قصور
شہر میں تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن، فوڈ گیلری میں غیر قانونی تعمیرات مسمار
قصور: گزشتہ روز شہر کی معروف فوڈ گیلری میں ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر پیرا فورس نے تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا
کارروائی کے دوران دکانداروں کی جانب سے لگائے گئے غیر قانونی سائن بورڈز، ناجائز ریمپ، تھڑے اور دیگر تجاوزات کو بھاری مشینری کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔ آپریشن کے باعث علاقے میں عارضی طور پر ہلچل رہی جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی
ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام عوامی گزرگاہوں کو بحال کرنے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کے سلسلے کی کڑی ہے
حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی سرکاری جگہ پر ناجائز قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ذرائع کے مطابق بعض دکانداروں نے کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم انتظامیہ نے واضح کیا کہ آپریشن قانون کے مطابق اور پیشگی نوٹس کے بعد کیا گیا
شہری حلقوں نے تجاوزات کے خاتمے کے اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائیں تاکہ شہر میں نظم و ضبط اور صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے
Blog
-

قصور کی مشہور زمانہ فوڈ گیلری میں آپریشن کیا گیا
-

ایران امریکا جنگ بندی: حیران کن حد تک درست پیشگوئی کرنے والا شخص کروڑ پتی بن گیا
عالمی واقعات اور سیاست پر شرطیں لگانے والی مشہور ویب سائٹ ’پولی مارکیٹ‘ پر ایک گمنام صارف نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کی بالکل درست پیش گوئی کر کے چار لاکھ ڈالرز یعنی کروڑوں روپے جیت لیے ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ’پولی مارکیٹ ہسٹری‘ نامی اکاؤنٹ نے ان مشکوک شرطوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہی صارف نے دو ایسی شرطیں جیتیں جن کا وقت اور نتیجہ سو فیصد درست تھا، اس شخص نے نہ صرف ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کا صحیح وقت بتایا بلکہ بدھ کے روز ہونے والی جنگ بندی کی تاریخ کی بھی بالکل درست پیش گوئی کی۔
اس غیر معمولی جیت پر کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ محض قسمت کا کھیل نہیں بلکہ ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ یعنی اندرونی معلومات کا نتیجہ ہو سکتا ہے-
اس سے قبل بھی جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کا فیصلہ کیا تھا، تو اسی طرح کے چند گمنام اکاؤنٹس نے عین وقت پر درست شرطیں لگا کر بھاری رقم جیتی تھی، اور اب ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھی یہی سلسلہ جاری ہے،ان واقعات کے بعد پولی مارکیٹ کو شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید کچھ لوگوں کو امریکی حکومت کے اہم فیصلوں کی پہلے سے خبر ہوتی ہے جو اس پلیٹ فارم کا استعمال کر کے بڑی رقم بناتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب عام دنیا جنگ کے سائے میں ڈری ہوئی ہوتی ہے، اس وقت کچھ گمنام لوگ ان فیصلوں سے لاکھوں ڈالرز کما رہے ہوتے ہیں،فی الحال اس صارف کی شناخت سامنے نہیں آسکی ہے لیکن اس واقعے نے آن لائن جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز کی شفافیت پر بڑ ے سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔
-

لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ چند شرائط سے مشروط ہے، ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے روکنا ہوں گے۔
اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی صرف ایران تک محدود ہے اور اس میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے، اسرائیل امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو جوہری، میزائل اور دہشت گردی کے خطرات سے روکنا ہے۔ اسرائیلی موقف کے مطابق ایران کو خطے میں سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اس جنگ بندی پر اب تک کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک معنی خیز پیغام شیئر کیا ہے۔
حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ایک پرانا بیان شیئر کیا ہے جس کے ساتھ پھٹے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کی تصویر لگائی گئی ہے،اس پیغام میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ہم دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
حزب اللہ کے اس انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لبنان کے محاذ پر اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان ہونے والے اس عارضی سمجھوتے سے ان کے عسکری موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی۔
-

جنگ بندی،پاکستان کی کامیابی،بھارت میں صف ماتم،تجزیہ کارمودی پر برس پڑے
امریکا ،ایران جنگ بندی،پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کردار نے عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل کی ہے، جس کے بعد خطے سمیت بین الاقوامی حلقوں میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں اس پیش رفت پر سیاسی و تجزیاتی حلقوں میں بحث کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد تجزیہ کاروں نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی نے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک بھارتی تجزیہ کار نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل اڑی واقعے کے بعد نریندر مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے ، آج سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کا نام ہے اور بھارت اور نریندری مودی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔
دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی تجویز کو اصولی طور پر قبول کر لیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فیصلے کی منظوری مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے دی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران پر حملے بند ہو جائیں تو ایران بھی جوابی کارروائی روک دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ ٹرانزٹ ممکن بنایا جا سکتا ہے، جس کے لیے فوجی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانات کے بعد اپنی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر قبل دو ہفتوں کے لیے عسکری کارروائی روکنے کا اعلان کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی ثالثی کو اس تناظر میں ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اسے بین الاقوامی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کردار کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
-

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ،تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مارکیٹوں میں تیزی
پاکستان کی مؤثر اور فعال سفارتکاری کے نتیجے میں عالمی سطح پر مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور عالمی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 19 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق کشیدگی میں کمی کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف عالمی ایکسچینجز میں شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے کاروباری برادری نے خوش آئند قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران نے عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جس کی منظوری ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دی گئی۔
-

جنگ بندی اعلان کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز 2 ہفتے کیلئےکھولنے کا اعلان
امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہرمز سب کیلئے 2 ہفتے کیلئے کھولنےکا اعلان کردیا۔
وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے اپنے عزیز بھائی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مشکورہوں کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کی انتھک کوشش کی،یرا ن نے وزیراعظم شہبازشریف کی اپیل اور 15 نکاتی تجاویز پر امریکا کی جانب سے مذاکرات کی درخواست مان لی ہے اور امریکا کے صدرٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجاویز پر عمومی فریم ورک پر بھی اتفاق کرلیاہے، اس بنیاد پر میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے حوالے سے کہتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے گئے تو ہماری طاقتور افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کردیں گی، ایرانی فوج سے رابطے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے دو ہفتے کیلئے محفوظ راستہ دیا جائے گا تاہم اس میں تکنیکی قیود کا خیال رکھنا ہوگا
-

جنگ بندی،پاکستان نے 10 اپریل کو وفود کو اسلام آباد مدعو کر لیا،وزیراعظم
پاکستان کی کوششوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا،وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی غرض سے ان کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد مدعو کیا ہے،وزیراعظم نے کہا ہمیں پوری امید ہےکہ اسلام آباد مذاکرات’ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور ہم آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہشمند ہیں۔
-

ایران بھی پاکستان کی مان گیا،سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی دی منظوری
ایران نے پاکستان کی دو ہفتےکی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی، ایران کے نئے سپریم لیڈر نے جنگ بندی کی منظوری دی۔
ایرانی میڈیا نے کہاکہ ایران مخالف بیان بازی سے ٹرمپ کی ذلت آمیز پسپائی ہوئی جبکہ ایرانی وزیر خا رجہ عباس عراقچی نے کہا ایران پرحملے رک گئے تو ایران بھی حملے روک دے گا، ایرانی فوج سےرابطےکےساتھ آبنائےہرمزسےدوہفتےتک محفوظ ٹرانزٹ ممکن ہے،ایرانی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نےجنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط مان لیں جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی بندی کا اعلان کیا ہے،ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے دو ہفتے کے جنگ بندی کے معاہدے کے مطابق روک دیے گئے ہیں،ادھر اسرائیلی میڈ یا اور وائٹ ہاؤس عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے بھی عارضی جنگ بندی سے اتفاق کر لیا۔
-

وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست،ٹرمپ نے 2 ہفتوں کی جنگ بندی تجویز قبول کر لی
ایران کی پوری تہذیب ایک رات میں ختم کرنے کی دھمکی کے بعدامریکی صدر نے اپنی دی گئی ڈ یڈ لا ئن ختم ہونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ایران پر بمباری دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر حملےکودوہفتوں کےلیےمعطل کرنے پر متفق ہوں، یہ دوطرفہ جنگ بندی ہوگی، اس شرط کے ساتھ کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقےسےکھولنے پر آمادہ ہو۔صدر ٹرمپ نے کہا پاکستانی کے وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈ مارشل عاصم منیرکےساتھ گفتگوہوئی، پاکستانی قیادت کی درخواست پرایران پرحملےمعطل کرنےپررضامندہوا، میں سمجھتاہوں یہ قابل عمل بنیاد ہےجس پربات چیت ہوگی، ہم پہلےہی تمام عسکری اہداف حاصل کرچکے ہیں بلکہ ان سےآگےبڑھ چکےہیں، مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق حتمی معاہدےکےقریب پہنچ چکےہیں، ہمیں ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے اور ہمارا مانناہےکہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں دوہفتے توسیع کی درخواست کی تھی۔ وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی بھی درخواست کی تھی۔سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور جلد ٹھوس نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھولنے کی بھی درخواست کردی۔شہباز شریف نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی کریں تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
-

ملک میں تیل کے ذخائر 12 دن کیلئے کافی: ڈیزل 25 دن کے لیے کافی
وزارتِ خزانہ نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت پاکستان میں خام تیل کے ذخائر تقریباً 12 دن کے لیے جبکہ ڈیزل کے ذخائر 25 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
یہ جائزہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں لیا گیا جس میں پٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں ایندھن کی فراہمی، قیمتوں اور سپلائی چین کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ملک میں پٹرول کے بھی وافر ذخائر موجود ہیں اور موجودہ طلب کو باآسانی پورا کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ آئندہ ہفتوں کے لیے تیل کی درآمد کے انتظامات بھی پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت جاری ہیں، جس سے سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔
اجلاس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پٹرول کی قیمت میں 48.61 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 101.18 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کے لیے ایندھن کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ متاثر نہ ہو۔
وزیرِ خزانہ نے اوگرا کو ہدایت کی کہ سپلائی چین میں شفافیت لانے کے لیے ڈیٹا رپورٹنگ اور ڈیجیٹل نظام کو مزید بہتر اور تیز کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں پی ایس او کے پٹرول پمپس کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
یہ ٹیمیں ایف آئی اے، اوگرا، پٹرولیم ڈویژن اور پی ایس او کے نمائندوں پر مشتمل ہوں گی جو اسٹاک کی درست معلومات اور بروقت ڈیٹا انٹری کو یقینی بنائیں گی۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور صارفین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