر شادی کرنے والے آزاد کشمیر کے رہائشی لیاقت علی کو سزا سنائی تھی۔

    دلشاد بی بی اور لیاقت علی میر نے 2011 میں پسند کی شادی کی اور 2013 میں لیاقت علی نے بیوی اور مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی تھی۔

  • صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    صرف جاب تلاش نہ کریں کام کریں‎ … عمیر ضیاء

    ”کیپ ٹائون ” کا ان پڑھہ سرجن مسٹر ” ھیملٹن ” جس کو ماسٹر آف میڈیسن کی اعزازی ڈگری دی گئی ____ جو نہ لکھنا جانتا تھا نہ پڑھنا _____ یہ کیسے ممکن ھوا آئیے بتاتے ہیں ______
    کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔
    دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘
    اس یونیورسٹی نے چند سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو

    ”ماسٹر آف میڈیسن“

    کی اعزازی ڈگری سے نوازا جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔
    جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا
    اور
    نہ ہی لکھ سکتا تھا…..

    لیکن 2003ء کی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا:،
    "ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے،
    جو ایک غیر معمولی استاد، اور
    ایک حیران کن سرجن ہے، اور
    جس نے میڈیکل سائنس
    اور
    انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ” ہیملٹن ” کا نام لیا،
    اور
    پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔

    یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔
    ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں ” سنیٹانی ” میں پیدا ہوا۔
    اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا، اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا،
    بچپن میں اس کاوالد بیمار ہو گیا لہٰذا وہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر "کیپ ٹاﺅن” آگیا۔ ان دنوں ” کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی ” میں تعمیرات جاری تھیں۔
    وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔
    اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا
    اور
    خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔
    وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا

    تو

    وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ ……
    اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، ……..
    وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، . ……

    وہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا ……
    پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا
    اور
    وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔

    یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی۔”پروفیسررابرٹ جوئز” زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھےکہ:

    "جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا،”

    انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا،اسے بے ہوش کیا،
    لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا، زرافے نے گردن ہلا دی،
    چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔

    پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ‘ہیملٹن’ گھاس کاٹ رہا تھا،
    پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ” ہیملٹن” نے گردن پکڑ لی،

    یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اورکافی کے وقفے کرتے رہے، لیکن
    ” ہیملٹن ”
    زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔

    دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہرا کام کرتا رہا،
    اور
    اس نے اس ڈیوٹی کا کسی قسم کا اضافی معاوضہ طلب کیا
    اور
    نہ ہی شکایت کی۔

    پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا
    اور
    اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔

    ” ہیملٹن ” کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔

    1958ء میں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ” ڈاکٹر برنارڈ ” یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کر دیئے۔

    ” ہیملٹن ” ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ” ڈاکٹر برنارڈ”
    کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔

    اب ڈاکٹر آپریشن کرتے
    اور
    آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا….

    چنانچہ
    بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔

    وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا،
    لیکن
    وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔

    1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی. …..جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔

    اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا،

    آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے
    اور
    مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے
    تو
    اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ” ہیملٹن ” کو چلا جاتا ہے، اس کا محسن ‘ہیملٹن” ہوتا ہے“

    ” ہیملٹن ” نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں
    اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔
    وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور
    ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔
    لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے،

    ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا،

    اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت
    اور
    سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا…….

    پھر

    اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں
    اور
    اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔

    وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔
    وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی،
    وہ 2005ء میں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا
    اور
    اس کے بعد یونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد
    اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں
    اور
    اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں….“

    میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا:
    ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“

    نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا:

    ”صرف ایک ہاں سے‘

    جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا
    اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں
    تو
    وہ مرتے دم تک مالی رہتا.

    یہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔

    ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں.

    جبکہ

    ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“

    ” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور
    یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے
    جبکہ
    کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔

    "” ہیملٹن”” اس راز کو پا گیا تھا لہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی. یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔

    ذرا سوچو، اگر وہ سرجن کی جاب کے لئے اپلائی کرتا

    تو

    کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں،
    لیکن
    اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی
    اور
    سرجنوں کا سرجن بن گیا اور ہم اس لیے بے روزگار اور ناکام رہتے ہیں کہ صرف جاب تلاش کرتے ہیں، کام نہیں، جس دن "” ہیملٹن”” کی طرح کام شروع کردیا
    تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے،
    بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے

  • فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.عادل الجبیر

    فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.عادل الجبیر

    سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو جو فارمولہ قبول ہوگا سعودیہ بھی اسی کی حمایت کرے گا.

    تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نےکہا ہے کہ جس امن فارمولے کو فلسطینی قوم قبول کرے گی اس پرعرب ممالک بھی اتفاق کریں‌گے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے معاشی مسائل کےحل کی کوششوں کےساتھ ساتھ فلسطینیوں کےدیرینہ سیاسی حقوق کے حل کے لیے بھی موثر انداز میں‌کوشش کی جانی چاہیے تاکہ فلسطینیوں اور اسرائیل کےدرمیان جاری تنازع کو حقیقی معنوں‌میں ختم کیا جا سکے۔

    انہوں‌نے کہا کہ ہر وہ تجویز جس سے فلسطینیوں کے حالات کی بہتری کی راہ ہموار ہو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ یہاں میں یہ کہوں‌گا کہ فلسطینیوں کےسیاسی حقوق کا حل حد درجہ اہم اور ناگزیر ہے۔

    عادل الجبیر نے مزید کہا کہ سعودی عرب سنہ 1967ء کے عرب علاقوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی مملکت کا دارالحکومت بنائے جانے کے مطالبے کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • اسلام آباد میں ہندو ٹیمپل اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کیلئے درخواست دائر

    اسلام آباد میں ہندو ٹیمپل اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کیلئے درخواست دائر

    ہندو ٹیمپل اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کے لئے اسلام آباد میں مقیم ہندو برادری نے عدالت سے رجوع کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہندو ٹیمپل اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقیم ہندو برادری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی. درخواست گزار ہندو اشوک چند کی جانب سے یاسر چودھری ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائی کورٹ کےجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نےکیس کی سماعت کی .

    دوران سماعت وکیل نے عدالت میں کہا کہ 2سال کےعرصہ میں3افرادفوت ہوئے،مجبوری میں انہیں دفناناپڑا،وکیل کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں158ہندوخاندان رہ رہے ہیں، جب کوئی فوت ہو جائے تو مجبورا میتوں کو اٹک یا عمر کوٹ لے کر جانا پڑتا ہے گرم موسم کی وجہ سے ڈیڈ باڈی خراب ہو جاتی ہے، درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بسنے والے ہندو بھی پاکستانی ہیں اور دیگر عوام کی طرح ہمیں بھی اپنے حقوق دئیے جائیں. عدالت نے درخواست پر سیکرٹری مذہبی امور اور چیئرمین سی ڈی اے سے جواب طلب کر لیا .

    واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ میں اس طرز کی ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں شمشان گھاٹ کے لئے مطالبہ کیا گیا تھا، بابا جی گروپال سنگھ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 60,000 کے لگ بھگ بھگ سکھ اور ہندو آباد ہیں لیکن ان کے لیے شمشان گھاٹ اور مذہبی طریقے سے آخری رسومات ادا کرنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں ہے۔ سکھ کمیونٹی کی جانب سے بابا جی گروپال سنگھ نے عدالت کو بتایا تھا کہ ان کی برادری میں میت کی آخری رسومات کے لیے انھیں صوبہ پنجاب کے شہر اٹک جانا پڑا کیونکہ پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں ان کے لیے کوئی شمشان گھاٹ نہیں ہے۔

  • جانیے ایسے شخص کو جس کا دل دائیں  جانب اور جگر بائیں جانب

    جانیے ایسے شخص کو جس کا دل دائیں جانب اور جگر بائیں جانب

    دنیا کا ایسا انسان کہ جس کا دل دائیں جانب اور جگر بائیں جانب قدرت کا کرشمہ دنیائے طب کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا

    باغی ٹی وی رپورٹ :قدرت کے کارخانہ کا نظام ایسا ہے کہ انسانی جسم کے اندرونی اعضاء ایک خاص ترتیب سے نصب ہیں، دل بائیں جانب تو جگر دائیں طرف موجود ہے، معدہ قریب قریب مرکز میں ہے تو لبلبہ بھی اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔

    انسانی جسم میں اندرونی اعضا کی انہی ترتیب کے باعث علاج ومعالجے کے تمام تقاضے پورے کیے جاتے ہیں تاہم دنیا ایک عجائب خانہ ہے جہاں کچھ بھی ناممکن نہیں۔ قدرت کا کبھی ایسا بھی کرنا ہوتا ہےجب یہ ترتیب الٹ ہوتی ہےتو مخلوق حیران رہ جاتی ہے.
    اسے ہی واقعے کے سلسلے میں امریکی اسپتال میں ایک پناہ گزین مریض کو کھانسی اور سینے میں انفیکشن کی شکایت پر لایا گیا، مریض کے معائنے کے دوران زندہ مریض کی دل کی دھڑکن سنائی نہیں دی اور جگرلاپتہ تھا

    ڈاکٹرز نے مریض کے سینے کے ایکسرے لیے، پیٹ کا الٹرا ساؤنڈ کیا تو یہ راز کھلا کہ مریض کا دل بائیں جانب ہونے کے بجائے دائیں جانب تھا جب کہ جگر دائیں طرف ہوجانے کے بجائے بائیں اور تھا۔

    66 سالہ پناہ گزین مریض صحت مند زندگی گزار رہا تھا اور اب سے پہلے اسے اپنے اندرونی جسمانی اعضاء کے غلط سائیڈ پر موجودگی کا علم نہیں تھا اور نا ہی اسے کسی قسم کی جسمانی تکلیف تھی۔

    طبی سائنس میں جسمانی اعضا کے پیدائشی طور پر اپنی جگہ کے بجائے مخالف سمت میں ہونے کو Situs Inversus Totalis کے نام سے جانا جاتا ہے تاہم مریض کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی اس لیے اکثر مریض اپنے اندرونی اعضا کی اس تبدیلی کو جانے بغیر ہی دنیا سے چلے جاتے ہیں۔

    طبی سائنس کی تاریخ میں Situs Inversus Totalis کے سب سے عمر رسیدہ مریض نے 99 سال کی عمر میں وفات پائی تھی اور اسے اپنی زندگی کے آخری سال اس جسمانی اعضا کی جگہ کی تبدیلی کا پتہ چلا تھا۔

  • لازمی نہیں جس کی سم استعمال ہو یا جس سے بر آمد ہو وہی قاتل ہو، سپریم کورٹ

    لازمی نہیں جس کی سم استعمال ہو یا جس سے بر آمد ہو وہی قاتل ہو، سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے قتل کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لازمی نہیں جس کی سم استعمال ہو یا جس سے بر آمد ہو وہی قاتل ہو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بینچ نے کیس کی سماعت کی. ملزم کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ موبائل فون گم ہونے کا مقدمہ پہلے ہی درج کرا رکھا تھا ،میرے موکل کا موبائل گم تھا اور پولیس نے اسے قاتل قرار دے دیا. چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس تفتیش میں آج کل نیاطریقہ سامنے آرہا ہے،پولیس ورثاسے مقتول کا موبائل فون اورسم منگواتی ہے،سم ملزم کے موبائل فون میں ڈال کرریکوری ظاہرکردی جاتی ہے،کئی مقدمات میں یہ حقائق سامنے آچکے ہیں۔ چیف جسٹس کا مزید کہا تھا کہ پہلے مقتول کاشناختی کارڈاورپرس منگوایاجاتاتھا،لوگ لاوارث لاش کی گھڑی اورموبائل فون لے جاتے ہیں، لازمی نہیں جس کی سم استعمال ہویاجس سے ریکورہووہی قاتل ہو،

    عدالت نے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر درخواست خارج کر دی. واضح رہے کہ ملزم گل فراز پر گزشتہ برس مانسہرہ میں قتل کا الزام تھا ،پولیس نے موبائل سم کی وجہ سے مبینہ قاتل کو پکڑا تھا.

  • بھارت میں دماغی بیماری سے ہلاکتیں خطرناک حد تک بڑھ گئیں

    بھارت میں دماغی بیماری سے ہلاکتیں خطرناک حد تک بڑھ گئیں

    بھارت میں‌ دماغی بیماری سے ہلاکتیں سینکڑے سے بھی تجاوز کر گئی.علاقے میں خوف و ہراس کے پہرے، بچے خاص نشانہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارت میں "اینسفالٹ "کے نام سے پہچانی جانے والی دماغی انفیکشن کی بیماری سے ہلاکتوں کی تعداد 145 تک جا پہنچی ہے۔

    بھارت کے روزنامہ انڈیا ٹو ڈے کے مطابق ملک کے مشرقی صوبے بہار میں آکیوٹ اینسفالٹ سینڈروم کی وجہ سے 145 بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

    خبر کے مطابق بیماری کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں سے 129 مظفر پور میں ہوئی ہیں۔

    رواں مہینے کے آغاز سے صوبے کے 16 مختلف مقامات پر 600 سے زائد بچوں میں مذکورہ متعدی بیماری کی تشخیص ہوچکی ہے۔

    ڈاکٹروں نے تاحال اس بیماری کی وجوہات کا تعین نہیں کیا تاہم ماہرین کے مطابق بھارت کے غریب ترین صوبے بہار میں یہ متعدی بیماری کچی لیچی کے استعمال سے پھیلی ہے۔

    بیماری خاص طور پر بچوں کو متاثر کر رہی ہے اور اس میں مبتلا مریضوں کے دماغ میں سوجن ، قے اور شدید بخار کی علامتیں دیکھی جا رہی ہیں۔

  • برطانیہ : سکھوں کا  پاکستان اور وزیراعظم عمران خان سے والہانہ اظہار محبت

    برطانیہ : سکھوں کا پاکستان اور وزیراعظم عمران خان سے والہانہ اظہار محبت

    لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں سکھوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو وزیراعظم عمران خان کے فیصلوں سے خوش ہو کر سپورٹ کرنا شروع کر دیا.اور پاکستان اور عمران خان سے اپنے والہانہ محبت کا اظہار بھی کیا.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سکھ کمیونٹی نے قومی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا..پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باوجود حکومت پاکستان کے اقدامات نے بھارت میں عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ کردیا ہے۔

    لارڈز گراؤنڈ کے باہر ایک سکھ کا کہنا تھا کہ 72 سال بعد ایک ایسا لیڈر آیا ہے جس نے سکھوں کیلئے بارڈر کھولا ہے، میں پاکستان کی اس لیے حمایت کررہا ہوں کیونکہ بابا گرونانک پاکستان کے پنجاب میں دفن ہیں۔

    سکھ برادری کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے کرتارپور بارڈر کھولنے کے اعلان کے بعد برادری ورلڈکپ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی حمایت کررہی ہے کیونکہ آدھا پنجاب پاکستان میں ہے اور ہمیں بھارت میں لاہور والا کہا جاتا ہے، اس لیے ہم نے کھلم کھلا پاکستان ٹیم کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے، میں بھارت کی طرح پاکستان کو بھی سپورٹ کررہا ہوں۔

    لارڈز کے باہر شائقین کرکٹ پاکستانی ٹیم کیلئے بھرپور سپورٹ اور عمران خان سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے دکھائی دیئے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جنوبی افریقا کے تماشائی گراؤنڈ میں نہیں ہیں کیونکہ ہر جانب پاکستان کی گرین شرٹس اور پرچم تھے۔

  • گھر کی دیوار گرنے سے 4 سالہ بچہ جاں بحق

    گھر کی دیوار گرنے سے 4 سالہ بچہ جاں بحق

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی)نواحی گاﺅں چک مرتضیٰ میں زیرتعمیرمکان کی دیوارگرنے سے چارسالہ بچہ جاں بحق،بتایاجاتا ہے کہ نواحی گاﺅں چک مرتضیٰ کے رہائشی محمد شہزاد کا چار سالہ بیٹا نجم شہزادگھر کے صحن میں کھیل رہاتھا کہ مبینہ طور پر زیر تعمیر دیوار کے ساتھ ریت پھینکنے سے دیوارزمین بوس ہوگئی اور کم سن نجم شہزاددیوارتلے آکربری طرح زخمی ہوگیااور زخمو ں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا،متوفی کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردخاک کردیاگیا۔

