Baaghi TV

Blog

  • کویت میں دہشت گردی کی مالی معاونت ناکام، 24 افراد گرفتار

    کویت میں دہشت گردی کی مالی معاونت ناکام، 24 افراد گرفتار

    کویت کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ایک اہم سیکیورٹی آپریشن کے دوران ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے کی مبینہ سازش ناکام بنا دی گئی۔ حکام کے مطابق اس کارروائی میں 24 شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس کی شہریت پہلے ہی منسوخ کی جا چکی تھی۔

    وزارت داخلہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد کے قبضے سے بڑی مالی رقوم برآمد ہوئیں، جن کا تعلق غیر قانونی سرگرمیوں سے تھا۔ اسی کارروائی کے دوران بیرون ملک فرار 8 شہریوں کا بھی سراغ لگایا گیا، جن میں ایک شخص ایسا بھی ہے جس کی شہریت ختم کی جا چکی ہے۔بیان کے مطابق ملزمان منظم نیٹ ورک کے تحت مذہبی مقاصد اور خیراتی سرگرمیوں کے نام پر رقوم جمع کرتے تھے۔ عوام ان افراد پر اعتماد کرتے ہوئے نیک نیتی سے چندہ دیتے رہے، کیونکہ انہیں بتایا جاتا تھا کہ یہ رقوم جائز اور انسانی فلاح کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی۔تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جمع کی گئی رقم کو اصل مقاصد کے بجائے غیر قانونی اور مشتبہ تنظیموں کی طرف منتقل کیا جا رہا تھا۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ عمل عوامی اعتماد کے ساتھ سنگین دھوکا اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    حکام نے مزید بتایا کہ ملزمان نے رقوم کو چھپانے اور منتقل کرنے کے لیے تجارتی و پیشہ ورانہ اداروں کو بطور پردہ استعمال کیا۔ رقم کی منتقلی کے لیے پیچیدہ طریقے اپنائے گئے، جن میں مختلف افراد کے ذریعے فضائی اور زمینی راستوں سے رقوم منتقل کرنا شامل تھا تاکہ شک و شبہ سے بچا جا سکے۔وزارت داخلہ کے مطابق تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور انہیں متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید ملوث عناصر کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست ہر اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے جو ملک کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالے یا کویت کی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کے لیے استعمال کرے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ قانون کی عملداری، قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور ملوث افراد کا سختی سے تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

  • اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان  سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    اسلام آباد مذاکرات:امریکا اور ایران کے درمیان سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ’’فیس ٹو فیس‘‘ بات چیت جاری ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات امریکا اور ایران کے درمیان برسوں بعد ہونے والی سب سے اہم اور اعلیٰ سطحی براہِ راست سفارتی پیشرفت ہے، اس وقت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر ’’فیس ٹو فیس‘‘ مذاکرات ہو رہے ہیں ،متعلقہ شعبوں کے تمام امریکی ماہرین اسلام آباد میں موجود ہیں جبکہ اضافی ماہرین واشنگٹن سے بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں ایران امریکا کے درمیان مذاکرات جاری ہیں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں جب کہ ان کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر بھی موجود ہیں، سینئر مشیران میں ڈاکٹر اینڈریو بیکر اور مائیکل وینس بھی وفد کا حصہ ہیں جو مختلف شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

  • تل ابیب میں جنگوں کے خاتمے کیلیے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر

    تل ابیب میں جنگوں کے خاتمے کیلیے اسرائیلی وزیراعظم کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر

    تل ابیب میں مسلسل چھٹے ہفتے بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ غزہ،ایران اور لبنان میں جاری تمام جنگیں فوری طور پر بند کی جائیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو بمباری اور طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ امن اور سفارتکاری سے حقیقی سلامتی مل سکتی ہے۔

    احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے حکومت کے خلاف منفرد انداز اپنایا۔ بعض مظاہرین نے اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی وزیر اتمار بین گویر اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے ماسک پہن رکھے تھے۔ کچھ افراد نارنجی قیدی لباس میں ملبوس تھے جبکہ دیگر نے "موت کے فرشتے” جیسا روپ دھار رکھا تھا۔ مظاہرین نے علامتی الاؤ کے گرد رقص کیا اور پیغام دیا کہ موجودہ قیادت موت، خوف اور خونریزی کی سیاست کر رہی ہے، اور ایک دن انہیں اپنے فیصلوں کا حساب دینا ہوگا۔

    ایک خاتون مظاہرہ کرنے والی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مئی 2000 میں لبنان سے آخری فوجی نکالا تھا، لیکن اب دوبارہ وہاں جانا ایک المناک غلطی ہے۔ ان کے بقول، "یہ پاگل پن ہے، میں سمجھ نہیں سکتی کہ ہم پھر اسی راستے پر کیوں جا رہے ہیں۔”احتجاج کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی قانونی مشکلات بھی زیر بحث رہیں۔ مظاہرین نے تنقید کی کہ وزیر اعظم نے بدعنوانی کے مقدمات سے متعلق اتوار کو ہونے والی عدالتی سماعت میں گواہی مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے، جو ان کے نزدیک عوامی اعتماد سے فرار کی کوشش ہے۔

    گزشتہ ہفتے پولیس نے اسی نوعیت کے احتجاج کو منتشر کر دیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ بڑے اجتماعات سکیورٹی ہدایات کے خلاف ہیں۔ اس بار بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور حکام نے دعویٰ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایک ہزار سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت نہیں۔ تاہم مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد بظاہر اس حد سے کہیں زیادہ دکھائی دی۔احتجاج کے منتظم اور تحریک "اسٹینڈنگ ٹوگیدر” کے رہنما نے کہا کہ اگر پولیس طاقت استعمال کرے گی تو اس سے تحریک کو مزید توجہ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا کیونکہ لوگ جنگ سے تھک چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس تناظر میں جب احتجاجی رہنما ایلون لی گرین سے بیروت کی تباہی کی تصاویر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے افسردگی سے جواب دیا "میرا دل ٹوٹ گیا۔”

    یہ الفاظ نہ صرف احتجاجی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اسرائیلی معاشرے کے اس طبقے کی بھی نمائندگی کرتے ہیں جو سمجھتا ہے کہ مسلسل جنگ نے خطے کو مزید غیر محفوظ اور انسانیت کو مزید زخمی کر دیا ہے۔

  • بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہےکہ عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

    روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے خطے میں پیچیدہ بحران کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہو رہا ہے، بیشتر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں اور اس سے امن کی راہ ہموار ہونے کی امید رکھتے ہیں۔

    تاہم روس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں بیان میں ان عناصر پر تنقید کی گئی جو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ بھی ایران پر ڈال رہے ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق واقعات کی اصل ترتیب کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی گزرگاہ کے طور پر بلا تعطل فعال رہی اس وقت سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک ، لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔

    روس نے زور دیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم سفارتی موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

    روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اپنی دیرینہ تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام ساحلی ممالک، بشمول عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان مکالمہ اور بیرونی شراکت داروں کی تعمیری شمولیت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر یو اے ای کے دورے پر پہنچ گئے

    بھارتی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خزانہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے ابوظہبی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں نے علاقائی صورتحال اور اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ جئے شنکر نے یو اے ای میں مقیم بھارتی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے شیخ عبداللہ کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان موجود جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کا اعتماد ظاہر کیا۔

    قبل ازیں بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے متحدہ عرب امارات کے اپنے دورے کے آغاز پر وہاں موجود بھارتی کمیونٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔ انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باوجود بھارتی شہریوں کی فلاح و بہبود اور سیکیورٹی کے لیے ہندوستانی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشکل حالات میں مقامی معاشرے میں بھارتی کمیونٹی کے قیمتی کردار کی تعریف کی اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے بھارتی برادری کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں دی گئی حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔

  • اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پانچ گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جاری ہیں، جبکہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آبادمیں موجود ملکی و غیر ملکی صحافی مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کی اصل سرگرمیاں ایک جانب جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا نمائندوں کے لیے الگ سے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ طویل انتظار کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری رکھ سکیں۔

    پاکستان میں مذاکرتی عمل کی کوریج کےلیے غیرملکی میڈیا کے نمائندوں میں مردوں سے زیادہ خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد آئی ہے جوکہ خوش آئند بات ہے۔خواتین صحافی اسلام آباد کی خوبصورتی سے بھی متاثر ہورہی ہیں۔
    اسلام آباد کا مشہور جناح کنونشن سینٹر، جہاں عام طور پر ایوارڈ تقریبات، سرکاری تقریبات اور بڑے قومی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، اس بار عالمی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں میڈیا مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آئے رپورٹرز، اینکرز، پروڈیوسرز اور کیمرہ ٹیمیں موجود ہیں جو مذاکرات کی ہر پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    اصل مذاکراتی نشستیں سڑک کے دوسری جانب واقع فائیو اسٹار سرینا ہوٹل میں جاری ہیں، تاہم صحافیوں کے لیے جناح کنونشن سینٹر کو مرکزی میڈیا حب بنایا گیا ہے۔طویل مذاکرات کے پیش نظر میڈیا نمائندوں کے لیے کھانے پینے کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ صحافیوں کو مفت کافی مسلسل فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دوپہر اور رات کے کھانے میں مختلف اقسام کے کھانوں پر مشتمل بوفے بھی موجود ہے۔بوفے میں روایتی سالن، باربی کیو، چاول، سلاد اور دیگر اشیاء شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس اہم موقع پر مہمان نوازی کا خاص اہتمام کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا عملہ بھی جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہے، جو صحافیوں کو تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان سہولیات میں انٹرنیٹ، نشریاتی انتظامات، رہنمائی اور دیگر میڈیا ضروریات شامل ہیں تاکہ کوریج کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔اس اہم سفارتی عمل کو نمایاں کرنے کے لیے مقام پر خصوصی سفارتی سجاوٹ بھی کی گئی ہے۔ مرکزی ہال میں بڑے بڑے بینرز آویزاں ہیں جن پر “Islamabad Talks” درج ہے، جبکہ امریکہ، پاکستان اور ایران کے جھنڈے ایک ساتھ نمایاں انداز میں رکھے گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر توجہ کے لیے کنونشن سینٹر کے فرش پر #IslamabadTalks کا بڑا سائن بھی نصب کیا گیا ہے، جس کے سامنے آرام دہ صوفے رکھے گئے ہیں تاکہ صحافی انتظار کے دوران آرام بھی کر سکیں اور براہِ راست اپ ڈیٹس بھی دیتے رہیں۔

    مبصرین کے مطابق پاکستان نے نہ صرف حساس مذاکرات کی میزبانی کی ہے بلکہ میڈیا مینجمنٹ، سفارتی ماحول اور عالمی صحافیوں کی سہولت کے حوالے سے بھی مثبت تاثر دیا ہے۔ ایک طرف بند کمرے میں مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا کو منظم اور باوقار انداز میں سہولیات فراہم کرنا پاکستان کی سفارتی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ان مذاکرات کو خطے اور دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے عالمی میڈیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں، جبکہ ہر نئی پیش رفت کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔مذاکرات کے نتائج سامنے آنے تک جناح کنونشن سینٹر میں صحافیوں کی سرگرمیاں، تجزیے اور لائیو اپ ڈیٹس کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات سے بھر پور فائدہ اٹھانے پر زور

    فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر کےاسلام آباد میں جاری مذاکرات کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا-۔

