Baaghi TV

Blog

  • اسلام آباد مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف

    اسلام آباد مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کیلئے سرینا ہوٹل کی فری خدمات کا انکشاف ہوا ہے۔

    سرینا ایم ڈی اور پرنس کریم آغا خان فاؤنڈیشن کے مطابق پرنس رحیم آغا خان نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے لیے خیر سگالی کے طور پر حکومت پاکستان کو مفت ہوٹل رہائش، کھانے پینے کی اشیاء اور تمام متعلقہ خدمات کی پیشکش کی۔

    سرینا ہوٹل کے ایم ڈی کے مطابق مرحوم پرنس کریم آغا خان کے بیٹے اور اسماعیلی جماعت کے موجودہ مذہبی پیشوا پرنس شاہ رحیم الحسینی جو کہ اسلام آباد میں قائم سرینا ہوٹل کے مالک ہیں، انہیں جب علم ہوا کہ پاکستان نے امریکہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں سرینا ہوٹل بک کیا ہے، تو انہوں نے حکومتِ پاکستان سے کہا کہ یہ ان کی طرف سے ایک نیک اور اچھا کام جو پاکستان کر رہا ہے اس کے لیے گفٹ ہے کہ ہم اس میزبانی پر پاکستان کی ریاست سے ایک پائی بھی چارج نہیں کریں گے، انہوں نے پاکستان کی گڈول پر خوش ہوکر پاکستانی عوام اور ریاست کو تحفہ دیا ہے۔

  • خاموش سفارتکاری، روشن ہوتی امیدیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خاموش سفارتکاری، روشن ہوتی امیدیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    تناؤ کے سائے میں اُبھرتی امن کی کرن
    آبنائے ہرمز سے امید کا سفر
    تجزیہ شہزاد قریشی
    آبنائے ہرمز، عالمی سیاست اور امن کی امید
    مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ حالات بظاہر کشیدہ ضرور ہیں، مگر پسِ پردہ ایک بڑی سفارتی حکمت عملی بھی جاری ہے۔ آبنائے ہرمز جو دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہ ہے، اس پر ایران کا کردار انتہائی حساس اور فیصلہ کن ہے۔
    ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند رکھا جائے تو نہ صرف عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہوگی بلکہ تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ عام آدمی کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائے گا۔ ایسی صورتحال میں دنیا کی وہ ہمدردی، جو کسی حد تک ایران کے ساتھ ہے، مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث اس کے خلاف بھی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران غالباً مکمل بندش کے بجائے دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ٹھنڈے دل سے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ، کسی نئی بڑی جنگ کے حق میں نظر نہیں آتے۔ امریکی پالیسی ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ دباؤ اور مذاکرات کو ساتھ ساتھ چلایا جائے، خصوصاً ایسے وقت میں جب داخلی سیاسی حالات اور انتخابات قریب ہوں۔ امریکہ بھی نہیں چاہتا کہ ایک نیا عالمی بحران جنم لے جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں۔

    اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سفارتی روابط اور مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پسِ پردہ سنجیدہ کوششیں جاری ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کے بجائے حل کی جانب بڑھ رہی ہیں۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حالات مکمل طور پر نارمل نہیں ہوئے، مگر ایک بڑی جنگ کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دنیا اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑی ہے جہاں دانشمندی، سفارتکاری اور تحمل ہی مسائل کا حل ہیں۔

    امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ کشیدگی مزید کم ہوگی اور صورتحال بتدریج بہتری کی جانب بڑھے گی، کیونکہ نہ ایران کسی عالمی معاشی بحران کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی امریکہ ایک نئی جنگ کا۔ یہی عوامل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاملہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے کی طرف جا رہا ہے

  • برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج

    برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج

    برطانوی پارلیمنٹ میں بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج،قوم کا سرفخر سے بلند ہو گیا

