وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کو ایک بار پھر سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پہلگام جیسے کسی واقعے کو دوبارہ دہرانے کی کوشش کی گئی تو پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور عجیب و غریب بیانات دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کا فالس فلیگ آپریشن کرنے کی کوشش کی تو اس بار ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان نے 200 سے 250 کلومیٹر تک کارروائی کی تھی، لیکن اگر ایسی کوئی صورتحال دوبارہ پیدا ہوئی تو اس بار ہم کلکتہ تک پہنچیں گے۔
وزیر دفاع نے ملک کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے تاہم حکومت اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی مشکل حالات میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور قومی سطح پر مل کر چیلنجز کا مقابلہ کیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے عوام کو یقین دلایا کہ ترقی کا عمل جاری رہے گا اور حکومت اپنی کارکردگی کے ساتھ آئندہ انتخابات میں عوام کے سامنے پیش ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
Blog
-

دوبارہ کوشش کی تو کلکتہ تک جائیں گے : خواجہ آصف کی بھارت کو سخت وارننگ
-

برطرف امریکی آرمی چیف کا پیغام، فوج کو باکردار قیادت کی ضرورت
جبری طور پر ریٹائر کیے گئے امریکی آرمی چیف جنرل رینڈی جارج نے اپنے الوداعی پیغام میں امریکی فوج کے لیے مضبوط اور باکردار قیادت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق جنرل رینڈی جارج نے آرمی سیکریٹری کو ایک ای میل کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس میں انہوں نے امریکی فوج کی صلاحیتوں اور مستقبل کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے۔
انہوں نے لکھا کہ امریکی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے اور اس کے جوان غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں، اس لیے وہ ایسی قیادت کے مستحق ہیں جو ان کی صلاحیتوں کے مطابق ہو۔
جنرل جارج نے مزید کہا کہ فوجیوں کو ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو نہ صرف مضبوط عزم رکھتے ہوں بلکہ اخلاقی جرات اور اعلیٰ کردار کے بھی حامل ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والی قیادت فوج کو بہتر انداز میں آگے لے کر جائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تین روز قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے جنرل رینڈی جارج سمیت 13 جنرلز کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا تھا، جس کے بعد امریکی دفاعی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
اس بڑے فیصلے کے بعد فوجی قیادت اور پالیسی سازی کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ سابق آرمی چیف کا یہ پیغام بھی اسی تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ -

میٹرک امتحانات 7 اپریل سے ہی ہوں گے، تاخیر کی خبروں کی تردید
ترجمان میٹرک بورڈ کراچی نے واضح کیا ہے کہ نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات 7 اپریل سے شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے اور اس سلسلے میں تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
چیئرمین میٹرک بورڈ غلام حسین سوہو کی درخواست پر گریڈ 19 کے افسر احمد خان چھٹہ کو ناظم امتحانات تعینات کر دیا گیا ہے، جنہوں نے فوری طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا ہے۔
ترجمان کے مطابق صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو کی ہدایات پر امتحانات سے متعلق مختلف اسکول ایسوسی ایشنز اور دیگر حلقوں کے خدشات دور کیے جا رہے ہیں، جبکہ سرور سے متعلق مسائل بھی حل کر دیے گئے ہیں۔
ناظم امتحانات احمد خان چھٹہ نے امتحانات کے مؤخر ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام افواہیں بے بنیاد ہیں اور امتحانات مقررہ تاریخ پر ہی ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ طلبہ و طالبات میٹرک بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ سے اپنے ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں، بورڈ کا پورٹل مکمل طور پر فعال ہے اور اس میں کوئی تکنیکی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے والدین، اساتذہ اور طلبہ کو یقین دہانی کرائی کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور کسی بھی غیر مصدقہ خبر پر توجہ نہ دی جائے۔
ناظم امتحانات کا کہنا تھا کہ طلبہ کو بہترین سہولیات فراہم کرنا بورڈ کی اولین ترجیح ہے اور امتحانات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ -

لاہور قلندرز کا ٹیومر میں مبتلا بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز نے ٹیومر میں مبتلا ایک بچے کی خواہش پوری کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس نے کپتان شاہین شاہ آفریدی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔
تفصیلات کے مطابق فرزان نامی بچہ گزشتہ چار سال سے ٹیومر کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور وہ لاہور قلندرز کا بہت بڑا مداح ہے۔ بچے نے اپنے پیغام میں بتایا کہ اس کا تعلق گوجرانوالہ کے علاقے قلعہ دیدار سنگھ سے ہے اور وہ اپنے پسندیدہ کھلاڑی شاہین آفریدی سے ملنا چاہتا ہے۔
لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے بچے کا پیغام موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس بہادر بچے کو میچ میں مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے پسندیدہ کپتان سے ملاقات کر سکے۔
انتظامیہ نے مزید کہا کہ بچے کو خوش کرنے کے لیے ٹیم کی جانب سے دستخط شدہ شرٹ بھی تحفے میں دی جائے گی تاکہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ لائی جا سکے۔
لاہور قلندرز کے اس اقدام کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا جا رہا ہے جہاں صارفین نے ٹیم کے اس انسان دوست قدم کو قابل تعریف قرار دیا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کھیل صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ انسانیت اور امید کا پیغام بھی دیتا ہے، خاص طور پر ایسے بچوں کے لیے جو زندگی کی مشکل جنگ لڑ رہے ہوں۔ -

ٹرمپ کی ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ منگل کا دن ایران میں ’پاور پلانٹ ڈے‘ اور ’برج ڈے‘ ہوگا، جس کے تحت اہم تنصیبات بیک وقت حملوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔
انہوں نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس بیان کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ -

غیر ملکی سرمایہ کار پیچھے ہٹ گئے، مقامی بانڈز میں سرمایہ کاری کم
پاکستان کے مقامی بانڈز میں مارچ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں مجموعی سرمایہ کاری 886.7 ملین ڈالر رہی، جبکہ اس دوران 794 ملین ڈالر کا اخراج ہوا، جس کے بعد خالص سرمایہ کاری صرف 93 ملین ڈالر رہ گئی۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے پہلے 27 دنوں میں ٹریژری بلز سے 227 ملین ڈالر نکالے گئے جبکہ اسی عرصے میں صرف 19 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری آئی، جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کی نشاندہی کرتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ سرمایہ برطانیہ منتقل ہوا جہاں 281 ملین ڈالر کا اخراج ریکارڈ کیا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات سے 209 ملین ڈالر، بحرین سے 170 ملین ڈالر، سنگاپور سے 77.6 ملین ڈالر اور امریکہ سے 32 ملین ڈالر کا سرمایہ نکالا گیا۔
دوسری جانب مقامی سطح پر ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اندرون ملک سرمایہ کار حکومتی بانڈز کو نسبتاً محفوظ سمجھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ -

ایرانی ڈرون حملے، کویت کی تیل تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی
کویت پیٹرولیم کارپوریشن کے مطابق ایرانی ڈرون حملوں میں اس کی متعدد اہم تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
کویتی حکام کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ مقامات پر فوری امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور فائر بریگیڈ کا عملہ آگ پر قابو پانے اور اس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں حکام نے کہا کہ جن تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے ان کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا رہیں، تاہم صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مالی اور صنعتی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیجی خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اس سے قبل بحرین سمیت دیگر علاقوں میں بھی توانائی اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے پر ایسے حملے عالمی منڈیوں اور تیل کی سپلائی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ -

امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں،سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے قبائلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع باجوڑ میں قومی امن جرگہ قائدین سے ملاقات کی جس میں سہیل آفریدی نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے قبا ئلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے، آپ نے جس دانش مندی سے حالات کو سنبھالا وہ قابلِ قدر ہے، امن سب سے پہلے اور انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں-
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت دیرپا امن کا قیام یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے، صوبائی اسمبلی کے فلور پر تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کے رہنماؤں نے متفقہ اعلامیہ پیش کیا، سب اس بات پر متفق ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں، جنگ نے ہمارے انفراسٹرکچر، اداروں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا، ہم ایسی مزید کسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ امن اور خوشحالی کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں، جدوجہد جاری رکھیں گے، بدامنی کے جن حالات سے ہم گزرے ہیں، کوشش ہے دوبارہ ان سے نہ گزرنا پڑے، تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں تو کوئی مسئلہ نہ رہے، امن بھی قائم ہو جائے گا، ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا قبائل پیکیج لا رہے ہیں، صحت و تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
-

