Baaghi TV

Blog

  • پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا

    پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے-

    ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جلد اس کی ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری متوقع ہے، جس کے بعد اگلی قسط جاری ہوگی-

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس ماہ 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کیا ہےسعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت اور 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2028 تک توسیع ہوئی اضافی مالی معاونت اور ڈپازٹ کی مدت میں توسیع سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی جبکہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریے اور اصلاحات کی رفتار ملک کی ریٹنگ میں بہتری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

  • سونے  کی قیمتوں میں آج پھر اضافہ

    سونے کی قیمتوں میں آج پھر اضافہ

    گزشتہ روز تین دن کے وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں کمی ہوئی تھی، جو آج پھر اضافے کے بعد بڑھ گئی ہے-

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 45ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 837ڈالر کی سطح پر آگئی، جس کے نتیجے میں مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی ہفتے کو فی تولہ سونے کی قیمت 5ہزار 500روپے کے اضافے سے 5لاکھ 06ہزار 062روپے کی سطح پر آگئی،فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 3ہزار 858روپے کے اضافے سے 4لاکھ 33ہزار 816 روپے کی سطح پر آگئی۔

    دریں اثنا عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت ایک ڈالر 18سینٹس بڑھ کر 80ڈالر 78 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 118روپے کے اضافے سے 8ہزار 562روپے اور فی 10 س گرام چاندی کی قیمت 101روپے کے اضافے سے 7ہزار 340روپے کی سطح پر آگئی۔

    عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی کی قیمت ایک ڈالر 18 سینٹس بڑھ کر 80 ڈالر 78 سینٹس پر آنے سے مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی فی تولہ چاندی کی قیمت 118 روپے کے اضافے سے 8562 روپے اور فی 10 س گرام چاندی کی قیمت 101 روپے کے اضافے سے 7340 روپے کی سطح پر آگئی۔

  • اسلام آباد انتظامیہ  کی  دکانیں اور بس اڈے بند کروانے کی  خبروں کی تردید

    اسلام آباد انتظامیہ کی دکانیں اور بس اڈے بند کروانے کی خبروں کی تردید

    وفاقی دارالحکومت میں دکانیں اور بس اڈے بند کروانے کی خبروں پر ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی وضاحت سامنے آ گئی-

    سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں یہ خبر تیزی سے پھیلی تھی کہ اسلام آباد میں ایران امریکہ مذاکرات کے دوسرے دور کی سیکیورٹی کے پیش نظر تمام مارکیٹیں اور بس اڈے بند کیے جارہے ہیں جس کے بعد اسلام آباد انتظامیہ نے فوری وضاحت جاری کی ہے کہ ان کے دائرہ اختیار میں تمام کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسلام آباد میں دکانیں یا بس اڈے بند کروانے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضع کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ایسے کسی بھی قسم کے احکامات جاری نہیں کیے گئے، شہری غیر تصدیق شدہ خبروں پر دھیان نہ دیں-

  • ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی،ایران کا مؤقف ہے موجودہ صورتِ حال میں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

    اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی،لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیابین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔

    اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا،باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں-

    بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔

  • غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیاں رجسٹرڈ

    غیرملکی سرمایہ کاروں کی دلچپسی میں اضافہ، 3 ماہ کے دوران 220 کمپنیاں رجسٹرڈ

    پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق رواں سال جنوری سے مارچ کے دوران 220 ایسی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی جن میں غیر ملکی ڈائریکٹرز شامل تھے، اور ان کمپنیوں کا مجموعی ادا شدہ سرمایہ 657 ملین روپے رہا، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار ملکی معیشت اور ریگولیٹری نظام پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2026) میں جن کمپنیوں میں غیر ملکی ڈائریکٹرز شامل تھے، وہ زیادہ تر ٹریڈنگ، سروسز، آئی ٹی، تعمیرات اور مائننگ جیسے شعبوں میں قائم کی گئیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کار روایتی اور ترقی پذیر دونوں شعبوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

    اسی مدت کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار 318 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.5 فیصد زیادہ ہیں، ان میں 58.6 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں جبکہ 37.9 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں شامل تھیں، جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی ترقی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

    صوبائی تقسیم کے مطابق 50.2 فیصد کمپنیاں پنجاب میں، 19.0 فیصد اسلام آباد میں، 15.5 فیصد سندھ میں جبکہ باقی 15 فیصد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں رجسٹر ہوئیں شعبہ جاتی لحاظ سے سب سے زیادہ رجسٹریشن آئی ٹی اور ای کامرس میں ہوئی جن کی تعداد 2065 رہی، اس کے بعد ٹریڈنگ میں ایک ہزار 687 اور سروسز میں ایک ہزار 288 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں،دیگر شعبوں میں رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن میں 934، ٹورازم میں 581، فوڈ اینڈ بیورجز میں 497 اور تعلیم کے شعبے میں 363 کمپنیاں شامل ہیں۔

    ایس ای سی پی کے مطابق اس سہ ماہی میں 95 ہزار 823 کارپوریٹ فائلنگز مکمل کی گئیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہیں اسی عرصے میں رجسٹریشن کے بعد کی فائلنگز میں 33 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو بہتر کمپلائنس اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کی عکاسی کرتا ہے،سیکیورڈ ٹرانزیکشنز رجسٹری میں جنوری تا مارچ کے دوران 6 ہزار سے زیادہ فنانسنگ اسٹیٹمنٹس جمع کرائے گئے جبکہ مالیاتی اداروں نے 5 ہزار سے زیادہ سرچز کیں، جو مالیاتی خدمات کی دستیابی اور مالی شمولیت میں اضافے کی طرف اشارہ ہے۔

  • ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    ملک بھر میں گرج چمک کے ساتھ بارش، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش، تیز ہواؤں اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کی پیشگوئی کی ہے۔

    اس حوالے سے جاری الرٹ کے مطابق اس دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں آندھی اور جھکڑ چلنے کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں برف باری متوقع ہے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول چترال، دیر، سوا ت، کالام، مالاکنڈ، کوہستان، مینگورہ، بٹگرام، ہری پور، پشاور اور مانسہرہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    اسی طرح ایبٹ آباد، مردان، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، ڈی آئی خان اور وزیرستان میں بھی آندھی اور بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے،اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف شہروں جیسے راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ اور منڈی بہاؤالدین میں بھی آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کی پیشگوئی ہے۔

    اسی طرح گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے، استور، دیامر، کھرمنگ، شگر، غذر، نگر، مظفرآباد، باغ، راولاکوٹ، حویلی، پونچھ، کوٹلی اور وادی نیلم میں بھی بارش اور پہاڑی علاقوں میں برف باری کا امکان ہے بلوچستان کے کوئٹہ، ژوب، زیارت، قلعہ سیف اللہ، پشین، بارکھان اور کوہلو میں بھی آندھی، تیز ہواؤں اور بارش کی صورتحال متوقع ہے۔

    این ڈی ایم اے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور ژالہ باری سے کمزور عمارتوں، درختوں، فصلوں اور بجلی کے نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے،بارش کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہو سکتی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے پہاڑی علاقوں میں برف باری کے باعث سفر مزید مشکل ہو سکتا ہےپہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، لہٰذا شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، احتیاط سے ڈرائیونگ کریں اور موسمی صورتحال سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔

  • یکم ذیقعد 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی

    یکم ذیقعد 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی

    مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذیقعد کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    چاند دیکھنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے کی،مولانا عبدالخبیر آزاد نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں، جس کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ذیقعد کا چاند نظر آچکا ہے۔ یکم ذیقعد 1447 ہجری کل، یعنی 19 اپریل بروز اتوار کو ہوگی اس موقع پر ملکی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔

    اس سے قبل پاکستان کے قومی خلائی ادارے ‘سپارکو’ نے ماہِ ذوالقعد 1447 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیش گوئی کی تھی اسپارکو نے بتایا تھا کہ پاکستان میں ذوالقعد کا چاند 18 اپریل کی شام ملک بھر میں نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔

  • آبنائے ہرمز  بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    آبنائے ہرمز بھارتی پرچم بردار جہازوں کے لئے بند کر دی گئی

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھارتی پرچم بردار دو جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کرنے سے روک دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ایرانی گن بوٹس نے بھارتی جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا بھارت نے اس واقعے پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایرانی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بھارتی بحری جہازوں کو روکا اور ان پر فائرنگ کی، جس کی وجہ سے انہیں واپس لوٹنا پڑا۔

