مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور کامیاب جنگ بندی کے بعد پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک بڑی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار کے باعث دنیا بھر میں اس کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
آئی پی ایس او ایس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی اور متوازن حکمت عملی کے نتیجے میں 70 فیصد عالمی رائے عامہ اب پاکستان کے حق میں ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی ملک کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے حساس خطے میں جہاں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
پاکستان کی اس کامیابی کو سوشل میڈیا پر بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ “Thank You Pakistan” کے ہیش ٹیگ نے عالمی سطح پر ٹرینڈ کیا، جہاں مختلف ممالک کے صارفین نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کا کریڈٹ دیا۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اپنی متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو ایک سنجیدہ اور قابل اعتماد سفارتی طاقت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاں پاکستان کو سراہا جا رہا ہے، وہیں بھارت کے بعض بیانات پر عالمی سطح پر تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت کا مؤقف اس صورتحال میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ عالمی میڈیا کی توجہ پاکستان کے مثبت کردار پر مرکوز رہی۔
ملک کے اندر بھی عوام نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی اور عسکری قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو اس نازک مرحلے پر مؤثر فیصلے کرنے پر سراہا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سفارتی کامیابی کے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر مثبت تاثر کسی بھی ملک کی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
Blog
-

جنگ بندی کے بعد سوشل میڈیا پر تھینک یو پاکستان ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔
-

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد دونوں قیمتی دھاتیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں اور نئی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی سونے اور چاندی کے نرخوں میں اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمت میں 30 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی اونس قیمت 4753 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس عالمی رجحان کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑا۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3000 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 97 ہزار 662 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2572 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 26 ہزار 664 روپے تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 130 روپے مہنگی ہو کر 8014 روپے تک جا پہنچی، جس کے بعد یہ دوبارہ 8 ہزار روپے کی سطح عبور کر گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہی عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس سے عام صارفین اور سرمایہ کار دونوں متاثر ہوں گے۔ -

ایران امریکا مذاکرات کا اثر، ایشیائی مارکیٹس میں تیزی، تیل سستا
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے باعث ایشیائی مالیاتی مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سفارتی پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت کم ہو کر 97 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جبکہ برینٹ خام تیل 95.37 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔ تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی سطح پر کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقعات سے جوڑی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس میں 1993 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ہوا اور مارکیٹ ایک لاکھ 67 ہزار 457 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ سرمایہ کاروں نے اس مثبت پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
ایشیائی مارکیٹس میں بھی مجموعی طور پر مثبت رجحان رہا۔ جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً 2 فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا کاسپی انڈیکس 1.40 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.55 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ بھارت کا ممبئی سینسیکس بھی دورانِ کاروبار 1.2 فیصد تک اوپر گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو کم کر سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی مثبت ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو خوش آئند سمجھتے ہوئے مارکیٹس میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید استحکام آ سکتا ہے اور اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔ -

شمالی کوریا کا نیا میزائل تجربہ، جوہری صلاحیت مزید مضبوط
شمالی کوریا نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ ونگ یانگ سے آنے والی رپورٹس کے مطابق ملک نے کلسٹر بم وار ہیڈ سے لیس ہواسانگ-11 بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقریباً 7 ہیکٹر کے وسیع علاقے میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہتھیار میدانِ جنگ میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی اکیڈمی آف ڈیفنس سائنس اور میزائل ایڈمنسٹریشن نے اس کے ساتھ ساتھ دیگر جدید ہتھیاروں کے تجربات بھی کیے، جن میں برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام، کاربن فائبر بم اور مختصر فاصلے تک مار کرنے والے طیارہ شکن میزائل سسٹم شامل ہیں۔
ان تجربات کی نگرانی کرنے والے جنرل کم جونگ سک کے مطابق برقی مقناطیسی ہتھیاروں کا نظام اور کاربن فائبر بم شمالی کوریا کی فوج کے لیے نہایت اہم اور خصوصی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار دشمن کے حساس نظام کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق شمالی کوریا عالمی حالات، خصوصاً یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے سیکھتے ہوئے اپنی فوجی حکمت عملی کو جدید بنا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ تجربات نہ صرف روایتی جنگی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ مخالفین کے لیے ایک واضح پیغام بھی ہیں۔
جنوبی کوریا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برقی مقناطیسی ہتھیار دشمن کے الیکٹرانک نظام کو ناکارہ بنا سکتے ہیں، جبکہ کاربن فائبر بم بنیادی ڈھانچے جیسے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو کسی بھی تنازع میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے ایسے جدید ہتھیاروں کی تیاری خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ -

پاک بحریہ کا شاندار ریسکیو آپریشن، 18 غیر ملکی عملہ محفوظ
پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں ایک کامیاب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران 18 افراد پر مشتمل غیر ملکی عملے کو بحفاظت بچا لیا۔ یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب تجارتی بحری جہاز “ایم وی گولڈ آٹم” سے ہنگامی سگنل موصول ہوا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ہنگامی اطلاع ملتے ہی پاک بحریہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ اس دوران پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ریسکیو کیے گئے افراد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جن میں چین، بنگلادیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران بحریہ کی ماہر ٹیم نے نہ صرف عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا بلکہ انہیں فوری طبی امداد بھی فراہم کی۔
حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر ریسکیو ٹیم نے آگ بجھانے میں بھی مدد فراہم کی اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جہاز کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔
ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو بعد ازاں بحفاظت کراچی منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی اپنے ممالک واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور سمندری حدود میں انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
یہ کامیاب آپریشن پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور فوری ردعمل کی -

پاکستان کا بدلتا ہوا عالمی امیج: پروپیگنڈہ سے سفارتی حقیقت تک،تجزیہ: شہزاد قریشی
“پاکستان کا بدلتا عالمی چہرہ: پروپیگنڈے سے حقیقت تک”
“بیانیے کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی: عالمی اعتماد کی بحالی”
“اسلام آباد سے امن کا پیغام: پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار”
“دہشتگردی کے الزامات سے امن کے علمبردار تک: پاکستان کا سفر”
“عالمی منظرنامے میں پاکستان: ایک ذمہ دار ریاست کا نیا تعارف”
تجزیہ:شہزاد قریشی
گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کو عالمی سطح پر جس بیانیے کا سامنا رہا، وہ زیادہ تر سکیورٹی خدشات، دہشتگردی کے الزامات اور علاقائی کشیدگی کے گرد گھومتا تھا۔ خاص طور پر 9/11 کے بعد کے دور میں پاکستان کو ایک طرف “فرنٹ لائن اسٹیٹ” کے طور پر تسلیم کیا گیا، تو دوسری جانب اس پر دوہری پالیسیوں کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے۔ اس ماحول میں نے عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کے خلاف ایک مضبوط اور منظم بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی، جس میں اسے دہشتگردی سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ پاکستان نے داخلی سطح پر دہشتگردی کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے اقدامات نے نہ صرف ملک کے اندر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان قربانیوں اور کوششوں کا اعتراف سمیت متعدد عالمی اداروں کی جانب سے کیا گیا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی برادری کا نقطہ نظر بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔
علاقائی سطح پر بھی پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ خصوصاً میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کاوشیں قابل ذکر رہیں۔ کے تناظر میں پاکستان کا کردار نہ صرف اہم رہا بلکہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اسے تسلیم کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو ایک “مسئلے کا حصہ” نہیں بلکہ “حل کا حصہ” سمجھا جانے لگا۔
آج ایک ابھرتے ہوئے سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں علاقائی اور بین الاقوامی مذاکرات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ عالمی میڈیا میں بھی اب پاکستان کے حوالے سے بیانیہ یک رخی نہیں رہا بلکہ اس میں معاشی بہتری، سکیورٹی استحکام اور ثقافتی سرگرمیوں جیسے مثبت پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔
تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستان کا امیج مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے، شاید قبل از وقت ہو گا۔ عالمی سیاست میں بیانیے ہمیشہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں، اور پاکستان کو اب بھی معاشی استحکام، گورننس، اور علاقائی توازن جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کے عالمی امیج کو متاثر کرتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے “بیانیے کی جنگ” میں ایک اہم موڑ ضرور حاصل کیا ہے۔ آج اگر پاکستان کو عالمی سطح پر ایک امن کے داعی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تو یہ اس کی مسلسل کوششوں، قربانیوں اور مؤثر سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ مگر اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل مزاجی، پالیسی کا تسلسل اور عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔
یہ پاکستان کے لیے یقیناً ایک اہم اور حوصلہ افزا لمحہ ہے، مگر یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا،بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے جہاں کامیابی کا دارومدار مستقل کارکردگی اور دانشمندانہ فیصلوں پر ہو گا۔
-

