ننکانہ صاحب (نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے ننکانہ سٹی اور واربرٹن کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران انہوں نے واربرٹن میں سنٹر میڈین بیوٹیفکیشن منصوبے کا افتتاح کیا اور شہر کے مختلف مقامات پر جاری ترقیاتی کاموں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ بازاروں سے تجاوزات کے فوری خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور راستوں میں رکاوٹ بننے والے کاروباری مراکز کو سیل کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے وارڈز، لیبارٹری، ایکسرے روم اور وہیل چیئرز کی دستیابی کا جائزہ لیا اور مریضوں و تیمارداروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ علاج معالجہ کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ، سستی یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ضلع کے داخلی و خارجی راستوں کی خوبصورتی کے لیے شجرکاری مہم کے تحت سڑکوں کے اطراف لاکھوں پودے لگائے جا رہے ہیں جبکہ بازاروں کو ماڈل بازار بنانے کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ واربرٹن ماڈل بازار منصوبہ جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ترقیاتی کاموں کی خود مانیٹرنگ کی جا رہی ہے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت جلد الیکٹرک بسیں سڑکوں پر نظر آئیں گی جس سے عوام کو بڑا ریلیف ملے گا، جبکہ پبلک پارکس کی بحالی کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مریم نواز کے ویژن کے مطابق شہری سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
Blog
-

پاکستان میں شمسی توانائی کا فروغ توانائی تحفظ کی مضبوط ڈھال بن گیا
پاکستانی قیادت کی بہترین حکمت عملی اور دور اندیشی نے شمسی توانائی سے توانائی بحران کو حل کر دیا
حالیہ کشیدی سے پیدا ہونےو الے عالمی بحران کے برعکس پاکستان توانائی میں مضبوط خودکفیل بن کر ابھرا ہے،سی این این کی رپورٹ کے مطابق حالیہ کشیدگی میں عالمی بحران سے تیل و گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے معیشتیں متاثر ہو رہی ہیں ،تمام تر حالیہ صورتحال کے باوجود پاکستان جنوبی ایشیا کا واحد ملک ہے جو توانائی بحران سے محفوظ ہے، گزشتہ 2 سے 3 برسوں میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر سولر پینلز کی تنصیب ہوئی ہے اور اندازاً 25 فیصد بجلی سولر سے پیدا ہو رہی ہے،اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی سپلائی میں رکاوٹوں کے اثرات پاکستان پرانتہائی محدود ہیں،
پاکستان نے خاموش انقلاب سے شمسی توانائی میں نمایاں اضافہ کیا، جو آج ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آ رہا ہے ،شمسی توانائی میں فروغ کے بعد پاکستان نے 2020 کے بعد توانائی کی برآمد میں 12 ارب ڈالر سے زائد کی بچت کی ،عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود پاکستان میں رواں سال کے اختتام تک مزید 6.3 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے ،قابلِ تجدید توانائی کا فروغ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفالت، استحکام اور معاشی بہتری کی مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے
-

شراب پی کر ڈرائیونگ کا الزام:کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر پر مقدمہ درج
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم کراچی کنگز کے کپتان آسٹریلوی کرکٹر ڈیوڈ وارنر پر شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق سڈنی کے علاقے ماروبرا میں پولیس نے گاڑی چلاتے ڈیوڈ وارنر کا ٹیسٹ کیا،ڈیوڈ وارنر نے پولیس کے ٹیسٹنگ سینٹر سے پہلے ہی گاڑی روکی تاہم اہلکاروں نے ان کا بریتھ ٹیسٹ لیا،وارنر کا ٹیسٹ مثبت آنے پر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، ڈیوڈ وارنر کو نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے گرفتار کر کے پولیس اسٹیشن منتقل کیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈیوڈ وارنر کو 7 مئی کو عدالت میں پیش کیا جائے گا ڈیوڈ وارنر پی ایس ایل میں کراچی کنگز کی کپتانی کر رہے ہیں جب کہ وہ پی ایس ایل سے چند روز کی چھٹیوں پر آسٹریلیا گئے تھے اور انہیں 9 اپریل کو ٹیم کو دوبارہ جوائن کرنا تھا۔
-

سینیٹ پینل کا پی آئی اے کیبن کریو واقعے کی تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا اجلاس منگل کے روز سینیٹر وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں متعدد استحقاقی تحریکوں اور انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا، جبکہ خاص طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے کیبن کریو سے متعلق مبینہ بدسلوکی کو زیر غور لایا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی، سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل (ویڈیو لنک کے ذریعے)، سینیٹر عطا الرحمٰن ،سینیٹر جان محمد اور سینیٹر دوست علی جیسر نے شرکت کی۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر وقار مہدی نے ہدایت کی کہ پی آئی اے کے کیبن کریو کے رویے کی تحقیقات وزارت دفاع کے ذریعے کسی تیسرے فریق سے کروائے۔ یہ ہدایت سینیٹر بلال احمد خان مندوخیل کی جانب سے 12 فروری 2026 کو پیش کی گئی تحریکِ استحقاق کی بنیاد پر دی گئی، جس میں 7 فروری کو کوئٹہ سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز PK-326 میں کیبن کریو کی رکن مس صائمہ رانا کی مبینہ بدسلوکی کو رپورٹ کیا گیا تھا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ 17 فروری 2026 کو جاری کی گئی سفارشات میں کیبن کریو کی رکن اور متعلقہ پائلٹ دونوں کو گراؤنڈ کرنے کا کہا گیا تھا، تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ پی آئی اے نے ان ہدایات پر عملدرآمد نہیں کیا۔ سینیٹر مندوخیل نے اس عدم تعمیل مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واضح ہدایات کے باوجود عملے کو ڈیوٹی جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے نے غیر جانبدار دو فریقی انکوائری کے بجائے صرف اپنی ادارہ جاتی تحقیقات پر انحصار کیا اور انہیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عملے کی رکن کو غلطی کی صورت میں معافی مانگنے کے کئی مواقع دیے گئے، مگر عملے اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کی جانب سے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوششوں کے باوجود کوئی خاطر خواہ جواب موصول نہیں ہوا۔
سینیٹر مندوخیل نے کہا کہ انہوں نے سفر کے لیے بھاری کرایہ ادا کیا، مگر انہیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس بنیاد پر جہاز کا دروازہ بند کیا گیا، مسافروں کو اترنے سے روکا گیا اور اے ایس ایف اہلکاروں کو طلب کیا گیا، جبکہ کوئی جرم یا غیر قانونی عمل سرزد نہیں ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سینیٹر کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام مسافر سے ایسے معاملے میں مزید تشویشناک سلوک ہوسکتا ہے، اور ایسے حالات میں کسی عام شہری کو حراست کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔
سینیٹر بلال نے کیبن کریو کی رکن اور پائلٹ دونوں کو ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش کی، تاہم کمیٹی کی اجتماعی رائے کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ وزارت دفاع کے ذریعے تھرڈ پارٹی انکوائری کرائی جائے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ تحقیقات مکمل ہونے تک عملہ کے دونوں ارکان کو گراؤنڈ رکھا جائے۔
سینیٹ کمیٹی نے متعدد استحقاقی معاملات پر غور کیا، جوابدہی کا مطالبہ
ایک اور معاملے میں سینیٹر عطا الرحمٰن نے سینیٹ سیکریٹریٹ کے سیکیورٹی عملے کے رویے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ بارش کے دوران خراب موسم سے بچنے کی کوشش کے دوران انہیں گیٹ نمبر 5 سے داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں نے چیئرمین سینیٹ کی ہدایات کا حوالہ دیا، جبکہ اسی دوران ایک اور سینیٹر کی گاڑی کو بغیر رکاوٹ گزرنے دیا۔ کمیٹی نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔کمیٹی نے چیئرمین وقار مہدی کی جانب سے اٹھائی گئی ایک اور استحقاقی تحریک پر بھی غور کیا، جو کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کے سیکریٹری بیرسٹر نبیل احمد اعوان کے مبینہ رویے سے متعلق تھی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ جواب اور معذرت نامہ جمع کرا دیا گیا ہے۔
تحریری جواب میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سینیٹر وقار مہدی کی کالز اور واٹس ایپ پیغامات کا جواب نہ دینے کی شکایت کو تسلیم کیا۔ جواب میں کہا گیا کہ بیرسٹر نبیل اے اعوان پارلیمنٹیرینز کا انتہائی احترام کرتے ہیں اور سینیٹ کے آئینی مقام کو تسلیم کرتے ہیں۔
جواب میں اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس میں کسی قسم کی دانستہ غفلت شامل نہیں تھی۔ بیرسٹر اعوان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوتاہی غیر ارادی تھی اور اس دوران وہ محکمانہ ترقیاتی کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کے اجلاسوں سمیت دیگر اہم سرکاری مصروفیات میں مصروف تھے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسی عرصے کے دوران پہلی بار تقریباً 500 افسران کی ترقی کے کیسز نمٹائے گئے، جس کی وجہ سے وہ معزز سینیٹر سے رابطہ نہیں کرسکے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ بیرسٹر اعوان نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ارکان پارلیمنٹ سے بروقت رابطے کو یقینی بنایا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اقدامات بھی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دوبارہ معذرت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کمیٹی اس معاملے پر درگزر کرے گی۔
کمیٹی کا وزیر اعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ، وزیر مواصلات کی عدم جواب دہی پر تشویش
ایک علیحدہ معاملے میں، سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کی جانب سے وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کے خلاف بدسلوکی کے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیر کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
کمیٹی نے اس صورتحال کو افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وزیر اعظم کے دفتر کو خط لکھا جائے، جس میں واضح کیا جائے کہ ایسے معاملات میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔کمیٹی نے اسلام آباد میں واقع مکان نمبر 622 سے متعلق گمشدہ فائل کے معاملے پر بھی غور کیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ یہ کیس اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ محفوظ کیا جا چکا ہے۔عدالتی کارروائی کے پیش نظر چیئرمین وقار مہدی نے اس معاملے کو مؤخر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ عدالت کے فیصلے کے بعد اسے دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے، اور متعلقہ حکام کی جانب سے تفصیلی بریفنگ اور رپورٹ بھی فراہم کی جائے۔
-

