Baaghi TV

Blog

  • مشرق وسطیٰ کا تنازعہ،  بھارت شدیداقتصادی بحران کا شکار

    مشرق وسطیٰ کا تنازعہ، بھارت شدیداقتصادی بحران کا شکار

    مشرق وسطیٰ کا تنازعہ، بھارت شدیداقتصادی بحران کا شکارہو گیا

    ماہر بین الاقوامی امور پروفیسر جان میئر شائمر کے مطابق؛مشرق وسطیٰ کاتنازعہ بھارت کی داخلی معیشت کے لئے چیلنج بن گیا،اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک نقصان اٹھانے والا ملک بنتا جارہا ہے ، دلچسپ سوال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ تنازعہ سے بھارت کو کتنا نقصان اٹھانا پڑے گا ، روسی ٹیلی وژن کو انٹرویو کے دوران یونیورسٹی آف شکاگو کے پروفیسر نے خبردار کیا کہ؛ سربراہی اجلاس کاانعقاد بھارت کو مہنگائی سے نمٹنے کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا ،یہ بحران گیس ،کھاد اورخوراک کی پیداوار کی قیمتوں کو بڑھا دے گا جس سے مہنگائی اور مالی دباو میں اضافہ ہوگا ،یہ سب بھارت کے لئے انتہائی بری خبریں ہیں جس کی نشاندہی بھارتی میڈیا بھی کررہا ہے ،

    ماہرین کے مطابق؛پروفیسر جان میئر شائمر مشرق وسطی کے تنازعہ کی وجہ سے بھارت میں شدید اقتصادی بحران کی نشاندہی کرتے نظرآرہے ہیں، غیر سنجیدہ سفارتی اور سیاسی حکمت عملی بھارت کو معاشی چیلنجز کا شکار کردے گی ،کھاد اور خوراک کی پیداوار پراثرات سے بھارتی کسان اور برآمدگان کو طویل المدتی معاشی مشکلات کاسامنا ہو سکتا ہے ،

  • مودی سرکار مشرق وسطی جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کر یگی؟ بھارتی صحافی رویش کمار کا تجزیہ

    مودی سرکار مشرق وسطی جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کر یگی؟ بھارتی صحافی رویش کمار کا تجزیہ

    خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھارتی صحافیوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فارن پالیسی پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دی ہیں۔ ممتاز صحافی رویش کمار نے مودی پر بھرپور انداز میں تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں جو کہا اس کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے اور امریکہ نے اس کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بات بھی کی۔ فنانشل ٹائمز میں خبر شائع ہوئی ہے کہ جنرل منیر نے ٹرمپ کو فون کیا اور بیچ بچاؤ کی پیشکش کی ہے۔ تو اس موڑ پر اس جنگ میں پاکستان کا کردار اچانک بڑا دکھائی دینے لگا ہے۔

    اور سوال یہ ہے کہ اب تک کے حالات میں بھارت کا کیا کردار رہا ہے؟ جنگ رکوانے میں پاکستان کا کردار ہو اور بھارت کا نہ ہو۔ بھارت کے سفارتی ماہرین کو یہ سب کیسا لگ رہا ہوگا؟ پوری دنیا میں یہ بحث ہے کہ مغربی ایشیا کے سب سے بڑے بحران میں اچانک پاکستان کا کردار اتنا اہم کیسے ہو گیا؟ کیا پاکستان بھی امن کا پجاری بن گیا ہے؟ اب تک کی سفارتی کوششوں میں بھارت کہاں ہے اور کیوں نہیں ہے؟ یہ سوال پوچھا جانا چاہیے۔

    23 مارچ کو ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے بات چیت جاری ہے۔ تب انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا۔ ایران نے بھی مانا کہ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی مگر کسی اور کے ذریعے ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ ٹرمپ اور منیر کے درمیان بات ہوئی ہے۔

    کیا اسلام آباد میں آگے کوئی میٹنگ ہو سکتی ہے؟ اس حوالے سے بھارت کی خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ٹرمپ کی پریس سیکریٹری کیرائن لیویٹ سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ قیاس آرائیاں نہ کریں۔ اے این آئی کے سوال سے پہلے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی کہ اسی ہفتے اسلام آباد میں جنگ ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس گفتگو میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ اس ملاقات میں ایرانی حکام امریکی حکام سے مل سکتے ہیں۔