پابندی ختم ہونے کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی
اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر عائد پابندی ختم کیے جانے کے بعد آج ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں باجماعت نماز جمعہ ادا کی۔ پابندی کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں نمازی قبلہ اول پہنچے اور روح پرور اجتماع دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں سکیورٹی خدشات کو وجہ بنا کر اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، جس کے باعث متعدد فلسطینیوں کو نماز کی ادائیگی سے روکا گیا تھا۔ تاہم پابندی ہٹنے کے بعد آج صورتحال میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی اور نمازیوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئی۔
نماز جمعہ کے موقع پر مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ فلسطینی شہریوں نے پرامن انداز میں عبادات ادا کیں۔ اس موقع پر لوگوں نے نہ صرف نماز ادا کی بلکہ قبلہ اول سے اپنی عقیدت کا اظہار بھی کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں سے آنے والے فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کیا۔ کئی افراد صبح سویرے ہی مسجد کے دروازوں پر پہنچ گئے تھے تاکہ وہ اس مقدس مقام پر نماز جمعہ کی سعادت حاصل کر سکیں۔
ہے، اور یہاں عبادت کی آزادی ایک حساس اور اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہزاروں افراد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ فلسطینی عوام اس مقام سے گہری مذہبی وابستگی رکھتے ہیں۔ -

اسلام آباد ہائی الرٹ، امریکی و ایرانی وفود کی آمد متوقع
اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت میں غیر یقینی اور انتظار کی کیفیت برقرار ہے۔ حکام کے مطابق وفود کی آمد کسی بھی وقت متوقع ہے، تاہم ابھی تک باضابطہ طور پر کسی وفد کی آمد کی تصدیق نہیں کی گئی۔
بی بی سی کی ٹیم جب ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب رپورٹنگ کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت دی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وفود کی آمد کے حوالے سے حساس معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔
ریڈ زون، جہاں اہم سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں چیک پوسٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ بھی اسلام آباد پر مرکوز ہے اور متعدد بین الاقوامی صحافی شہر پہنچ چکے ہیں تاکہ ممکنہ مذاکرات کی کوریج کی جا سکے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وفد کی آمد کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم وہ پوسٹ کچھ ہی دیر بعد حذف کر دی گئی، جس کے بعد مزید قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
ابھی تک پاکستان کی جانب سے مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ ممکنہ بات چیت ہفتے کی صبح ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان میں ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر حملے
لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں تازہ فضائی حملوں میں طبی عملے اور امدادی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے راس العین کے علاقے میں ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر بمباری کی، جس سے امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے بلکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کو مسلسل مسترد کیے جانے کے باعث خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی ان حملوں پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ یوسف رگی نے اپنے لبنانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ لبنان پر حملے ناقابل قبول ہیں اور عالمی برادری کو فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے انہیں رکوانا چاہیے۔
آئرش وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ طبی عملے اور امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس طرح کی کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی بغیر نام لیے امریکا کو خبردار کیا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے اتحادی، جن میں لبنان بھی شامل ہے، کسی بھی ممکنہ جنگ بندی عمل کا لازمی حصہ ہوں گے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والے کسی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی تجاویز کو بھی مسترد کیا جا چکا ہے، جبکہ نئی تجاویز پر ایران اور پاکستان کے ساتھ مشاورت جاری ہے، تاہم ان کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔ -

مودی حکومت کا یوٹرن، مشرق وسطیٰ بحران پر پہلی بار ردعمل
میں جاری کشیدگی پر اپنا ردعمل دے دیا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد بھارتی وزارت خارجہ نے پہلی بار لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم منافقت دکھاتے ہوئے بیان میں اسرائیل کا نام لینے سے گریز کیا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتیں نہایت پریشان کن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین، قومی خودمختاری اور ریاستی سلامتی کا احترام ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق بھارت موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک سمجھتا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ بھارت اقوام متحدہ کے امن مشن میں فعال کردار ادا کرتا ہے اور لبنان کے امن و استحکام میں اس کی گہری دلچسپی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن برقرار رکھنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر دنیا بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی افواج کی جانب سے لبنان پر شدید فضائی حملے کیے گئے، حالانکہ اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا تھا۔
لبنان کی سول ڈیفنس اتھارٹی کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 254 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1165 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی پر عالمی دباؤ بڑھ رہا تھا، جس کے باعث اسے اس حساس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی۔ تاہم اسرائیل کا نام نہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ بھارت ابھی بھی منافقانہ سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