Baaghi TV

Blog

  • 
سعودی عرب کی ایران کو پہلی بار جوابی کارروائی کی وارننگ

    
سعودی عرب کی ایران کو پہلی بار جوابی کارروائی کی وارننگ

    ‎سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو ریاض جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔
    ‎برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے تہران کو پیغام دیا ہے کہ اگر ایران کے حملے جاری رہے تو سعودی حکومت امریکا کو اپنے فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک نے اب تک ایران پر حملوں کے لیے امریکا کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
    ‎ادھر قطر کے امیر نے بھی امریکی صدر سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ قطر اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔
    ‎متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان نے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ یو اے ای آسان ہدف نہیں اور اپنے ملک کے دفاع میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔
    ‎دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے حملوں کا ہدف خلیجی ممالک نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی مفادات ہیں اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی ختم کی جائے۔

  • 
ایران میں اسکول پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا ہے، ہیومن رائٹس واچ کی تحقیقات کا مطالبہ

    
ایران میں اسکول پر حملہ جنگی جرم ہو سکتا ہے، ہیومن رائٹس واچ کی تحقیقات کا مطالبہ

    
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے جنوبی ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کو ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
    تنظیم کے مطابق 28 فروری 2026 کو صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب میں واقع شجرہ طیبہ پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں تقریباً ڈیڑھ سو بچوں سمیت مجموعی طور پر 160 افراد جان سے گئے۔
    ‎یہ حملہ اس وقت ہوا جب ایران کے مختلف علاقوں میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں کی لہر جاری تھی۔ تاہم امریکا اور اسرائیل نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ انہیں اس علاقے میں کسی کارروائی کا علم نہیں۔
    ‎ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اسکول پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک کمپاؤنڈ کے قریب واقع ہے لیکن معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکول اس کمپاؤنڈ سے الگ تھا اور اس کا اپنا داخلی راستہ تھا۔
    ‎تنظیم کی ڈیجیٹل انویسٹیگیشنز لیب کی محقق صوفیہ جونز نے کہا کہ حملے کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمارتوں کو درست نشانے والے گائیڈڈ ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق ضروری ہے کہ تحقیقات میں یہ معلوم کیا جائے کہ حملہ کرنے والوں کو کیا اس بات کا علم تھا کہ اس عمارت میں اسکول موجود ہے اور وہاں بچے اور اساتذہ موجود ہوں گے۔
    ‎ہیومن رائٹس واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حملہ غیر قانونی ثابت ہو تو اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف جنگی جرائم کے تحت کارروائی کی جائے۔

  • 
اوسلو میں امریکی سفارت خانے کے قریب دھماکا، علاقے میں سکیورٹی سخت

    
اوسلو میں امریکی سفارت خانے کے قریب دھماکا، علاقے میں سکیورٹی سخت

    
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک زور دار دھماکے کی اطلاع ملی ہے جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ناروے پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارت کے داخلی دروازے کو معمولی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ ملزمان کی تلاش کے لیے ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی سفارت خانے کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اب تک کسی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا سفارت خانے کی عمارت کے عوامی داخلی دروازے کے قریب ہوا جس سے معمولی نقصان ہوا۔ پولیس کارروائی کی قیادت کرنے والے افسر مائیکل ڈیلمیر نے ناروے کے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ امریکی سفارت خانہ اوسلو کے ضلع مورگیڈالس ویگن میں واقع ہے جو شہر کے مرکز سے تقریباً سات کلومیٹر دور ہے۔

  • 
ایران 6 ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    
ایران 6 ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران موجودہ شدت کے ساتھ کم از کم چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیاں ایران کے خلاف جاری ہیں جبکہ ایران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کر رہا ہے۔
    ‎ایرانی حکام کے مطابق ملک کی دفاعی حکمت عملی کا بڑا حصہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگرام پر مشتمل ہے جس کے ذریعے طویل عرصے تک دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
    ‎بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں اور ملک ہر ماہ بڑی تعداد میں ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جنگی حکمت عملی براہ راست فیصلہ کن جنگ کے بجائے طویل المدتی دباؤ اور مخالفین کو تھکا دینے والی حکمت عملی پر مبنی ہے جس میں میزائل حملے، ڈرونز، سمندری راستوں پر دباؤ اور خطے میں اتحادی گروہوں کا استعمال شامل ہے۔

  • 
سندر پچائی کو آئندہ 3 برس میں 69 کروڑ ڈالر سے زائد معاوضہ ملنے کا امکان

    
سندر پچائی کو آئندہ 3 برس میں 69 کروڑ ڈالر سے زائد معاوضہ ملنے کا امکان

    
گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
    امریکی حکومت کے پاس جمع کرائی گئی ریگولیٹری فائلنگ کے مطابق آئندہ تین برسوں کے دوران الفابیٹ کی جانب سے سندر پچائی کو تقریباً 69 کروڑ 20 لاکھ ڈالر معاوضہ ادا کیا جائے گا جو پاکستانی کرنسی میں ایک کھرب 92 ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔
    ‎امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق اس معاوضے کا بڑا حصہ کمپنی کی کارکردگی سے منسلک ہے، یعنی اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ تین برسوں میں الفابیٹ کے مختلف منصوبے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق پیکج میں بڑی رقم الفابیٹ کی ذیلی کمپنیوں کی کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر خودکار گاڑیوں پر کام کرنے والی کمپنی Waymo کی قدر میں اضافہ ہوا تو سندر پچائی کو حصص کی صورت میں تقریباً 26 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔
    ‎اسی طرح ڈرون ڈیلیوری کمپنی Wing کی بہتر کارکردگی کی صورت میں انہیں مزید 9 کروڑ ڈالر تک ملنے کا امکان ہے۔
    ‎اس کے علاوہ الفابیٹ کی جانب سے تقریباً 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اسٹاک بھی دیے جائیں گے جبکہ مزید 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اس شرط پر ملیں گے کہ وہ آئندہ تین برسوں تک کمپنی کے ساتھ وابستہ رہیں۔
    ‎دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے پیکج کے باوجود سندر پچائی کی بنیادی سالانہ تنخواہ صرف 20 لاکھ ڈالر ہے جو 2020 سے تبدیل نہیں ہوئی۔
    ‎سندر پچائی نے 2004 میں گوگل میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد ازاں گوگل کروم اور اینڈرائیڈ جیسے اہم منصوبوں کی قیادت کی۔ 2015 میں انہیں گوگل کا سی ای او بنایا گیا جبکہ 2019 میں وہ الفابیٹ کے سربراہ بن گئے۔

  • 
فتنہ الخوارج کو نہیں چھوڑیں گے، خطرہ ختم ہونے تک آپریشن جاری رہے گا: خواجہ آصف

    
فتنہ الخوارج کو نہیں چھوڑیں گے، خطرہ ختم ہونے تک آپریشن جاری رہے گا: خواجہ آصف

    
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب تک دہشت گردی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا تب تک آپریشن جاری رہنا چاہیے۔
    ‎خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں حملے کیے جاتے ہیں اور اس مسئلے پر افغان حکام سے دوبار ملاقات بھی کی جا چکی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ہر ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت پہلے بھی پاکستان کے ساتھ براہ راست جنگ آزما چکا ہے۔
    ‎وزیر دفاع کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • 
آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین پر اتفاق رائے، جلد نئے سپریم لیڈر کا اعلان متوقع

    
آیت اللہ خامنہ ای کے جانشین پر اتفاق رائے، جلد نئے سپریم لیڈر کا اعلان متوقع

    
ایران کی مجلس خبرگان کے ایک رکن نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جانشین کے حوالے سے اکثریتی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔
    مجلس خبرگان کے رکن میر باقری کے مطابق جانشینی کے معاملے میں اب صرف ایک یا دو تکنیکی اور آئینی امور طے ہونا باقی ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ آئینی معاملات مکمل ہوں گے، ایران کے نئے سپریم لیڈر کے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔
    ‎میر باقری کا کہنا تھا کہ مجلس خبرگان اس عمل کو آئینی طریقہ کار کے مطابق مکمل کر رہی ہے تاکہ قیادت کی منتقلی کے حوالے سے تمام مراحل قانونی تقاضوں کے تحت انجام پائیں۔

  • 
امریکا کا ایرانی افزودہ یورینیم قبضے میں لینے کیلئے اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور

    
امریکا کا ایرانی افزودہ یورینیم قبضے میں لینے کیلئے اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور

    
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران کے افزودہ یورینیم کو قبضے میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس تقریباً 450 کلوگرام یورینیم موجود ہے جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اس مواد کو حاصل کرنا چاہے تو اسے ایرانی سرزمین کے اندر کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا اور اسرائیل اس مقصد کے لیے مشترکہ آپریشن کریں گے یا نہیں۔
    ‎امریکی ذرائع کے مطابق اس طرح کی کسی ممکنہ کارروائی پر اس وقت غور کیا جا رہا ہے جب ایران کی جانب سے خطرہ کم ہونے کی صورت میں ایسے مشن کو انجام دینا ممکن ہو۔

  • 
خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی سپلائی چین فعال، سوست ڈرائی پورٹ اہم تجارتی راستہ

    
خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی سپلائی چین فعال، سوست ڈرائی پورٹ اہم تجارتی راستہ

    
مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود پاکستان کی سپلائی چین بدستور فعال ہے۔
    ذرائع کے مطابق عالمی کشیدگی کے باوجود چین کے ساتھ واقع سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے پاکستان کی تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور یہ راستہ ملک کے لیے قابل اعتماد تجارتی راہداری ثابت ہو رہا ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک چین سرحد پر قائم سوست پورٹ پاکستان کو اہم تجارتی سہولت فراہم کر رہی ہے اور اس کے ذریعے سامان کی نقل و حمل بلا تعطل جاری ہے۔
    ‎حکام کے مطابق پاکستان اپنی تجارتی راہداریوں کو مؤثر انداز میں فعال رکھے ہوئے ہے جس کے باعث عالمی حالات کے باوجود درآمدات اور برآمدات کا نظام متاثر نہیں ہوا۔
    ‎ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان بہتر حکمت عملی کے ذریعے خود کو ایک مضبوط عالمی تجارتی مرکز کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر:  میجر (ر) ہارون رشید

    پیٹرول بم: جب حکمرانی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    از میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدیدیت میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    پاکستان ایک بار پھر اُس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جسے عوام عام طور پر “پیٹرول بم” کہتے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافے نے گھریلو صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جو پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
    ایسے وقت میں جب عوام کسی ریلیف کی توقع کر رہے تھے، اس فیصلے نے لاکھوں خاندانوں پر معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں روزانہ تیل کی کھپت تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار بیرل ہے، جو تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ لیٹر یومیہ بنتی ہے۔
    دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے پاس تقریباً 28 دن کا اسٹریٹیجک ذخیرہ موجود ہے، جو تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ 40 ہزار بیرل یعنی تقریباً 2 ارب 15 کروڑ لیٹر پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔
    جب اچانک 55 روپے فی لیٹر قیمت بڑھا دی جاتی ہے تو وہ ذخائر جو پہلے کم عالمی قیمتوں پر خریدے گئے تھے، فوری طور پر کاغذی طور پر بے پناہ قدر حاصل کر لیتے ہیں۔ سادہ حساب کے مطابق یہ پہلے سے موجود ذخیرے پر تقریباً 118 ارب روپے کی اضافی مالیت پیدا کر دیتا ہے۔

    عام شہری کے ذہن میں اس وقت سب سے اہم سوال یہی ہے: اس غیر متوقع فائدے کا اصل فائدہ کس کو پہنچتا ہے؟

    ایک ایسا نظام جو غیر منصفانہ دکھائی دیتا ہے،اصولی طور پر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین حکومت، اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) اور نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے فریم ورک کے تحت کیا جاتا ہے۔ سرکاری وضاحت عموماً عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، کرنسی کی قدر میں کمی اور مالی دباؤ کے گرد گھومتی ہے۔
    تاہم عوامی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ یہ نظام زیادہ تر آئل کمپنیوں، بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور ان عناصر کو فائدہ پہنچاتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے پہلے ایندھن ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب قیمتیں اچانک بڑھتی ہیں تو ان کے پاس موجود ذخیرہ راتوں رات قیمتی ہو جاتا ہے اور انہیں بغیر کسی اضافی معاشی سرگرمی کے بھاری منافع حاصل ہو جاتا ہے۔دوسری طرف عام شہری، جس کے پاس نہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی طاقت، صرف زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔

    انسانی قیمت

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کے نازک معاشی ڈھانچے میں پیٹرول اور ڈیزل ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور بجلی کی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ایک قیمت بڑھنے سے ایک سلسلہ وار ردِعمل پیدا ہوتا ہے:
    ٹرانسپورٹ کے کرائے فوراً بڑھ جاتے ہیں
    اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ نقل و حمل مہنگی ہو جاتی ہے
    جہاں فرنس آئل یا ڈیزل استعمال ہوتا ہے وہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت بڑھ جاتی ہے
    کاروباروں کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے
    آخرکار مہنگائی کی رفتار مزید تیز ہو جاتی ہے۔
    ایک ایسے معاشرے میں جہاں لوگ پہلے ہی مہنگی بجلی، بڑھتے ہوئے گیس کے بل، بھاری ٹیکسوں اور جمود کا شکار اجرتوں سے نبرد آزما ہیں، اس کے اثرات انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ پاکستان کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور تنخواہ دار طبقہ ان جھٹکوں کو برداشت کرنے کی بہت کم صلاحیت رکھتا ہے۔ بہت سے خاندانوں کے لیے بنیادی ضروریات زندگی بھی ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔

    ساختی مسئلہ
    پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور بیرونی قرضوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ مقامی صنعت کو پہلے ہی مہنگی توانائی، پالیسیوں کے عدم استحکام اور سستے قرضوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
    ایسے ماحول میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کاروبار کرنے کی لاگت کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔ صنعت کی مسابقت کم ہو جاتی ہے، برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے بجائے ایسی پالیسیاں ملک کو معاشی جمود کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

    انصاف کا سوال

    عام شہریوں کے لیے شاید سب سے تکلیف دہ سوال انصاف کا ہے۔
    جب عوام بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا رہے ہوتے ہیں تو اسی وقت حکومت کے بہت سے عہدیداروں اور بیوروکریسی کے مختلف طبقات کو مفت یا بھاری سبسڈی والا پیٹرول، بجلی اور دیگر سہولیات بطور سرکاری مراعات ملتی رہتی ہیں۔
    یہ حکمرانی کے ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے:
    کیا معاشی فیصلے کرنے والے خود ان فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہیں؟
    کسی بھی فعال جمہوریت میں معاشی مشکلات کا بوجھ پورے معاشرے کو، خاص طور پر اقتدار میں موجود افراد کو، مشترکہ طور پر برداشت کرنا چاہیے۔ جب پالیسی ساز خود اپنے فیصلوں کے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں تو عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہونے لگتا ہے۔
    قانونی اور حکمرانی کا پہلو
    پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کو واضح طور پر بتانا چاہیے:
    قیمتوں میں اضافے کا اصل فارمولہ کیا ہے
    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار اور منافع کی شرح کیا ہے
    ہر لیٹر پیٹرول میں شامل ٹیکسوں کی مقدار کتنی ہے
    قومی اسٹریٹیجک ذخائر کو کس طرح منظم کیا جا رہا ہے
    پارلیمانی نگرانی اور آزادانہ آڈٹ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عوامی وسائل بالواسطہ طور پر نجی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا رہے ہوں۔
    شفافیت کے بغیر ریگولیٹرز، آئل کمپنیوں اور بااثر حلقوں کے درمیان گٹھ جوڑ کے شبہات مزید مضبوط ہوتے جائیں گے۔

    آگے کا راستہ

    پاکستان اس وقت ایک اہم معاشی موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک ایسی پالیسیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا جو عدم مساوات کو بڑھائیں اور عوامی اعتماد کو کمزور کریں۔
    حقیقی اصلاحات میں شامل ہونا چاہیے:
    ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا شفاف نظام
    ریاستی ڈھانچے میں غیر ضروری مراعات کا خاتمہ
    کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف
    توانائی کے شعبے میں تنوع اور کارکردگی میں طویل مدتی سرمایہ کاری
    سب سے بڑھ کر حکمرانی کو قلیل مدتی مالیاتی چالوں کے بجائے عوامی فلاح کو ترجیح دینی چاہیے۔
    پاکستان کے عوام نے دہائیوں کی معاشی مشکلات کے باوجود غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اس استقامت کو لامحدود برداشت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
    کوئی بھی قوم اس وقت ترقی نہیں کر سکتی جب اس کے شہری یہ محسوس کریں کہ نظام ان کے لیے نہیں بلکہ ان کے خلاف کام کر رہا ہے۔

    اس لیے اصل سوال اب بھی یہی ہے
    کون آگے بڑھے گا، ان بگاڑوں کو درست کرے گا اور پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو انصاف، شفافیت اور قومی مفاد کی راہ پر ڈالے گا؟