Baaghi TV

Blog

  • پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات،مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات،مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے اثرات ملک بھر میں نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، جس کے باعث ہفتہ وار مہنگائی میں تقریباً 2 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی مہنگائی کی شرح بڑھ کر 12.15 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ 19 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

    ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 28 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سبزیوں اور خوراک کی بنیادی اشیاء میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، ٹماٹر کی قیمت میں 9.35 فیصد، آلو میں 4.13 فیصد، پیاز میں 3.84 فیصد جبکہ انڈوں کی قیمت میں 3.77 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ بیف، مٹن اور بریڈ سمیت دیگر ضروری اشیاء بھی مہنگی ہوگئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ مہنگائی کی بڑی وجہ بنا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 54.71 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پیٹرول 18 فیصد مہنگا ہوا۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمت میں بھی 8.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس کے اثرات براہ راست اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد، امریکا ایران امن مذاکرات پر دنیا کی نظریں

    اسلام آباد، امریکا ایران امن مذاکرات پر دنیا کی نظریں

    دنیا بھر میں بے چینی کے ساتھ اس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے کروڑوں افراد کی زندگیوں بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں کے مستقبل کا بھی تعین کریں گے۔

    اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے دو روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا ہے جس کے باعث شہر کی سڑکیں سنسان دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ مذاکرات ایران،امریکا جنگ کے آغاز کے بعد پہلی براہِ راست بات چیت ہوں گے۔دو ہفتوں پر مشتمل ایک نازک جنگ بندی فی الحال برقرار ہے، جس نے ان مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ تاہم لبنان میں اسرائیلی حملے اور جنگ بندی کے دائرہ کار پر اختلافات اس عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، ایران نے باضابطہ طور پر اپنے وفد کا اعلان نہیں کیا، تاہم اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکروفد کی قیادت کر سکتے ہیں۔

    مذاکرات کے ایجنڈے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے 10 نکاتی منصوبے کو قابلِ غور قرار دیا، تاہم ایران کی جانب سے پیش کردہ بعض شرائط جیسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول، جنگی ہرجانے اور تمام پابندیوں کا خاتمہ،امریکا کے لیے ناقابل قبول سمجھی جا رہی ہیں۔
    دوسری جانب امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں ایران سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت، افزودہ یورینیم کی حوالگی، دفاعی صلاحیتوں میں کمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

    لبنان اس وقت تنازع کا سب سے حساس پہلو بن چکا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان اور حزب اللہ شامل ہیں، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے انکار کرتے ہیں۔جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل نے لبنان میں شدید فضائی حملے کیے، جن میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا اور مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

    دوسری جانب اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ایران کی جانب سے محدود آمدورفت کے باعث عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ سینکڑوں جہاز اب بھی خلیج میں پھنسے ہوئے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے اپنی یقین دہانیاں پوری نہ کیں تو جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے۔

    اگرچہ امریکا ان مذاکرات کے حوالے سے پرامید دکھائی دیتا ہے، تاہم ایران کا مؤقف اس کے برعکس ہے، جہاں سرکاری بیانات میں جنگ کو اپنی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ممکنہ طور پر ایک طویل اور پیچیدہ مذاکراتی سلسلے کا آغاز ہے، اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا صرف ایک ویک اینڈ میں دونوں ممالک اپنے اختلافات ختم کر سکیں گے یا نہیں۔اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات عالمی سیاست کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اگر کامیاب ہوئے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، بصورت دیگر ایک بار پھر جنگ کے بادل منڈلا سکتے ہیں۔

  • ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

    ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید

    تہران: ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ایرانی حکام نے ان کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کمال خرازی گزشتہ روز اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ یکم اپریل کو ہونے والی شدید بمباری میں زخمی ہوگئے تھے، جو کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کا حصہ تھی۔حملے کے دوران ان کی اہلیہ موقع پر ہی شہید ہوگئیں جبکہ کمال خرازی کو شدید نوعیت کے زخم آئے تھے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کئی روز تک زیر علاج رہے، تاہم زخموں کی شدت کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکے۔ایرانی قیادت اور عوامی حلقوں کی جانب سے کمال خرازی کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومتی شخصیات نے انہیں ایک تجربہ کار سفارتکار اور قومی مفادات کے مضبوط محافظ کے طور پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں پوسٹر چسپاں،پاکستان کی جنگ بندی کوششوں کی تعریف

