امریکی حکام کے مطابق کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر میرینز کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میرینز کی چلائی گئی گولیاں کسی کو لگیں یا ان سے کوئی ہلاکت ہوئی۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ قونصلیٹ پر تعینات دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق قونصلیٹ کی حفاظت پر نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس بھی مامور تھی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں۔
چند روز قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی حملے کے خلاف بڑی تعداد میں شہریوں نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب امریکی میرینز نے اس معاملے سے متعلق سوالات امریکی فوج کو بھیج دیے، جبکہ امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ہے۔ تاحال امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Blog
-

کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ، میرینز پر مظاہرین پر گولیاں چلانے کا الزام
-

امریکی و اسرائیلی حملے میں تہران میں گلستان محل میں بھی تباہی
ایران کے تاریخی اور عالمی ثقافتی ورثے کی علامت گلستان محل کو حالیہ امریکی،اسرائیلی حملوں کے بعد نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد محل کے بعض حصوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محل کا مشہور آئینہ دار تخت ہال اور وہاں موجود نایاب میوزیم نوادرات کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ اقدام جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور جون 2025 میں جاری 12 روزہ جنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا تھا، جس کے باعث قیمتی تاریخی اشیا کو محفوظ والٹ میں رکھا گیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے نے تمام متعلقہ فریقین کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل مقامات اور قومی اہمیت کے حامل تاریخی مقامات کے جغرافیائی محلِ وقوع (کوآرڈینیٹس) فراہم کر دیے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔
گلستان محل ایران کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار قاجار دورِ حکومت میں اقتدار کا مرکز بنا، جب دارالحکومت کو تہران منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں پہلوی دور میں بھی یہ محل ریاستی تقریبات اور اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اداروں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران تاریخی اور ثقافتی مقامات کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے جائزہ کارروائی جاری ہے۔
-

ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ
ایران کی جانب سے عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں کرد گروہوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کی ذمہ داری آئی آر جی سی نے قبول کرلی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ے مطابق آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراق کے کردستان ریجن میں موجود گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران 30 ڈرونز فضا میں بھیجے گئے، جنہوں نے مبینہ طور پر ہدف بنائے گئے مقامات کو تباہ کر دیا۔آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی ایران کی قومی سلامتی کے تحفظ اور سرحد پار سرگرم گروہوں کے خلاف کی گئی
دوسری جانب کرد تنظیموں نے حملوں کی تصدیق تو کی ہے، مگر ایرانی دعوے میں بتائی گئی ڈرونز کی تعداد کو مسترد کر دیا ہے۔ ے ڈی پی آئی نے کہا ہے کہ ان کے ٹھکانوں پر صرف تین ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔اسی طرح پی اے کے نے بھی تصدیق کی کہ ان کے ایک مرکز کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں ایرانی مخالف کرد گروہ طویل عرصے سے سرگرم ہیں، اور ماضی میں بھی ایران ان پر سرحد پار حملوں کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بغداد اور اربیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
-

ایران کے خلاف فوجی کارروائی فوری روکی جائے، چین
چین نے ایران میں جاری فوجی کارروائی کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنا ضروری ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بیجنگ کا واضح مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جاری ملٹری آپریشن فوری ختم کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ چین اس معاملے پر تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انصاف کی حمایت، امن کے لیے کوششیں اور جنگ بندی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
ترجمان نے خبردار کیا کہ چین کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ یہ تنازع پڑوسی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین فوجی کارروائیاں روکیں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے بچائیں، کیونکہ طاقت کا اندھا دھند استعمال قابل قبول نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ایران کے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے جائز حق کو تسلیم کرتا ہے اور ایرانی جوہری معاملہ بالآخر سیاسی اور سفارتی حل کی طرف ہی واپس آئے گا۔ -

ایران کو نظر انداز کر کے اسرائیل کی حمایت، بھارت نے سفارتی خودمختاری قربان کردی: سونیا گاندھی
بھارتی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ایران جیسے پرانے اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت کرنا بھارت کی سفارتی خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
بھارتی جریدے میں شائع اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کے بجائے ایک فریق کی کھلی حمایت کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ملک کی خودمختار سفارتی شناخت متاثر ہوئی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت ماضی میں اسرائیل اور ایران کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم رکھتا آیا ہے، تاہم ان کے بقول وزیر اعظم نریندر مودی نے اس روایت کو سیاسی مقاصد کی خاطر پس پشت ڈال دیا ہے۔
سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ اس طرز عمل سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور حکومت کا رویہ اسے مخصوص مفادات کے تابع دکھا رہا ہے۔ ان کے مطابق جس پالیسی کو سفارت کاری قرار دیا جا رہا ہے وہ درحقیقت حساس مواقع پر ذمہ داری سے کنارہ کشی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ رویہ اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کو کمزور بنا سکتا ہے۔
سونیا گاندھی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر بھارت کا نرم ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔ -

ایرانی حملوں کے بعد کرسٹیانو رونالڈو ریاض سے میڈرڈ روانہ
ایرانی حملوں کے بعد اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نجی طیارے کے ذریعے ریاض سے میڈرڈ روانہ ہوگئے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو کا طیارہ رات تقریباً آٹھ بجے ریاض سے اڑا اور لگ بھگ ایک بجے میڈرڈ پہنچا۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق پرواز نے مصر اور بحیرہ روم کے اوپر سے راستہ اختیار کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نجی طیارے کی مالیت تقریباً 61 ملین پاؤنڈ ہے۔ رونالڈو اس وقت ریاض میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا خاندان بھی اسی پرواز میں موجود تھا یا نہیں۔ -

سعودی عرب اور قطر میں مبینہ موساد ایجنٹس کی گرفتاری کا دعویٰ، ٹکر کارلسن کا بڑا بیان
امریکا کے قدامت پسند تجزیہ کار اور معروف ایکٹیوسٹ ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر اور سعودی عرب میں حکام نے مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ٹکر کارلسن کے مطابق یہ گرفتاریاں گزشتہ رات عمل میں آئیں اور زیر حراست افراد دونوں ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان مبینہ ایجنٹس کی سرگرمیوں کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔
کارلسن نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیل صرف ایران ہی نہیں بلکہ قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، عمان اور کویت کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیابی حاصل کر چکا ہے۔
تاہم ان دعوؤں پر متعلقہ ممالک یا اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ -

پاکستانی فضائی حدود مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہے، پی اے اے کی وضاحت
پاکستان ائیر پورٹ اتھارٹی نے حالیہ نوٹم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود جزوی طور پر بند نہیں کی گئی۔
ادارے کے مطابق کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ کمرشل پروازوں کے لیے فضائی حدود محدود کر دی گئی ہے، جو درست نہیں۔ جاری کردہ نوٹم A0134/26 ایک معمول کی ایڈوائزری ہے جس میں کراچی اور لاہور ایف آئی آر کے چند مخصوص اے ٹی ایس روٹس کی عارضی عدم دستیابی سے آگاہ کیا گیا ہے۔
پی اے اے کے مطابق یہ عارضی انتظام 3 سے 31 مارچ تک روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک نافذ رہے گا اور اس کا مقصد آپریشنل امور کو منظم رکھنا ہے۔ اس دوران متبادل فضائی راستے دستیاب ہیں جو معمول کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ کمرشل پروازوں، آمد و رفت یا اوور فلائٹس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرول اور ایئرپورٹ ٹیمیں مکمل طور پر فعال ہیں اور فضائی ٹریفک کو معمول کے مطابق سنبھال رہی ہیں۔ -

ایران کے پاس موجود یورینیم سے 11 ایٹم بم بن سکتے ہیں، اسٹیو وٹکوف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم سے 11 ایٹم بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وٹکوف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی حکام نے بتایا کہ ان کے پاس 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا تقریباً 460 کلوگرام یورینیم موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر اس مواد کو ایک ماہ کے اندر 90 فیصد تک افزودہ کیا جائے تو اس سے 11 ایٹم بم تیار ہو سکتے ہیں۔
وٹکوف کا کہنا تھا کہ یہی وہ تشویش ہے جس کے باعث امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ -

پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک، ایران کے معاملے پر ہر فورم پر آواز اٹھائی: اسحاق ڈار
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور ایران کے معاملے پر ہر عالمی فورم پر مؤقف پیش کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ رہا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ سے بھی متعدد بار بات چیت ہوئی۔ وہ جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شریک ہوئے جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 12 جون کو ان کی اور فیلڈ مارشل کی عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی جس میں علاقائی کشیدگی پر گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق پاکستان کو امید تھی کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا کیونکہ تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی سینیٹر مارکو روبیو کے سامنے بھی ایران کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ پرامن جوہری توانائی کا استعمال ایران کا حق ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے برادر ملک سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے امریکی اڈوں پر حملے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم پاکستان نے ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور سفارتی سطح پر پسِ پردہ کوششیں جاری رکھیں۔
اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم نے 14 جون 2025 کو ایرانی قیادت سے رابطہ کیا، جبکہ ایران پر پابندیاں ختم کرنے سے متعلق قرارداد چین اور روس کے ساتھ مل کر پیش کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے ساتھ مل کر ایران سے اظہار یکجہتی کیا گیا اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے بھی تیار تھا۔ یورپی یونین سمیت 13 ممالک کی قیادت سے بھی رابطے کیے گئے۔
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کا پابند ہے اور ایران کو بھی اس سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق بعض معاملات پر ایران نے ضمانت طلب کی جو پاکستان نے فراہم کی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کو ملک کے اندر سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں اور اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی رہنماؤں کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی تاکہ قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے۔