Baaghi TV

Blog

  • 
ایران کا وفد پاکستان بھیجنے کا فوری منصوبہ نہیں، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

    
ایران کا وفد پاکستان بھیجنے کا فوری منصوبہ نہیں، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ

    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کا فی الحال پاکستان میں کوئی وفد بھیجنے کا منصوبہ نہیں ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
    ‎پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اور امریکا ایک مذاکراتی فریم ورک تک ضرور پہنچے ہیں لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل معاہدہ بالکل قریب ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت جنگ کے خاتمے اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے پر مرکوز ہے۔
    ‎ترجمان کے مطابق مجوزہ فریم ورک کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا جبکہ امریکا کی جانب سے بھی بعض پابندیوں اور بحری رکاوٹوں میں نرمی متوقع ہے۔
    ‎اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور سفارتی حل کی جانب پیش رفت ہے، تاہم ابھی کئی معاملات پر مزید بات چیت باقی ہے۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز اور ایران امریکا مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کا محتاط مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ تہران کسی بھی حتمی اعلان سے پہلے تمام سفارتی اور سیکیورٹی پہلوؤں کو مکمل طور پر جانچنا چاہتا ہے۔

  • 
ایرانی اعلیٰ وفد اہم مذاکرات کیلئے قطر پہنچ گیا

    
ایرانی اعلیٰ وفد اہم مذاکرات کیلئے قطر پہنچ گیا

    ‎ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اہم سفارتی اور علاقائی مذاکرات کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں۔
    ‎خبر رساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی وفد قطر کے امیر اور وزیر اعظم سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات میں خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کے مختلف پہلو زیر بحث آئیں گے۔
    ‎ذرائع کے مطابق دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور سفارتی پیشرفت کو آگے بڑھانا ہے۔
    ‎ایرانی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی بھی قطر پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی مذاکراتی کمیشن سے متعلق امور پر بات چیت کریں گے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایران امریکا مذاکرات میں تہران کی اہم ترجیحات میں اپنے منجمد مالی وسائل تک رسائی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
    ‎یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور مختلف ممالک خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رابطوں میں مصروف ہیں۔
    ‎گزشتہ ہفتے قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ایران کا دورہ کر چکا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں مزید تیزی آ گئی ہے۔

  • 
ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آ گئیں

    
ایران امریکا مذاکرات میں پیشرفت، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے نیچے آ گئیں

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں مثبت پیشرفت اور آبنائے ہرمز کھلنے کی امید کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت تقریباً 5 ڈالر کمی کے بعد 90.84 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔
    ‎اسی طرح برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی 6 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 97.30 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں یہ کمی امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہونے کی توقعات کے باعث سامنے آئی ہے۔
    ‎گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بہتر ہو سکتی ہے، جس سے مزید استحکام آنے کا امکان ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو ریلیف مل سکتا ہے جبکہ مہنگائی کے دباؤ میں بھی کچھ کمی متوقع ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی سرمایہ کار اب ایران امریکا مذاکرات کے حتمی نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان مذاکرات کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
امریکا کے ناجائز مطالبات نہیں مانیں گے، ایرانی صدر

    
امریکا کے ناجائز مطالبات نہیں مانیں گے، ایرانی صدر

    ‎ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکا کے ناجائز اور غیر ضروری مطالبات کے سامنے کسی صورت سرینڈر نہیں کرے گا۔
    ‎ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات اس انداز میں کیے جا رہے ہیں جس میں ایرانی قوم کے حقوق اور قومی مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
    ‎مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے عمل میں سنجیدگی سے شریک ہے لیکن کسی بھی ایسے مطالبے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ملکی خودمختاری یا قومی وقار کے خلاف ہو۔
    ‎انہوں نے کہا کہ دشمن عسکری محاذ پر ناکامی کے بعد اب معاشی جنگ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
    ‎ایرانی صدر کے مطابق حکومت اور نجی شعبہ مکمل یکجہتی اور تعاون کے ساتھ اس معاشی دباؤ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ملک اس مرحلے سے بھی کامیابی کے ساتھ گزر جائے گا۔
    ‎پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے عوام کے حقوق، اقتصادی استحکام اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی صدر کا سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ تہران مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں ضرور ہے لیکن وہ دباؤ کے تحت فیصلے کرنے کے لیے تیار نہیں۔

  • 
نقیب محسود کیس میں راؤ انوار کی بریت کے خلاف اپیل کو نئی حمایت مل گئی

    
نقیب محسود کیس میں راؤ انوار کی بریت کے خلاف اپیل کو نئی حمایت مل گئی

    ‎نقیب محسود قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی بریت کے خلاف دائر اپیلوں کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مقتول نقیب محسود کے صاحبزادے نے اپنے چچا کی حمایت میں سندھ ہائیکورٹ میں بیانِ حلفی جمع کرا دیا۔
    ‎سندھ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران مقتول کے کمسن بیٹے عاطف کی جانب سے جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں کہا گیا کہ انہیں اپنے چچا کی جانب سے دائر اپیلوں پر کوئی اعتراض نہیں۔
    ‎بیانِ حلفی میں عاطف نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس وقت کم عمر تھے جبکہ ان کی والدہ معاشرتی روایات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں، اسی لیے دادا کے انتقال کے بعد ان کے چچا نے قانونی کارروائی آگے بڑھائی۔
    ‎سماعت کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے وکلا نے اعتراض اٹھایا کہ اپیلیں مقتول کے بھائی کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔
    ‎عدالت کو بتایا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت نے راؤ انوار اور دیگر ملزمان کو بری کر دیا تھا، جس کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیلیں زیرِ سماعت ہیں۔
    ‎سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی جبکہ عاطف کی جانب سے جمع کرایا گیا بیانِ حلفی بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔
    ‎واضح رہے کہ نقیب محسود قتل کیس پاکستان کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا ہے، جس نے پولیس مقابلوں اور انسانی حقوق کے معاملات پر ملک بھر میں شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

  • 
ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی

    
ڈریپ نے 17 غیر معیاری سرنجز پر پابندی لگا دی

    ‎ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے 11 مختلف کمپنیوں کی 17 آٹو ڈس ایبل سرنجز کو غیر معیاری قرار دے کر ان کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔
    ‎ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ میڈیکل پراڈکٹ الرٹ کے مطابق ان سرنجز کے نمونوں کی جانچ سینٹرل ڈرگ لیبارٹری اور ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی میں کی گئی، جہاں یہ مصنوعات معیار پر پوری نہ اتر سکیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق 3 سے 5 ایم ایل کی یہ سرنجز “آٹو ڈس ایبلیٹی ٹیسٹ” میں ناکام رہیں، جس کا مطلب ہے کہ استعمال کے بعد ان کا خودکار طور پر ناکارہ ہونے والا نظام درست طریقے سے کام نہیں کر رہا۔
    ‎حکام کے مطابق ان سرنجز کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے موذی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
    ‎ڈریپ نے بتایا کہ ان غیر معیاری سرنجز کی تیاری میں چین، پنجاب اور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ دو چینی کمپنیوں کے تیار کردہ تین بیجز بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہیں۔
    ‎ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام صوبائی حکومتوں، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں موجود متاثرہ بیجز فوری ضبط کیے جائیں۔
    ‎ڈریپ نے فیلڈ فورس کو ملک بھر میں مارکیٹ سروے کرنے اور ان سرنجز کی سپلائی روکنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ مینوفیکچررز، امپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ سرنجز فوری طور پر مارکیٹ سے واپس منگوائیں۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر معیاری سرنجز کا استعمال پاکستان میں پہلے سے موجود ہیپاٹائٹس اور دیگر متعدی بیماریوں کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے، اس لیے عوام کو صرف مستند اور محفوظ طبی مصنوعات استعمال کرنی چاہئیں۔

  • ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق تنقید کرنے والے سیاستدانوں اور مخالفین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا تو وہ ایک بہترین معاہدہ ہوگا ورنہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی وہ ان لوگوں پر ہنستے ہیں جو بغیر حقائق جانے رائے دے رہے ہیں۔

    پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ڈیل کو ناکام سیاستدان غلط انداز میں پیش کررہے ہیں، ڈیموکریٹ سینیٹر بار بار غلط پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے جیسا نہیں ہوگاٹرمپ کے مطابق اوباما انتظامیہ کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ ایسے معاہدے نہیں کرتے اور ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں امریکی مفادات کو ترجیح دی جائے گی،ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بہترین اور بامقصد ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

    اس سے قبل گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر معاہدہ چاہتا ہے تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واشنگٹن دوسرا راستہ اختیار کرے گا امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دے گا تاہم اگر ایران کے ساتھ اچھا معاہدہ نہ ہوسکا تو متبادل آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے ساتھ ایسے نکات زیر غور ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر محدود مدت کے بامعنی مذاکرات شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے 2015 میں ایران کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کا مقصد تہران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے مختلف راستوں کو محدود کرنا تھا معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کی سخت نگرانی اور تصدیقی نظام بھی شامل تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکا کو اس معاہدے سے الگ کرتے ہوئے اسے ناقص معاہدہ قرار دیا تھا۔ امریکی انخلا کے بعد ایران نے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کی پیداوار میں اضافہ کردیا تھا۔

  • مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر کیس میں اہم پیشرفت

    مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر کیس میں اہم پیشرفت

    لاہور ہائیکورٹ میں اداکارہ مومنہ اقبال اور ثاقب چڈھر کے تنازعے سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔

    ثاقب چڈھر کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں مومنہ اقبال کے منگیتر حمزہ حبیب کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی گئی، عدالت نے حمزہ حبیب کو عبوری ضما نت کے لیے یکم جون تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی،جسٹس عبہر گل نے حمزہ حبیب کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حمزہ حبیب کے خلاف جھنگ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد حمزہ حبیب کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

    قبل ازیں اداکارہ مومنہ اقبال اور مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کے درمیان تنازع سے متعلق درخواست ایف آئی اے کو بھجوا دی گئی۔

    مومنہ اقبال اور مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم پی اے کے درمیان مبینہ لڑائی جھگڑے کے معاملے پر تھانہ چونگ میں دی گئی درخواست ابتدائی قانونی کارروائی کے بعد ایف آئی اے این سی سی آئی اے کو بھجوا دی گئی،پولیس کے مطابق درخواست میں ایسا کوئی جرم نہیں بنتا جو تھانے کے دائرہ اختیار میں آتا ہو، اس لیے معاملہ ایف آئی اے کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ تمام معاملہ اور مبینہ جھگڑا ٹیلیفونک گفتگو کے ذریعے پیش آیا، اسی وجہ سے یہ معاملہ پولیس کے بجائے ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہےپولیس کے مطابق درخواست کو داخل دفتر کرتے ہوئے ایف آئی اے کے این سی سی آئی اے سرکل کو بھجوا دیا گیا ہے،مومنہ اقبال تھانہ چونگ آنے کے بجائے ایف آئی اے حکام سے رابطہ کریں۔

  • محمد باقر قالیباف مسلسل ساتویں سال ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب

    محمد باقر قالیباف مسلسل ساتویں سال ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب

    محمد باقر قالیباف ایک بار پھر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں-

    ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق محمد باقر قالیباف مسلسل ساتویں سال اس اہم عہدے کیلئے دوبارہ منتخب ہوئے ہیں قالیباف نے پارلیمانی ووٹنگ میں اکثریت حاصل کی جس کے بعد انہیں دوبارہ اسپیکر منتخب کرنے کا باضابطہ اعلان کیا گیامحمد باقر قالیباف کو ایران کی سیاست میں ایک بااثر شخصیت تصور کیا جاتا ہے اور وہ حالیہ ایران امریکا مذاکرات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں وہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے جاری سفارتی کوششوں میں اہم مذاکرات کاروں میں شامل رہے ہیں۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق قالیباف کی دوبارہ کامیابی اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ ایرانی قیادت موجودہ سیاسی اور سفارتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا چاہتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی، جنگ بندی مذاکرات اور عالمی سفارت کاری اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

    واضح رہےکہ محمد باقر قالیباف اس سے قبل تہران کے میئر بھی رہ چکے ہیں اور ایرانی سیاست و سکیورٹی معاملات میں طویل تجربہ رکھتے ہیں۔

  • پاکستان کیساتھ تعلقات ہمیشہ اولین ترجیح ہیں، چینی صدر کی وزیراعظم سے گفتگو

    پاکستان کیساتھ تعلقات ہمیشہ اولین ترجیح ہیں، چینی صدر کی وزیراعظم سے گفتگو

    چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی،ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن اور سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،ملاقات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے۔

    چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپنا “پرانا دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان نے ناقابلِ شکست روایتی دوستی قائم کی ہے، انہوں نے کہا کہ بیجنگ اپنی ہمسایہ سفارت کاری میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دیتا ہے۔

    چینی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کیلئے پاکستان کے تعمیری اور ثالثی کردار کو بھی سراہا، ان کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کو مل کر یکطرفہ پالیسیوں اور سرد جنگ کی ذہنیت کی مخالفت کرنی چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو اعلیٰ سطحی روابط اور وسیع تر سیکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال کے باوجود پاکستان سے تعلقات چین کی اولین ترجیح رہیں گے۔

    اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے “آئرن برادرز” ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات بے مثال نوعیت کے حامل ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں چین کے وزیراعظم عزت لی چیانگ سے ملاقات کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے پس منظر میں ہوئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم لی چیانگ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین دیرینہ اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آہنی دوستی باہمی اعتماد، اسٹریٹجک تعاون، امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ عزم پر مبنی ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے کہا کہ سی پیک نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے سی پیک کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے عزم کا اظہار کیا دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور سیاسی، اقتصادی، اسٹریٹجک، سکیورٹی اور عوامی روابط کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا وزیراعظم نے زور دیا کہ سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے اہم موقع کو پاکستان اور چین کے درمیان تاریخی خیرسگالی کے عملی، عوام دوست اور مستقبل پر مبنی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے انہوں نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی تبادلوں اور قریبی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان کی قومی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے چین کی مستقل حمایت کو سراہا انہوں نے پاکستان میں چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنانے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا،دونوں فریقین نے قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے، طے شدہ منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے اور پاک چین شراکت داری کو عملی، نتیجہ خیز اور اعلیٰ معیار کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق کیا۔

    ملاقات میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر ، عطا تارڑ اور دیگر موجود تھے۔