Baaghi TV

Blog

  • سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    خطہ کے امن میں پاکستان کا کلیدی کردار، سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف ہیں

    مودی کی اسرائیل نواز جارحانہ پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر عدم اعتماد اور انتہا پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ،بھارت کے سابق فوجی افسر بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے گُن گانے لگے ،بھارتی میجر جنرل (ر) یشپال مور کے مطابق؛پاکستان کے ثالثی کے کردار میں فیلڈ مارشل کی قیادت اور صلاحیت نے اہم کردار ادا کیا،پاکستان نے حالیہ جنگ کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار مؤقف قائم رکھتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد جیتا، پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی شدید مذمت کی، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر نے لبنان حملے پر بھی بھرپور انداز میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی،بہترین اور متوازن حکمت عملی پاکستان کو سعودی عرب اور چین کیساتھ بھی بہترین تعلقات میں مدد فراہم کر رہی ہے،

    عالمی ماہرین کے مطابق گودی میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے باوجود سابق بھارتی فوجی افسر نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کیا،بھارت کے فوجی افسران کی پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کا اعتراف مودی کے خود ساختہ دعوؤں پر طمانچہ ہے

  • فضا علی کی شوہر کے ساتھ لائیو شو میں عجیب و غریب حرکتیں،حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

    فضا علی کی شوہر کے ساتھ لائیو شو میں عجیب و غریب حرکتیں،حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

    معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ فضا علی کی لائیو شو کے دوران شوہر کے ساتھ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین کیجانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لائیو شو کے دوران فضا علی کے شوہر انہیں کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اس منظر کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ براہِ راست نشریات میں اس نوعیت کا عمل ضابطہ اخلاق کے منافی ہے متعدد صارفین نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور مناسب کارروائی کرے۔

    جہاں صارفین نے وائرل ویڈیو پر فضا علی کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں رہنما مسلم لیگ ن حنا پرویز بٹ نے بھی شدید ردعمل دیا ہے،ایکس پر حنا پرویز بٹ نے فضا علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹی وی پر ایک خاتون اینکر اور ان کے شوہر نے اپنی بیٹی کے سامنے جس طرز عمل اور چھچھور پن کا اظہار کیا وہ افسوسناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسا طرزِ عمل نابالغ بچوں کے سامنے گھر میں دہرانا بھی غیر اخلاقی ہے کجا کہ اسے کروڑوں ناظرین کے سامنے ٹی وی پر دکھایا جائے، بڑوں کو اچھے اخلاق اور وضع داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بچے اور نوجوان نسل کچھ بہتر سیکھ سکیں،غیر اخلاقی، بچکانہ اور چھچھوری حرکتوں سے ینگسٹرز کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ آج کل کی نوجوان نسل اخلاقی گراوٹ کی شکار کیوں ہو رہی ہے۔

    صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ پیمرا کو آشا جی کے انتقال پر جیو ٹی وی کی طرف سے آن ائر کیے پیکج پر اتنا دکھ اور افسوس ہوا ہے کہ نوٹس لے کر بلا لیا ہے کہ اتنی جرات ہماری سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ باقی ہمارے ملک میں مارننگ شوز جو کمال کرتے رہیں ان پر انہیں نہ اعتراض ہے کوئی ایشو۔ یہ سب اپنے جو ہوئے-

  • ایران  امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےفاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہےرپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے ا مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔

  • روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ وہ پوپ لیو کی جانب سے بے خوفی سے اپنے موقف پر قائم رہنے کے عمل کی تکریم کرتے ہیں،پوپ کی جا نب سے ادا کیے گئے یہ الفاظ کہ مجھے خوف نہیں، اسرائیل اور امریکا کے جنگی جرائم کی مذمت کے ساتھ یہ الفاظ گونج رہے ہیں پوپ لیو کا ’مجھے خوف نہیں‘ کہنا ایسا نعرہ ہے جو اس راستے کو روشن کرتا ہے جو بے گناہوں کے قتل عام پر خاموش رہنے سے انکار کرنیوالوں کا رستہ ہےپوپ کی قیادت کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے، یہ روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں۔

    واضح رہے کہ پوپ لیو نے ایران امریکا جنگ بندی کی اپیل کی تھی جس کےبعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران جنگ سے متعلق پوپ لیو کے بیان پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

    اُنہوں نے لکھا ہے کہ پوپ لیو جرم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں خوفناک ہیں مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سمجھتا ہو کہ ایران کا جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے یا جو امریکا کے وینزویلا پر حملہ کرنے کو خوفناک عمل سمجھے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔

    پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کے باوجود جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گےمیں کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، تاہم جنگ کے خلاف کھل کر بولتا رہوں گا مسائل کے منصفانہ حل کے لیے امن، مکالمے اور ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ضروری ہے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ تکلیف میں ہیں اور بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ مسائل کا بہتر حل بھی ممکن ہےپوپ لیو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔

  • شدید ترین اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ ،لوگوں کی چیخیں

    شدید ترین اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ ،لوگوں کی چیخیں

    قصور
    شیر میں شدید لوڈ شیڈنگ، گرمی اور مچھروں کی یلغار سے شہری پریشان

    قصور میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی مسلسل بندش نے راتوں کی نیند چھین لی ہے جبکہ مچھروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے

    شہریوں کے مطابق روزانہ کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھروں میں پنکھے اور دیگر برقی آلات بند رہتے ہیں شدید گرمی کے دوران یہ صورتحال خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور مریضوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے

    دوسری جانب بارشوں اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے جس سے ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مچھروں کے باعث سونا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ اسپرے اور صفائی کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں

    شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں فوری کمی کی جائے، بجلی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور مچھروں کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اسپرے مہم شروع کی جائے

    حالات یہی رہے تو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے

  • چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چین کے شہر شینزین کے ایک صنعتی پارک میں لگی آگ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے پارکنگ گیراج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    منگل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کمپنی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس حصے میں لگی جہاں ٹیسٹ کی جانے والی اور ناکارہ قرار دی گئی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پارکنگ لاٹ کے بڑے حصے سے آگ کے بلند شعلے نکل رہے ہیں اور سیاہ دھو ئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں، واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کاررو ائیوں کا آغاز کر دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یعنی الیکٹرک گاڑیوں میں لگنے والی آگ عام پیٹرول یا ڈیزل انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے الیکٹرک گاڑیوں کی آگ نہ صرف زیادہ دیر تک لگی رہتی ہے بلکہ اسے بجھانا بھی ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں موجود بیٹریوں کی وجہ سے آگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔

    اس حادثے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں بی وائی ڈی کے حصص کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کے شیئرز صفر اعشاریہ چھ فیصد تک گر گئے،مقامی فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور فی الحال آگ لگنے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،بی وائی ڈی کا عالمی ہیڈ کوارٹر بھی شینزین کے اسی پنگشن نامی ضلع میں واقع ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

  • سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    سمندری کیبل کی مرمت، کتنے دن انٹرنیٹ سروس متاثر رہے گی؟

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی ایک زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    پی ٹی سی ایل نے ایکس پر جاری پیغام میں بتایا کہ مرمت کے اس عمل کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو شام کے اوقات میں سروس کی سست رفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیبل کی مرمت کا کام 14 اپریل سے شروع ہو کر 20 اپریل تک جاری رہے گا۔

    یہ سرکاری ٹیلی کام کمپنی تین زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کا انتظام کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں ملک میں کام کرنے والے تمام چھ سب میرین کیبل سسٹمز، جن میں پی ٹی سی ایل کے تین، ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے دو اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل شامل ہے، کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ ہے، جبکہ اس وقت ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال تقریباً 7 سے 8 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

  • پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان کی ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش

    پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیشکش کر دی۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی نے دو پاکستانی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے سیز فائرکی مدت ختم ہونے سے پہلے مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کرنے کی تجویز دی ہے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعرات کو ہو سکتا ہے جبکہ امریکی عہدیدار نے بھی توقع ظاہر کی ہےکہ فریقین معاہدے کےلیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات اب بھی جاری ہیں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے اسلام آباد میں دوبارہ دونوں فریقین کو میز پر بٹھایا جائے اگرچہ پہلے دور میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، لیکن پسِ پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس بار معاملات کسی منطقی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

    امریکی ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات کے اس عمل میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کے دوران کئی اہم مسائل حل کے قریب پہنچ چکے تھے اور ایک مشترکہ فریم ورک کا اعلان بھی ہونے والا تھا، مگر پھر اچانک امریکی وفد نے وہاں سے رخصتی کا فیصلہ کر لیا۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ہی نہیں چاہتے کہ دوبارہ جنگ شروع ہو، اسی لیے دونوں جانب سے اس ’خونی باب‘ کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی خواہش موجود ہے۔

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہی منعقد ہوں ان کے مطابق ایران چونکہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر کسی دوسرے ملک میں مذاکرات کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

    پاکستان کے سابق سفیر اور سینٹر فار انٹرنیشنل سٹریٹجک اسٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمبیسڈر علی سرور نقوی نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا دور کب اور کہاں ہوگا اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے ہ مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کو اپنی تحریری تجاویز دی ہیں جو ایک دوسرے نے وصول بھی کی ہیں۔

    علی سرور نقوی نے کہا کہ اگر فریقین مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوتے تو واک آؤٹ کر گئے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور مذاکرات کا شروع ہونا دونوں فریقین کے حق میں بہتر ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ مذاکرات آیا پاکستان میں ہوں گے یا کہیں اور تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ غالب اِمکان تو یہی ہے کہ وہ پاکستان میں ہی ہوں۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ ہو گیا تھا، جنیوا میں مذاکرات کا تجربہ بھی ایران کے لیے زیادہ اچھا نہیں لہٰذا اس کے بعد پاکستان ہی واحد آپشن بچتا ہے اور ایران کو پاکستان پر اعتماد بھی ہے جس کا اظہار ایرانی حکام کے بیانات سے بھی ہوتا ہے۔

    پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے پیر کو سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وضاحت کی کہ مذاکرات ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے اس عمل کے شروع ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    رضا امیر مقدم نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پروسیس کا نام ہے، اسلام آباد مذاکرات نے ایک ایسے سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی ہے جو اگر باہمی اعتماد اور مضبوط ارادے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے میں برادر اور دوست ملک پاکستان بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خیر سگالی کے جذبے اور مذاکرات کے انعقاد میں ان کے مثبت کردار پر شکرگزار ہوں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی کریں گے جبکہ محدود فضائی حملوں کے اعلانات کے باوجود امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران ان کی شرائط مان لے تو وہ دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے تک مذاکرات چلتے رہے تاہم مذاکرات کسی ڈیل پرپہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے۔

    اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی، ہم نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔

    دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے ایران منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جبکہ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ نئی لڑائی کو روکنا ضروری ہے، جنگ دوبارہ شروع نہیں ہونی چاہیے اس بحران کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور روس تصفیے میں مدد کےلیے تیار ہے۔

  • خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور دشمن کو خالی ہاتھ واپس جانا پڑے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مزاحمتی قوتیں پورے خطے میں فعال اور منظم ہیں اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں امریکا اور اسرائیل کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے کہ وہ یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے علاقوں میں مطلوبہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکے اس بار بھی دشمن کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور خطے میں موجود مزاحمتی قوتیں ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں گی۔

    دوسری جانب حالیہ پیش رفت میں امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی شروع کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا یا قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • فیکٹ چیک: ایران امریکا مذاکرات سے متعلق سوشل میڈیا دعوے غلط قرار

    فیکٹ چیک: ایران امریکا مذاکرات سے متعلق سوشل میڈیا دعوے غلط قرار

    سوشل میڈیا پر ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مبینہ مذاکرات سے متعلق گردش کرنے والے دعوے غلط اور گمراہ کن قرار دے دیے گئے ہیں۔ مختلف اکاؤنٹس، خاص طور پر ساؤتھ ایشیا انڈیکس ، آر ٹی اور دیگر پلیٹ فارمز کی جانب سے شیئر کی گئی معلومات کی حقیقت سامنے آنے کے بعد واضح ہوا ہے کہ ان میں کئی دعوے تصدیق شدہ نہیں تھے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق ایک وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں 80 فیصد معاملات طے پا گئے تھے اور جلد دوسرا دور بھی متوقع ہے۔ تاہم اس دعوے کی کوئی مستند سرکاری یا بین الاقوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح ایک اور پوسٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں مخصوص تاریخ کو ہوگا، جسے بعد میں فیک قرار دیا گیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ان خبروں میں استعمال ہونے والی معلومات یا تو غیر مصدقہ تھیں یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئیں۔ بعض پوسٹس میں نامعلوم ذرائع کا حوالہ دے کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی گئی، جبکہ کسی بھی ذمہ دار حکومتی ادارے یا معتبر میڈیا نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حساس عالمی صورتحال میں اس قسم کی غیر مصدقہ خبریں نہ صرف عوام کو گمراہ کرتی ہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی غلط فہمیاں پیدا کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر ایران اور امریکا جیسے اہم ممالک کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے اثرات زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔
    ‎حکام اور تجزیہ کاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر پر فوری یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے تصدیق کے بعد ہی کسی اطلاع کو آگے بڑھائیں۔
    ‎یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات کی درستگی کو جانچنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے، تاکہ غلط خبروں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