اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) حکومت پنجاب کے کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کے لیے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے احکامات کے مطابق تمام دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز ہفتے بھر رات 8 بجے بند ہوں گے۔ تاہم فارمیسیاں، میڈیکل سٹورز، میڈیکل لیبارٹریاں اور ہسپتال اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔اسی طرح پٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، تندور، بیکریاں اور دودھ/ڈیری شاپس بھی اس پابندی میں شامل نہیں ہوں گے۔ تمام ہوٹلز اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ ہوم ڈلیوری اور پارسل سروس کی اجازت ہوگی۔شادی ہالز، بینکوئٹس اور شادی کی تقریبات کو بھی رات 10 بجے تک ختم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، چاہے وہ گھروں یا فارم ہاؤسز پر ہی کیوں نہ ہوں۔ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے ضلعی انتظامیہ کو احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مفاد عامہ کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔انہوں نے تینوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، چیف افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ انجمن تاجران سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں، بصورت دیگر خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Blog
-

اوکاڑہ: حکومتی کفایت شعاری اقدامات نافذ، مارکیٹس رات 8 بجے بند کرنے کا حکم
-

کوہ ہندوکش اور افغانستان میں 4.4 شدت کا زلزلہ
کوہ ہندوکش اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-
کوہ ہندوکش اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.4 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 128 کلومیٹر تھی،حکام کے مطابق زلزلہ رات ایک بج کر 4 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے درمیانے درجے کے تھے، تاہم اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زلزلے کی شدت سطح زمین پر نسبتاً کم محسوس کی گئی۔
-

ایران اور عمان آبنائےے گزرنے والے تجارتی جہازوں سےٹیکس وصول کریں گے،ایسوسی ایٹڈ پریس
امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کے دوران ایک اہم اور نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے علاقائی حکام کے حوالے سے بتایا کہ منگل کے روز اِس منصوبے پر بات چیت کی گئی ہے کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس یا ٹیکس وصول کر سکیں گے اور فیس عائد کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز جمع کرنا ہے۔
ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران اس رقم کو تعمیرِ نو کے کاموں میں استعمال کرے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ عمان اپنی حاصل کردہ رقم کس مقصد کے لیے خرچ کرے گا۔
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی سمندری حدود میں واقع ہے، لیکن اب تک دنیا اسے ایک بین الاقوامی آبی راستہ سمجھتی آئی ہے جہاں سے گزرنے کے لیے کبھی کوئی فیس ادا نہیں کی گئی ایران اب یہ چاہتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مستقل امن معاہدے کے حصے کے طور پر اسے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی اجازت دی جائے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیس جہاز کی قسم، اس پر لدے سامان اور دیگر حالات کو دیکھ کر مقرر کی جائے گی ،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ،ہم عمان کے ساتھ مل کر ایک ایسا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں جس کے تحت جہازوں کو یہاں سے گزرنے کے لیے اجازت نامے اور لائسنس حاصل کرنے ہوں گے تاکہ اس راستے سے آمد و رفت کو مزید سہل بنایا جا سکے۔
عالمی سطح پر اس تجویز کو شدید تنقید اور تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ جدید تاریخ میں کبھی بھی کسی قدرتی آبی گزرگاہ پر اس طرح یکطرفہ طور پر فیس لاگو نہیں کی گئی،بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی قدرتی آبنائے کے ساحلی ممالک وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے صرف مخصوص خدمات جیسے کہ رہنمائی یا ٹگ بوٹ کی فیس لے سکتے ہیں، لیکن محض گزرنے کا ٹیکس نہیں لگا سکتے اس کے برعکس نہر سوئز یا نہر پانامہ جیسے راستے انسانوں نے خود کھود کر بنائے ہیں، اس لیے وہاں فیس وصول کی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس فیصلے پر اصرار کرتا ہے تو عالمی برادری کے لیے اسے روکنا مشکل ہوگا کیونکہ ایران کے پہاڑی ساحلوں پر موجود مضبوط فوجی پوزیشنز اسے یہ طاقت دیتی ہیں کہ وہ دور تک جہازوں کو نشانہ بنا سکے۔
-

جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن
دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔
جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی ایران میں لوگ خوشی میں سڑکوں پر نکل آئے، اس دوران لوگوں نے قومی پرچم تھامے ہوئے تھے اور پرجوش نعرے بازی کی مظاہروں میں خواتین، بچے، بوڑھے ، جوان سب شامل رہے اور مختلف شہری تنصیبات کے گرد انسانی زنجیر بھی بنائی۔
بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین فتح کے نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایک طبقہ اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
مظاہرین کے ایک گروہ نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے مظاہرین کو پرامن رکھنے کے لیے منتظمین نے کوششیں کیں، لیکن عوام کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔
سڑکوں پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کر لیا ہے تو ہم بھی اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے، تاہم، بہت سے شہریوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا، کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے ہیں،شاید یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
ادھر ایرانی موسیقار علی قمصری نے دماوند پاور پلانٹ کے باہر دھرنا دیا اور کہا حملے روکنے کے لیے موسیقی بجائیں گے دوسری جانب عراق کے دارالحکو مت بغداد میں بھی جنگ بندی پر جشن کا سماں رہا، لوگ رات گئے گھروں سے باہرنکل آئے، ایران پر مسلط جنگ روکے جانے کاخیرمقدم کیا۔
-

قصور کی مشہور زمانہ فوڈ گیلری میں آپریشن کیا گیا
قصور
شہر میں تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن، فوڈ گیلری میں غیر قانونی تعمیرات مسمار
قصور: گزشتہ روز شہر کی معروف فوڈ گیلری میں ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر پیرا فورس نے تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن کرتے ہوئے متعدد غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا
کارروائی کے دوران دکانداروں کی جانب سے لگائے گئے غیر قانونی سائن بورڈز، ناجائز ریمپ، تھڑے اور دیگر تجاوزات کو بھاری مشینری کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔ آپریشن کے باعث علاقے میں عارضی طور پر ہلچل رہی جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی
ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام عوامی گزرگاہوں کو بحال کرنے، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کے سلسلے کی کڑی ہے
حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی سرکاری جگہ پر ناجائز قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ذرائع کے مطابق بعض دکانداروں نے کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم انتظامیہ نے واضح کیا کہ آپریشن قانون کے مطابق اور پیشگی نوٹس کے بعد کیا گیا
شہری حلقوں نے تجاوزات کے خاتمے کے اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائیں تاکہ شہر میں نظم و ضبط اور صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے -

ایران امریکا جنگ بندی: حیران کن حد تک درست پیشگوئی کرنے والا شخص کروڑ پتی بن گیا
عالمی واقعات اور سیاست پر شرطیں لگانے والی مشہور ویب سائٹ ’پولی مارکیٹ‘ پر ایک گمنام صارف نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ بندی کی بالکل درست پیش گوئی کر کے چار لاکھ ڈالرز یعنی کروڑوں روپے جیت لیے ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ’پولی مارکیٹ ہسٹری‘ نامی اکاؤنٹ نے ان مشکوک شرطوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہی صارف نے دو ایسی شرطیں جیتیں جن کا وقت اور نتیجہ سو فیصد درست تھا، اس شخص نے نہ صرف ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کے آغاز کا صحیح وقت بتایا بلکہ بدھ کے روز ہونے والی جنگ بندی کی تاریخ کی بھی بالکل درست پیش گوئی کی۔
اس غیر معمولی جیت پر کئی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ محض قسمت کا کھیل نہیں بلکہ ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ یعنی اندرونی معلومات کا نتیجہ ہو سکتا ہے-
اس سے قبل بھی جب صدر ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کا فیصلہ کیا تھا، تو اسی طرح کے چند گمنام اکاؤنٹس نے عین وقت پر درست شرطیں لگا کر بھاری رقم جیتی تھی، اور اب ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھی یہی سلسلہ جاری ہے،ان واقعات کے بعد پولی مارکیٹ کو شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے کیونکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید کچھ لوگوں کو امریکی حکومت کے اہم فیصلوں کی پہلے سے خبر ہوتی ہے جو اس پلیٹ فارم کا استعمال کر کے بڑی رقم بناتے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب عام دنیا جنگ کے سائے میں ڈری ہوئی ہوتی ہے، اس وقت کچھ گمنام لوگ ان فیصلوں سے لاکھوں ڈالرز کما رہے ہوتے ہیں،فی الحال اس صارف کی شناخت سامنے نہیں آسکی ہے لیکن اس واقعے نے آن لائن جوا کھیلنے والے پلیٹ فارمز کی شفافیت پر بڑ ے سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں۔
-

لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا۔
اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ چند شرائط سے مشروط ہے، ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے روکنا ہوں گے۔
اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی صرف ایران تک محدود ہے اور اس میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے، اسرائیل امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو جوہری، میزائل اور دہشت گردی کے خطرات سے روکنا ہے۔ اسرائیلی موقف کے مطابق ایران کو خطے میں سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اس جنگ بندی پر اب تک کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک معنی خیز پیغام شیئر کیا ہے۔
حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ایک پرانا بیان شیئر کیا ہے جس کے ساتھ پھٹے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کی تصویر لگائی گئی ہے،اس پیغام میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ہم دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
حزب اللہ کے اس انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لبنان کے محاذ پر اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان ہونے والے اس عارضی سمجھوتے سے ان کے عسکری موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی۔
-

جنگ بندی،پاکستان کی کامیابی،بھارت میں صف ماتم،تجزیہ کارمودی پر برس پڑے
امریکا ،ایران جنگ بندی،پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں اور ثالثی کردار نے عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل کی ہے، جس کے بعد خطے سمیت بین الاقوامی حلقوں میں اس پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری جانب بھارت میں اس پیش رفت پر سیاسی و تجزیاتی حلقوں میں بحث کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد تجزیہ کاروں نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی نے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک بھارتی تجزیہ کار نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً ایک دہائی قبل اڑی واقعے کے بعد نریندر مودی نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے ، آج سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کا نام ہے اور بھارت اور نریندری مودی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔
دریں اثنا، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی تجویز کو اصولی طور پر قبول کر لیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فیصلے کی منظوری مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے دی گئی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران پر حملے بند ہو جائیں تو ایران بھی جوابی کارروائی روک دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آئندہ دو ہفتوں تک محفوظ ٹرانزٹ ممکن بنایا جا سکتا ہے، جس کے لیے فوجی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانات کے بعد اپنی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر قبل دو ہفتوں کے لیے عسکری کارروائی روکنے کا اعلان کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی ثالثی کو اس تناظر میں ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اسے بین الاقوامی سطح پر ایک ذمہ دار اور فعال کردار کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
-

پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ،تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مارکیٹوں میں تیزی
پاکستان کی مؤثر اور فعال سفارتکاری کے نتیجے میں عالمی سطح پر مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور عالمی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 19 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق کشیدگی میں کمی کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف عالمی ایکسچینجز میں شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے کاروباری برادری نے خوش آئند قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران نے عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جس کی منظوری ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دی گئی۔
-

جنگ بندی اعلان کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز 2 ہفتے کیلئےکھولنے کا اعلان
امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہرمز سب کیلئے 2 ہفتے کیلئے کھولنےکا اعلان کردیا۔
وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایران کی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے اپنے عزیز بھائی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مشکورہوں کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کی انتھک کوشش کی،یرا ن نے وزیراعظم شہبازشریف کی اپیل اور 15 نکاتی تجاویز پر امریکا کی جانب سے مذاکرات کی درخواست مان لی ہے اور امریکا کے صدرٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجاویز پر عمومی فریم ورک پر بھی اتفاق کرلیاہے، اس بنیاد پر میں ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے حوالے سے کہتا ہوں کہ اگر ایران پر حملے روک دیے گئے تو ہماری طاقتور افواج بھی دفاعی کارروائیاں بند کردیں گی، ایرانی فوج سے رابطے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے دو ہفتے کیلئے محفوظ راستہ دیا جائے گا تاہم اس میں تکنیکی قیود کا خیال رکھنا ہوگا