  • اوبر اور کریم پر خواتین کے لئے سفر ہوا غیر محفوظ

    اوبر اور کریم پر خواتین کے لئے سفر ہوا غیر محفوظ

    آن لائن ٹیکسی ،اوبر و کریم پر خواتین کے لئے سفر کرنا غیر محفوظ ہو گیا. کیپٹن نے خواتین کے ساتھ لوٹ مار کے علاوہ ہراساں کرنا شروع کر دیا، شہر قائد کراچی میں ایسے متعدد واقعات ہو چکے جن میں پولیس نے ملزمان کو خواتین کی شکایات پر گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں آن لائن ٹیکسی اوبر اور کریم کے ڈرائیورز کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں. ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کی جانب سے خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعہ پر خاتون نے پولیس کو اطلاع دی تو پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے، ملزم باقر علی جعلی آئی ڈی سے آن لائن ٹیکسی چلا رہا تھا جس نے گاڑی میں سفر کرنے والی خاتون سے موبائل فون چھینا تھا، پولیس نے موبائل کی لوکیشن ٹریس کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے.

    کراچی کے علاقے عزیز بھٹی پولیسں اور اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ نے بھی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں سے لوٹ مار میں ملوث آن لائن ٹیکسی سروس کے 4 ڈرائیورز کو گرفتارکیا ہے، جو خواتین سے دوران سفر لوٹ مار کرتا تھا. پولیس نے ڈرائیور اعجاز، عمر،فواد اور ساجد کو گرفتار کیا ، ملزمان کی گاڑی میں جو خواتین سفر کرتیں ان کو ہراساں کیا جاتا اور ان سے موبائل و نقدی ویرانے مین جا کر چھین لی جاتی، لاہور کی رہائشی خاتون نے کراچی میں آن لائن ٹیکسی پر سفر کیا تو ڈرائیور کی جانب سے موبائل چھینے جانے پر اس نے پولیس کو اطلاع دی ،پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا.

    لاہور سے کراچی میں اوبر ٹیکسی پر سفر کرنے والی خاتون اقرا حمید کا کہنا تھا کہ میں اپنی چھُٹیاں گزارنے کراچی آئی ہوئی تھی، میں نے تین جون کو آن لائن ٹیکسی سروس اوبر سے ایک رائیڈ بُک کروائی ، ڈرائیور مجھے گارڈن ٹاؤن سے لینے کے لیے آیا۔ راستے میں ڈرائیور نے گاڑی دوسرے راستے کی طرف موڑی تو میں نے کہا کہ آپ اُس طرف کیوں جا رہے ہیں؟ جس پر ڈرائیور نے جواب دیا کہ یہ چھوٹا راستہ ہے اور یہاں ٹریفک بھی زیادہ نہیں ہوتی ۔ خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے ڈرائیور کو کہا کہ آپ دوسرے راستے سے جائیں ،لیکن وہ نہیں مانا، راستے میں میزان بینک کے پاس میں نے ڈرائیور کو کہا کہ گاڑی روکو لیکن وہاں رش ہونے کی وجہ سے اس نے گاڑی نہیں روکی اور ایسے میزان بینک کے پاس روکی جہاں رش نہیں تھا، ڈرائیور نے مجھے اسوقت کہا کہ اپنا موبائل فون گاڑی میں چھوڑ کا جاو،اس موقع پر اس نے بدتمیزی کی اور ہراساں کیا،خاتون کا کہنا تھا کہ میں اے ٹی ایم میں گئی اور درواز اندر سے لاک کر دیا ،جس کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا.واقعہ کے بعد پولیس کو اطلاع دی اور پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر لیا.پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ خواتین کے ساتھ لوٹ مار میں آن لائن ٹیکسی کمپنی کے فرنچائز کے مالک کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے.

    کراچی سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی منیر عقیل انصاری نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن ٹیکسی سروس میں وارداتوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کے بعد شہری دیگر ٹرانسپورٹ ذرا ئع کو ترجیح دینے لگے ہیں،آرام دہ سفر کے لئے سہولت سمجھے جانے والی آن لائن ٹیکسی سروس مختلف طریقوں سے عوام کو لوٹ رہی ہے تو ڈرائیو بھی ڈکیتی کی وارداتیں کرتے ہیں .جبکہ کریم کے بیشتر ڈرائیور کراچی راستوں سے نا واقف ہیں ،منیر عقیل انصاری کا مزید کہنا تھا کہ آن لائن ٹیکسی سکیم کراچی کے شہریوں کا اعتماد کھو چکی ہے.