خطے کی صورتحال،سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے،شرجیل میمن
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر سندھ حکومت نے فوری اور عملی اقدامات کیے ہیں۔ صدرِ مملکت کی مشاورت کے بعد غریب کسانوں کے لیے بڑا ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جس کے تحت 25 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے دیے جا رہے ہیں، اور یہ عمل بینظیر ہاری کارڈ کے ڈیٹا کی بنیاد پر تیزی سے جاری ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اسی طرح موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر رجسٹرڈ بائیک پر 2000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ صوبے میں 67 لاکھ سے زائد موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ٹرانسفر فیس مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔ عوامی سہولت کے لیے ایکسائز دفاتر کو ہفتے کے ساتوں دن صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک کھلا رکھا گیا ہے۔سندھ واحد صوبہ ہے جو سرکاری ٹرانسپورٹ ساتھ ساتھ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کو بھی سبسڈی فراہم کر رہا ہے تاکہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ ایکسائز ایپ کو عوام کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی، جہاں پریس کانفرنس کے دوران ہی 1500 رجسٹریشنز ہوئیں، جبکہ ایک ہی دن میں 15,000 سے زائد افراد نے اندراج کروایا، اور ہزاروں شہریوں کو ادائیگیاں بھی موصول ہو چکی ہیں۔مزید برآں، منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں 500 کلو سے زائد آئس (مالیت تقریباً 5 ارب روپے) ضبط کی گئی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سندھ کو اس ناسور سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات جاری ہیں۔یہ تمام اقدامات عوامی ریلیف، سہولت اور ایک بہتر، محفوظ اور خوشحال سندھ کی جانب واضح پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔
-

تارکین وطن کی ایک اورکشتی ڈوب گئی، 6 پاکستانی لاپتہ
لیبیا سے اٹلی جانے کی کوشش میں تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کی تحصیل پھالیہ سے تعلق رکھنے والے 6 نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ کشتی 4 اپریل کو لیبیا سے روانہ ہوئی تھی جس میں مجموعی طور پر 105 افراد سوار تھے لاپتہ ہونے والے 6 نوجوانوں میں سے چار کا تعلق ایک ہی گاؤں ٹھٹہ کدھیوالہ سے ہے جن میں طیب عباس گھمن، عرفان ورک، تنویر صادق اور فیضان ساجد شامل ہیں ان کے علاوہ پنڈی لالہ کے رہا ئشی اقبال ارشد اور سعد ظفر بھی لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔
ان نوجوانوں کے والدین اور اہل خانہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ان کی تلاش اور واپسی کے لیے فوری طور پر سفارتی سطح پر اقدامات کیے جائیں اس حادثے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 30 افراد اپنی جانیں بچا کر اٹلی کے پناہ گزین کیمپ پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں جن میں زیادہ تر افغان باشندے بتائے جاتے ہیں۔
ان بچ جانے والوں میں پھالیہ کا ایک نوجوان عمران اصغر گھمن بھی شامل ہے جس نے پہلے پاکستان سے قطر کا ویزا لگوایا اور پھر وہاں سے غیر قانونی راستے کے ذریعے اٹلی کے لیے روانہ ہوا ،تاہم 75 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پورے واقعے کے پیچھے مبینہ طور پر ایک انسانی اسمگلر ملوث ہے جس کا نام عمران بتایا جا رہا ہے اور وہ خود بھی پھالیہ کے گاؤں کدھیوالہ کا ہی رہائشی ہےمتاثرہ خاندانوں نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں تاکہ لاپتہ نوجوانوں کے بارے میں درست معلومات حاصل کی جا سکیں۔
-

سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ
سعودی عرب کے جُبیل پیٹروکیمیکل حب پر حملہ ہوا جہاں بڑے پیمانے پر آگ لگی – آخر ایران چاہتا کیا ہے ؟
ایران کی جانب سے سعودی عرب پر یہ تازہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امن مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پاکستان امریکہ سمیت دیگر اہم مسلم ممالک کے ساتھ مسلسل اور انتہائی سطح کے سفارتی رابطوں میں مصروف ہے،ایسے ماحول میں سعودی عرب کو نشانہ بنانا امن عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے،قابل غور بات یہ ہے کہ نشانہ فوجی نہیں بلکہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس بنایا گیا، جو معاشی انفراسٹرکچر ہے،یہ اقدام نہایت غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کچھ عناصر دانستہ طور پر امن کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ، ایسے اقدامات خود ایران کے مفادات کے بھی خلاف جا سکتے ہیں،بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس نازک مرحلے پر کسی بھی جارحیت سے نہ صرف علاقائی امن بلکہ جاری سفارتی کوششیں بھی شدید متاثر ہو سکتی ہیں
-

مشرق وسطیٰ کے سلگتے حالات،پاکستان خطے میں امن کے لئے فرنٹ پر
مشرقِ وسطیٰ کے سلگتے حالات اور خطے پر تباہ کن جنگ کے بادل منڈلارہے ہیں، پاکستان خطے میں امن کیلئے ایک بار پھر فرنٹ فٹ پر نظر آرہا ہے۔
پاکستان کا اب تک کا کردار کسی شاندار سفارت کاری سے کم نہیں، اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جمی برف پگھلانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے مخلصانہ کوششیں کیں، جن کا اعتراف امریکا اور ایران سمیت پوری دنیا نے کیا۔پاکستان اپنی بے مثال کوششوں سے دونوں ممالک کو اسلام آباد اکارڈ تک لے آیا اور امن کیلئے قابل عمل نکات امریکا اور ایران کے سامنے رکھ دیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اکیلا پاکستان یہ بوجھ اٹھا سکتا ہے؟، چین کی مکمل حمایت، ترکیہ اور مصر کی ہم قدم کوششیں اپنی جگہ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کی تالی دونوں ہاتھوں سے بجے گی، پاکستان کی یہ کوششیں تبھی بار آور ثابت ہوں گی جب دو بڑے اسٹیک ہولڈرز امریکا اور ایران اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں گے۔
امن کیلئے سب کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا، حملوں کا سلسلہ روکنا ہوگا اور ان قوتوں کے ہاتھ روکنے ہوں گے جو اس جنگ کو طول دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
آج کا دن اور آنے والی رات بہت اہم مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کیلئے پاکستان کی کوششیں حساس مرحلے میں داخل ہوگئیں۔امریکا ایران جنگ رکوانے کیلئے ممکنہ اسلام آباد اکارڈ کو حتمی شکل دینے کی تگ و دو جاری ہے، حتمی مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بڑا بیان بھی سامنے آگیا، کہتے ہیں پاکستان نیک نیتی اور خیرسگالی کے تحت جدوجہد کررہا ہے، مزید تفصیلات کا انتظار کیا جائے۔
پاکستان کی جانب سے اسلام آباد اکارڈ کے نام سے دو مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کردیا گیا۔ رائٹرز کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطہ ہوا، سپہ سالار کی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی۔پلان کے تحت پہلے فوری جنگ بندی اس کے بعد ایک جامع معاہدہ ہوگا، پاکستان مذاکرات میں واحد رابطہ چینل ہے، مفاہمت کی صورت میں پاکستان کے ذریعے ہی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔آبنائے ہرمز کی بحالی کی بھی تجویز، معاہدے میں ایران کی جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا امکان ہے، بدلے میں پابندیاں نرم اور منجمد اثاثے بحال ہوسکتے ہیں۔
-

پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے،رانا ثنااللہ کی نواز شریف کہ تجویز
ن لیگ کے صوبائی صدر اور مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ نے پارٹی قائد نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے-
نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف پارٹی کے مختلف عہدوں پر بڑی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں، اس حوالے سے جلد ہی پارٹی کا مرکزی اجلاس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پارٹی صدر میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ آپ مرکزی پارٹی کو دیکھیں، احسن اقبال اپنی وزرات کے اندر مصروف ہیں اور بہت سے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ مجھے آفر کروائی گئی کہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل بن جائیں لیکن میں اس عہدے کے لیے تیار نہیں ہوں –
ایران کے رہائشی علاقوں پر اسرائیل کےشدید فضائی حملے
ان کے مطابق میں نے پارٹی صدر میاں نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل پنجاب کے علاوہ کسی اور صوبے سے ہونا چاہیے، پارٹی صدر بھی پنجاب سے ہو اور مرکزی سیکریٹری جنرل بھی پنجاب سے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے، اس عہدے پر تبدیلی لائے جائے،اگر پارٹی نے مجھے مرکزی جنرل سیکریٹری بنایا تو میں قائم مقام سیکرٹری جنرل بنوں گا کیونکہ میں وفاق میں بہت مصروف ہوں ،پارٹی کا اگر مرکزی سیکریٹری جنرل مجھے بنایا گیا تو میرے لیے پنجاب میں بیٹھنا بہت ضروری ہوگا-
رانا ثنا اللہ بتایا کہ میں نے تجویز دی ہے کہ پنجاب کے حد تک نئی تنظیم سازی کی جائے، پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، جنوبی پنجاب، وسطحی پنجاب کا الگ سے پارٹی صدر ہو اور سنٹرل پنجاب میں الگ سے تاکہ منظم طریقے سے پارٹی کو چلایا جا سکے ڈویژن اور ضلعی صدور کو تبدیل کیا جائے اور تمام عہدوں کی مدت 5 سال کی جائے تاکے جس سطح پر عہدے دیے جائیں وہاں پر کام ہو سکے ، حمزہ شہباز شریف پنجاب کے صدر کے لیے بہترین چوائس ہیں اگر وہ مان جائیں تو یہ پارٹی کے لیے بہت اچھا ہوگا، پارٹی کے لوگوں کے جو مسائل ہیں وہ با آسانی حل ہو سکیں گے۔
تہران کی فضا میں لڑاکا طیارے، بمباری سے یہودی عبادت گاہ ملبے کا ڈھیر
-

چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا لی
چین نے دنیا کی سب سے گہری زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل بنا کر ریکارڈ قائم کردیا-
چینی میڈیا کے مطابق چین کی شینجیانگ نمبر 1 ٹنل بورنگ مشین نے دنیا کا ریکارڈ قائم کیا ہے، جس نے 113 میٹر گہرائی پر زیرِ آب ہائی اسپیڈ ریل ٹنل تعمیر کیا یہ ٹنل جنوبی چین کے پرل ریور ایسچوری میں واقع ہے اور طویل شینزین جیانگمن ریلویز کے ایک اہم منصوبے کا حصہ ہے مکمل ہونے پر یہ ٹنل گوا نگ ڈونگ، ہانگ کانگ، میکاؤ گریٹر بے ایریا میں ریل نیٹ ورک کو مزید بہتر بنائے گا۔
ٹنل بورنگ مشین کے اگلے حصے میں ایک بڑا کٹر ہیڈ موجود ہے جو مستقل گردش کرتے ہوئے چٹان اور مٹی کو توڑتا ہے کٹر ہیڈ کے پیچھے مشین کا اسمبلی سیکشن ہوتا ہے، جہاں مزدور قریباً 2 میٹر چوڑائی کے ٹنل لائننگ کے سیکشن نصب کرتے ہیں، اس طرح کھدائی اور لائننگ بیک وقت کی جاتی ہے تاکہ کام کی رفتار بڑھائی جا سکے،حال ہی میں شینجیانگ نمبر 1 نے 4 کلومیٹر سے زائد فاصلہ طے کیا، اور 113 میٹر گہرائی تک پہنچا۔ ٹنل کا سب سے گہرا حصہ 116 میٹر زیرِ آب ہے، جہاں پانی کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔
