سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)انتخابی ڈرامہ رچانے کے لیے تعینات کی گئی بھارت کی سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی اضافی کمپنیوں کو اب امرناتھ یاترا کی سکیورٹی کا بہانہ بناکر علاقے میں ہی رہنے کے لیے کہاگیا ہے۔ ایک سینئر افسرکے مطابق وادی میں لوک سبھا انتخابات ختم ہونے کے باوجود فورسز کی زیادہ تر کمپنیاںیہاں ہی تعینات رہیں گی۔ 46دنوں پر مشتمل سالانہ یاترا یکم جولائی سے شروع ہوگی۔ پہلگام کے علاقے چندواڑی میں واقع امرناتھ غارکی زیارت کے لیے ہرسال بھارت بھر سے ہندو یاتری آتے ہیں ۔ انتخابی ڈیوٹی کے لیے 400اضافی کمپنیاں وادی میں تعینات کی گئی تھیں۔ ان اضافی کمپنیوںکے علاوہ وادی میں پہلے ہی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے تقریباً 50ہزار اہلکار تعینات ہیں۔
Blog
-

مقبوضہ کشمیر: انتخابی ڈرامے کے لیے لائی گئی اضافی فورسز امرناتھ یاترا کے لیے وادی میں ہی رہیں گی
سرینگر (باغی مانیٹرنگ ڈیسک)انتخابی ڈرامہ رچانے کے لیے تعینات کی گئی بھارت کی سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی اضافی کمپنیوں کو اب امرناتھ یاترا کی سکیورٹی کا بہانہ بناکر علاقے میں ہی رہنے کے لیے کہاگیا ہے۔ ایک سینئر افسرکے مطابق وادی میں لوک سبھا انتخابات ختم ہونے کے باوجود فورسز کی زیادہ تر کمپنیاںیہاں ہی تعینات رہیں گی۔ 46دنوں پر مشتمل سالانہ یاترا یکم جولائی سے شروع ہوگی۔ پہلگام کے علاقے چندواڑی میں واقع امرناتھ غارکی زیارت کے لیے ہرسال بھارت بھر سے ہندو یاتری آتے ہیں ۔ انتخابی ڈیوٹی کے لیے 400اضافی کمپنیاں وادی میں تعینات کی گئی تھیں۔ ان اضافی کمپنیوںکے علاوہ وادی میں پہلے ہی سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے تقریباً 50ہزار اہلکار تعینات ہیں۔
-

سرحدوں کے محافظ ۔۔۔ حامد المجيد
سرحد کا محافظ صرف سرحد کا نہیں اپنے وطن کی شان بان اور آن کا محافظ ہوتا ہے وطن کے باسیوں کی عزت و آبرو جان مال کا محافظ ہوتا ہے۔۔
حفاظت کے اس عظیم فریضہ کو سر انجام دینے میں اس کی راہ میں کوئی چیز بھی رکاوٹ نہیں بنتی اس کی نگاہیں گاہے بگاہے کی رنگینیوں میں الجھنے کے بجائے اپنی منزل پہ منجمد رہتی ہیں۔۔۔
اس کا حوصلہ کوہ گراں کی طرح مضبوط و توانا ہوتا ہے جسے آگ اگلتا سورج اور سردیوں کی یخ بستہ راتیں بھی کمزور نہیں کرسکتی۔۔۔
سرحدوں کے محافظ ضروری نہیں کہ سرحد پہ معمور ہوں کچھ گمنام محافظ بھی ہوتے ہیں جن کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی حب الوطنی ہی ان کی شناخت بنتی ہے اور وطن کی سرحدوں کے طرف بڑھنے والے سبھی ناپاک قدم ان کی نظر میں ہوتے ہیں جنہیں وہ مسل کر رکھ دیتے ہیں ہر اٹھنے والی بری آنکھ کی نظر کو کافور کردیتے ہیں۔۔ ناپاک ارادوں کے بڑے بڑے محلات اپنی عقلمندی سے مسمار کرتے ہیں۔۔۔۔
ہم جو سکھ کی نیند سوتے ہیں چین کی زندگی گزار رہے ہیں وہ صرف اس وجہ سے کہ ہماری سرحدوں کے محافظ ہر لمحہ ہماری حفاظت کے لیے چوکس ہیں۔۔
قابل رشک ہیں وہ مائیں جن کے جواں چراغ اس عظیم راہ میں روشن و تابناک ہیں۔۔
شہادت نامی بیج جس قلب میں بویا جائے وہاں شجاعت و بہادری کا پودا پھوٹتا ہے جس کا پتہ پتہ ڈالی ڈالی صبر و استقامت سے لبریز ہوتا ہے۔۔
اور ہمارے وطن کے ہر محافظ کے سینے میں یہ پودا پوری آب و تاب سے موجود ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی فوج بھی ہمارے جوانوں کو زیر نہیں کرسکتی۔۔
ہمارے فوجی جوانوں کا اوڑھنا بچھونا مطلوب شہادت اور رضا خداوندی ہے جو ان کے جذبات کو مضبوط اور توانا بناتا ہے۔۔۔
کوئی بھی فرد تب تک مضبوط و ثابت قدم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا اپنے خدا پہ یقین کامل نہیں ہو جاتا اور ہماری سرحدوں کے محافظ اسی لیے سب سے منفرد و اعلیٰ ہیں ان کے دلوں میں یقین کامل کے ایسے چراغ روشن ہیں جن کی کرنوں کے سامنے انہیں بس آخرت کی زندگی دکھائی دیتی ہے یہی وجہ ہے وہ شہادت کو بڑے شوق اور ولولے سے اپنے گلے لگاتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں ہمارے خون کا پہلا قطرہ ابھی زمین پہ نہیں گرنا اور وہاں ہماری کامیابی کا پروانہ پہلے جاری ہوجانا ہے۔۔
ہماری سرحدوں کے محافظ ہمہ تن جذبہ شہادت سے سرشار ہیں اور یہ ایسا جذبہ ہے جو انہیں ہر میدان کا فاتح اور سکندر بناتا ہے۔۔
ہر محب وطن اپنے وطن کا محافظ ہے ضروری نہیں خاکی وردی پہننے والے پہ ہی اپنے وطن کی حفاظت لازم بلکہ خاک سے بنے ہر خاکی پہ لازم ہے کہ وہ اپنے وطن کی حفاظت کرے اور جس طرح سرحدوں کے محافظ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتے ہیں ویسے ہی وہ اپنے وطن کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔۔۔
گنتی کے چند عناصر پسند اور شدت پسند لوگوں کی باتوں میں آنے کے بجائے ہر لمحہ اپنے ان جوانوں کے دست بازو بنے رہیں جو اپنی تمام تر خوشیاں ہماری خوشیوں اور وطن کی سرفرازی پہ قربان کررہے ہیں۔۔۔
جن کی رگوں میں وطن کی محبت خون بن کے گردش کرتی ہے۔۔۔
جن کی سانسوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی تازگی دیتی ہے۔۔
جو بغیر کسی لالچ کہ اپنی سب سے قیمتی چیز اپنی جان تک لٹانے کو تیار ہیں۔۔
ہم ہم وقت دست بازو ہیں اپنے ان جوانوں کے جو ہمارے وطن کے چمکتے دمکتے ستارے اور اس پاک مٹی کے گوہر نایاب ہے جس کی زرخیزی میں کئی شہیدوں کا لہو شامل ہے۔۔ -

سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ کی مذمت ،دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوت کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال
سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ کی مذمت ،دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوت کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان.
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سیٹلائیٹ ٹاؤن مارکیٹ دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کا بھر پور مقابلہ کریں گے. پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے. انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا. یاد رہے کہ اس دھماکے میں اب تک چار پولیس اہلکاروں کی شہادت جبکہ سویلین سمیت 11 زخمی ہیں. انہوں نے زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی. -
کوئٹہ سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ میں شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد چار ہو گئی
کوئٹہ دھماکہ، شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد 4 ہو گئی سیٹلائیٹ ٹاؤن مین مارکیٹ میں موٹرسائیکل پر نصب بم کے پھٹنے سے ایک پولیس وین تباہ ہوگئی، جس میں 4 پولیس اہلکار شہید جبکہ میں پولیس و سویلین زخمیوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے.
گوادر پی سی ہوٹل کے حملے کے ٹھیک دو دن کوئٹہ میں حملہ ہو گیا. شہداء کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ. -

عارضی رہائشی ایکٹ کی خلاف ورزی پر لالہ موسیٰ میں متعدد افراد گرفتار
گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی) گجرات پولیس نے عارضی رہائش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیاتفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات سید علی محسن کی سربراہی میں گجرات پولیس نے عارضی رہائش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں اور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ایس ایچ او تھانہ سٹی لالہ موسیٰ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کر کے پنجاب عارضی رہائش ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر ملزمان تنویر حسین ولد پیر ادتہ قوم موچی سکنہ کرنانہ، حاجی عنصر سکنہ چوہدری پٹرولیم،رفاقت علی سکنہ لالہ موسیٰ اور شہباز بٹ سکنہ تلہ کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کرلئے۔مزید بھکاریوں کے خلاف کارروائی کرکے غلام قادر عر ف ملنگی سکنہ لالہ موسیٰ اورنغمہ بیوہ اللہ رکھا سکنہ گھوٹکی کو گداگری کرتے ہوئے گرفتار کرکے پنجاب ویگرنسی آرڈیننس 1958کے تحت ا لگ الگ مقدمات درج کرلئے
-
کوئٹہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں دھماکہ، 6 پولیس کے جوان زخمی
کوئٹہ سیٹلائیٹ ٹاؤن مارکیٹ میں ایک دھماکے کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے. دھماکہ سے ایک پولیس وین کو بھی نقصان پہنچا ہے.
سیکورٹی فورسز نے پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے. زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ایمرجنسی لگ چکی ہے.
دھماکہ کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی. سیٹلائیٹ ٹاؤن کو کوئٹہ کا حساس ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے. -

پانی انسان کے لیے کتنا ضروری ہے؟؟؟ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ
جسمانی ٹشوز کے وزن کا ٪ 70 پانی ہوتا ہے اور پروٹو پلازم کا لازمی جزو ہے۔ خوراک کے بغیر انسان 15 یوم تک زندہ رہ جاتا ہے مگر پانی کے بغیر انسان 48 گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ایک خاص واقعہ ہو سکتا ہے۔
یہ ہمارے جسمانی نظام کے لئے بے حد اہم ہے۔
یہ خوراک ہضم کرنے اور ہضم شدہ غذاء اور دوسرے بے شمار مادوں کو مائع حالت میں ترسیل میں مدد دیتا ہے۔

ہمارے جسم میں ہونے والے تمام کیمیائی عوامل پانی کی موجودگی میں محلول (سلوش فارم) میں ہوتے ہیں۔
انسانی جسم میں پانی پینے سے اور بعض غذائیں مائع حالت میں لینے سے حاصل ہوتا ہے۔
اسی طرح جسم سے فاسد مادوں پیشاب اور فضلہ کا اخراج، جلد اور پھیپھڑوں کے راستے سے بھی دن میں 2 سے 3 لیٹر پانی خارج ہوتا ہے جسکی کمی پانی پینے سے پوری ہوتی ہے۔
اسکے علاوہ دیگر انزائمز بھی پانی کی موجودگی ہی میں فعال ہوتے ہیں۔
پانی خون کو پتلا رکھتا ہے جسکی وجہ سے یہ جسم کے ہر سیل تک پہنچتا ہے.
پانی جسم کے درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے.
پانی کی کمی سے ڈی ہائیڈریشن ہو جاتی ہے جو مہلک ثابت ہو سکتی ہے.
سبز پودوں میں فوٹو سینتھیسز کا عمل اسکے بغیر ممکن نہیں.
انسانی جسم کیلئے پانی کی مقدار کا انحصار کسی انسان کی سر گرمیوں اور ماحولیاتی حالات پر ہوتا ہے.
ایسے لوگ جو گرم اور خشک علاقوں میں رہتے ہیں انہیں پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے.
اسی طرح سانس لینے پسینہ اور پیشاب کے اخراج سے جسم سے پانی کا اخراج ہوتا رہتا ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک عام نارمل اور صحت مند بالغ انسان کو تقریباً 3 لیٹر پانی کی دن بھر میں اوسطاً ضرورت ہوتی ہے۔