بیروت میں اسرائیلی حملے، حزب اللہ کا جوابی میزائل وار
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اتوار کی صبح بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس سے قبل رہائشیوں کو فوری انخلا کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کارروائی کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
دوسری جانب ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے شمالی اسرائیل کی جانب میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان میزائلوں کو اسرائیلی دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکام بنا دیا۔
یہ حملے اس وقت سامنے آئے جب چند گھنٹے قبل حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے لبنان کے ساحل کے قریب ایک اسرائیلی بحریہ کے جنگی جہاز کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
تاہم اسرائیلی فوج نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے کسی واقعے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے حملوں کا یہ تبادلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، جو کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔ -

2 ارب مسلمان حرمین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، حافظ طاہر محمود اشرفی
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان کے کہنے پر سعودی عرب نے ایران کو کوئی جواب نہیں دیا، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہمارے بھائیوں جیسے تعلقات ہیں، اگر کوئی ملک پاکستان سے مالی تعاون کرتا ہے اس کے معاہدات طے ہوتے ہیں اس پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ تعلقات خراب ہوجائیں۔
جامعہ منظور اسلامیہ لاہور کینٹ میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کوئی پاکستانی نہیں چاہتا کہ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوں اور پاکستانی یہ بھی نہیں چاہتے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو، دعا ہے کہ افغان عبوری حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں، افغان عبوری حکومت اورعلما سے کہتے ہیں کہ بے گناہ بچوں اورخواتین کو شہید کرنا جہاد نہیں بلکہ گناہ اورجرم عظیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ 36 روز گزر گئے مسجد الاقصی میں نماز نہیں ہو رہی، ایران حملے کے بعد اسرائیل کو موقع ملا اور اس نے نماز عید نہیں ہونے دی، 1967ء کے بعد اب مسجد الاقصی میں نماز عید نہیں ہوئی، ایران و اسلامی عالم میں تصادم نہیں ہونا چاہیے، عاصم منیر اور شہبازشریف نے برادر اسلامی ممالک سے مل کر کوشش کی کہ جنگ نہ ہو، آج کے دور میں افواہ سازی بے بنیاد پروپیگنڈا جس انداز سے پھیلایا جاتا ہے بھگوڑے یوٹیوبر ملکی وقار کو مجروع کررہے ہیں۔
طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ایران کے صدر نے ٹویٹ میں پاکستان زندہ باد لکھا، سعودی عرب کے وزیر خارجہ پاکستان آئے جس پر پروپیگنڈا کیا کہ وہ نہیں آ رہے، پاکستان کے کہنے پر سعودی عرب نے ایران کو کوئی جواب نہیں دیا، متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہمارے بھائیوں جیسے تعلقات ہیں، اگر کوئی ملک پاکستان سے مالی تعاون کرتا ہے اس کے معاہدات طے ہوتے ہیں اس پر منفی پروپیگنڈا کیا گیا کہ تعلقات خراب ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے باہمی اتحاد سے قومی امن کمیٹی کے ضابطہ اخلاق کے تحت پاک یو اے ای کے درمیان غلط فہمیوں کا مقابلہ کرکے قوم کو آگاہی دی، ایرانی حملے سے پہلے افغانستان سے پاکستان پر حملہ کروایا جس کے پیچھے اسرائیل و بھارت تھا تاکہ پاکستان سفارت کاری نہ کر سکے، اس وقت ایران بھی پاکستان زندہ باد کہہ رہا ہے اور سعودی عرب بھی پاکستان کی تعریف کررہا ہے، افواہ ساز کسی غلط فہمی میں نہ رہیں-
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ 2 ارب مسلمان حرمین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، بھارت کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ ہم جنگ مانگتے نہیں ہیں لیکن اگرکوئی جارحیت کی تو پہلے سے سخت جواب ملے گا،پاکستان کا کام امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنا ہے، پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے، آگ پر پانی ڈالتے رہیں گے، جب ملک میں امن ہوگا، معیشت بہتر ہوگی تو مہنگائی کم ہوگی۔