    اسی رپورٹ کی بنیاد پر اے این آئی نے سوال کیا ہوگا کہ کیا اسلام آباد میں کوئی میٹنگ تجویز کی گئی ہے؟ پریس سیکریٹری نے جواب تو نہیں دیا مگر ایسی کسی میٹنگ سے صاف انکار بھی نہیں کیا۔ انہوں نے صرف یہ کہا کہ اس وقت تمام حساس معاملات کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا۔ حالات بدل رہے ہیں اور کسی بھی میٹنگ کے بارے میں قیاس آرائی کو اس وقت تک حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس اس کا اعلان نہ کرے۔

    23 مارچ کو ٹرمپ کے بیان کے بعد ہی امریکہ کی ایک ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ اس گفتگو میں مصر، ترکی اور پاکستان کا کردار ہو سکتا ہے۔ وہ رپورٹ ذرائع کے حوالے سے تھی لیکن اب صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے۔ فنانشل ٹائمز نے بھی پاکستان کے حوالے سے ایک تجزیہ کیا ہے۔ لکھا ہے کہ ایران بحران کے معاملے میں پاکستان بطور ثالث ابھر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کا یہ مضمون کافی پڑھا جا رہا ہے اور اسے پانچ صحافیوں نے مل کر لکھا ہے۔

    پاکستان کو یہ کردار کیوں ملا ہوگا؟ نام تو ترکی اور مصر کا بھی آیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ سعودی عرب نہیں چاہتا کہ ترکی کو وہ پلیٹ فارم ملے، اس لیے ممکن ہے وہ پاکستان کو آگے کر رہا ہو۔ ترکی بھی سعودی عرب کی طرح ایک بڑی سنی طاقت ہے اور سعودی عرب کے لیے ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے سعودی عرب خود کو ترکی سے اوپر رکھنا چاہے گا، اسی لیے مانا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کیا ہوگا۔

    ایران پر حملے کے بعد ترک صدر اردگان نے جب اپنی پارلیمنٹ میں خطاب کیا کہ شیعہ اور سنی ایک ہیں تو تالیاں بجیں۔ یوکرین جنگ کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ترکی کی جگہ اب اچانک پاکستان کا کردار بڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ اسرائیل ترکی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ جس سنی محور کی بات کرتا ہے، اس میں ترکی بھی شامل ہے۔ امریکہ بھی ترکی کے حوالے سے زیادہ پُرجوش نہیں ہوگا کیونکہ جب ٹرمپ نے غزہ امن منصوبے میں ترکی کو شامل کرنا چاہا تو اسرائیل نے اعتراض کیا تھا۔

    لیکن اس بار امریکہ نے یہ موقع پاکستان کو دے دیا ہے۔ ایک ہی جھٹکے میں دکھا دیا کہ خلیج کی دونوں سنی طاقتیں اس کے ساتھ ہیں۔ وہ ترکی کو پیچھے کر رہا ہے لیکن سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان کو گفتگو میں شامل کر لیا ہے۔ اس لیے سوال یہ بھی ہے کہ کیا پاکستان سے بات کرنے کے فیصلے میں سعودی عرب نے کوئی کردار ادا کیا ہوگا؟ آخر اچانک پاکستان اتنا بڑا کھلاڑی کیسے بن گیا؟

    پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے ہیں۔ اس سے بات کر کے امریکہ ایران کو یہ پیغام دے رہا ہوگا کہ آپ پاکستان کو اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس کی بات ہم سے بھی ہے، وہ ہمارا بھی دوست ہے۔

    کرکٹ کی زبان میں کہیں تو بھارت کا گودی میڈیا کیچ کے لیے تیار تھا مگر گیند باؤنڈری لائن کے باہر چلی گئی۔ یہاں خوب بحث ہو رہی ہے کہ صرف وزیر اعظم نریندر مودی ہی جنگ رکوا سکتے ہیں۔ کیا ہندوستان جنگ رکوا پائے گا؟ تین دن پہلے انڈیا ٹی وی پر یہ سوال اٹھا۔ تباہی کے بیچ دنیا کو مودی سے امید، کیا پی ایم مودی مہا جنگ روکیں گے؟ ریپبلک بھارت کا سوال تھا۔ صرف بھارت روک سکتا ہے ایران جنگ—نیوز 18۔ ایران اسرائیل کی جنگ ختم کرا سکتا ہے بھارت—ٹی وی 9 کی سرخی۔

    کس بنیاد پر بھارت میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ بھارت کے پاس امن کا منتر ہے؟ امن کا منتر ہونے کی پہلی شرط یہ ہے کہ جس ملک نے حملہ کیا اس کا نام لے کر مذمت کی جائے۔ کیا بھارت ایسا کر سکا؟ فن لینڈ کے صدر نے 18 مارچ کو کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ جنگ بندی کون کرا سکتا ہے—یورپ یا بھارت۔ مگر نام پاکستان کا سامنے آ گیا۔

    جب سے یہ جنگ شروع ہوئی، بھارت کے اخبارات میں کئی مضامین شائع ہوئے کہ بھارت اس جنگ کو روکنے میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ 20 مارچ کو ناگپور میں وشو ہندو پریشد کے پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا بیان بھی میڈیا میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جنگیں ہو رہی ہیں اور کئی ممالک سے آواز اٹھ رہی ہے کہ صرف بھارت ہی جنگ ختم کر سکتا ہے کیونکہ وہ بھارت کی فطرت اور انسانی اقدار کو جانتے ہیں۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں دنیا میں ہونے والی بڑی جنگوں—روس یوکرین اور ایران اسرائیل—کو روکنے میں بھارت نے کیا کردار ادا کیا؟ اگر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ بھارت جنگ رکوا سکتا ہے تو مثالیں بھی دینی چاہئیں۔

    اگر بھارت جنگ رکوا سکتا تھا تو اس نے پہل کیوں نہیں کی؟ اسے کس نے روکا؟ اگر کوئی روک رہا ہے تو پھر بھارت کیسے جنگ رکوا سکتا ہے؟

    ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ جنگ ختم ہو گئی اور بھارت کا کوئی کردار نہیں رہتا، لیکن اس اہم مرحلے پر اگر پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے تو سوال بھارت سے ہونا چاہیے۔

    بھارت اور ایران کی دوستی کا تعلق تاریخ، ثقافت اور روایات سے ہے۔ کیا اسرائیل کا دورہ کر کے بھارت نے غلطی کی؟ کیا یہ سفارتی حکمت عملی تھی یا وزیر اعظم مودی کا ذاتی فیصلہ کہ ایران جیسے پرانے دوست کو چھوڑ کر اس ملک کا دورہ کیا جائے جو ایران پر حملہ کرنے والا تھا؟

    اس نئی دوستی کا کیا نتیجہ نکلا؟ امریکہ نے عالمی اسٹیج پاکستان کو دے دیا۔ اگر یہی موقع بھارت کو ملتا تو آج اسے عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا۔

    سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کے قریب جا کر وزیر اعظم مودی نے اپنی خارجہ پالیسی کو خود کمزور کر دیا؟ امریکہ نے بھارت کو ایک طرف کر کے پاکستان کو آگے کر دیا، اس پر بحث ہونی چاہیے۔

    2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت کی سفارتکاری کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو الگ تھلگ کیا جائے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو دہشت گرد ملک کہہ رہے ہیں، کیا بھارت اس کی مذمت کر سکتا ہے؟

    بھارت نے مذمت کی اخلاقی آواز کھو دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس پاکستان کو بھارت دہشت گردی کا حامی کہتا ہے، وہی پاکستان امن عمل میں کیسے شامل ہو رہا ہے؟

    امریکہ نے پاکستان کو وہ حیثیت دے دی ہے جو شاید بھارت کے تصور سے بھی زیادہ ہے، اور وزیر اعظم مودی کی خاموشی اس حیثیت کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔

    اگر بھارت نے ایران پر حملے کی مذمت کی ہوتی تو شاید اسے بھی ثالثی کا کردار مل سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

    پاکستان نے کم از کم ایران پر حملے کی مذمت کی، اس کی پارلیمنٹ میں تعزیت پیش کی گئی اور ایران نے اس کا شکریہ ادا کیا۔

    اس کے باوجود، اگرچہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، پھر بھی اس کا کردار سامنے آ رہا ہے۔

    اسرائیل ایک بڑا فریق ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ آئی ڈی ایف کرے گی، یعنی امریکہ نہیں۔

    بھارت کے اسرائیل سے قریبی تعلقات کے باوجود وہ ثالثی میں نظر نہیں آ رہا۔

    وزیر اعظم مودی نے خلیجی ممالک کے کئی دورے کیے، سعودی عرب، یو اے ای، بحرین، عمان اور کویت گئے اور اعلیٰ اعزازات حاصل کیے، لیکن اس جنگ میں بھارت کا کردار واضح نہیں۔

    پارلیمنٹ میں مودی نے کہا کہ وہ مختلف ممالک سے بات کر رہے ہیں اور بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، مگر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ بھارت جنگ رکوانے کی کوئی پہل کر رہا ہے۔

    تو کیا صرف بات کرنا ہی کردار ادا کرنا ہے؟

    یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، لیکن پاکستان کا ابھرتا کردار بھارت کے لیے ایک سوال بن چکا ہے۔

    اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا وزیر اعظم مودی پاکستان کے کردار کی تعریف کریں گے؟

  • کسی بھی مجرم یا مطلوب شخص کو پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے،محسن نقوی

    کسی بھی مجرم یا مطلوب شخص کو پاسپورٹ جاری نہ کیا جائے،محسن نقوی

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاسپورٹ بروقت جاری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین کے ساتھ اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس کے دوران انہوں نے اس بات کی ہدایت دی کہ کسی بھی مجرم یا مطلوب شخص کو پاسپورٹ جاری نہیں کیا جائے گا،اجلاس میں سپین میں رہائش پذیر پاکستانیوں کے لیے سپین کے ریزیڈنٹ کارڈز کے حصول میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ رجسٹریشن شروع ہونے سے پہلے پاکستانیوں کو ایک ہفتے کے اندر پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات فراہم کی جائیں گی، تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔ قریباً 15 ہزار پاکستانی اس اسکیم سے مستفید ہونے کی توقع ہے،وزیر برائے سمندر پار پاکستانی نے وزارت داخلہ کی جانب سے مکمل تعاون پر اظہار تشکر بھی کیا۔

  • آبروریزی کی کوشش ناکام ،خالو نے 17 سالہ لڑکی کو دریا میں دھکا دے دیا

    آبروریزی کی کوشش ناکام ،خالو نے 17 سالہ لڑکی کو دریا میں دھکا دے دیا

    بھارت، لکھنؤ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ منڈیاؤ تھانہ حدود میں 17 سالہ لڑکی کے قتل کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں مبینہ طور پر خالو نے آبروریزی کی کوشش میں ناکامی پر لڑکی کو دریائے گومتی میں دھکا دے کر قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق لڑکی اپنے خالو اور خالہ کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ بدھ کی رات ملزم کلدیپ لڑکی کو دوا دلانے کے بہانے موٹر سائیکل پر اپنے ساتھ لے گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے لڑکی کے بھائی کو فون کر کے دعویٰ کیا کہ چند نامعلوم کار سوار افراد نے لڑکی کو اغوا کر لیا ہے۔لڑکی کے بھائی نے فوری طور پر یوپی 112 پر اطلاع دی، جس پر پولیس حرکت میں آئی۔ موقع پر پہنچنے والی ٹیم نے ملزم کلدیپ کو نشے کی حالت میں پایا، جس پر شک گہرا ہو گیا۔ تفتیش کے دوران گھیلا پل کے قریب دریائے گومتی کے کنارے سے لڑکی کے کپڑے اور چپل برآمد ہوئے۔
    واقعے کے بعد ایس ڈی آر ایف کی ٹیم نے ریسکیو آپریشن شروع کیا اور جمعرات کی صبح لڑکی کی لاش دریائے گومتی سے نکال لی گئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

    پولیس کی سخت تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے آبروریزی کی کوشش کی، تاہم ناکامی پر لڑکی کو دریا میں دھکا دے دیا۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مکمل حقیقت جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ آبروریزی کی تصدیق کے لیے ضروری فرانزک سلائیڈز بھی تیار کی جا رہی ہیں۔ ملزم کو گرفتار کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • آسیہ اندرابی کو  سزا ایک سوچی سمجھی سازش ہے،مشعال ملک

    آسیہ اندرابی کو سزا ایک سوچی سمجھی سازش ہے،مشعال ملک

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کشمیری خاتون رہنما آسیہ اندرابی کو بھارتی عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے انصاف کے برعکس قرار دیا ہے-

    مشعال ملک نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور کشمیری قیادت کی آواز دبانے کی کوشش ہے، متنازع قوانین کے ذریعے آزادی کی جدوجہد کو کچلا جا رہا ہے اور یہ صرف چند افراد کی سزا نہیں بلکہ پوری قوم کے حق خودارادیت پر حملہ ہے، ایسے فیصلے انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہیں اور کشمیر ی قیادت کو خاموش کرانے کی سازش عروج پر ہے۔

    انہوں نے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر آج آواز نہ اٹھائی گئی تو تاریخ اسے جرم سمجھے گی مشعال ملک کے مطابق یہ فیصلہ نہیں بلکہ ایک قوم کی آواز کا گلا گھونٹا گیا ہے اور ایسی سزائیں انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہیں۔

  • بیوی کے انکار پر سفاکیت،سوتیلے باپ کی درندگی، 6 سالہ بیٹی کی عزت لوٹ لی

    بیوی کے انکار پر سفاکیت،سوتیلے باپ کی درندگی، 6 سالہ بیٹی کی عزت لوٹ لی

    بھارتی احمد آباد میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے نے انسانیت کو شرمندہ کر دیا، جہاں بیوی کی جانب سے جسمانی تعلقات سے انکار پر شوہر نے اپنی ہی سوتیلی بیٹی کو نشانہ بنا ڈالا۔ واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ کرشن نگر کے علاقے میں پیش آیا، جہاں چھ سالہ بچی اپنے والدین اور ایک چھوٹے بھائی کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔ واقعے کے وقت بچی کی ماں بیڈروم سے متصل گیلری میں کپڑے خشک کرنے گئی ہوئی تھی۔اسی دوران ملزم نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ بچی کی چیخ و پکار سن کر ماں فوراً کمرے میں پہنچی اور شوہر کو قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر بچی کو اس کے چنگل سے چھڑایا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے اس سے قبل اپنی بیوی سے جسمانی تعلقات کا مطالبہ کیا تھا، لیکن طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے بیوی نے انکار کر دیا۔ اس پر ملزم مشتعل ہو گیا اور اس نے یہ سنگین جرم کر ڈالا۔

    متاثرہ بچی کی ماں کی پہلی شادی 2019 میں ہوئی تھی جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، جبکہ 2020 میں طلاق کے بعد خاتون نے 2021 میں ملزم سے دوسری شادی کی، جس سے ایک بیٹا بھی ہے۔واقعے کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع دی گئی، جس پر اہلکار موقع پر پہنچے اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند اور پاکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

  • ریتک روشن اور کرینہ کپور کے درمیان 4 فلموں کے بعد دوریاں

    ریتک روشن اور کرینہ کپور کے درمیان 4 فلموں کے بعد دوریاں

    بالی ووڈ کی تاریخ میں کئی ایسی آن اسکرین جوڑیاں رہی ہیں جنہوں نے اپنی کیمسٹری سے ناظرین کے دل جیتے، لیکن کچھ جوڑیاں وقت کے ساتھ اچانک غائب بھی ہو گئیں۔ انہی میں ایک نام ریتک روشن اور کرینہ کپور کا بھی شامل ہے، جو 2000 کی دہائی کے آغاز میں انڈسٹری کی سب سے گلیمرس اور مقبول جوڑی سمجھی جاتی تھی۔

    دونوں اداکاروں نے اپنے کیریئر کا آغاز تقریباً ایک ہی وقت میں کیا۔ کہوناں پیار ہے سے ریتک روشن نے ڈیبیو کیا، جبکہ کرینہ کپور نے ریفیوجی کے ذریعے فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ ابتدائی کامیابی کے بعد فلمسازوں کو لگا کہ یہ جوڑی مستقبل میں راجہ کپور اور نرگس یا امیتابھ بچن اور ریکھا جیسی لیجنڈری جوڑی بن سکتی ہے۔ریتک اور کرینہ نے ایک ساتھ ، مجھ سے دوستی کرو گے، یادیں، کبھی خوشی کبھی غم، میں‌پریم کی دیوانی ہوں میں کام کیا۔ ان میں سے صرف “کبھی خوشی کبھی غم” ہی بڑی کامیابی ثابت ہوئی، جبکہ باقی فلمیں باکس آفس پر توقعات پوری نہ کر سکیں۔ خاص طور پر “میں پریم کی دیوانی ہوں” میں دونوں کی اداکاری کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    فلمی ماہرین کے مطابق مسلسل فلاپس کے باعث پروڈیوسرز نے اس جوڑی کو کاسٹ کرنے سے گریز کرنا شروع کر دیا، جس سے دونوں کے ساتھ کام کرنے کے امکانات کم ہوتے گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم “یادیں” اور “کبھی خوشی کبھی غم” کی شوٹنگ کے دوران دونوں کے درمیان قربت کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ اس وقت ریتک روشن اپنی اہلیہ سوزین خان کے ساتھ شادی شدہ زندگی گزار رہے تھے، جس کے باعث یہ خبریں ان کی ذاتی زندگی پر اثر انداز ہوئیں۔

    کہا جاتا ہے کہ اپنے ازدواجی رشتے کو بچانے کے لیے ریتک نے پیشہ ورانہ طور پر فاصلے اختیار کرنا بہتر سمجھا۔ دوسری جانب کرینہ کپور نے بھی ایک انٹرویو میں ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا تھا۔

    2013-14 کے دوران کرن جوہر نے اپنی فلم شدھی میں اس جوڑی کو دوبارہ اکٹھا کرنے کا اعلان کیا، جس پر مداحوں میں زبردست جوش و خروش پیدا ہوا۔ تاہم، کچھ ہی عرصے بعد دونوں اداکار اس منصوبے سے الگ ہو گئے، اور یوں ان کی اسکرین پر واپسی کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔

    2003 کے بعد کرینہ کپور نے جب وی میٹ، تھری ایڈیٹس اور “گول مال” سیریز جیسی بلاک بسٹر فلموں کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کی۔ دوسری جانب ریتک روشن نے کوئی مل گیا اور دھوم کے ذریعے ایکشن ہیرو کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔

    فلمی ناکامیوں، ذاتی زندگی کے دباؤ اور بدلتے کیریئر راستوں نے مل کر اس مقبول جوڑی کو ہمیشہ کے لیے الگ کر دیا۔ اگرچہ مداح آج بھی ریتک روشن اور کرینہ کپور کو دوبارہ ایک ساتھ دیکھنے کے خواہشمند ہیں، لیکن موجودہ حالات میں ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

  • ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایران امریکا جنگ: پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ چکے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں پوری قوم کو متحد اور ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا مکمل اندازہ ابھی نہیں لگایا جا سکتا،پاک فوج اور حکومت نے اس صورتحال میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ایم کیو ایم حکومت کی تمام کاوشوں کے ساتھ کھڑی ہےپاک فوج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پوری قوم اس کے شانہ بشانہ ہے۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں اور ذہنی طور پر ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے،معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات، حتیٰ کہ لاک ڈاؤن جیسے آپشن پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے آئینی و انتظامی اصلاحات ضروری ہیں۔

    انہوں نے 28ویں آئینی ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر لایا جائے اور اس کے ذریعے عوام کو بااختیار بنانے کے اقدامات کیے جا ئیں، ایم کیو ایم نے حکومت کی حمایت کے لیے کوئی مطالبہ نہیں کیاسیاسی جماعتیں عوام کو اختیارات دینے کے لیے تیار ہیں، اور وہ خود بھی چاہتے ہیں کہ اپنے حصے کا اختیار عوام کو منتقل کیا جائے،ملک میں بلدیاتی نظام کا نفاذ ضروری ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 140-اے پر عملدرآمد ہونا چاہیے تاکہ کراچی سمیت تمام شہروں کو ان کا حق مل سکے۔

  • فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے.وزیراعظم

    فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے.وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں خلیجی ریاستوں کو اشیائے خورونوش کی فراہمی اور پاکستان کی بندرگاہوں اور میری ٹائم آپریشنز کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے حوالےسے بنائی گئی حکمت عملی اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا، متعلقہ محکموں اور افسران کی پزیرائی کی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ خلیجی ممالک کو درکار اشیائے خورونوش کی فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کے حوالےسے تمام متعلقہ محکمے خلیجی ممالک سے قریبی رابطے میں رہیں. موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں، جبکہ عالمی سپلائی لائین متاثر ہے، خلیجی ممالک کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے.وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملکی غذائی ضروریات کو متاثر کئے بغیر ملک میں وافر مقدار میں موجود اشیاء خورونوش کی خلیجی ممالک میں برآمد کیلئے تیزی سے کام کیا جائے. کراچی، گوادر اور دیگر پاکستانی اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشنز میں اضافے کے لئے جامع لائحہء عمل تیار کیا جائے.

    وزیرِ اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملکی غذائی ضروریات کیلئے اشیاء خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے. حکومتی اداروں کی سطح پر فیصلہ سازی میں کسی قسم کی تاخیر کا قابل قبول نہیں۔ تاخیر کے مرتکب افراد کی جواب دہی یقینی بنائی جائے گی.

    اجلاس کو دی گئی خلیجی ممالک کو اشیائے ضروریہ کی برآمدات کے حوالےسے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لئے بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے برآمدات کے حوالےسے 40 فوڈ آئٹمز کی منظوری دی ہے. ان فوڈ آئٹمز میں چاول، خورنی تیل ، چینی، گوشت، پولٹری ، خشک دودھ، ڈیری مصنوعات پھل، سبزیاں وغیرہ شامل ہیں. خلیجی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے برآمد کنندگان کا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا ہے. سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی برآمد کے حوالے سے کوئی اضافی ادائیگی نہیں کی جائیگی. اشیائے خورونوش کی برآمدات کے حوالےسے ہوائی اور بحری اوپن روٹس کو استعمال کیا جائے گا.

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس اجلاس اور ویبینارز منعقد کئے جا رہے ہیں. کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہیں عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران بھی بھرپور فعال رہیں. ٹرانس شپمنٹ کی صلاحیت میں اضافے کے لئے آف-ڈاک ٹرمینلز پر بھی ٹرانس شپمنٹ ہینڈلنگ کی اجازت دی گئی ہے جس کے لئے کسٹمز قوانین میں ضروری ترامیم کر دی گئی ہیں. بندرگاہوں پر نقل و حمل کے حوالے سےنرخ 60 فیصد تک کم کر دئے گئے ہیں. بندرگاہوں پر ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن ڈیسکس فعال کر دیئے گئے ہیں. خام تیل لانے والے بحری جہازوں کو بندرگاہوں پر ترجیحی بنیادوں پر لنگر انداز کرایا جا رہا ہے.

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وزیر بحری امور چوہدری جنید انور، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری نے شرکت کی۔

  • سیدہ آسیہ اندرابی و دیگر خؤاتین کو سزائیں،کشمیریوں سے جذبہ حریت نہیں چھینا جا سکتا،خالد مسعود سندھو

    سیدہ آسیہ اندرابی و دیگر خؤاتین کو سزائیں،کشمیریوں سے جذبہ حریت نہیں چھینا جا سکتا،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بھارتی عدالت کی جانب سے دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کو عمر قید اور فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین کو 30،30 برس قید کی سزا ئیں انصاف کا قتل عام ہیں،مودی سرکار قیدو بند کی صعوبتیں دے کر کشمیریوں سے جذبہ حریت نہیں چھین سکتی، بھارتی عدالت کے فیصلے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ،مودی سرکار کا انتقام اور جبر کی واضح عکاسی ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ سیدہ آسیہ اندرابی اور فہمیدہ صوفی،ناہیدہ نسرین کو سزاوں کے اقدام کی بھر پور مذمت کرتے ہیں، حریت قیادت کو نشانہ بنانے کا مقصد تحریک آزادی کو کمزور کرنا ہے تا ہم یہ مودی سرکار کی بھول ہے، ایسے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے حوصلے ہرگز پست نہیں کیے جا سکتے،سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی جیل میں،دیگر حریت رہنما بھی جیلوں میں ہیں، حکومت پاکستان کو چاہئے کہ کشمیریوں کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑے،مودی سرکار کی ریاستی دہشتگردی کو عالمی دنیا کے سامنے اجاگر کیا جائے، سیدہ آسیہ اندرابی اور دیگر خواتین کو سزاؤں کے معاملے کو بھرپور انداز میں بین الاقوامی سطح پر اٹھائے.