آبنائے ہرمز کی 18 اپریل 2026 کو دوبارہ بندش نے عالمی سمندری تجارت کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی بلکہ عالمی سپلائی چین بھی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ اس بدلتی صورتحال میں سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستانی بندرگاہیں اس بحران میں متبادل کردار ادا کر سکتی ہیں؟
تفصیلات کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی نے سمندری تجارت کو خطرناک حد تک متاثر کیا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ کے خطرے کی انشورنس پریمیم میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ مال برداری کے اخراجات بھی بڑھ کر تقریباً 10 ہزار ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندری ملاح بھی غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں انہیں خطرناک علاقوں میں کام جاری رکھنے یا طویل معاہدوں کی مجبوری کا سامنا ہے۔
عالمی شپنگ کمپنیاں جیسے Maersk، Hapag-Lloyd اور CMA CGM نے خلیجی بندرگاہوں کے لیے اپنی سروسز کم یا معطل کر دی ہیں۔ جنگی حالات کے باعث اب تک 20 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جس نے خطے کی حساسیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیج عرب میں موجود تمام بندرگاہیں آبنائے ہرمز پر انحصار کرتی ہیں، جس کی بندش سے پورا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً گوادر اور کراچی، ایک محفوظ اور قابل عمل متبادل کے طور پر سامنے آ سکتی ہیں۔
گوادر بندرگاہ جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم مقام رکھتی ہے جو خلیجی راستوں سے باہر واقع ہونے کی وجہ سے نسبتاً محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ اسی طرح کراچی پورٹ بھی خطے میں ایک بڑی تجارتی سرگرمی کا مرکز ہے جو بڑھتی ہوئی عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی بندرگاہی سہولیات، انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کو مزید بہتر بنائے تو وہ نہ صرف اس بحران سے فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ عالمی تجارت میں اپنا کردار بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔ چین، یورپ اور امریکا جیسے بڑے معاشی ممالک بھی متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں، جس سے پاکستان کے لیے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز بحران، پاکستانی بندرگاہیں متبادل بن سکتی ہیں؟
