Baaghi TV

Blog

  • پاکستان کیساتھ تعلقات ہمیشہ اولین ترجیح ہیں، چینی صدر کی وزیراعظم سے گفتگو

    پاکستان کیساتھ تعلقات ہمیشہ اولین ترجیح ہیں، چینی صدر کی وزیراعظم سے گفتگو

    چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی،ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپنا “پرانا دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان نے ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی ہے، انہوں نے کہا کہ بیجنگ اپنی ہمسایہ سفارت کاری میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔

    چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کے تعمیری اور ثالثی کردار کو بھی سراہا، ان کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کو مل کر یکطرفہ پالیسیوں اور سرد جنگ کی ذہنیت کی مخالفت کرنی چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو اعلیٰ سطحی روابط اور وسیع تر سیکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال کے باوجود پاکستان سے تعلقات چین کی اولین ترجیح رہیں گے۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے “آئرن برادرز” ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات بے مثال نوعیت کے حامل ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں چین کے وزیراعظم عزت لی چیانگ سے ملاقات کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے پس منظر میں ہوئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم لی چیانگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین دیرینہ اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی باہمی اعتماد، اسٹریٹجک تعاون، امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سی پیک کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے عزم کا اظہار کیا دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی، اسٹریٹجک، سکیورٹی اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا وزیراعظم نے زور دیا کہ سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے اہم موقع کو پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی خیرسگالی کے عملی، عوام دوست اور مستقبل پر مبنی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی تبادلوں اور قریبی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان کی قومی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے چین کی مستقل حمایت کو سراہا انہوں نے پاکستان میں چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا،دونوں فریقین نے قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے، طے شدہ منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور پاک چین شراکت داری کو عملی، نتیجہ خیز اور اعلیٰ معیار کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق کیا۔

    ملاقات میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر ، عطا تارڑ اور دیگر موجود تھے۔

  • سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ

    سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج بڑا اضافہ ریکارڈ ہوگیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج پیر کے روز فی اونس سونے کی قیمت 46ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 554ڈالر کی سطح پر آ گئی،آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 77 ہزار 762 روپے ہوگئی ہے اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 3 ہزار 943 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 9 ہزار 603 روپے تک پہنچ گئی۔

    علاوہ ازیں عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت 2ڈالر 36سینٹ بڑھ کر 77ڈالر 86 سینٹس کی سطح پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 236روپے کے اضافے سے 8ہزار 270روپے اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت بھی 203روپے کے اضافے سے 7ہزار 90روپے کی سطح پر آگئی ہے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور عالمی معاشی تبدیلیاں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط

    پاکستان اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط

    وزیراعظم شہباز شریف اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے بیجنگ میں پاکستان اور چین کے درمیان متعدد معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز)، پروٹوکولز اور تعاون سے متعلق دستاویزات پر دستخط اور ان کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق یہ معاہدے تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم، میڈیا اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق ہیں، دستخط شدہ دستاویزات میں تعلیمی تعاون اور تبادلوں سے متعلق ایگزیکٹو پروگرام، خشک میوہ جات اور مکئی کی برآمدات کے لیے قرنطینہ اور نباتاتی صحت کے تقاضوں سے متعلق پروٹوکولز، زرعی شعبے میں ترقیاتی تعاون اور جانوروں کی ویکسینز سے متعلق لیٹر آف ایکسچینج شامل ہیں جبکہ اقتصادی ترقی، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔

    علاوہ ازیں پاکستان نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور چین کی نیشنل اکیڈمی آف گورننس کے درمیان، جبکہ پاکستان سائنس فاؤنڈیشن اور چائنا ایسوسی ایشن آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان بھی تعاون کی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا،میڈیا کے شعبے میں Xinhua News Agency اور Pakistan Broadcasting Corporation کے درمیان مفاہمتی یادداشت جبکہ China Media Group اور Pakistan Television کے درمیان مشترکہ ڈاکیومنٹری پروڈکشن کے تعاون پر اتفاق ہوا، پاکستان اور چین نے آزاد تجارت اور کثیرالجہتی نظام کی حمایت سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جبکہ چین کے صوبہ ژجیانگ اور پنجاب کے درمیان سسٹر-پروونس تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ بھی طے پایا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان معاہدوں پر دستخط پاکستان اور چین کے بڑھتے ہوئے تعاون اور مضبوط دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ معاہدے اہم شعبوں میں نئے مواقع پیدا کریں گے اور دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش  ، امریکی میڈیا

    ٹرمپ کی ایران مذاکرات کی آڑ میں اسرائیل کو تسلیم کرانے کی کوشش ، امریکی میڈیا

    امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ معاہدے کے بدلے کئی عرب اور مسلم ممالک پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ایک موقع پر خاموشی چھا گئی تو ٹرمپ نے پوچھا، ’’آپ لائن پر ہیں یا نہیں؟‘‘دوسری جانب امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پا کستان، سعودی عرب اور قطر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل کو تسلیم نہ کیا گیا تو ’’خطرناک نتائج‘‘ سامنے آسکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران سے مذاکرات اور خطے کی بدلتی صورتحال کے تناظر میں سفارتی دباؤ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، تاہم متعلقہ ممالک کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیاامریکی حکام کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اشارہ دیا کہ شاید ایران بھی مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتا ہے، تاہم عرب اور مسلم رہنماؤں نے اس تجویز پر خاموشی اختیار کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اسرائیل کو اس ممکنہ معاہدے میں کوئی بڑا سفارتی فائدہ دینا چاہتے ہیں، لیکن اسرائیلی حکام خود اس مجوزہ ڈیل پر شدید تحفظات رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو خدشہ ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل منصوبے اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے اہم معاملات کو نظر انداز کررہا ہےاسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ اگر 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کردی گئی تو ایران کو معاشی اور عسکری بحالی کا وقت مل جائے گا، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے لیے دوبارہ کارروائی کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

    اسرائیلی چینل 12 کے مطابق سینئر اسرائیلی حکام نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاہدہ ’’اسرائیل کے مفاد میں نہیں‘‘ جبکہ بعض حکام نے اسے ’’خراب اور انتہائی مسئلہ خیز ڈیل‘‘ قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان کی جانب سے طے پانے والا کوئی بھی معاہدہ “مناسب اور بہترین” ہوگا جبکہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو انہوں نے ’’ناکام لوگ‘‘ قرار دیا،جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ’’72 گھنٹوں میں کسی کاغذ کے ٹکڑے پر نہیں ہوسکتا-

  • اپ گریڈڈ عوام ایکسپریس کا افتتاح،پشاور سے کراچی روانہ

    اپ گریڈڈ عوام ایکسپریس کا افتتاح،پشاور سے کراچی روانہ

    پشاور میں پاکستان ریلویز کی جانب سے اپ گریڈڈ عوام ایکسپریس کا افتتاح ایک سادہ مگر باوقار تقریب کے دوران پشاور ریلوے اسٹیشن پر کر دیا گیا۔

    افتتاحی تقریب سیکریٹری ریلویزسید مظہرعلی شاہ نے وفاقی وزیر برائے ریلویز محمد حنیف عباسی کی خصوصی ہدایات پر انجام دی، جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ موجود تھےتقریب کے دوران سیکرٹری ریلویز اور شاہد آفریدی نے اپ گریڈڈ ٹرین میں فراہم کی گئی جدید سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    25 مئی 2026 کو پشاور کینٹ سے پہلی اپ گریڈڈ ٹرین کراچی کے لیے روانہ کی گئی افتتاحی ٹرین صبح 8:30 بجے پشاور سے روانہ ہوئی یہ ٹرین پشاور سے براستہ راولپنڈی، لاہور، خانیوال ،ملتان ،بہاولپور، خان پور، لیاقت پور، رحیم یار خان، صادق اباد، ڈہرکی، پنوں عاقل، روہڑی، نواب شاہ، ٹنڈو آدم، حیرد آباد سے ہوتے ہوئے کراچی پہنچے گی،اس ٹرین میں مکمل نئے ریکس لگائے گئے ہیں تاکہ کم سے کم وقت میں مسافر اپنے سفر کو آرام دہ انداز میں طے کر سکیں۔

    عوام ایکسپریس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس میں آن بورڈ وائی فائی، آرام دہ نشستیں، بہتر سفری ماحول اور دیگر معیاری سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ مسافروں کو محفوظ، پرسکون اور خوشگوار سفر میسر آ سکے جدید سہولیات سے لیس عوام ایکپریس میں 8 ائیر کنڈشینڈ بوگیاں ہیں جس میں 1234 مسافر سفر کرسکیں گے-

    اس موقع پر شاہد آفریدی نے پشاور ریلوے اسٹیشن پر جدید ٹھنڈے پانی کے فلٹریشن پلانٹ کا بھی افتتاح کیا، جس سے روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو صاف اور ٹھنڈے پانی کی بہتر سہولت دستیاب ہوگی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری ریلویز نے کہا کہ اپ گریڈڈ عوام ایکسپریس پشاور کے عوام کے لیے پاکستان ریلویز کی جانب سے عید کا تحفہ ہے وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی کی ہدایت پر افتتاحی تقریب کو سادگی کے ساتھ مختصر رکھا گیاسیکرٹری ریلویز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ریلویز ملک بھر میں مسافروں کو جدید، محفوظ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی اصلاحاتی اور ترقیاتی کوششیں جاری رکھے گی۔

    سابق قومی کرکٹر شاہد آفردی نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئٹہ کے واقعے پر افسوس ہوا، اللہ پاک شہداء کے درجات بلند فرمائے، پاکستان ریلوے کو نئی ٹرین کے آغاز پر مبارکباد دیتا ہوں، کینٹ اسٹیشن پر شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی جانب سے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا گیا ہے۔

  • عیدالاضحیٰ کے موقع پر  مری میں دفعہ 144 نافذ

    عیدالاضحیٰ کے موقع پر مری میں دفعہ 144 نافذ

    مری کی ضلعی انتظامیہ نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر متوقع سیاحوں کے بڑے رش کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی-

    حکام کے مطابق عید کی تعطیلات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے مری بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے،سیاحوں کی سہولت کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر خصوصی سہولت سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں مسافروں کو رہنمائی اور سفری معاونت فراہم کی جائے گی۔

    انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور اہم شاہراہوں و سیاحتی مقامات پر رش کم کرنے کے لیے مری میں 200 سے زائد ٹریفک وارڈنز تعینات کیے جائیں گے،عید انتظامات کے تحت مال روڈ پر بیچلر سیاحوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ خاندانوں کے لیے زیادہ محفوظ اور دوستانہ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

    حکام نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں، ٹریفک ہدایات پر عمل کریں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں تاکہ عید کی تعطیلات خوشگوار اور پرسکون انداز میں گزریں۔

  • کوئٹہ دھماکا: ریلوے اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پرکمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ

    کوئٹہ دھماکا: ریلوے اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پرکمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ

    کوئٹہ دھماکے کے بعد ریلوے پولیس نے ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات کو انتہائی سخت کر دیا ہے،جبکہ ریلوے اسٹیشنز اور حساس تنصیبات پرکمانڈوز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    ترجمان ریلوے پولیس کے مطابق کوئٹہ بم دھماکے کے تناظر میں تمام ریلوے پولیس اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ریلوے حدود میں واقع مساجد، امام بارگاہوں، عیدگاہوں، مزارات اور دیگر مذہبی مقامات کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائےاسی طرح حسا س مذہبی مقامات اور عید اجتماعات پر اضافی ریلوے پولیس نفری تعینات کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے ٹریک، مسافر و مال گاڑیوں، اہم تنصیبات، ریلوے یارڈز، اسٹورز، ورکشاپس اور دفاتر کی سیکیورٹی مزید سخت کی جا رہی ہے ریلو ے اسٹیشنز، پلوں، ٹریکس اور حساس مقامات پر باقاعدہ سرچ، سویپ اور گشت کا انعقاد کیا جائے گاعلاوہ ازیں ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنز پر تربیت یافتہ اور مسلح کمانڈوز تعینات کیے جائیں۔

    ترجمان کے مطابق ریلوے انتظامیہ، ضلعی پولیس، انٹیلی جنس اداروں، ریسکیو سروسز اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں اس دوران مشکوک افراد، سامان، گاڑیوں اور لاوارث اشیا کی سخت چیکنگ اور نگرانی کی جائے گی۔ سی سی ٹی وی کیمروں، انٹیلی جنس بیسڈ نگرانی اور داخلی و خارجی راستوں کی مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ریلوے حکام نے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام سیکیورٹی ڈیوٹیوں، نفری کی تعیناتی اور ذمہ داریوں پر مشتمل جامع سکیورٹی پلان تیار کر کے فوری متعلقہ دفتر کو ارسال کیا جائے یہ اقدامات کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ ریلوے نیٹ ورک کو محفوظ بنایا جا سکے۔

  • جدید پولیسنگ کے لیے سیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک متعارف

    جدید پولیسنگ کے لیے سیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک متعارف

    ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود احمد کی جانب سے جدید پولیسنگ کے لیے سیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک متعارف کرادی گئی۔

    ترجمان ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن کے مطابق ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈویژن ڈاکٹر مقصود احمد کی جانب سے باضابطہ طورپرسیکیورٹی ٹریننگ ہینڈ بک (جلد اول) کا اجراء کردیا گیا ہے جو اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کی جانب سے تیار کردہ ایک جامع، عملی اور تربیتی دستاویز ہے۔

    یہ ہینڈ بک پولیس کے ٹیکٹیکل یونٹس، ایمرجنسی رسپانڈرز، سائبر ماہرین اوردیگرمتعلقہ سیکیورٹی ماہرین کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی ہے، ہینڈ بک کے اجراء کا آغاز صدر پاکستان آصف علی زرداری کو پیش کر کے کیا گیا اس موقع پر ڈاکٹر مقصود احمد نے کہا کہ یہ ہینڈ بک اس ضرورت کے تحت تیار کی گئی ہے کہ موجودہ دور کے پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں بین الاقوامی معیار کے مطابق خصوصی تربیت کے موجود خلا کو پُر کیا جا سکے۔

    ہینڈ بک مختلف اہم شعبوں کا احاطہ کرتی ہے جن میں ٹیکٹیکل ریڈیو کمیونیکیشن، ٹیکٹیکل موٹر ڈرائیونگ، اسلحے کا مؤثر استعمال، آئی ای ڈی (IEDs) کا تدارک، غیر مہلک ہتھیار، رِنگز آف سیکیورٹی کا تصور، اہم تنصیبات کا تحفظ، ایمرجنسی رسپانس، آفات کا انتظام، پروٹیکٹو سیکیورٹی ڈیوٹیز (PSD)، موٹرکیڈ آپریشنز، وی وی آئی پی سیکیورٹی پروٹوکول، انسدادِ دہشت گردی آپریشنز، سائبر سیکیورٹی، ڈیجیٹل انتہا پسندی اور مستقبل کی سیکیورٹی ٹیکنالوجیز شامل ہیں اس منصوبے کی تیاری میں سینئر پولیس افسران، فوجی ماہرین، بیوروکریٹس، انسٹرکٹرز اور سیکیورٹی ماہرین نے حصہ لیا، یہ ہینڈ بک ملک بھر کے پولیس ٹریننگ اداروں اور خصو صی سیکیورٹی اکیڈمیز کو رہنمائی، جائزے اور نفاذ کے لیے فراہم کی جائے گی۔

  • امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے اور دونوں فریق ایک ابتدائی فریم ورک تک پہنچ گئے ہیں، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    ایرانی ترجمان کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا محور صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، جبکہ ایران کا جوہری پروگرام اس وقت مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں امریکا کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے پاکستان کا کوئی وفد بھیجنے کا فی الحال پروگرام نہیں، تاہم پاکستان اس سفارتی عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے،فریقین کے درمیان کئی اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

    اسماعیل بقائی نےاسرائیلی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کی موجودہ صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • امید ہے امریکا  ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،وزیراعظم

    امید ہے امریکا ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،وزیراعظم

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی-

    چین کے دارالحکومت بیجنگ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے بہت کام ہوچکا ہے اور معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آئے گی،چین کی جانب سے پیش کیا گیا چار نکاتی ایجنڈا خطے میں امن کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور پاکستان اس کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کی ہے، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطے کے امن اور معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہےحالیہ سفارتی رابطوں میں فیلڈ مارشل نے بھی اہم کردار ادا کیا اور مختلف سطحوں پر ہونے والے رابطوں کو مؤثر بنانے میں معاونت کی،پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف آج چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مصروف دن گزاریں گے جہاں وہ چینی صدر، وزیراعظم اور اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گےوزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ چین کے دوران پاک چین تعلقات، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا وزیراعظم کو گریٹ ہال آف دی پیپلز آمد پر گارڈ آف آنر بھی پیش کیا جائے گا جبکہ چین کے وزیراعظم اپنے پاکستانی ہم منصب کا استقبال کریں گے۔

    دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے جن میں مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے سے متعلق امور زیر غور آئیں گے، اس موقع پر معاہدوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد کی جائے گی وزیراعظم بیجنگ میں تیانمن اسکوائر جا کر عوامی ہیروز کی یادگار پر حاضری دیں گے اور پھولوں کی چادر چڑھائیں گے۔

    دورے کے دوران وزیراعظم چینی سرمایہ کاروں اور مختلف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری منصوبوں پر گفتگو متوقع ہے،وزیراعظم پاک چین سفارتی تعلقات کی75ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ خصوصی تقر یب میں بھی شرکت کریں گے، جہاں دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا جائے گا۔