    فرانسیسی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہےانہوں نے ایرانی ہم منصب پر زور دیا کہ اسلام آباد مذاکرات کی صورت میں ملنے والے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی میں مستقل کمی کی راہ ہموار کی جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک ایسا ٹھوس اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں تمام متعلقہ ممالک شامل ہوں میکرون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سیکیورٹی بحال کرے اور کہا کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    فرانسیسی صدر نے لبنان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے جنگ بندی کے مکمل احترام کی اہمیت پر بھی زور دیاانہوں نے لبنانی حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فرانس لبنانی حکام کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے صرف لبنانی حکام ہی ریاست کی خود مختاری کا استعمال کرنے اور لبنان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قانونی اور آئینی حق دار ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود اعلیٰ سطح وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے اور وہ اسی جذبے کے تحت مذاکرات میں شریک ہے ’ایکس‘ پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج کچھ بھی ہوں، ایران کی ریاست عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

  • سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کا مالی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فراہم کی اس مالی تعاون سے اسلام آباد کو اپنے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے گی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض بھی واپس کرنا ہے-

    سعودی عرب کے وزیر خزانہ محدم بن عبداللہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی،اس اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈرا بھی موجود تھے اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان مالی معاونت سے متعلق بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

    ملاقات میں پاکستان نے سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست کی جس میں موجودہ نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت (Oil Financing Facility) کی مدت میں توسیع شامل ہے جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے،ملاقات کا محور اقتصادی تعاون اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں علاقائی صورتحال رہی۔

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے پاکستان کو کمزور زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیاں کرنے میں مدد ملے گی ایک سینیئر پاکستانی اہلکار کے مطابق پاکستان اپریل کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا کیونکہ ابوظبی نے فوری ادائیگی کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں تاہم بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات اور بیرونی ادائیگیوں کے باعث دباؤ برقرار ہے پاکستان مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون اور آئندہ اہم مالی اجلاسوں کے لیے بھی رابطے میں ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا ایران مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسرائیلی وزیراعظم کی امریکا ایران مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسرائیلی وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ اسرائیل ان کی قیادت میں ایران کے “دہشت گرد نظام” اور اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتا رہے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں ترک صد رجب طیب اردگان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے حمایتی عناصر کو جگہ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کرد شہریوں کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ترک قیادت پر سخت تنقید کی۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ خطے میں سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔پاکستان میں امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے سخت بیانات سے علاقائی تناؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

  • آج امریکی  بحریہ کے کئی جنگی جہاز  آبنائے  ہرمز  سے گزرے  ہیں،امریکی ویب سائٹ

    آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں،امریکی ویب سائٹ

    امریکی نیوز ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہےکہ آج امریکی بحریہ کے کئی جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق یہ واقعہ ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار پیش آیا ہے اور یہ اقدام ایران کے ساتھ کسی قسم کی ہم آہنگی کے بغیرکیا گیا اس کارروائی کا مقصد تجارتی بحری جہازوں کے لیے اعتماد بڑھانا تھا تاکہ وہ اس راستے سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں، یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں دونوں فریقین کے درمیان امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔

    ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ یہ آپریشن بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، اہلکار کے مطابق امریکی بحری جہاز مشرق سے مغرب کی سمت آبنائے ہرمز سے خلیج کی طرف گئے اور پھر واپس اسی راستے سے گزرتے ہوئے بحیرہ عرب کی طرف روانہ ہوئے۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز یواے ای کی فجیرہ بندرگاہ سے آبنائے ہرمز روانہ ہوا تھا لیکن ایرانی فورسز کی دھمکی پر امریکی جنگی بحری جہاز واپس لوٹ گیا ایرانی فوج نے اسلام آباد میں وفدکو امریکی جنگی جہاز کی پیش قدمی سے آگاہ کر دیا تھا اور ایران نےثالث کو جنگی جہازکو آگے بڑ ھنے کی صورت میں نشانہ بنانے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔

    تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی کوئی باضابطہ وارننگ موصول نہیں ہوئی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب ہم آبنائے ہرمز کو صاف کرنے کا عمل شروع کر رہے ہیں، ہرمز سے بارودی سرنگوں ہٹانے سے چین، جاپان، جنوبی کوریا، فرانس اور جرمنی بھی مستفید ہوں گے۔