    مقبوضہ کشمیر میں پوسٹر چسپاں،پاکستان کی جنگ بندی کوششوں کی تعریف

    غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرِقبضہ جموں کشمیر کے متعدد علاقوں میں چسپاں کئے گئے پوسٹروں میں میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں پر پاکستان کی تعریف کی گئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آزادی پسند تنظیموں کی طرف سے سرینگر اور دیگر علاقوں میں دیواروں، کھمبوں اور ستونوں پر چسپاں کئے گئے پوسٹروں میں جنگ بندی کی کوششوں کو فروغ دینے پرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا گیا ہے۔ پوسٹروں میں کہا گیا ہے کہ ان کوششوں سے خطے میں امن اور امید کی فضا پیدا ہوئی ہے ، جس سے ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر جانی نقصان کو روکا جاسکا ہے ۔ جنگ بندی اور امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بات چیت نے دنیا بھر کے لوگوں کو خاص طور پر تنازعے سے براہِ راست متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو راحت اور امید کا پیغام دیا ہے۔

    علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے علاقے بڈگام کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک مقامی شہری پاکستان کی سفارتی کوششوں اور عسکری قیادت کی تعریف کر رہا ہے،ویڈیو میں شہری نے بڈگام سے پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے،ویڈیو پیغام میں شہری کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار پر ہر کشمیری خوش اور دعاگو ہے،وائرل ویڈیو میں شہری کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بڈگام سے تمام پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کو سلام، فیلڈ مارشل عاصم منیر آج ہر کشمیری آپ کے لیے دعا کر رہا ہے کہ آپ نے امریکا ایران جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا۔

    شہری نے بھارتی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گودی میڈیا اس پیش رفت کے بعد خاموش دکھائی دے رہا ہے، پاکستان کی قیادت پر تنقید کرنے والے موجود رہیں گے لیکن قافلے چلتے رہیں گے۔ اگر خدا ساتھ ہو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، چاہے پوری قوم مخالف کیوں نہ ہو، میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے محبت کرتا ہوں، کشمیر ان سے محبت کرتا ہے۔

  • سوشل میڈیا پر بچوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ

    سوشل میڈیا پر بچوں اور خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس میں صوبے میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم، خصوصاً سوشل میڈیا پر بچوں اور خواتین کو ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ کے واقعات کے تدارک کیلئے بڑے اقدامات کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں ایک جدید اور خصوصی پنجاب سائبر کرائم یونٹ قائم کیا جائے گا، جو سوشل میڈیا پر ہونے والے جرائم کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنائے گا۔ اس یونٹ کا بنیادی مقصد متاثرہ افراد، خاص طور پر خواتین اور بچوں، کو محفوظ، آسان اور بروقت سہولت فراہم کرنا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اب متاثرہ افراد کو شکایت درج کروانے کیلئے روایتی طور پر تھانے جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے بجائے جدید نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت موبائل سائبر کرائم یونٹس خود متاثرہ افراد تک پہنچیں گے۔ مزید برآں، ورچوئل پولیس اسٹیشن اور پی کے ایم (PKM) ایپ کے ذریعے بھی شکایات درج کروانے کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے فوری رسپانس اور کارروائی ممکن ہو سکے گی۔رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ متاثرہ افراد کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا تاکہ وہ بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنی شکایات درج کروا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے سائبر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت سزاؤں کیلئے نئی قانون سازی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، تاکہ ایسے جرائم کی موثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ سائبر کرائم آج کے دور کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو خاص طور پر نئی نسل کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پنجاب نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

  • ایران کے ساتھ امن معاہدے کیلئے پر اُمید ہوں،ٹرمپ

    ایران کے ساتھ امن معاہدے کیلئے پر اُمید ہوں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کیلئے پر اُمید ہوں، ایرانی رہنماء بہت معقول لوگ ہیں، لبنان پر اسرائیلی حملوں میں کمی آئی ہے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فون کرکے لبنان پر حملوں میں کمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔امریکی صدر نے ایک اور پیغام میں لکھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکرز سے فیس وصولی کی اطلاعات ہیں، اگر ایران ایسا کررہا ہے تو اسے روکنا ہوگا، جو ہورہا ہے وہ معاہدے کے مطابق نہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ یا اس کے بغیر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل جلد شروع ہوگی۔

    دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے ایرانی میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری جہازبھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں اگر وہ دشمنی پر مبنی طرزِ عمل اختیارنہ کریں،سعید خطیب زادہ نے کہا کہ آبنائے ہرمزکھلی ہوئی ہے، تکنیکی وجوہات کی بنا پر ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ رکھنا ضروری ہے، آبنائے ہرمز سے محفوظ راستوں کے ذریعے سفر کو یقینی بنائیں گے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹامر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے پر بات چیت کی گئی،برطانوی وزیراعظم کے دفتر (ڈاؤننگ اسٹریٹ) کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت کے لیےعملی منصوبہ تیار کیا جائے،برطانوی وزیراعظم اس وقت خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں، جہاں وہ قطر، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں،اس سے قبل بھی برطانوی وزیراعظم نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول یا فیس قابل قبول نہیں ہوگی۔

  • میرپورخاص،طالبہ کی خود کشی،کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    میرپورخاص،طالبہ کی خود کشی،کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    میرپورخاص میں میڈیکل طالبہ کی پُراسرار خودکشی کے واقعے میں اہم پیشرفت ہوگئی۔ کالج پرنسپل، ان کی اہلیہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    میرپور خاص میں میڈیکل طالبہ کی پراسرار خودکشی کے مقدمے میں کالج پرنسپل تنویر عالم، ان کی اہلیہ پروفیسر فرزانہ سمیت 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں ہراسانی اور خودکشی پر مجبور کرنے کی دفعات شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں فارمیسی لیکچرر عابد لغاری اور 2 طالب علم بھی نامزد کیے گئے ہیں، مقدمہ متوفیہ طالبہ کے ماموں کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ لیکچرر اور 2 طالب علم طالبہ کو بلیک میل کرتے تھے، معاملے پر کالج پرنسپل اور ان کی پروفیسر اہلیہ سے کئی بار شکایت کی گئی، تاہم انہوں نے کارروائی کے بجائے طالبہ پر شکایت واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا۔متن کے مطابق پرنسپل اور ان کی پروفیسر اہلیہ نے شکایت واپس نہ لینے پر طالبہ کا داخلہ رد کرنے کی دھمکی دی اور ہراساں کیا۔

  • سندھ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی نافذ، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات محدود

    سندھ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی نافذ، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات محدود

    کراچی: سندھ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دکانوں، شاپنگ مالز، ہوٹلز اور شادی ہالز کے نئے اوقات کا اعلان کر دیا ہے۔

    حکومت سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گے، جبکہ دیگر اضلاع میں یہ اوقات رات 8 بجے تک محدود کر دیے گئے ہیں۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس کو شام 7 بجے سے رات 11 بج کر 30 منٹ تک کھلا رکھنے کی اجازت ہوگی، تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں ہوگی۔اسی طرح شادی ہالز اور بینکوئٹس کو رات 8 بجے سے 12 بجے تک تقریبات منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ تندور، دودھ کی دکانیں، بیکریز، میڈیکل اسٹورز، لیبارٹریز، کلینکس، اسپتال اور پیٹرول پمپس ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔نوٹیفکیشن کے مطابق کفایت شعاری پالیسی پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، اور متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ نئے اوقات کار پر سختی سے عمل یقینی بنایا جائے۔

  • امریکا،ایران مذاکرات،وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سیکورٹی اجلاس

    امریکا،ایران مذاکرات،وزیرداخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سیکورٹی اجلاس

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرِ صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے تیاریوں اور سکیورٹی پلان کا تفصیلی جائزہ لیاگیا ۔

    وفاقی وزیر محسن نقوی نے غیر ملکی مہمانوں کیلئے فول پروف انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ جنگ بندی کے بعد امریکہ ایران مذاکرات کا اسلام آباد میں انعقاد پاکستان کیلئےاعزاز کی بات ہے ۔ اجلاس کوآگاہ کیا گیا کہ اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد کےسلسلے میں سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے وزارت داخلہ میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیاہے۔اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری،وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد پولیس، کمشنر راولپنڈی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی سی اسلام آباد، رینجرز، فیڈرل کانسٹیبلری اور وزارت خارجہ کے حکام نے شرکت کی۔

  • اسلام آباد، امریکا،ایران مذاکرات، امریکی وفد اپنی گاڑیاں استعمال کرے گا

    اسلام آباد، امریکا،ایران مذاکرات، امریکی وفد اپنی گاڑیاں استعمال کرے گا

    اسلام آباد میں ہونے والے امریکا،ایران مذاکرات کے دوران امریکی وفد اپنی ذاتی سکیورٹی گاڑیاں استعمال کرے گا۔

    ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد سے قبل جمعرات کے روز ایک خصوصی طیارہ پاکستان پہنچا، جس میں وفد کے لیے جدید اور محفوظ گاڑیاں بھی لائی گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گاڑیاں امریکی وفد کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوں گی تاکہ سکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ خصوصی طیارہ C-15 کے ذریعے لایا گیا سامان سفارتی سطح پر غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے کیونکہ اس کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کا آغاز آج سے اسلام آباد میں ہو رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے انتہائی اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کا پہلا مرحلہ آج وفود کی سطح پر ہوگا، جبکہ مرکزی اور فیصلہ کن مرحلہ ہفتے کے روز متوقع ہے۔ امریکی وفد میں نائب صدر جے ڈی وینس کے علاوہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے،اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں، شرکاء کیلئے ویزا آن آرائیول کی سہولت بھی متعارف کرادی گئی ہے۔