امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حکومت پر ایک بار پھر سخت تنقید کرتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ سلوک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں ہزاروں غیر مسلح مظاہرین کے خلاف کارروائی کی گئی، جنہیں انہوں نے "معصوم اور نہتے افراد” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان واقعات کا ذکر کم کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں بڑی تعداد میں مظاہرین کو سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ایسے لوگوں کے ساتھ معاملہ کر رہا ہے جن کے بارے میں ان کے بقول نرم رائے نہیں رکھی جا سکتی، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھال رہا ہے۔ انہوں نے ایران کی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مظاہرین کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں ہونے والی بدامنی کا الزام امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن نے مظاہرین کو کھلے عام حمایت کا پیغام دیا اور حالات کو خراب کرنے میں کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال کے آغاز میں ایران میں دو ہفتوں سے زائد جاری رہنے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا۔ اس صورتحال نے امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
Blog
-

ٹرمپ کی ایران پر سخت تنقید، مظاہرین کے معاملے پر بیان
-

ٹرمپ کا عندیہ، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر حملے جاری رہیں گے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا ایران پر حملے جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدھ کی شام تک کی ڈیڈ لائن انتہائی اہم ہے اور اس کے بعد حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔
سی این بی سی کے پروگرام میں ٹیلیفونک گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس مؤقف کے ساتھ آگے بڑھنے کو بہتر سمجھتے ہیں کہ امریکا حملوں کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دور میں امریکی فوج کی مضبوطی کا بھی ذکر کیا اور اسے غیر معمولی قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ جنگ بندی میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہیں اور یہ انتہائی کم امکان ہے کہ ڈیڈ لائن آگے بڑھائی جائے۔ ان کے مطابق اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے اور یا تو کوئی بڑا معاہدہ ہوگا یا صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام آج پاکستان پہنچنے کا امکان رکھتے ہیں جہاں ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اہم بات چیت کی جائے گی۔ ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا سخت لہجہ اور فوجی آپشن پر زور دینا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، تاکہ مذاکرات میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم اس سے خطے میں خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں۔ -

آبنائے ہرمز بحران، پاکستانی بندرگاہیں متبادل بن سکتی ہیں؟
آبنائے ہرمز کی 18 اپریل 2026 کو دوبارہ بندش نے عالمی سمندری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی بلکہ عالمی سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستانی بندرگاہیں اس بحران میں متبادل کردار ادا کر سکتی ہیں؟
تفصیلات کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی نے سمندری تجارت کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ کے خطرے کی انشورنس پریمیم میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ کر تقریباً 10 ہزار ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری ملاح بھی غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں انہیں خطرناک علاقوں میں کام جاری رکھنے یا طویل معاہدوں کی مجبوری کا سامنا ہے۔
عالمی شپنگ کمپنیاں جیسے Maersk، Hapag-Lloyd اور CMA CGM نے خلیجی بندرگاہوں کے لیے اپنی سروسز کم یا معطل کر دی ہیں۔ جنگی حالات کے باعث اب تک 20 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جس نے خطے کی حساسیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج عرب میں موجود تمام بندرگاہیں آبنائے ہرمز پر انحصار کرتی ہیں، جس کی بندش سے پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً گوادر اور کراچی، ایک محفوظ اور قابل عمل متبادل کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں۔
گوادر بندرگاہ جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتی ہے جو خلیجی راستوں سے باہر واقع ہونے کی وجہ سے نسبتاً محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ بھی خطے میں ایک بڑی تجارتی سرگرمی کا مرکز ہے جو بڑھتی ہوئی عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بندرگاہی سہولیات، انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کو مزید بہتر بنائے تو وہ نہ صرف اس بحران سے فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ عالمی تجارت میں اپنا کردار بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ چین، یورپ اور امریکا جیسے بڑے معاشی ممالک بھی متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں، جس سے پاکستان کے لیے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ -

آئی ایم ایف کی نئی شرائط عوامی مفادات کے خلاف ہیں،خالد مسعود سندھو
مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے نئی شرائط عوامی مفادات کے خلاف ہیں،حکمرانوں کوفیصلے ملکی مفادات ،قومی جذبات کو سامنے رکھ کر کرنے چاہئے،کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل ملک میں سودی نظام کا خاتمہ کر دیا جائے تو معیشت کو استحکام ملے گا،
خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط کے بدلے نئی شرائط عائد کرنا درحقیقت پاکستان کی معیشت پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے،آئی ایم ایف کی جانب سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا مطالبہ عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا دے گا،حکمران ملکی مفاد کے مطابق فیصلے کریں ، پاکستان کی عوام نے حکمرانوں کو مینڈیٹ دیا، پاکستانی قوم کے جذبات کی قدر کی جائے اور بیرونی دباؤ پر عوامی جذبات کے خلاف فیصلے نہ کیے جائیں، حکومت آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر چلنے کے بجائے خودمختار معاشی پالیسیاں اپنائے،سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے، برکتیں آسمانوں سے آئیں گی.
-

ادریس تبسم کی سید نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بننے پر مبارکباد
گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کو ادریس تبسم کی مبارکباد، نیک تمناؤں کا اظہار
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما ادریس تبسم نے گورنر سندھ سید نہال ہاشمی کو ان کی تعیناتی پر ٹیلی فون کے ذریعے دلی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، صوبہ سندھ کی سیاسی صورتحال اور پارٹی کے استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے ادریس تبسم کو گورنر ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی۔
ادریس تبسم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سید نہال ہاشمی کی گورنر سندھ کے عہدے پر تعیناتی سے صوبہ سندھ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) مزید مضبوط اور فعال ہو گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارٹی قیادت کی رہنمائی میں سندھ میں عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی ترقی، استحکام اور عوامی خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی اور سندھ میں بھی پارٹی کو ایک مضبوط سیاسی قوت بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ -

پاک فوج میں شمولیت کے لیے گوجرخان کے غیور نوجوانوں کا سمندر امڈ آیا
وطن کے دفاع کے لیے جنون اور جذبے کی انتہا گورنمنٹ بوائز ایسوسی ایٹ کالج دولتالہ میں بھرتی میلہ سج گیا
میرٹ پر بھرتی، شفاف عمل اور نوجوانوں کا جوش اسسٹنٹ کمشنر اور پاک آرمی کی نگرانی میں بھرتی کا کامیاب عمل
گوجرخان (قمر شہزاد) شہیدوں اور غازیوں کی زرخیز مٹی، تحصیل گوجرخان ایک بار پھر وطنِ عزیز کی محبت سے گونج اٹھی۔ پاک فوج میں شمولیت کے لیے گورنمنٹ بوائز ایسوسی ایٹ کالج دولتالہ میں بھرتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں جذبہ حب الوطنی سے سرشار نوجوانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع دیکھنے میں آیا۔ بھرتی کا یہ تمام عمل اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان، کالج پرنسپل اور پاکستان آرمی کے ماہر بھرتی عملے کی سخت نگرانی میں مکمل شفافیت اور سو فیصد میرٹ پر مکمل ہوا۔ اس موقع پر انتظامی افسران نے تمام انتظامات کو اپنی نگرانی میں رکھا تاکہ نوجوانوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستان فوج کا حصہ بننے کے لیے آئے ہوئے نوجوانوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیدنی تھا۔دور دراز سے آئے سینکڑوں امیدواروں نے کڑی دھوپ اور سخت مراحل کے باوجود اپنے عزم سے ثابت کر دیا کہ تحصیل گوجرخان کی نئی نسل اپنی دھرتی ماں کی حفاظت اور دفاعِ وطن کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ بھرتی کیمپ میں موجود نظم و ضبط اور نوجوانوں کے حوصلوں نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ یہ سرزمین آج بھی دفاعِ وطن کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
-

اوکاڑہ: ماں نے دوسرے شوہر کی خاطر 7 سالہ بیٹے کو قتل کر دیا
اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ماں قاتل بن گئی، دوسرے شوہر کی خوشی کیلئے سات سالہ بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا
اوکاڑہ کے علاقے 27 والا روڈ، شفقت بلاک میں انسانیت سوز واقعہ، ماں نے اپنے ہی 7 سالہ بیٹے کی جان لے لی۔خاتون نے دوسری شادی کر رکھی تھی جبکہ سوتیلے باپ کو بچہ قبول نہیں تھا۔ مبینہ طور پر ماں نے اپنے دوسرے شوہر کے کہنے پر اپنے بیٹے 7 سالہ علی حمزہ کا گلا دبا دیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا . -

پاسپورٹ وصولی کے نئے اوقات اور فیسوں کا اعلان
عمان میں مقیم پاکستانی شہریوں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں سفارت خانہ پاکستان نے پاسپورٹ وصولی کے اوقات کار اور فیسوں میں تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق یہ تبدیلیاں یکم مئی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی، جن کا مقصد قونصلر خدمات کو بہتر بنانا اور سفارت خانے میں غیر ضروری رش کو کم کرنا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اب پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ شہری اتوار سے جمعرات کے درمیان دوپہر 1 بجے سے 2 بجے تک اور سہ پہر 3 بجے سے 4 بجے تک اپنے تیار شدہ پاسپورٹ وصول کر سکیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اوقات کی پابندی سے سروس کو منظم بنانے میں مدد ملے گی اور انتظار کا وقت بھی کم ہوگا۔
مزید برآں، پاسپورٹ وصول کرتے وقت شہریوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنا اصل ٹوکن اور پرانا پاسپورٹ ہمراہ لائیں۔ سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ ان دستاویزات کے بغیر پاسپورٹ کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی، اس لیے شہری پہلے سے تیاری مکمل رکھیں۔
پاسپورٹ فیسوں میں بھی مختلف کیٹیگریز کے تحت وضاحت کی گئی ہے۔ پانچ سالہ مدت کے 36 صفحات والے پاسپورٹ کی نارمل فیس 12 عمانی ریال جبکہ ارجنٹ فیس 19 ریال مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 10 سالہ مدت کے 36 صفحات والے پاسپورٹ کی فیس 17 ریال سے شروع ہوتی ہے، جس میں سروس کی نوعیت کے مطابق اضافہ ہو سکتا ہے۔
سفارت خانے نے پاسپورٹ کی حفاظت پر خصوصی زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گمشدگی کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ پہلی بار پاسپورٹ گم ہونے پر فیس دگنی وصول کی جائے گی جبکہ دوسری بار گم ہونے پر فیس میں چار گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شہری دوسری بار اپنا 100 صفحات پر مشتمل ارجنٹ پاسپورٹ گم کرتا ہے تو اس کی فیس 208 عمانی ریال تک پہنچ سکتی ہے۔ -

اوکاڑہ: گندم خریداری مراکز فعال، باردانہ رجسٹریشن شروع
اوکاڑہ میں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے بینظیر روڈ پر قائم گندم خریداری مرکز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے باردانہ کی تقسیم کے لیے جاری رجسٹریشن عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محسن گجر نے انہیں بریفنگ دی۔ کسانوں کی سہولت کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کی غرض سے ایم سی بی اور یو بی ایل کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے موقع پر موجود کسانوں سے سہولیات کے بارے میں دریافت کیا، جس پر کسانوں نے حکومتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور رجسٹریشن مکمل ہوتے ہی باردانہ کی تقسیم شروع کر دی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال گندم خریداری پرائیویٹ ایگریگیٹرز کے ذریعے کی جائے گی جبکہ سرکاری نرخ 3500 روپے فی من مقرر کیا گیا ہے۔ ضلع میں مجموعی طور پر 9 خریداری مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ہر کسان کو فی ایکڑ 100 کلو کے 10 بیگز دیے جائیں گے، جبکہ زیادہ سے زیادہ 12 ایکڑ تک باردانہ فراہم کیا جائے گا۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کسانوں کو ترجیح دی جائے گی۔
-

نواز شریف کا دیگر صوبوں کو پنجاب کا ترقیاتی ماڈل اپنانے کا مشورہ
سابق وزیراعظم اور صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت ترقی کے میدان میں ملک میں سب سے آگے ہیں، جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے دیگر صوبوں پر زور دیا کہ وہ پنجاب کے کامیاب ترقیاتی منصوبوں کی تقلید کریں تاکہ ملک بھر میں یکساں ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔
مری میں گلگت بلتستان کے لیے قائم پارلیمانی بورڈ سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ گلگت بلتستان کی خدمت کی ہے اور اس خطے کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف خصوصی طور پر گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ وہاں کے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں،انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبے وہاں کے عوام کا بنیادی حق ہیں، کیونکہ یہ خطہ قدرتی حسن، سیاحت اور معاشی امکانات کے اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے سیاح گلگت بلتستان آنا چاہتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہاں جدید انفراسٹرکچر، سڑکوں، ہوٹلنگ اور دیگر سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ سیاحت کو فروغ مل سکے۔
نواز شریف نے اپنی گفتگو میں ملکی ترقی کے حوالے سے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں متعدد بڑے منصوبے مکمل کیے گئے جن سے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر صوبے بھی اسی طرز پر منصوبہ بندی کریں تو پورا ملک ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔انہوں نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 برس سے وہاں ایک ہی جماعت کی حکومت قائم ہے، مگر اس عرصے میں عوام کو وہ سہولیات فراہم نہیں کی جا سکیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نواز شریف نے سوال اٹھایا کہ اتنے طویل عرصے کے باوجود خیبرپختونخوا میں تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں نمایاں تبدیلی کیوں نظر نہیں آتی۔صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں سفارتی سطح پر بھی اپنا نام بلند کیا ہے اور عالمی برادری میں ملک کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) آئندہ بھی عوامی خدمت، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام کے ایجنڈے پر کام جاری رکھے گی۔