    امریکہ ایران جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا دنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے،خلیجی جنگ میں بہترین سفارتکاری سے پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار سفارتی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے ،برطانوی ایم پی محمد افضل نے پارلیمنٹ سے خطاب میں پاکستانی ثالثی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کرانے میں پاکستان قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے،تمام دنیا وزیراعظم پاکستان،وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی مخلصانہ کوششوں پرانکی شکرگزار ہے، برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمر نے ایم پی محمد افضل کے خطاب کی تائید میں امن کی کوششوں پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا

    عالمی ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں بے پناہ پیچیدگیوں کے باوجود پاکستان ایک انتہائی اہم ،مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے شاندار سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کو تباہ کن جنگ کے شعلوں سے بچایا

  • افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی

    افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت ہمسایہ ممالک سمیت خطے بھر کیلئے سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے،سابق اعلیٰ افغان عہدیدارطالبان رجیم کافتنہ الخوارج اوردیگر عالمی دہشت گردتنظیموں کیساتھ گٹھ جوڑ شواہد کے ساتھ سامنےلے آئے،افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے سابق مشیر احمد ضیاء سراج نے انکشاف کیا کہ طالبان رجیم کا فتنہ الخوارج سمیت دیگردہشت گردتنظیموں کے ساتھ قریبی تعاون ہے،اس گٹھ جوڑ میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں اور اسلحہ کی فراہمی سمیت خودکش حملہ آوروں کا تبادلہ بھی شامل ہے، طالبان رجیم میں عالمی دہشت گردتنظیمیں افغان سرزمین اور دیگرسہولیات کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہیں، افغان شہری طالبان رجیم اور عالمی دہشتگرد تنظیموں کے درمیان اس گھناونے تعلق کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں،

    عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ اپنے عوام کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہورہی ہے،افغان طالبان بیرونی آقاوں کی سرپرستی میں اپناناجائزتسلط قائم رکھنے کیلئے دہشتگرد تنظیموں کی سہولت کاری کر رہے ہیں

  • سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف

    خطہ کے امن میں پاکستان کا کلیدی کردار، سابق بھارتی فوجی افسر بھی پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے معترف ہیں

    مودی کی اسرائیل نواز جارحانہ پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر عدم اعتماد اور انتہا پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ،بھارت کے سابق فوجی افسر بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے گُن گانے لگے ،بھارتی میجر جنرل (ر) یشپال مور کے مطابق؛پاکستان کے ثالثی کے کردار میں فیلڈ مارشل کی قیادت اور صلاحیت نے اہم کردار ادا کیا،پاکستان نے حالیہ جنگ کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار مؤقف قائم رکھتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد جیتا، پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی شدید مذمت کی، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر نے لبنان حملے پر بھی بھرپور انداز میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی،بہترین اور متوازن حکمت عملی پاکستان کو سعودی عرب اور چین کیساتھ بھی بہترین تعلقات میں مدد فراہم کر رہی ہے،

    عالمی ماہرین کے مطابق گودی میڈیا کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے باوجود سابق بھارتی فوجی افسر نے پاکستان کی سیاسی اور عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کیا،بھارت کے فوجی افسران کی پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسی کا اعتراف مودی کے خود ساختہ دعوؤں پر طمانچہ ہے

  • فضا علی کی شوہر کے ساتھ لائیو شو میں عجیب و غریب حرکتیں،حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

    فضا علی کی شوہر کے ساتھ لائیو شو میں عجیب و غریب حرکتیں،حنا پرویز بٹ کا سخت ردعمل

    معروف ٹی وی میزبان اور اداکارہ فضا علی کی لائیو شو کے دوران شوہر کے ساتھ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس پر صارفین کیجانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لائیو شو کے دوران فضا علی کے شوہر انہیں کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں اس منظر کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس عمل کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ براہِ راست نشریات میں اس نوعیت کا عمل ضابطہ اخلاق کے منافی ہے متعدد صارفین نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور مناسب کارروائی کرے۔

    جہاں صارفین نے وائرل ویڈیو پر فضا علی کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں رہنما مسلم لیگ ن حنا پرویز بٹ نے بھی شدید ردعمل دیا ہے،ایکس پر حنا پرویز بٹ نے فضا علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹی وی پر ایک خاتون اینکر اور ان کے شوہر نے اپنی بیٹی کے سامنے جس طرز عمل اور چھچھور پن کا اظہار کیا وہ افسوسناک ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسا طرزِ عمل نابالغ بچوں کے سامنے گھر میں دہرانا بھی غیر اخلاقی ہے کجا کہ اسے کروڑوں ناظرین کے سامنے ٹی وی پر دکھایا جائے، بڑوں کو اچھے اخلاق اور وضع داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بچے اور نوجوان نسل کچھ بہتر سیکھ سکیں،غیر اخلاقی، بچکانہ اور چھچھوری حرکتوں سے ینگسٹرز کے ذہنوں پر برا اثر پڑتا ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ آج کل کی نوجوان نسل اخلاقی گراوٹ کی شکار کیوں ہو رہی ہے۔

    صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ پیمرا کو آشا جی کے انتقال پر جیو ٹی وی کی طرف سے آن ائر کیے پیکج پر اتنا دکھ اور افسوس ہوا ہے کہ نوٹس لے کر بلا لیا ہے کہ اتنی جرات ہماری سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ باقی ہمارے ملک میں مارننگ شوز جو کمال کرتے رہیں ان پر انہیں نہ اعتراض ہے کوئی ایشو۔ یہ سب اپنے جو ہوئے-

  • ایران  امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے،ٹرمپ

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج صبح انہیں ایران کی جانب سے درست اور مناسب لوگوں کی کال موصول ہوئی ہے، جو امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایرانی نمائندے اس ڈیل میں سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے آگے بڑھانا چاہتے ہیں ایران کی جانب سے رابطہ ایک مثبت اشارہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نےفاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے اور اس حوالے سے پیش رفت بھی ہوئی ہےرپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کو یورینیم افزودگی پر 20 سالہ پابندی (moratorium) کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں ایران نے پیر کے روز جوابی پیشکش کرتے ہوئے اس مدت کو 20 سال کے بجائے 5 سال کرنے کی بات کی، تاہم اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ مذاکراتی عمل جاری ہے، جس میں تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ عرصہ قبل تک صورتحال یہ تھی کہ امریکا کی جانب سے سخت مطالبات کیے جا رہے تھے جبکہ ایران ان مطالبات کو مکمل طور پر مسترد کر رہا تھا، تاہم اب حالات میں کچھ نرمی دکھائی دے رہی ہے ا مریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم ان کے مطابق کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب بھی فیصلہ کن قدم ایران کو ہی اٹھانا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انٹرویو میں کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے جوہری مواد کی منتقلی اور مستقبل میں یورینیم کی افزودگی روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پر امریکی مطالبات کے حوالے سے کچھ پیش رفت ہوئی ہے وہ ہماری سمت میں آئے ہیں، تاہم ان کے مطابق ایرانی مذاکرات کار غالباً کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے کیونکہ انہیں تہران میں دیگر حکام کی منظوری درکار تھی۔

    جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کو پسند کریں گے کہ ایران کو ایک عام ملک کی طرح برتا جائے اور اس کی معیشت بھی ایک نارمل اقتصادی نظام کے تحت کام کرے، تاہم انہوں نے اس بات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں اس معاملے پر ایک بڑا معاہدہ ممکن ہے، لیکن اس کے لیے اگلا قدم ایران کو اٹھانا ہوگا۔

  • روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں، قالیباف کا پوپ لیو کو خراج تحسین

    ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو خراج تحسین پیش کیا ہے-

    اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ وہ پوپ لیو کی جانب سے بے خوفی سے اپنے موقف پر قائم رہنے کے عمل کی تکریم کرتے ہیں،پوپ کی جا نب سے ادا کیے گئے یہ الفاظ کہ مجھے خوف نہیں، اسرائیل اور امریکا کے جنگی جرائم کی مذمت کے ساتھ یہ الفاظ گونج رہے ہیں پوپ لیو کا ’مجھے خوف نہیں‘ کہنا ایسا نعرہ ہے جو اس راستے کو روشن کرتا ہے جو بے گناہوں کے قتل عام پر خاموش رہنے سے انکار کرنیوالوں کا رستہ ہےپوپ کی قیادت کروڑوں افراد کو متاثر کرتی ہے، یہ روشنی دکھانے پر پوپ کا شکرگزار ہوں۔

    واضح رہے کہ پوپ لیو نے ایران امریکا جنگ بندی کی اپیل کی تھی جس کےبعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران جنگ سے متعلق پوپ لیو کے بیان پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

    اُنہوں نے لکھا ہے کہ پوپ لیو جرم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے معاملے میں خوفناک ہیں مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیے جو یہ سمجھتا ہو کہ ایران کا جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے یا جو امریکا کے وینزویلا پر حملہ کرنے کو خوفناک عمل سمجھے، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔

    پوپ لیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کے باوجود جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گےمیں کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، تاہم جنگ کے خلاف کھل کر بولتا رہوں گا مسائل کے منصفانہ حل کے لیے امن، مکالمے اور ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو فروغ دینا ضروری ہے دنیا بھر میں بڑی تعداد میں لوگ تکلیف میں ہیں اور بے گناہ افراد مارے جا رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ کوئی کھڑا ہو کر یہ کہے کہ مسائل کا بہتر حل بھی ممکن ہےپوپ لیو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی سطح پر امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھوں گا۔

  • شدید ترین اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ ،لوگوں کی چیخیں

    شدید ترین اور طویل ترین لوڈ شیڈنگ ،لوگوں کی چیخیں

    قصور
    شیر میں شدید لوڈ شیڈنگ، گرمی اور مچھروں کی یلغار سے شہری پریشان

    قصور میں بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ بجلی کی مسلسل بندش نے راتوں کی نیند چھین لی ہے جبکہ مچھروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے

    شہریوں کے مطابق روزانہ کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھروں میں پنکھے اور دیگر برقی آلات بند رہتے ہیں شدید گرمی کے دوران یہ صورتحال خاص طور پر بزرگوں، بچوں اور مریضوں کے لیے تکلیف دہ ثابت ہو رہی ہے

    دوسری جانب بارشوں اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے جس سے ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مچھروں کے باعث سونا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ اسپرے اور صفائی کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں

    شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں فوری کمی کی جائے، بجلی کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور مچھروں کے خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اسپرے مہم شروع کی جائے

    حالات یہی رہے تو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ شہریوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے

  • چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چینی کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کی الیکٹرک گاڑیوں میں خوفناک آتشزدگی

    چین کے شہر شینزین کے ایک صنعتی پارک میں لگی آگ نے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ’بی وائی ڈی‘ کے پارکنگ گیراج کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    منگل کی صبح پیش آنے والے اس واقعے کے بارے میں کمپنی نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آگ اس حصے میں لگی جہاں ٹیسٹ کی جانے والی اور ناکارہ قرار دی گئی گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پارکنگ لاٹ کے بڑے حصے سے آگ کے بلند شعلے نکل رہے ہیں اور سیاہ دھو ئیں کے بادل آسمان کی طرف بلند ہو رہے ہیں، واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی فائر بریگیڈ اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور امدادی کاررو ائیوں کا آغاز کر دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی سے چلنے والی یعنی الیکٹرک گاڑیوں میں لگنے والی آگ عام پیٹرول یا ڈیزل انجن والی گاڑیوں کے مقابلے میں بالکل مختلف اور زیادہ خطرناک ہوتی ہے الیکٹرک گاڑیوں کی آگ نہ صرف زیادہ دیر تک لگی رہتی ہے بلکہ اسے بجھانا بھی ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں موجود بیٹریوں کی وجہ سے آگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خطرہ مسلسل برقرار رہتا ہے۔

    اس حادثے کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد مارکیٹ میں بی وائی ڈی کے حصص کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور کمپنی کے شیئرز صفر اعشاریہ چھ فیصد تک گر گئے،مقامی فائر اینڈ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور فی الحال آگ لگنے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے،بی وائی ڈی کا عالمی ہیڈ کوارٹر بھی شینزین کے اسی پنگشن نامی ضلع میں واقع ہے جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