Baaghi TV

Blog

  • پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات، امریکا کا بھارت پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے، عالمی جریدہ

    پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات، امریکا کا بھارت پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے، عالمی جریدہ

    بین الاقوامی جریدے ایشیا ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے بعد امریکا کے لیے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

    ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران اہم سفارتی کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی حیثیت اختیار کی، اس کے برعکس انڈیا کی سفارت کاری کو اس معاملے میں غیر فعال اور خاموش قرار دیا گیا، بھارتی وزیراعظم مودی نے امریکی صدر ٹرمپ سے زیادہ تر بات چیت تیل اور سپلائی کے نظام تک محدود رکھی، جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور جنگ بندی کی کوششوں میں مصروف رہا۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان مسلسل سفارتی رابطوں میں سرگرم رہا، پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے رابطے رکھ کر مذاکرات کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا،عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ان کوششوں کو سراہا گیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو مثبت قرار دیا ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کئی بار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہا۔

    دوسری جانب بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں اور میڈیا کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کو تنقید کا سامنا ہے جہاں ان کی خارجہ پالیسی کو موجودہ صورتحال میں غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔

  • روائی سال ابتدائی چار مہینوں میں چار بڑے فضائی حادثات،بھارتی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھ گئے

    روائی سال ابتدائی چار مہینوں میں چار بڑے فضائی حادثات،بھارتی فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھ گئے

    اپریل 2026 تک کے دستیاب اعداد و شمار اور رپورٹس کے مطابق، ہندوستانی فضائیہ (IAF) کو 2026 کے ابتدائی چار مہینوں میں چار بڑے فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    جنوری 2026 سے اپریل 2026 کے وسط تک، مائیکرولائٹ ٹرینر، تیجس فائٹر، اور ایس یو-30 ایم کے آئی (Su-30MKI) سمیت چار طیارے حادثات یا ہنگامی صورتحال کا شکار ہوئے بھارتی فضائیہ کے فائٹر سکواڈرن کی تعداد 42 کی مجاز (Authorized) تعداد کے مقابلے میں کم ہو کر 29 (یا بعض رپورٹوں کے مطابق 27) تک گر گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے نچلی سطح ہے۔

    پرانے طیاروں (جیسے MiG-21) کی ریٹائرمنٹ اور نئے طیاروں کی خریداری میں تاخیر کے باعث، فضائیہ کو سکواڈرن کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس سے اس کی دفاعی صلاحیت (خاص طور پر چین اور پاکستان کے دو محاذوں کے تناظر میں) کمزور ہو رہی ہے۔

    جنوری میں تربیتی پرواز کے دوران مائیکرولائٹ طیارہ کریش ہوا،فروری میں ایچ اے ایل تیجس (HAL Tejas) طیارے کو لینڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا، جس کے بعد پورے تیجس بیڑے کو گراؤنڈ کر دیا گیا، مارچ میں آسام میں ایک ایس یو-30 ایم کے آئی (Su-30MKI) حادثے کا شکار ہوا،اپریل میں پونے ایئرپورٹ پر ایس یو-30 ایم کے آئی کا ایک اور واقعہ، جس نے رن وے بلاک کر دیا۔

    یہ حادثات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب فضائیہ پہلے ہی آپریشنل دباؤ اور بحالی (maintenance) کے چیلنجز سے دوچار ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ہندوستان کی فضائیہ کی لڑاکا صلاحیتوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

  • اسلام آباد سے روٹ ٹو مکہ کی پہلی حج پرواز مدینہ منورہ روانہ

    اسلام آباد سے روٹ ٹو مکہ کی پہلی حج پرواز مدینہ منورہ روانہ

    اسلام آباد سے روٹ ٹو مکہ کی پہلی حج پرواز 270 عازمین کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوگئی،اسلام آباد سے روانہ ہونے والے پاکستانی عازمین حج نے حکومت پاکستان کی کاوشوں پر شکریہ ادا کیا۔

    سعودی ایئرلائن کی پرواز ایس وی 5723 دن 11 بجے روانہ ہوئی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سعودی ڈپٹی ہیڈ مشن محمد ال علی اور جوائنٹ سیکرٹر ی حج محمد بخش سانگی نے عازمین حج کو رخصت کیا سردار محمد یوسف نے بہترین سہولیات کی فراہمی و تعاون پر خادم حرمین شریفین، ولی عہد محمد بن سلمان، سعودی وزیر حج عمرہ ڈاکٹر توفیق بن ربیعہ اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا –

    وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج 2026 کی پہلی حج پرواز ہے، عازمین کو سرزمین حجاز روانہ کر دیا گیا، ہر حاجی کے لیے یہ لمحہ زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک ہےانہوں نے سعودی وژن 2030 اور وزیر حج ڈاکٹر توفیق الربیعہ کی کاوشوں کا اعتراف کیا۔

    سردار یوسف نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مثالی تعاون سے حج انتظامات مکمل کیے گئے، حکومت پاکستان کی اولین ترجیح عازمین کو سہولت اور باوقار سفر کی فراہمی ہےانہوں نے روڈ ٹو مکہ منصوبے کو عازمین کے لیے انقلابی سہولت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر سعودی امیگریشن اور سفری مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں، اس سہولت سے عازمین براہ راست اپنی رہائش گاہوں تک پہنچ سکیں گے۔

    سردار یوسف نے بتایا کہ اسلام آباد سے 36 ہزار اور کراچی سے 29ہزار 800 عازمین مستفید ہوں گے جبکہ پہلی بار لاہور سے بھی 30 ہزار عازمین روڈ ٹو مکہ سہولت حاصل کریں گے، مجموعی طور پر 95ہزار 800 پاکستانی عازمین اس جدید سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے، کل عازمین کا 80 فیصد روڈ ٹو مکہ منصوبے سے مستفید ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر حج انتظامات مزید بہتر بنائے گئے، ہر 188 عازمین کے ساتھ تربیت یافتہ ناظم مقرر کیا گیا منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں عازمین کی مکمل رہنمائی یقینی بنائی جائے گی جبکہ ہر حاجی کو سعودی عرب پہنچتے ہی مفت سعودی سم فراہم کی جائے گی۔ لانگ حج کے لیے 40 جی بی انٹرنیٹ سہولت دی جائے گی۔

    وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ 24 ہزار حجاج کو ہائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی، مکہ اور مدینہ کے درمیان جدید ٹرین سروس کا آغاز کیا گیا ہے اس سال 1 لاکھ 19 ہزار سرکاری حجاج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، تمام سرکاری حجاج کو مدینہ میں مرکزیہ کے قریب رہائش دی جا ئے گی، حج صرف عبادت نہیں بلکہ روحانی تربیت کا ذریعہ ہے۔

    سردار یوسف نے حجاج کرام کو صبر اور نظم و ضبط کے ساتھ حج مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سعودی قوانین کی پابندی ہر حاجی پر لازم قرار دے، انہو ں نےخدام الحجاج کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید بھی کی حجاج پاکستان کے سفیر ہیں، مثبت کردار ادا کریں انہوں نے سعودی قیادت کا حجاج کی خد مت پر خصوصی شکریہ ادا جبکہ شاہ سلمان کی سرپرستی میں حجاج کی خدمت کو سراہا گیا۔

  • 66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    66 سال قبل لاپتہ ہونے والے خاندان کا معمہ حل

    امریکا میں 66 سال قبل پر اسرار طور پر لاپتہ ہونے والے ایک خاندان کا معمہ آخر کار چھ دہائیوں کے بعد حل ہو گیا ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست اوریگون کے دریائے کولمبیا کے قریب پیش آیا، جہاں دسمبر 1958 میں کینتھ مارٹن، ان کی اہلیہ باربرا اور تین بیٹیاں کرسمس کی سجاوٹ کے لیے ہریالی جمع کرنے نکلے اور پھر کبھی واپس نہ آئے اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا کئی دہائیوں تک اسے ریاست کے سب سے بڑے حل طلب کیسز میں سے ایک سمجھا جاتا رہا۔

    گمشدگی کے چند ماہ بعد ہی طویل تلاش کے بعد دو بیٹیوں، ورجینیا اور سوزن کی لاشیں دریا سے مل گئی تھیں، لیکن والدین اور بڑی بیٹی کا کچھ پتا نہ چل سکا، جس کی وجہ سے یہ کیس کئی دہائیوں تک ایک راز بنا رہااس کیس میں فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب 2024 میں ایک غوطہ خور آرچر میو نے دریائے کولمبیا کی تہہ میں ایک پرانی گاڑی دریافت کی یہ 1954 کا ’فورڈ اسٹیشن ویگن‘ ماڈل تھا جو ریت اور مٹی میں دھنسا ہوا تھا تحقیقات کے بعد تصدیق ہوئی کہ یہ گاڑ ی مارٹن خاندان ہی کی تھی۔

    غوطہ خور آرچر میو کے مطابق میر ے خیال میں گاڑی موڑتے وقت کسی رکاوٹ میں پھنس گئی ہوگی اور ریورس کرتے وقت اچانک بے قابو ہو کر دریا میں جا گری،بعد ازاں 2025 میں گاڑی کے ملبے کے قریب سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک لیب بھیجا گیا، جدید ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے اب یہ تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ باقیات کینتھ، باربرا اور ان کی بڑی بیٹی باربی کی ہیں، یوں خاندان کے تمام افراد کا سراغ مل گیا۔

    جینیٹکس لیب کی چیف ڈویلپمنٹ آفیسر کرسٹن مٹل مین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کو وہ سکون اور جواب مل گیا ہے جس کا وہ دہائیوں سے انتظار کر رہے تھےہڈ ریور کاؤنٹی شیرف آفس نے تمام شواہد کی بنیاد پر اس کیس کو باقاعدہ بند کر دیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک افسوسناک حادثہ تھا، جس میں گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی تھی۔

  • ایرانی حملے کی زد میں آنے والے بھارتی بحری جہاز کے کپتان کی آڈیو وائرل

    ایرانی حملے کی زد میں آنے والے بھارتی بحری جہاز کے کپتان کی آڈیو وائرل

    خلیج عمان کے شمال میں ایرانی بحریہ کی جانب سے دو بھارتی بحری جہازوں پر براہِ راست فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک آڈیو ریکارڈنگ سامنے آئی ہے-

    آڈیو میں جہاز کے کپتان کو پاسدارانِ انقلاب کی نیوی سے حملہ روکنے اور جہاز واپس موڑنے کی اجازت کے لیے منتیں کرتے سُنا جاسکتا ہے، مبینہ آڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارتی خام تیل بردار جہاز ’سنمار ہیرالڈ‘ سے موصول ہوئی ہے اس آڈیو میں جہاز پر موجود ایک اہلکار کو ایرانی بحریہ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ آپ نے ہمیں خود گزرنے کی اجازت دی تھی، میرا نام آپ کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، لیکن اب آپ ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہمیں واپس مڑنے دیں۔

    بھارتی جہاز سنمار ہیرالڈ عراق سے تقریباً بیس لاکھ بیرل خام تیل لے کر بھارت جا رہا تھا، جبکہ دوسرا جہاز ’جگ آرنَو‘ سعودی عرب سے بھارت کی جانب گامزن تھا،بھارتی بحری جہازوں پر حملوں کی خبر کے بعدبھارت کی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی کو طلب کیا اور اس واقعے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    بھارتی دفترِ خارجہ نے ایرانی سفیر پر زور دیا کہ وہ بھارت کے تحفظات سے تہران کے حکام کو فوری آگاہ کریں اور بھارت جانے والے جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے عمل کو دوبارہ سہل بنائیں۔

    آبنائے ہرمز اس وقت عالمی سیاست اور جنگی صورتحال کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں سے دنیا کی کل ضرورت کا بیس فیصد خام تیل گزرتا ہےیہ بحران 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔

    ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی بہت سے بنیادی نکات پر بڑے اختلافات موجود ہیں اور ہم حتمی معاہدے سے ابھی کافی دور ہیں۔

  • جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    جنگ دوبارہ ہوئی تو عالمی جنگ بن جائے گی،ایران کی وارننگ

    ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی گئی تو یہ ایک بڑی عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل محمد رضا نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت ایران کی میزائل بنانے کی صلاحیت کو ختم نہیں کر سکتا،ا یران اپنی دفاعی طاقت کو مزید مضبوط کر رہا ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، اگر ایران پر مسلط جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو اس بار رد عمل زیادہ شدید ہوگا اور حالیہ مہینے میں تیار کیے گئے جدید میزائلوں کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔

    امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔ دونوں فریقین کے درمیان تقریباً 40 روز تک شدید کشیدگی اور جھڑپیں جاری رہیں بعد ازاں پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ ہوئے۔ اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے، جنہیں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

  • اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    اسلام آباد میں ہزاروں اہلکار تعینات، راولپنڈی بند

    ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق غیرملکی وفود کی آمد کے باعث غیرمعمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے ایک طرف اسلام آباد میں سخت حفاظتی حصار قائم کیا گیا ہے تو دوسر ی جانب راولپنڈی میں کاروباری سرگرمیاں تاحکمِ ثانی معطل کر دی گئی ہیں اسلام آباد میں آنے والے معزز مہمانوں کو سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا جائے گا، جہاں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس افسران کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ تمام اہلکاروں کو اینٹی رائٹ کٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    سیکیورٹی کے لیے مجموعی طور پر 18 ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 7 ہزار نفری پنجاب سے اسلام آباد پہنچ چکی ہے اسلام آباد کے ساتھ پاکستان رینجرز اور فرنٹئیر فورس بھی ڈیوٹی انجام دیں گے، جبکہ پاکستان آرمی اسلام آباد پولیس کے ساتھ مشترکہ ناکوں پر تعینات ہوگی ائیرپورٹ سے سرینا ہوٹل تک اہم عمارتوں پر رینجرز کے سنائپرز تعینات کیے جائیں گے اور روٹ کے اطراف گرین بیلٹس اور سروس روڈز کو مکمل طور پر کلیئر رکھا جائے گا۔

    سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے لیے پنجاب پولیس کو وائرلیس سیٹس بھی فراہم کر دیے گئے ہیں، جبکہ روٹ پر بغیر سروس کارڈ کے کسی اہلکار کو داخلے کی اجاز ت نہیں ہوگی سرینا ہوٹل کے اطراف پولیس اور آرمی کی مشترکہ 24 چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اسپیشل برانچ کی جانب سے بھی انٹیلیجنس معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور شہر بھر خصوصاً روٹ ایریا میں سڑکوں کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے۔

    دوسری جانب راولپنڈی میں بھی غیرملکی وفود کی آمد کے باعث سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق تمام بازار، شاپنگ مالز، ہوٹلز، کاروباری مراکز اور پارکس آج رات 12 بجے سے تاحکمِ ثانی بند رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    تعلیمی اداروں میں بھی احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی سمیت تمام بوائز اور گرلز ہاسٹلز بند کر دیے گئے ہیں اور طلبہ کو گھروں کو واپس جانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

    اس سے قبل سٹی پولیس آفیسر خالد حمدانی کی زیر صدارت اجلاس میں سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ راولپنڈی میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی سخت نگرانی جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • امریکی  کار ساز کمپنیاں بھی  اب ہتھیار بنائیں گی

    امریکی کار ساز کمپنیاں بھی اب ہتھیار بنائیں گی

    امریکا میں ایران اور یوکرین سے جاری جنگی صورتحال کے باعث اسلحہ ذخائر پر بڑھتے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بڑی کار ساز کمپنیوں سے مدد طلب کر لی ہے۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے معروف کمپنیوں جنرل موٹرز اور فورڈ سمیت دیگر مینوفیکچررز کے اعلیٰ عہدیداروں سے اہم ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں میں کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ اسلحہ سازی کے شعبے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں ٹرمپ انتظامیہ کا منصوبہ ہے کہ کار ساز کمپنیوں اور دیگر صنعتی اداروں کی پیداواری صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔

    اس حکمت عملی کو ماضی کی مثالوں، خصوصاً جنگ عظیم دوم کے دوران اپنائے گئے ماڈل سے جوڑا جا رہا ہے، جب امریکی صنعتوں نے گاڑیوں کی بجائے جنگی سازوسامان تیار کیا تھا پینٹاگون چاہتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی فیکٹریوں، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ کی پیداوار بڑھائیں، کیونکہ موجودہ جنگوں کے باعث امریکی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ایران کے ساتھ کشیدگی سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی، تاہم حالیہ جنگی حالات نے اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا جدید ترین اسلحہ کی تیاری کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے پُرعزم ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو امریکی دفاعی صنعت میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے اور نجی شعبہ مزید فعال کردار ادا کرے گا۔

  • شمالی کوریا کا متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    شمالی کوریا کا متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    شمالی کوریا نے ایک بار اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں-

    جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق میزائلوں کو اتوار کی صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر مشرقی ساحلی شہر سینپو کے قریب سے فائر کیا گیا، جو بعد ازاں کوریا کے مشرقی سمندر کی جانب گرے جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے صورتحال کے پیش نظر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور امریکا اور جاپان کے ساتھ مسلسل معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔

    جاپانی حکومت نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں گرے، تاہم جاپان کے خصوصی اقتصادی زون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات پر پابندی عائد ہے، تاہم پیانگ یانگ ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے، حالیہ مہینوں میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی جوہری ریاست کی حیثیت ناقابلِ واپسی ہے اور قومی سلامتی کے لیے جوہری ڈیٹرنس کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، اور ممکنہ طور پر ایک نیا یورینیم افزودگی پلانٹ بھی فعال ہو چکا ہے۔ یہ میزائل تجربات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور چین کے درمیان آئندہ ماہ ایک اہم سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے، جس میں شمالی کوریا کی صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

  • نواز شریف اور مریم نواز کی زیر صدارت مری میں اہم اجلاس

    نواز شریف اور مریم نواز کی زیر صدارت مری میں اہم اجلاس

    کوٹلی ستیاں میں پنجاب کے پہلے اسکائی گلاس برج منصوبے کی اصولی منظوری دیدی گئی-

    قائد مسلم لیگ ن محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت گورنمنٹ ہاؤس مری میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مری اور کوٹلی ستیاں کی بحالی، ترقی اور سیاحت کے فروغ سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے اجلاس میں کوٹلی ستیاں میں پنجاب کے پہلے اسکائی گلاس برج منصوبے کی اصولی منظوری دی گئی حکومت کے مطابق یہ منصوبہ سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے مسائل پر بھی غور کیا اور اس کے سدباب کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، چٹا موڑ، دریا گلی، بانسرہ گلی، نمل جھیکا گلی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امدادی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت دی گئی-

    اجلاس میں مری کے نواحی علاقوں شوالا، سوزو اور برروری میں تین نئے ہاسپٹیلٹی زون قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جہاں نجی شعبے کے تعاون سے فائیو اسٹار معیار کے ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے اس کے علاوہ مری گلاس ٹرین منصوبے پر تعمیراتی کام ایک ماہ میں شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا، جبکہ مر ی ریچ بل روڈ اور دیگر سڑکوں کی دس فٹ توسیع کا بھی فیصلہ ہوا۔

    اجلاس میں انگوری روڈ پارک، ایم آئی ٹی پارک اور اریاڑی پارک سمیت تین نئے پارکس کے قیام کا جائزہ لیا گیا، بانسرہ گلی میں زولوجیکل گارڈن، ایکو زون، برج کراسنگ اور جدید کانفرنس روم قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی،چیوڑا ہل پر مری کے پہلے جدید گلیمپنگ پوڈ ولیج کے قیام اور اس کے انتظامات نجی شعبے کے سپرد کرنے کی منظوری بھی دی، جبکہ پیراگلائیڈنگ کلب منصوبہ بھی منظور کر لیا گیا۔

    اجلاس میں دریائے جہلم سے بلک واٹر سپلائی اسکیم کی فزیبلٹی رپورٹ 30 اپریل تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ مری اور کوٹلی ستیاں میں 1876 گھروں میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم کی کامیاب تنصیب پر بریفنگ بھی دی گئی۔