Baaghi TV

Blog

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف  احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے،احتجاج کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "جنگ روکو” اور "نسل کشی بند کرو”، جنوبی لبنان پر قبضہ ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا اور جب تک امن قائم نہیں ہوتا، اسرائیل میں حقیقی سلامتی ممکن نہیں جیسے نعرے درج تھے-

    رپورٹس کے مطابق یہ مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اس بار احتجاج ملک کے دیگر شہروں جیسے یروشلم، حیفہ اور بئر سبع تک بھی پھیل گیا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیاں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،س لیے حکومت کو فوری طور پر امن مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔

  • ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    ٹرمپ کا ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کا منصوبہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت وینزویلا کے خلاف استعمال ہونے والی حکمت عملی کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کی جا سکتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر غور ایک مبینہ منصوبے میں وینزویلا کی طرز پر ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی کی حکمت عملی سامنے آئی ہے، جس میں آبنائے ہرمز سمیت اہم تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھانے کی بات کی جا رہی ہے وینزویلا کے خلاف بحری ناکہ بندی ماضی میں اس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، اور اسی ماڈل کو ایران پر بھی لاگو کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔

    منصوبے کے مطابق اگر اسے نافذ کیا گیا تو یہ ناکہ بندی صرف تیل کی برآمدات ہی نہیں بلکہ ایران کی تمام تجارتی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گی، اور بحری راستوں کے ذریعے ہونے والی ہر قسم کی ترسیل روک دی جائے گی تین کیریئر اسٹرائیک گروپس کی مدد سے اس ممکنہ بحری ناکہ بندی کو عملی شکل دی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے خطے میں بحری نگرانی اور دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے اس صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور سمندری حدود کا ہر قیمت پر دفاع جاری رکھے گا ایرانی موقف کے مطابق آبنائے ہرمز پر اس کی موجودگی اور کنٹرول برقرار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی بڑی کشیدگی یا بندش کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ یہ راستہ دنیا کی توانائی تجارت کا ایک انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ ہے۔

  • لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل  تباہ

    لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل تباہ

    جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیےلبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

    یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی، اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے،یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

    غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

  • انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں،حنیف عباسی

    وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران امریکا کے مابین امن مذاکرات کے لیے کردار ادا کرکے ثابت کیا کہ امن کے پیامبر ہیں-

    راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ ایران، مصر اور یورپی یونین میں پاکستان کے ترانے پڑھے جا رہے ہیں، 193 ملکوں کو یہ منظر نصیب نہیں ہوا جو پاکستان کو ہوا، ان شاء اللہ اکانومی گروتھ بڑھے گی، گوادر اور کراچی پورٹ اَپ گریڈ ہوں گے کہ یہاں سرگرمیوں کے باعث جگہ نہیں ملے گی، پاکستانی عوام بھی جانتی ہیں کہ ملک بہت اہم کام کر رہا ہے اور لوگ مبارکباد دے رہے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد کے بند ہونے پر بھی عوام نے خوش اسلوبی سے سہا کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد میں تھا۔

    وفاقی وزیر حنیف عباسی کا مذاکرات سے متعلق کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکے کیے جس کہ وجہ سے کوئی پاکستان کی جانب آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور آج پاکستان کی شان دیکھیں کہ آپ امن کے پیامبر بن گئے، یہ کارنامہ اس سے قبل کسی نے دیکھا اور نہ سنا،پاکستان خطے کا محفوظ ترین ملک ہے اور یقین رکھیں محفو ظ صرف اپنا گھر ہوتا ہے انڈیا کو پیغام ہے اپنے حکمرانوں کو سمجھائیں عوام پر توجہ دیں، وہاں 70 فیصد کو ٹوائلٹ میسر نہیں، دہلی کے چند جگہوں پر ترقی و ز ندگی نظر آتی ہے، مودی سے کہتا ہوں 10 مئی کو شسکت کے زخم چاٹے تھے، اب آپ اپنا گھر بچائے۔

    محکمہ ریلوے کی کاکردگی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ریلوے کی بہتری کے لیے بیل آؤٹ پیکج دیا ہے، اب نہ بجلی بند ہوگی اور نہ گیس، ریلو ے مزید ترقی کرے گا، سفاری ٹرین کو اَپ گریڈ کرکے تمام کوچز کو ایئر کنڈیشنڈ کر دیا گیا، مسافروں اور اسٹاف کو مزید سہولیات بھی دے رہے ہیں۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ سفاری ٹرین پہلے بھی چلتی تھی لیکن فرق سوچ کا اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا ہے، سہولت کو سندھ میں بھی شروع کیا ہے راولپنڈی میں سفاری ٹرین کی کسی کوچ میں اے سی نہیں تھا اور عوام کو شدید گرمی میں سفر کرنا پڑتا تھا لیکن ٹرین و کوچز کو اَپ گریڈ کرکے ہر کوچ میں اے سی نصب کر دیا گیا ہے اور سیٹیں بھی کشن کی گئی ہیں راولپنڈی سے گولڑہ، مارگلہ اور اٹک خود کے تاریخی سیاحتی مقام تک ہر اسٹیشن پر ٹرین ر کتی ہے جہاں مسافروں کو ریفریشمنٹ اور تاریخ سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

    انہوں ںے کہا کہ ہمیں ریلوے مزدور کا احساس ہے، تمام دن شدید گرمی میں محنت کرتا ہے، ٹریک کو مینٹین کرتا ہے، ورکشاپوں میں کام کرتا ہے، ایسے تمام عملے کا ریلوے معترف ہے مانتا ہوں ٹریک کے ایشوز ہیں، سالوں سے لوکو موٹیو بہتر نہیں ہوئی، ان شاء اللہ جولائی تک اَپ ریلوے لوکو موٹیو میں بہتر ی دیکھیں گےستمبر کے پہلے ہفتے میں لاہور تا راولپنڈی ٹریک سے متعلق اسٹون لینگ کرنے جا رہے ہیں لاہور اور راولپنڈی کے ٹریک پر ڈھائی ار ب کی لاگت سے پنجاب حکومت کام کرے گی، مریم نواز کی توجہ چاہیے تھی وہ مل گی ہے وہ کام بہت تیزی سے کرتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ روہڑی جنکشن کے حوالے سے جوائنٹ وینچر کر رہے ہیں، 40 فیصد سندھ حکومت اور 60 فیصد وفاق دے گا۔ کے پی حکومت سے بات چیت نہیں ہوئی لیکن سیکرٹری ریلوے کے ذریعے رابطہ کیا ہے، ہمارا دل بڑا ہے تھر کول ایک سو پانچ کلو میڑ پہلی مرتبہ کرنے جا رہے ہیں یہ بھی حقیقت ہےکہ 300 مسافروں کو لےجانے والا پائلٹ فائیو اسٹار ہوٹل میں رہتا ہےاور ریلوے کے 1100 مسافروں کو لے جانے والے ٹرین ڈرائیور کے لیے کوئی سہولت نہیں لیکن اب ہم دیں گے پاکستان ریلوے کو پہلے سے بہت زیادہ ترقی دیں گے کفایت شعاری کے سلسلے میں تین گاڑیاں استعمال نہیں کیں، تمام افسران کا کٹ اسی دن لگا جب حکومت نے لگایا، پیٹرول کی قیمت خوشی سے نہیں بڑھائی جاتی، دعا کریں سیز فائر جاری رہے تو بہتری آئے گی۔

    قبل ازیں، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے سینیئر مسلم لیگی خاتون رہنما و ممبر قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب کے ہمراہ راولپنڈی اسٹیشن سے اٹک خورد کے تاریخی سیاحتی مقام تک چلنے و اَپ گریڈ کی جانے والی سفاری ٹرین کا افتتاح کیا۔

  • امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے،ایرانی وزیر خارجہ

    تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوز کے سبب ڈیل نہ ہوسکی۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کہنے کے بعد کہ امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا اور واشنگٹن نے اپنی ‘بہترین، حتمی پیشکش’ کی ہے، اس کے بعد کسی کو بھی ایک ملاقات سے ڈیل کی توقع نہیں تھی ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مذاکرا ت کا یہ دور اس ایک سال میں مذاکرات کا طویل ترین دور تھا جو 24 یا 25 گھنٹے جاری رہا،دونوں فریق کچھ معاملات پر اتفاق تک پہنچ گئےتھے تاہم دو، تین اہم ایشوزکے سبب ڈیل نہ ہو سکی جبکہ دیگرامورپرنکتہ نظرمیں اختلاف موجود ہے۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے، یہ توقع نہیں ہونی چاہیےتھی کہ ہم ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، میرے خیال میں کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی، ایران خطے میں پاکستان دیگردوستوں کے ساتھ رابطے میں رہےگا، پاکستان کی حکومت، عوام اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ اداکرتاہوں۔

  • گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    بھارتی موسیقی کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں ممبئی میں انتقال کرگئیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق آشا بھوسلے کو گزشتہ روز سینے میں شدید درد کی شکایت پر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں انہیں مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

    آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے کہا ہے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی آخری رسومات کل دوپہر 4 بجے ممبئی کے شیو جی پارک میں ادا کی جائیں گی اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مداح کل صبح 11 بجے کاسا گرینڈ، لوئر پرل میں ان کی آخری دیدار کر سکیں گے۔

    آشا بھوسلے نے اپنی منفرد آواز اور غیر معمولی ورسٹائل انداز سے کئی دہائیوں تک فلمی دنیا پر راج کیا ان کی پیدائش 8 ستمبر 1933 کو بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر سنگلی میں ہوئی وہ مشہور گلوکارہ لتا منگیشکر کی بہن تھیں، تاہم انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

    آشا بھوسلے نے بہت کم عمری میں گلوکاری کا آغاز کیا اور بعد میں بھارتی فلم انڈسٹری میں پلے بیک سنگنگ کے ذریعے شہرت حاصل کی، انہوں نے ہزاروں گانے مختلف زبانوں میں گائے جن میں ہندی، مراٹھی، بنگالی، تامل اور دیگر علاقائی زبانیں شامل ہیں انہوں نے اپنی طو یل فنی زندگی میں بارہ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کیے، جو انہیں دنیا کی سب سے زیادہ ریکارڈنگ کرنے والی فنکاراؤں میں شمار کرتا ہے۔

  • گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    گوادر ریفائنری منصوبے میں سعودی عرب 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا

    پاکستان میں توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے سعودی عرب گوادر میں جدید آئل ریفائنری کے قیام کے لیے تقریباً 10 ارب ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں سعودی تیل کمپنی آرامکو پاکستانی سرکاری کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

    میڈیا میں شائع سیف الرحمان کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے لیے ابتدائی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب شراکت داری کے خد وخال طے کیے جا رہے ہیں آرامکو اس میگا پراجیکٹ میں لیڈ کرے گی جبکہ پاکستان کی چار بڑی کمپنیاں، پی ایس او، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل مجموعی طور پر 40 سے 45 فیصد حصہ داری رکھیں گی۔

    مجوزہ ریفائنری کی یومیہ پیداواری صلاحیت 4 لاکھ بیرل تک ہو سکتی ہے، جو پاکستان کی موجودہ ریفائننگ ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرے گی۔ منصوبے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے 20 سالہ ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ سرمایہ کاری نہ صرف گوادر کو علاقائی انرجی حب بنائے گی بلکہ سی پیک کے تحت اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار دے گی، سعودی عرب کی جانب سے گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام طویل عرصے سے زیر بحث تھا، اور اب اس پر عملی پیش رفت کا امکان روشن ہو گیا ہے۔

  • پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت  میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات ، بھارت میًں صف ماتم بچھ گئی

    پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات نے بھارت میًں صف ماتم بچھا دی ہے، مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔

    خلیجی جنگ کے تناظر میں بھارت کی سفارتی ناکامی پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے نام نہاد ’وشوا گرو‘ مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا،بھارتی جریدے ڈیکن ہیرالڈ کے مطابق سینئرکانگریس رہنما جئے رام رامیش نےایکس پر پوسٹ میں کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث مرکزی کردار نے خودساختہ وشوا گرو مودی کی انداز سیاست پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ مودی کی "نمستے ٹرمپ” اور” پھر ایک بار ٹرمپ سرکار” مہم کے باوجود امریکا نے پاکستان کو یہ کردار کیسے ادا کرنے دیا، کانگریس لیڈر مودی امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارتی معاہدے پر رضامند ہونے کے باوجود کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکے،جئے رام رامیش بھارت برکس پلس کی صدارت کے باوجود خلیجی جنگ کے تناظرمیں کوئی مصالحتی قدم کیوں نہ اٹھاسکا۔

  • مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ  : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے،تجزیہ : شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا امن؟ سفارتکاری کے نازک لمحے

    امریکہ ایران کشیدگی جنگ بندی کی امید یا وقتی خاموشی؟

    عالمی طاقتیں متحرک، کیا مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران سے بچ جائے گا؟

    دو ہفتوں کی مہلت: کیا سفارتکاری جنگ پر غالب آ سکتی ہے؟

    مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کیا جنگ ٹل سکتی ہے؟

    عالمی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ایسے حساس وقت میں اگر کوئی ملک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرتا ہے تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہایت متوازن اور ذمہ دار سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کشیدگی عروج پر تھی، پاکستان نے پل کا کردار ادا کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کیا۔ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے، جو پاکستان کی سفارتی بصیرت اور ذمہ دارانہ عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور امن کو ترجیح دی ہے، جو اس کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل اور مثبت پہلو رہا ہے۔

    حالیہ صورتحال میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ سفارتی سطح پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، اور دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر واقعی جنگ بندی (سیز فائر) کے لیے دو ہفتوں کا وقت طے پایا ہے تو یہ ایک اہم موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

    تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے ابتدائی لمحات ہمیشہ نازک ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اعتماد سازی کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے کے دوران فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور مذاکرات کو جاری رکھیں، تو ایک مستقل حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    اس تنازعے کی پیچیدگی اس بات میں ہے کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے پر پڑتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی، مذہبی اور جغرافیائی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو نہ صرف علاقائی استحکام خطرے میں پڑے گا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی راستوں کی بندش کے باعث۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر قائم رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ممالک کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے جو اعتماد سازی میں پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی دیرپا امن کے لیے صرف وقتی جنگ بندی کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوتا ہے، جن میں سیکیورٹی خدشات، علاقائی اثر و رسوخ، اور جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔ جب تک ان نکات پر کھلے دل سے بات چیت نہیں ہوگی، تب تک مستقل امن ایک خواب ہی رہے گا۔

    تاہم، موجودہ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے، تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی جو خطے کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتی ہے دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ ایک دانشمندانہ قدم امن اور استحکام کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار کس طرح درج کروانا چاہتی ہے۔

  • ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

    ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک نیا محفوظ راستہ بنانے کے لیے امریکی جہازوں کی آمد کا دعویٰ سختی سے مسترد کردیا۔

    ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیا کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر کا یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے،ایرانی کمانڈر نے امریکی جہاز کے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بحری جہاز کی نقل و حرکت اور گزرگاہ کا اختیار ایران کی مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے دو جنگی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایک محفوظ راستہ تیار کرنے کے مشن میں حصہ لیایہ دونوں جہاز بارودی سرنگیں ہٹانے کےمشن کو شروع کرنے کےبعد آبنائے ہرمز سےگزر کر خلیج میں داخل ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں امریکی حکام نے بتایا تھا کہ ایران نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے ان بارودی سرنگوں کو بچھایا تھا اور اس کا مکمل ریکارڈ بھی محفوظ نہیں رکھا جب کہ کئی مائنز کے لہروں کے ذریعے سرک جانے یا بہہ جانے کا بھی خدشہ ہے زمین میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نسبت سمندری بارودی سرنگوں کو بچھانا اور پھر اسے کلیئر کرنا زیادہ مشکل کام ہے جس کی صلاحیت ایران کے پاس نہیں۔

    اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کو صاف کر رہا ہے جو کہ ان ممالک کو کرنا چاہئے تھا جو امریکا پر سب سے زیادہ تنقید کرتے ہیں۔