    بھارت نے ان واقعات پر نئی دہلی میں ایران کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے بھارتی سیکریٹری خارجہ نے ایران سے بھارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اقدامات درخواست کی، جس پرایرانی سفیر نے بھارت کے تحفظات ایرانی حکومت تک پہنچانے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

    بین الاقوامی شپنگ ڈیٹا اور ٹینکر ٹریکنگ سروس کے مطابق بھارت جانے والے دو جہاز ’جگ ارنَو‘ اور ’سنمار ہیرالڈ‘ آبنائے ہرمز کے شمال میں عمان کے قریب پہنچنے کے بعد واپس پلٹ گئے سنمار ہیرالڈ ایک سُپر ٹینکر ہے جس پر 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لدا ہوا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں بحری جہازوں پر موجود عملہ محفوظ ہے، تاہم حملے کی نوعیت اور تفصیلات تاحال واضح نہیں ہوسکی ہیں۔

    واضح رہے کہ ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ نے ہفتے کی صبح امریکی بحری ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کی تھی ایرانی بحریہ کی جانب سے بعض جہازوں کو ریڈیو پیغام بھی بھیجا گیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش سے آگاہ کرتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا اور اس گزرگاہ کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

    ہفتے کے روز ایرانی افواج کے مشترکہ کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ نے جاری بیان میں کہا کہ ایران نے ماضی میں معاہدوں اور نیک نیتی پر مبنی مذاکرات کے بعد محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے ناکہ بندی کے بہانے سمندری قزاقی جاری رکھی ہوئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدامات کے باعث اب صورتِ حال دوبارہ پہلے جیسی ہو گئی ہے اور آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں ہے۔

    ایرانی حکام نے واضح کیا کہ جب تک امریکا ایران سے آنے اور جانے والے جہازوں کی مکمل آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی نہیں بناتا اس اہم عالمی گزرگاہ پر سخت کنٹرول برقرار رکھا جائے گا ایران کے اس سخت مؤقف نے خطے میں جاری تنازعے کے حوالے سے نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب واشنگٹن دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی میں توسیع پر غور کر رہا ہے۔

  • جیٹ فیول کی قیمت میں کمی

    جیٹ فیول کی قیمت میں کمی

    حکومت نے کمرشل پروازوں کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن ’جیٹ فیول ون‘ کی قیمت میں 23 روپے فی لیٹر کی مزید کمی کردی ہے۔

    تازہ ترین کمی کے بعد ہوائی جہازوں کے ایندھن کی نئی قیمت 471 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے،رواں ہفتے کے دوران یہ قیمتوں میں دوسری بڑی کمی ہے، جس کے بعد محض سات دنوں میں جیٹ فیول مجموعی طور پر 46 روپے فی لیٹر سستا ہوچکا ہے،توقع کی جارہی ہے کہ ایندھن سستا ہونے کے بعد ایئر لائنز کی جانب سے ہوائی کرایوں میں بھی کمی کر کے مسافروں کو ریلیف دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم اب جنگ بندی اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرنے کے بعد حکومت نے ایئر لائنز کو ریلیف فراہم کرنا شروع کردیا ہے۔

  • پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےیو اے ای کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا

    پاکستان نےمتحدہ عرب امارات کو2 ارب ڈالر کا قرض واپس کردیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر ادائیگی کی تصدیق کردی ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کو 23 اپریل کو یو اے ای کو مزید ڈیڑھ ڈالر ادا کرنے ہیں، یو اے ای کو مکمل ادائیگی کے باوجود ملکی زرمبادلہ ذخائر پر فرق نہیں پڑے گا، بیرونی ادائیگی کا انتظام موجود ہے۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے پاکستان میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ رول اوور کردیے جس کے لیے اسٹیٹ بینک اور سعودی فنڈ برائے ترقی میں باقاعدہ معاہدہ طے پاگیا اور دستخط بھی ہوگئے ۔

    واشنگٹن میں منعقد تقریب کے دوران سعودی فنڈ کے سی ای او سلطان بن عبدالرحمان اور اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے دستخط کیے،وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اہم مالی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر بھی موجود تھے-

    یہ تقریب عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر منعقد ہوئی،جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ معاہدہ سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے درمیان طے پایا جس کے تحت اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے 3 ارب ڈالر کے سعودی ڈپازٹ کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