Baaghi TV

Blog

  • شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ یہ مصنوعی موسم ہے، قدرتی بادل نہیں ،مشی خان

    شرط لگانے کے لیے تیار ہوں کہ یہ مصنوعی موسم ہے، قدرتی بادل نہیں ،مشی خان

    پاکستانی ٹی وی میزبان اور اداکارہ مشی خان نے موجودہ موسم کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قدرتی موسم نہیں بلکہ مصنوعی بادل ہیں۔

    مشی خان نے کہا کہ وہ شرط لگانے کے لیے بھی تیار ہیں کہ یہ قدرتی بادل نہیں ہیں، قدرتی موسم میں اس طرح کی غیر معمولی تبدیلیاں نہیں ہوتیں، عام طور پر قدرتی بارش کے بعد موسم صاف ہو جاتا ہے لیکن حالیہ دنوں میں دیکھا گیا ہے کہ پانچ منٹ میں اندھیرا چھا جاتا ہے، بارش شروع ہو جاتی ہے اور آد ھے گھنٹے میں دھوپ نکل آتی ہے یہ قدرتی بادل نہیں ہیں، موسم میں گڑ بڑ ہے اور اس کا کچھ دن میں پتہ چل جائے گا۔

    اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    صارفین مشی خان کے اس بیان کے بعد ان پر تنقید کرتے نظر آئے،ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ مشی خان کو اب تو بادلوں اور بارشوں میں بھی پنجاب حکومت کی سازش نظر آنے لگی ہے،لیکن آ پ Believe کریں کہانی یہیں تک نہیں رکے گی کیونکہ مشی خان کا اس پر وضاحتی بیان آ نا ابھی باقی ہے،کچھ صارفین نے کہا کہ اسی لیے کہتے ہیں تعلیم بہت ضروری ہے جبکہ بعض صارفین نے کہا کہ مشی خان کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے،یہ کچھ بھی کہہ سکتی ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

  • اسلام آباد میں موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم

    اسلام آباد میں موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم

    حکومت نے شہریوں کی سہولت کے لیے موٹر سائیکل ٹرانسفر فیس ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاکہ پیٹرول سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے شہری آسانی سے اپنی بائیک اپنے نام پر منتقل کروا سکیں۔

    ڈی جی ایکسائز عرفان میمن کے مطابق شہری ایکسائز آفس اسلام آباد سے بغیر کسی فیس کے اپنا بائیک ٹرانسفر کروا سکیں گے سہولت بڑھانے کے لیے محکمہ ایکسائز کے دفاتر 24 گھنٹے کھلے رہیں گے اور اضافی کاؤنٹرز بھی لگائے گئے ہیں،یہ فیصلہ عوام تک حکومتی ریلیف پہنچانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ رجسٹریشن اور پیٹرول سبسڈی کے فوائد شہریوں کے لیے آسان اور شفاف ہوں۔

    ڈی جی محکمہ ایکسائز عرفان میمن نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ حکومتی ریلیف سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری طور پر اپنی موٹرسائیکل اپنے نام پر منتقل کرائیں،رجسٹریشن اور ٹرانسفر کے عمل کو تیز کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز میں اضافی کاؤنٹرز بھی فعال کیے جائیں گے ۔

  • اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا،پاکستان اور مصر نے صورتحال پر قریبی رابطے میں رہنے اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

  • جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگ کے سائے میں پاکستان کی خاموش کامیابی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاصم منیر کی قیادت: سفارتکاری کا نیا باب
    دنیا جنگ کے قریب، پاکستان امن کے ساتھ

    تجزیہ: شہزادقریشی

    جنگ کے دہانے پر دنیا اور پاکستان کی خاموش سفارتکاری مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جس کے لاوے نے عالمی امن، معیشت اور سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، تیل کی عالمی ترسیل پر خطرات، اور خطے میں پھیلتی ہوئی بے یقینی نے دنیا کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے نازک اور خطرناک وقت میں پاکستان نے جس دانشمندی، تحمل اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ عالمی سطح پر اسے تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری ٹیم نے ایک ایسا کردار ادا کیا ہے جو بظاہر منظرِ عام پر کم نظر آتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی سیاست میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خاموش سفارتکاری، بیک چینل رابطے اور طاقتور ممالک کے درمیان اعتماد سازی یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور قابلِ قبول ثالث کے طور پر سامنے لایا ہے۔

    امریکہ، ایران، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات رکھنا کوئی آسان کام نہیں، مگر پاکستان نے یہ توازن برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف خود کو ممکنہ جنگ سے دور رکھا بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی۔ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اس وقت پاکستان کے اسی کردار پر مرکوز ہے، جہاں اسے ایک “میڈی ایٹر اسٹیٹ” یعنی ثالثی کرنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ ایک سوچے سمجھے وژن، مربوط حکمت عملی اور مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ چند سال پہلے تک عالمی تنہائی کا تاثر رکھنے والا پاکستان آج عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ دراصل پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ہے جس نے ملک کو ایک نئی سمت دی ہے۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان نے اس تمام صورتحال میں “متوازن غیر جانبداری” کی پالیسی اپنائی یعنی نہ کسی ایک فریق کا حصہ بننا اور نہ ہی خاموش تماشائی بن کر رہ جانا، بلکہ فعال سفارتکاری کے ذریعے امن کی راہ تلاش کرنا۔ یہی حکمت عملی پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔ تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ایران اور امریکہ کے درمیان توازن برقرار رکھنا، اندرونی سیکیورٹی صورتحال کو مستحکم رکھنا، معاشی دباؤ کا سامنا کرنا، اور علاقائی طاقتوں کی ممکنہ مخالفت یہ تمام عوامل پاکستان کے لیے ایک مستقل امتحان ہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت واضح ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے جس تدبر، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پاکستان کی عالمی ساکھ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    آج دنیا ایک بار پھر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ پاکستان صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں دنیا جنگ کے بادلوں میں گھری ہوئی ہے، وہاں پاکستان نے امن، توازن اور دانشمندی کی ایک نئی مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے

  • وزیراعظم  شہباز شریف سے  ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر  کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا (Kadir Özkaya ) کی وفد کے ہمراہ ملاقات ہوئی.

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہائیوں پر محیط پاکستان اور ترکیہ کےبرادرانہ تعلقات تیزی سے ایک جامع معاشی شراکت داری کی جانب گامزن ہیں. شہریوں کی انصاف تک رسائی کے حصول کیلئے پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں. ترکیہ کی وفد کے حالیہ دورے کے دوران اسی سلسلے میں دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اس منزل کی طرف پہلا قدم ہے. انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلہ کی وسیع استعداد موجود ہے.

    وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی ، انسداد دہشتگری ، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں قوانین اور انکے نفاذ کے سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں.ترکیہ آئینی عدالت کے صدر نے پاکستان میں شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا. قادراوزقایا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ محبت ہر ترک کی رگوں میں بسی ہے. ترکیہ کی آئینی عدالت 64 سال پرانی ہے اور اپنے اس وسیع تجربے کے تبادلے کیلئے پاکستان کے ساتھ ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کے لیے تیار ہے. ملاقات میں ترکیہ کے آئینی عدالت کے فاضل جج صاحبان جناب رضوان گیولیچ (Rıdvan Guleç) اور جناب رجائی آق یل (Recai Akyel) کے علاوہ پاکستان میں ترکیہ کے سفیر جناب عرفان نظیر اولو بھی شریک ہوئے. نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    ٹیوب ویل سے پانی لینے کیلئے جانے والی 6سالہ بچی کے ساتھ زیادتی

    لکی مروت میں پانی لینے کے لیے ٹیوب ویل جانے والی 6 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

    پولیس کے مطابق معصوم بچی کے ساتھ ٹیوب ویل آپریٹر کے بیٹے نے زنا بالجبر کیا اور زنا کے بعد ملزم بچی کو خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہوگیا والدین نے بچی کو علاج معالجے کے لیے گورنمنٹ سٹی اسپتال لکی شہر منتقل کیا جہاں طبی معائنے کے دوران لیڈی ڈاکٹر نے معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کی،تھانہ لکی سٹی نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی

    واضح رہے کہ دو دن پہلے اسی تھانے کی حدود میں تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، دو روز قبل لاپتا ہونے والی بچی کی لاش جھاڑیوں سے ملی، پوسٹ مارٹم میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی ،پولیس کے مطابق نامعلوم ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی،زیر علاج ہیں، برطانوی اخبار کا دعویٰ

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر شدید زخمی اور بے ہوش ہیں، قم شہر میں ان کا علاج ہورہا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈر کی صحت سے متعلق برطانوی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا۔ دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی اور بے ہوش ہیں، ان کا ایران کے شہر قم میں علاج ہورہا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر سے متعلق امریکا اور اسرائیل کی انٹیلی جینس میمو میں انکشاف ہوا ہے، دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر روزمرہ کے معاملات چلانے کے قابل نہیں۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگ کے پہلے روز زخمی ہوئے تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پرامریکہ اور اسرائیل کے حملے کی پہلی لہر کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کیسے ہیں، کہاں ہیں؟ ان کی صحت کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی رپورٹس تاحال سامنے آچکی ہیں۔اس دوران،مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغامات سرکاری میڈیا کے ذریعے منظرعام پرآچکے ہیں لیکن وہ خود عوام کے درمیان نہیں آئے ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا ہے کہ دشمن ہر روز دھمکیاں اور تباہی کی وارننگز دے رہا ہے مگر قتل اور جرائم ایران کی مسلح افواج کو کمزور نہیں کرسکتے، مسلح افواج دشمن کیخلاف لڑائی جاری رکھیں گی۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیدیا، کہا امریکا اور اسرائیل کو ایران میں مسلسل شکستوں کا سامنا کرنا پڑا، دشمن ایران کے شہری مقامات پر حملے کررہا ہے، پل، پاور پلانٹس اور اسکولوں پر حملے انسانیت کیخلاف جرائم ہیں۔

    ایرانی حکومت نےآیت اللہ خامنہ ای کے 40 ویں پر ملک بھر میں تعزیتی تقاریب کا اعلان کر دیا،ایران بھرمیں تعزیتی اجتماعات، قرآن خوانی کا سلسلہ 8 اپریل سےشروع کیاجائےگا، جمعرات کو جمہوری اسلامی اسکوائر سے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے مقام تک مارچ ہوگا، ایران میں جمعے کو صبح 10 بجے 40 ویں کی مرکزی تقریب ہوگی۔یاد رہے امریکا نے آیت اللہ خامنہ ای کو 28 فروری کوتہران میں ان کےدفتر میں شہید کیا تھا۔

  • پاکستان کیجانب سے  خیرسگالی اقدامات اور سفارتی رابطے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں،ایران

    پاکستان کیجانب سے خیرسگالی اقدامات اور سفارتی رابطے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں،ایران

    پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔

    ایرانی سفیر کے مطابق پاکستان کی جانب سے جاری خیرسگالی اقدامات اور سفارتی رابطے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور اب یہ عمل ایک حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ ان کوششوں سے متعلق مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور مختلف فریقین کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔

  • عالمی توانائی بحران:چینی صدر کی  نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت

    عالمی توانائی بحران:چینی صدر کی نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت

    چینی صدر نے ملک کی توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نئے توانائی نظام کی منصوبہ بندی اور تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صدر شی جن پنگ نے پن بجلی کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ، اور جوہری توانائی کے محفوظ و منظم پھیلاؤ پر بھی زور دیا انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے عالمی توانائی کے رجحانات کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے نئی توانائی سلامتی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے اہم فیصلے کیے ہیں-

    صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہوا اور شمسی توانائی میں ابتدائی سرمایہ کاری ہماری دور اندیشی کا ثبوت ہے، تاہم کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو توانائی نظام کی بنیاد کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا ہوگا چین اس وقت دنیا میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث اسے سب سے بڑا کاربن اخراج کرنے والا ملک بھی سمجھا جاتا ہے –

    صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو کم کاربن اور صاف توانائی کے اہداف پر قائم رہنا ہوگا ان کے مطابق ‘ایک سبز، متنوع اور مضبوط توانائی نظام نہ صرف توانائی سلامتی بلکہ معاشی ترقی کی بھی ضمانت ہوگا-

    واضح رہے کہ گزشتہ برس چین نے تبت کے سطح مرتفع کے مشرقی کنارے پر دنیا کے سب سے بڑے پن بجلی ڈیم کی تعمیر شروع کی تھی، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق 4,550 میٹر کی بلندی پر شمسی حرارتی بجلی گھر کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

  • سانحہ گیاری سیکٹر  کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سانحہ گیاری سیکٹر کے شہداء کی لازوال قربانی کی 14 ویں برسی

    سیاچن کا محاذ دنیا کا بلند ترین میدان جنگ ہے

    سیاچن کے محاذ پر دشمن کے علاوہ شدید ترین موسم بھی پاک فوج کے آفیسر اور جوانوں کیلئے کڑی آزمائش ہے ،7 اپریل 2012 کو سیاچن کے محاذ پر انتہائی دل سوز حادثہ پیش آیا،اس حادثے میں وطن عزیز کے دفاع پر مامور بڑی تعداد میں پاک فوج کے جوان برفانی تودے کی زد میں آگئے،اس دل سوز سانحہ میں پاکستان آرمی کا بٹالین ہیڈ کوارٹر مکمل طور پر برف میں دب گیا، بٹالین ہیڈ کوارٹر میں موجود 129 فوجی جوانوں نے وطن کی حرمت کی خاطر جام شہادت نوش کیا ،اس حادثے کے اثرات اتنے تلخ تھے کہ غیر ملکی ریسکیو ٹیموں نے بھی اس مشن کو ناممکن قرار دے دیا تھا

    جذبہ حب الوطنی سے سرشار پاک آرمی کی انجینئرز کور نے اس ریسکیو آپریشن کو مکمل کرنے کا بیڑہ اٹھایا ،پاکستان آرمی کے آفیسرز اور جوانوں کی انتھک محنت اور جوانمردی سے یہ مشکل ترین آپریشن پایۂ تکمیل تک پہنچا،سانحہ گیاری کے شہداء کی قربانیوں کی یاد میں سیاچن کے محاذ پر یادگار شہداء بھی تعمیر کی گئی ،آج پوری قوم شہدائے گیاری سیکٹر کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ،شہداء گیاری کی عظیم قربانی پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی